Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں حج کے افعال، احکام اور فضائل کا بیان ہے)

Hadith 2972

Opening narrations

In this book

Current reading

(اس کتاب میں حج کے افعال، احکام اور فضائل کا بیان ہے)

Opening narrations

Zujajat al-Masabih 2972Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3504
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے لئے حج کرے اور دوران حج میں (بحالت احرام) اپنی بیوی سے صحبت نہ کرے اور (دوران سفر اپنے ساتھیوں سے) بیہودہ کلام یا لڑائی جھگڑا نہ کرے اور کبائر سے بچتا رہے تو وہ حج کرنے کے بعد (گناہوں سے ایسا پاک و صاف ہو جاتا ہے) جیسا کہ وہ اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتے وقت پاک وصاف تھا۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1521 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1350a (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 3

Like the day his mother gave birth to him

(3) The statement: "Like the day his mother gave birth to him" – Ad-Durr al-Mukhtar states: Does Hajj expiate major sins? Some say yes, like a non-Muslim who embraces Islam. Others say it expiates sins not involving others' rights. Imam ‘Iyad said: Ahlus-Sunnah agree major sins require repentance. Hajj does not eliminate obligatory duties like prayer or zakah, though delayed obligations are forgiven. This is the meaning of "expiation" in this context. Radd al-Muhtar elaborates further.

Note 3

قوله

(۳) قوله: كيوم ولدته أمه قال في الدر المختار: هل الحج يكفر الكبائر ؟ قيل: نعم، كحربي أسلم، وقيل: غير المتعلقة بالآدمي كذمي أسلم. وقال عياض: أجمع أهل السنة أن الكبائر لا يكفرها إلا التوبة، ولا قائل بسقوط الدين ولو حقا الله تعالى كدين صلاة وزكاة، نعم، أثم المطل وتأخير الصلاة ونحوها يسقط، وهذا معنى التكفير على القول به، وتفصيله في رد المحتار».

Note 1

ف: واضح ہو کہ اس حدیث شریف سے کئی فوائد معلوم ہوتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ سفرِ حج خالصۃً للہ ہو، جس میں دکھاوا اور دوسرے دنیوی اغراض شامل نہ ہوں، البتہ حج کے سفر میں ضمنی طور پر تجارت کا بھی جواز ہے لیکن اگر مقصدِ اصلی حج سے تجارت ہے یا حج اور تجارت دونوں مساوی درجہ میں ہیں تو یہ اخلاص کے خلاف ہوگا اور حج کا ثواب کم ہوگا اور اگر مقصدِ اصلی حج ہے اور تجارت محض تابع ہے تو یہ اخلاص کے خلاف نہ ہوگا اور اگر نیت یہ ہو کہ تجارت کے نفع سے حج میں اعانت ہوگی تو تجارت میں بھی ثواب ملے گا۔ اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ خالصۃً للہ حج کرنے والا گناہوں سے ایسا پاک ہوجاتا ہے جیسا وہ اپنی پیدائش کے دن پاک تھا۔ اس بارے میں یہ واضح رہے کہ گناہوں کی دو قسمیں ہیں ایک صغائر دوسرے کبائر، پھر کبائر کی بھی دو قسمیں ہیں، ایک حقوق اللہ، دوسرے حقوق العباد۔ حج سے صغائر بالاتفاق معاف ہوجاتے ہیں۔ البتہ کبائر میں حقوق العباد جیسے قرض بغیر ادائی کے معاف نہ ہوگا اور اسی طرح حقوق اللہ میں تارک نماز اور تارک زکوٰۃ کو اپنی فوت شدہ نمازیں اور واجب الاداء زکوٰۃ بھی ادا کرنی پڑے گی۔ البتہ حج سے نمازوں اور زکوٰۃ کی ادائی میں جو تاخیر ہوئی ہے، اس تاخیر کا گناہ معاف ہوجائے گا۔ ردالمحتار۔12