Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں اللہ تعالیٰ کے ناموں کی فضیلتوں کا بیان ہے)

Hadith 2742

(اس کتاب میں اللہ تعالیٰ کے ناموں کی فضیلتوں کا بیان ہے)

In this book

Current reading

(اس کتاب میں اللہ تعالیٰ کے ناموں کی فضیلتوں کا بیان ہے)

(اس کتاب میں اللہ تعالیٰ کے ناموں کی فضیلتوں کا بیان ہے)

Zujajat al-Masabih 2742Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3233
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نانوے (99) نام ہیں۔ یعنی ایک کم سو۔ جو کوئی بندہ مومن ان ناموں کو یاد کر لے (اور اخلاص کے ساتھ ان کے الفاظ اور معانی کا خیال رکھتے ہوئے پڑھا کرے) تو (ان اسماء کی برکت سے وہ بلہ اول میں عظمت کے ساتھ) جنت میں داخل ہوگا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ یکتا ہیں (کہ ان کے مشابہ اور مماثل کوئی نہیں) اور وہ طاق عدد (یعنی ایک تین پانچ سات) کو پسند فرماتے ہیں۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔

Qur’an-related source paragraphs

Allah the Exalted says:

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 2736 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2677a (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2286 (unverified) 94% confidence

Mishkat (candidate) 2286

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (5)

Chapter-heading commentary

Say, 'Call upon Allah...'

(1) His statement: "Say, 'Call upon Allah...'" – The word "call" here means naming rather than supplication, and it takes two objects, the first of which is omitted as it is understood. The word "or" indicates choice and equivalence. Al-Tafsirat al-Ahmadiyyah mentions this.

Note 2

Allah the Exalted has...

(2) His statement: "Allah the Exalted has..." – It is recommended to say, "Allah the Exalted said," and not merely "Allah said" without adding a glorifying description. Al-Wajiz by Al-Kurdi mentions this. If a person hears one of Allah’s names, he must glorify Him and say, "SubhanAllah" or similar. If he hears the name of Allah repeatedly, he must glorify Him each time by saying, "SubhanAllah" and "TabarakAllah." Khazinat al-Fatawa and Al-'Alamgiriyyah mention this.

Chapter-heading commentary

قوله

(۱) قوله: قل ادعوا إلخ والدعاء بمعنى التسمية دون النداء، وهو يتعدى إلى مفعولين، حذف أولهما استغناء عنه و«أو» للتخير والتسوية. كذا في التفسيرات الأحمدية».

Note 2

قوله

(۲) قوله: إن الله تعالى إلخ ويستحب أن يقول: «قال الله تعالى ، ولا يقول: «قال الله بلا تعظيم بإرداف وصف صالحللتعظيم. كذا في الوجيز للكردري. رجل سمع اسما من أسماء الله تعالى يجب عليه أن يعظمه ويقول: «سبحان الله» وما أشبه ذلك، لو سمع اسم الله مرارًا يجب عليه أن يعظم، ويقول: «سبحان الله» و «تبارك الله» عند كل سماع. كذا في خزانة الفتاوى». قاله في العالمكيرية».

Note 1

ف (1): واضح ہو کہ فتاویٰ عالمگیری میں خزانۃ الفتاویٰ کے حوالے سے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نام مبارک کی تعظیم کا تقاضہ ہے کہ جب بھی کوئی اللہ تعالیٰ کا نام لے تو مستحب یہ ہے کہ صرف ”اللہ“ نہ کہے بلکہ نام مبارک کے ساتھ کوئی ایسی صفت لائے جس سے اللہ تعالیٰ کی عظمت ظاہر ہوتی ہو جیسے اللہ کے بعد تعالیٰ یا ”عزوجل“ یا ”جلالہ“ وغیرہ بڑھا کر اس طرح سے نام لیا کرے: اللہ تعالیٰ، اللہ عزوجل جلالہ، اللہ جل جلالہ چاہے کتنی بار اس نام مبارک کو سنے یا یہ نام لے اتنی ہی بار مذکورہ طریقہ پر ادا کرے۔12 ف(2): اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نانوے (99) نام ہیں اس بارے میں صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نام بے شمار ہیں اس لئے کہ صفات الٰہی کی کوئی حد نہیں ہے چنانچہ قرآن میں اللہ تعالیٰ کے ناموں میں ربّ، مولیٰ، نصیر، محیط اور کافی وغیرہ مذکور ہیں۔ اور حدیث شریف میں حنّان، منّان، الدائم اور الجمیل وغیرہ وارد ہیں تو مطلب اس حدیث شریف کا یہ ہوا کہ اسمائے حسنیٰ انہیں نانوے (99) ناموں میں منحصر نہیں ہیں بلکہ انہیں نانوے ناموں کو یاد کر لینے کی فضیلت اور تاثیر یہ ہے کہ بہشت حاصل ہو جاتی ہے۔ ف(3): واضح ہو کہ اللہ تعالیٰ کے جتنے نام ہیں ان میں صرف ایک نام اللہ اسم علم یا اسم ذات ہے اور اس نام کے سوا جتنے نام ہیں وہ اسمائے صفات ہیں جو صفات الٰہی کے مظہر ہیں اور یہ جتنے اسمائے صفات ہیں ان سب کی نسبت اسم ذات یعنی اللہ کی طرف ہوتی ہے چنانچہ کہا جائے گا کہ: اللہ کریم ہے یہ نہیں کہا جائے گا کہ: کریم اللہ ہے۔ اور ایک حدیث شریف میں ارشاد ہے: تَخَلَّقُوا بِاَخْلَاقِ اللّٰهِ ”اللہ تعالیٰ کے صفات اپنے میں پیدا کرو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جو اسمائے صفات ہیں جیسے رحیم کریم وغیرہ تو ان صفات کا پرتو بندہ پر پڑتا ہے تو بندہ ان صفات کا حامل ہو جاتا ہے البتہ اسم اللہ ایک ایسا اسم ہے جو اللہ تعالیٰ کی ذات عالی سے خاص ہے، اس اسم سے بندہ متخلق نہیں ہوسکتا، صرف تعلق اور نسبت قائم کر سکتا ہے، اس لئے اسم اللہ کے سوائے جتنے اسماء ہیں وہ تخلّق کے لئے ہے۔ (مرقات اور اشعۃ اللمعات) اور حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمة اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ اللہ اسم اعظم ہے لیکن شرط یہ ہے کہ جب تم اللہ کہو تو تمہارے دل میں اللہ کے سوا کچھ اور نہ ہو۔ (مرقات۔12)