Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Sales

Hadith 3015a

(اس باب میں بیع سلم اور رہن کے احکام ہیں)

In this book

Current reading

Sales

(اس باب میں بیع سلم اور رہن کے احکام ہیں)

Zujajat al-Masabih 3015aVolume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3963
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (ایک مرتبہ) ایک یہودی سے کچھ غلہ ایک مقررہ مدت کے وعدہ پر (ادھار) لیا اور اس کے پاس اپنی ایک زرہ جو لوہے کی تھی رہن رکھ دی۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 2068 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1603a (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (5)

Note 1

The Messenger of Allah (ﷺ) bought

(1) The statement: “The Messenger of Allah (ﷺ) bought”: In Sharh As-Sunnah, it is stated: This indicates the permissibility of buying on credit, pledging for a debt, pledging in residence—though the Book restricts it to travel—and transacting with the People of the Covenant, even if their wealth may involve usury or the price of wine. This is stated in Al-Marqah.

Note 2

From a Jew

(2) The statement: “From a Jew”: This indicates the permissibility of transacting with disbelievers in matters where the prohibition of the transacted item is not confirmed, disregarding their corrupt beliefs and transactions among themselves. It also permits selling, pledging, leasing weapons, and other things to disbelievers who are not at war. This is stated in Umdat Al-Qari.

Note 1

قوله

(۱)قوله: اشترى رسول الله الله إلخ : في شرح السنة: فيه دليل على جواز الشراء بالنسيئة، وعلى جواز الرهن بالدين، وعلى جواز الرهن في الحضر، وإن كان الكتاب قيده بالسفر، وعلى جواز المعاملة مع أهل الذمة، وإن كام ما لهم لا يخلو عن الربا وثمن الخمر. كذا في «المرقاة».

Note 2

قوله

(۲) قوله : من يهودي فيه جواز معاملة الكفار فيما لم يتحقق تحريم عين المتعامل فيه وعدم الاعتبار بفساد معتقدهم ومعاملاتهم فيما بينهم، وفيه جواز بيع السلاح ورهنه وإجارته وغير ذلك من الكفار ما لم يكن حربيا. قاله في عمدة القاري».

Note 1

ف: واضح ہو کہ اس حدیث شریف سے اور اس کے بعد والی حدیث سے کئی فوائد اور مسائل معلوم ہوتے ہیں۔ (1) ادھار کسی چیز کے خرید و فروخت کا جواز (2) رہن رکھ کر ادھار چیز لینے کا جواز۔ (3) رہن کا معاملہ نہ صرف سفر بلکہ حضر (وطن) میں بھی جائز ہے۔ (4) بیع اور شراء کے معاملات ذمی اور غیر مسلم کے ساتھ کر سکتے ہیں اگرچہ کہ ان کے معاملات سودی اور غیر شرعی وسائل کے ذریعہ ہوا کرتے ہیں اس لئے شرعاً غیر مکلف ہوتے ہیں۔ (5) مشرکین اگر مسلمانوں سے برسر جنگ ہوں تو ایسی صورت میں ان کے ہاتھ اسلحہ فروخت نہیں کیے جا سکتے تا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف استعمال نہ ہوں۔ مرقات۔ عمدۃ القاری