اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3619
محمد بن ابی بکر ثقفی رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ انس بن مالک رضی
اللہ عنہ سے انہوں نے دریافت کیا کہ جب کہ یہ دونوں (نویں ذوالحجہ کی صبح) منیٰ سے عرفات
جا رہے تھے تو آپ حضرات آج کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کن مشاغل میں
گزارتے تھے؟ تو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ہم میں سے کوئی لبیک پکارتا تو اس کو
اس سے منع نہیں کیا جاتا اور ہم میں سے کوئی اللہ اکبر کہتا تو اس کو بھی اس سے روکا نہیں جاتا تھا۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Qur’an-related source paragraphs
And the words of Allah Almighty: "Then depart from the place from where [all] the people depart" (Al-Baqarah 2:199).
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1659 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 1285a (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: "Some would recite Takbir" indicates that the pilgrim’s primary focus on that day is the remembrance of Allah after having recited the Talbiyah once or twice. However, the Talbiyah remains superior and more in line with the Sunnah. As stated in Al-Luma’at, Imam al-Nawawi said: "This refutes those who claim the Talbiyah should be discontinued after Fajr on the day of Arafah." The authentic practice from the Prophet (ﷺ) is that he did not stop the Talbiyah until he stoned Jamarat al-Aqabah, which is the position of Abu Hanifah and al-Shafi’i.
Note 1
(۱)قوله : ويكبر المكبر : فلا ينكر عليه، علم من هذا أن المقصود للحاج ذكر الله في ذلك اليوم بعد أن لبى بعد الإحرام مرة أو مرتين. نعم، التلبية أولى وأفضل وأقرب إلى السنة. كذا في اللمعات». وقال النووي: وفيه رد على من قال بقطع التلبية بعد صبح يوم عرفة، انتهى. لأن المروي عن الشارع أنه لم يقطع التلبية حتى رمى جمرة العقبة، وهو مذهب أبي حنيفة والشافعي. قاله في عمدة القاري».
Note 1
ف: لمعات میں لکھا ہے کہ صدر کی حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ نویں ذوالحجہ کو حاجی اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہے جب کہ اس نے احرام باندھنے کے بعد ایک یا دو مرتبہ لبیک پکار لیا ہو، البتہ فضیلت اس بات کی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ لبیک کہتا رہے۔ اھ اور اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ لبیک کو نویں ذوالحجہ کے صبح کے بعد ختم نہ کیا جائے جیسا کہ مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لبیک کہنے کو دسویں ذوالحجہ کے دن پہلے جمرے پر کنکریاں مارنے کے بعد ختم کیا، اور یہی مذہب حنفی ہے جیسا کہ عمدۃ القاری میں مذکور ہے۔ 12