Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں حج کے افعال، احکام اور فضائل کا بیان ہے) · Chapter 4

(نویں ذوالحجہ کو میدان عرفات میں ٹھہرنے کا بیان)

11 narrations · In source reading order

Hadith 3053

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3619
محمد بن ابی بکر ثقفی رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے انہوں نے دریافت کیا کہ جب کہ یہ دونوں (نویں ذوالحجہ کی صبح) منیٰ سے عرفات جا رہے تھے تو آپ حضرات آج کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کن مشاغل میں گزارتے تھے؟ تو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ہم میں سے کوئی لبیک پکارتا تو اس کو اس سے منع نہیں کیا جاتا اور ہم میں سے کوئی اللہ اکبر کہتا تو اس کو بھی اس سے روکا نہیں جاتا تھا۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔

Qur’an-related source paragraphs

And the words of Allah Almighty: "Then depart from the place from where [all] the people depart" (Al-Baqarah 2:199).

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1659 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1285a (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Some would recite Takbir

(1) The statement: "Some would recite Takbir" indicates that the pilgrim’s primary focus on that day is the remembrance of Allah after having recited the Talbiyah once or twice. However, the Talbiyah remains superior and more in line with the Sunnah. As stated in Al-Luma’at, Imam al-Nawawi said: "This refutes those who claim the Talbiyah should be discontinued after Fajr on the day of Arafah." The authentic practice from the Prophet (ﷺ) is that he did not stop the Talbiyah until he stoned Jamarat al-Aqabah, which is the position of Abu Hanifah and al-Shafi’i.

Note 1

قوله

(۱)قوله : ويكبر المكبر : فلا ينكر عليه، علم من هذا أن المقصود للحاج ذكر الله في ذلك اليوم بعد أن لبى بعد الإحرام مرة أو مرتين. نعم، التلبية أولى وأفضل وأقرب إلى السنة. كذا في اللمعات». وقال النووي: وفيه رد على من قال بقطع التلبية بعد صبح يوم عرفة، انتهى. لأن المروي عن الشارع أنه لم يقطع التلبية حتى رمى جمرة العقبة، وهو مذهب أبي حنيفة والشافعي. قاله في عمدة القاري».

Note 1

ف: لمعات میں لکھا ہے کہ صدر کی حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ نویں ذوالحجہ کو حاجی اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہے جب کہ اس نے احرام باندھنے کے بعد ایک یا دو مرتبہ لبیک پکار لیا ہو، البتہ فضیلت اس بات کی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ لبیک کہتا رہے۔ اھ اور اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ لبیک کو نویں ذوالحجہ کے صبح کے بعد ختم نہ کیا جائے جیسا کہ مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لبیک کہنے کو دسویں ذوالحجہ کے دن پہلے جمرے پر کنکریاں مارنے کے بعد ختم کیا، اور یہی مذہب حنفی ہے جیسا کہ عمدۃ القاری میں مذکور ہے۔ 12

Hadith 3054

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3620
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ میں نے (مِنیٰ کے) اس مقام پر قربانی کی ہے (اور اس مقام کو منحر النبی کہا جاتا تھا جو مسجد خیف کے قریب تھا) اور مِنیٰ کا پورا میدان قربانی کی جگہ ہے۔ اس لئے تم اپنے اپنے خیموں میں جہاں چاہے قربانی کر سکتے ہو۔ اور (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ) (عرفہ کے دن) میں اس جگہ (یعنی جبل رحمت کے قریب سیاہ پتھروں کے پاس) ٹھہرا ہوں اور سارا میدان عرفات (وادی عرفہ کے سوا) ٹھہرنے کی جگہ ہے اور مزدلفہ میں اس جگہ (یعنی مشعر حرام میں) میں نے شب گزاری کی ہے اور مزدلفہ کا پورا میدان (سوائے وادی مُحسّر کے) شب گزاری کی جگہ ہے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1218 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

(1) The commands in this Hadith indicate permissibility, though following the Sunnah (as demonstrated by the Prophet) remains superior. (Al-Maraqi)

Note 1

ف: مرقات میں لکھا ہے کہ اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں جہاں چاہیں حاجی کرام ٹھہر سکتے ہیں اور منیٰ میں جہاں چاہیں قربانی دے سکتے ہیں لیکن افضل مقامات وہی ہیں جہاں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قربانی کی اور قیام فرمایا۔12

Hadith 3055

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3621
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ عرفات کا پورا میدان (سوائے وادی عرفہ کے نویں ذوالحجہ کو حاجیوں کے) ٹھہرنے کی جگہ ہے اور منیٰ کا پورا میدان (دسویں ذوالحجہ کو) قربانی کی جگہ ہے (کہ جہاں چاہو قربانی دے سکتے ہو) اور مزدلفہ کا پورا میدان (سوائے وادی مُحسّر کے (دسویں ذوالحجہ کو) شب گزاری کی جگہ ہے (جہاں چاہے ٹھہر سکتے ہیں اور جس راستہ سے چاہیں مکہ معظمہ میں داخل ہوسکتے ہیں اور مکہ معظمہ میں جہاں چاہیں قربانی دے سکتے ہیں۔ اس کی روایت ابوداؤد اور دارمی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1937 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (4)

Note 1

All the mountain passes of Makkah are pathways

(1) "All the mountain passes of Makkah are pathways" means one may enter Makkah from any route, though entering from Thaniyyat Kada’ is preferable. (Al-Maraqi) (2) "Pathways and places of slaughter" means sacrifices may be performed anywhere within the sacred precincts, as the objective is to remove hardship. However, Mina is superior for Hajj sacrifices, and Makkah (particularly al-Marwah) is preferable for Umrah sacrifices. (Al-Maraqi, Fath al-Qadir)

Note 1

قوله

(۱) قوله: كل فجاج مكة طريق : أي يجوز دخول مكة من جميع طرقها، وإن كان الدخول من ثنية كداء أفضل. قاله في «المرقاة».

Note 2

قوله

(۲) قوله: وطريق ومنحر : أي ويجوز النحر في جميع نواحيها؛ لأنها من الحرم، والمقصود نفي الحرج، ذكره الطيبي لله ويجوز ذبح جميع الهدايا في أرض الحرم بالاتفاق، إلا أن منى أفضل لدماء الحج، ومكة لا سيما المروة لدماء العمرة. كذا في المرقاة». وقال في فتح القدير: ويجوز الذبح في أي موضع شاء من الحرم، ولا يختص بمنى، ومن الناس من قال: لا يجوز إلا بمنى، والصحيح ما قلنا، ويؤيده هذا الحديث.

Note 1

ف(1): واضح ہو کہ مکہ معظمہ میں جس راستہ سے چاہیں داخل ہوسکتے ہیں لیکن کداء نامی گھاٹی جو مکہ معظمہ کے مشرقی جانب ہے اس طرف سے داخل ہونا افضل ہے اور جب کعبۃ اللہ شریف میں داخل ہوں تو باب السلام سے داخل ہوں جو جانب مشرق واقع ہے۔ مرقات اور عرف شذی۔12 ف(2): واضح ہو کہ مکہ معظمہ چونکہ سرزمین حرم ہے اس لئے جہاں چاہیں قربانی دے سکتے ہیں لیکن حج کی قربانی کے لئے افضل یہ ہے کہ وہ منیٰ میں دی جائے اور دیگر قربانیاں جیسے تمتع، نذر اور شکرانہ اور جنایات کی قربانیاں مکہ معظمہ میں جہاں چاہیں دی جائیں تو جائز ہے مرقات اور اشعۃ اللمعات۔12

Hadith 3056

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3622
عمرو بن عبداللہ بن صفوان رحمہ اللہ (جو تابعین میں سے ہیں) اپنے ماموں سے جن کا نام یزید بن شیبان رضی اللہ عنہ ہے (جو صحابی ہیں) روایت کرتے ہیں، یزید بن شیبان فرماتے ہیں کہ ہم عرفات میں اس مقام پر ٹھہرے ہوئے تھے، (جو زمانہ جاہلیت میں ہمارے قبیلہ کے لئے مخصوص تھا اور یہ مقام امام سے بہت دور تھا تو راوی حدیث) عمرو بن عبداللہ اس جگہ کو امیر حج کی جگہ سے بہت دور پا رہے تھے (انہوں نے اس دوری کو اپنے ماموں یزید بن شیبان سے بیان کیا تو انہوں نے کہا کہ ہم بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عرفات میں اسی جگہ جو دور تھی قیام کئے تھے اور چاہتے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قریب ہوجائیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب ہمارے اس خیال کی اطلاع ملی تو آپ نے ہمارے اس اشکال کو دور کرنے کے لئے ابن مربع انصاری رضی اللہ عنہ کو ہمارے پاس بھیجا اور) ابن مربع انصاری رضی اللہ عنہ، ہمارے پاس آئے اور کہا کہ میں آپ حضرات کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قاصد ہوں۔ (اور یہ پیام لایا ہوں) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ تم اس وقت جہاں ٹھہرے ہوئے ہو وہیں ٹھہرے رہو (پورا میدان عرفات ٹھہرنے کی جگہ ہے) اور تم اپنے اس وقوف میں اپنے باپ حضرت ابراہیم علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی میراث یعنی سنت پر ہو (اس لئے امام سے دوری کے باوجود وقوفِ عرفات کی فرضیت ادا ہوجائے گی، اس لئے تم عرفات میں جہاں بھی ٹھہرے ہو، اس کو حقیر مت جانو)۔ اس حدیث کی روایت ترمذی، ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 883 (unverified) 96% confidence · Validation similarity: 0.657
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1919 (unverified) 94% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 3011 (unverified) 85% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 3014 (unverified) 82% confidence · Validation similarity: 0.759

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

Stand at your places of ritual

(1) "Stand at your places of ritual" means adhere to your traditional sites of worship, inherited from Ibrahim. Do not belittle your standing place simply because it is far from the Imam's position. (Al-Luma'at)

Note 1

قوله

(۱)قوله : قفوا على مشاعركم أي مواضع نسككم ومواقفكم القديمة؛ فإنها جائتكم من إرث أبيكم إبراهيم، ولا تحقروا شأن موقفكم بسبب بعده عن موقف الإمام. كذا في «اللمعات».

Hadith 3058

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3624
خالد بن ہوذہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عرفہ کے دن میدان عرفات میں اونٹ پر سوار لوگوں کو خطبہ ارشاد فرماتے دیکھا ہے اور آپ کے دونوں پیر رکاب میں تھے۔ (تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں اور آپ کے خطبہ کو اچھی طرح سن سکیں)۔ اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1917 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

Mounted on his camel

(1) "Mounted on his camel" - Hence, Al-Hidayah states: "It is preferable for the Imam to stand at Arafah while mounted on his riding animal."

Note 1

قوله

(۱) قوله: على بعير : ولذلك قال في الهداية»: وينبغي للإمام أن يقف بعرفة على راحلته.

Hadith 3059

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3625
عمرو بن شعیب اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا (عمرو بن العاص) رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ (فضیلت اور قبولیت کے اعتبار سے) بہترین دعا وہ ہے جو عرفہ کے دن کی جائے، اور بہترین کلمات جن کو میں نے اور مجھ سے پہلے انبیاء علیہم الصلوٰۃ السلام نے (عرفات میں) پڑھا ہے یہ ہیں ’’لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3585 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2598 (unverified) 95% confidence

Mishkat (candidate) 2598

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

The best supplication

1) "The best supplication" - Scholars agree that one should strive in remembrance, Takbir, and supplication on this day. (Al-Musawwa)

Note 1

قوله

(۱) قوله: خير الدعاء إلخ وعليه أهل العلم أنه يستحب يومئذ الاجتهاد في الذكر والتهليل والدعاء. كذا في «المسوى».

Note 1

ف: مسوّٰی میں مذکور ہے کہ مستحب یہ ہے کہ عرفات میں ذکر، تہلیل اور دعاؤں میں بے حد مشغول رہیں۔12

Hadith 3060

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3626
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن اپنے بندوں کو دوزخ سے اتنے زیادہ تعداد میں نجات دیتے ہیں کہ کسی اور دن اتنے زیادہ نجات نہیں دیتے (یعنی عرفہ کے دن بے شمار بندوں کو دوزخ سے رہائی اور مغفرت ملتی ہے) اور اللہ تعالیٰ (اس دن اپنی رحمت اور مغفرت کے ساتھ) بندوں سے قریب ہوتے ہیں اور ان پر (یعنی عرفات میں حاضری دینے والوں پر) فرشتوں کے سامنے فخر کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ان بندوں (نے میرے لئے اپنے وطن اور گھر بار کو چھوڑا اور خود کو تھکایا اور مال خرچ کیا ہے اور یہاں جمع ہوئے ہیں اس سے ان) کا مقصود کیا ہے؟ (یہی وہ بندے جن پر تم نے اے فرشتو! طعنہ دیا تھا کہ یہ زمین پر فساد کریں گے دیکھو! یہ میری اطاعت میں کس طرح جمع ہیں، اور سوائے میری مغفرت کے ان کو اور کچھ درکار نہیں!)۔ اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1348 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2594 (unverified) 88% confidence

Mishkat (candidate) 2594

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 3061

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3627
طلحہ بن عبید اللہ بن کریز رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ شیطان کو عرفہ کے دن سے زیادہ کسی اور دن اتنا حقیر، ذلیل، پست اور غضبناک نہیں دیکھا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شیطان اس دن میدان عرفات میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کو نازل ہوتے ہوئے اور بڑے بڑے گناہوں کی مغفرت ہوتے ہوئے دیکھتا ہے اور غزوۂ بدر کے دن بھی شیطان کو اسی طرح (ذلیل، حقیر اور غضبناک) دیکھا گیا جب کہ اس نے حضرت جبرئیل علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ فرشتوں کی صفوں کو ترتیب دے رہے تھے (اور اسی دن مسلمانوں کو فتح اور اسلام کو شوکت اور عزت حاصل ہوئی)۔ اس کی روایت امام مالک نے مرسلاً کی ہے اور شرح السنہ میں بھی اسی کے قریب قریب روایت ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2601 (unverified) 70% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2597 (unverified) 65% confidence
  • Candidate: Muwatta Malik 945 (unverified) 40% confidence

Mishkat (candidate) 2601

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

From the great sins

(1) "From the great sins" - This implies the forgiveness of major sins. (Al-Maraqi)

Note 1

(۱) قوله عن الذنوب العظام وفيه إيماء إلى غفران الكبائر. قاله في «المرقاة».

Hadith 3062

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3628
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ عرفہ کے دن اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور (میدان عرفات میں) جمع ہونے والوں پر فرشتوں کے سامنے فخر فرماتے ہیں اور ارشاد فرماتے ہیں (اے فرشتو!) تم میرے بندوں کو دیکھو کہ وہ میری بارگاہ میں پراگندہ بال، گرد آلود چہروں میں دور دراز، تنگ اور کشادہ راستوں سے چل کر (یہاں) حاضر ہیں اور تہلیل، تسبیح، ذکر اور تلبیہ کرتے ہوئے) مجھے پکار رہے ہیں (اے فرشتو!) تم گواہ رہو، میں نے ان سب کو بخش دیا (یہ سن کر) فرشتے عرض کرتے ہیں پروردگار! ان میں فلاں مرد اور فلاں عورت بھی ہے جو گنہگار ہے اور متہم ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں کہ (یہ سن کر) اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں (سنو!) میں نے (نیکیوں کے ساتھ) ان کو بھی بخش دیا (یہ فرما کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی اور دن دوزخ سے اتنے بندوں کو رہائی نہیں ملتی جتنے بندوں کو عرفہ کے دن دوزخ سے) رہائی ملتی ہے۔ اس کی روایت
Commentary and footnotes (3)

Note 1

I have forgiven them

(1) "I have forgiven them" - Hajj wipes away previous sins. (Al-Maraqi) We will discuss this further when commenting on Ibn Majah's narration.

Note 1

قوله

(۱)قوله : قد غفرت لهم فإن الحج يهدم ما كان قبله. كذا في «المرقاة»، وسنذكر تحقيقه في حديث ابن ماجه.

Note 1

شرح السنہ میں کی ہے۔

Hadith 3063

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3629
عباس بن مرداس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرفہ کے (دن) شام کے وقت اپنی امت (کے تمام گنہگاروں) کی بخشش کی (اللہ تعالیٰ سے) دعا مانگی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ خوشخبری دی گئی کہ میں نے آپ کی پوری امت کو بخش دیا ہے، سوائے ظالم کے (کیونکہ اس نے بندوں کے حقوق تلف کئے ہیں) اور میں اس سے مظلوم کے حقوق لوا دوں گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (دوبارہ بارگاہ رب العزت میں) عرض کیا پروردگار آپ چاہیں تو مظلوم کو (اس کے حقوق کے بدلے میں) جنت عطا فرما کر ظالم کو بخش دیں لیکن حضور کی یہ دعا عرفہ کی شام تک قبول نہ ہوئی۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزدلفہ تشریف لائے (اور شب گزاری کے بعد) صبح پھر اسی دعا کو لوٹایا تو آپ کی (خواہش کے مطابق) یہ دعا قبول کر لی گئی (یعنی ظالم کی مغفرت کی خوشخبری بھی آپ کو دیدی گئی) راوی کا بیان ہے کہ (قبولیت دعا کی خوش خبری سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنس دئے یا مسکرائے (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسکراتے دیکھ کر) حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے عرض کیا ہمارے ماں باپ آپ پر فدا ہو جائیں (یا رسول اللہ) معمولاً ایسے موقع پر آپ ہنسا نہیں کرتے، آپ کو کس چیز نے ہنسایا؟ اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ ہنستا رکھے! آپ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کے دشمن ابلیس کو جب یہ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول فرما لی ہے اور پوری امت کو بخش دیا ہے تو اپنے سر پر خاک ڈالنے لگا اور واویلا کرتا ہوا بھاگ نکلا۔ اس کی یہ پریشانی اور بدحواسی دیکھ کر مجھے ہنسی آ گئی۔ اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔ اور بیہقی نے بھی کتاب البعث والنشور میں اس طرح روایت کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 3013 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

And forgave my ummah

(1) "And forgave my ummah" - Does Hajj expiate major sins? Some scholars say yes, like Harbi who embraced Islam, citing this hadith. Al-Bayhaqi said this hadith has many supporting narrations mentioned in Shu'ab al-Iman. If authenticated by these narrations, it would be strong evidence. Otherwise, Allah says: "And He forgives what is less than that for whom He wills" (4:48). Wrongdoing between people is less severe than shirk. Ibn al-Mubarak narrated that the Prophet (ﷺ) said: "Allah has forgiven the people of Arafah and Muzdalifah and guaranteed to settle their debts." Umar stood up and asked: "O Messenger of Allah, is this exclusively for us?" He replied: "For you and those who come after you until the Day of Judgment." Umar exclaimed: "How abundant is the goodness of our Lord!" The full discussion is in Fath al-Bari, which cites additional hadiths. In summary, while Ibn Majah's hadith is weak, it has supporting evidence that strengthens it, and the Qur'anic verse also supports it. Other evidence includes the hadith in Bukhari: "Whoever performs Hajj without obscenity or wickedness returns as sinless as the day his mother bore him," and the hadith in Muslim: "Islam wipes away what came before it." Fath al-Bari seems to lean toward the view that even rights between people may be forgiven, as held by Imam al-Sarakhsi in Sharh al-Siyar al-Kabir and extended by some scholars to include martyrs. Al-Munawi attributed this view to al-Qurtubi. However, some scholars like Abu Hanifa held that only sins against Allah (not human rights) are forgiven, unless the wronged party is compensated. Al-'Iyadh said: "The consensus of Ahl al-Sunnah is that major sins require repentance, and no one claims that financial obligations are waived." In summary, as stated in Al-Bahr al-Ra'iq: "The matter is speculative - we cannot definitively say Hajj expiates major sins against Allah, let alone human rights." Al-Bayhaqi cautioned: "No Muslim should deceive himself into thinking Hajj automatically settles all accounts, for disobedience is ominous and opposing the Almighty in His commands is grave." However, one may optimistically hope for forgiveness for those who perform an accepted Hajj with sincere effort. But who can be certain about this for themselves or others? Even the righteous cannot be certain. The balanced approach is to remain between hope and fear. (Al-Durr al-Mukhtar, Radd al-Muhtar, Al-Maraqi - summarized)

Note 1

قوله

(۱) قوله: وغفر لأمتي إلخ : هل الحج يكفر الكبائر ؟ قيل: نعم، كحربي أسلم لهذا الحديث، وقال البيهقي هذا الحديث له شواهد كثيرة، ذكرناها في كتاب الشعب، فإن صح بشواهده ففيه الحجة، وإلا فقد قال تعالى: ﴿وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَن يَشَاءُ) (النساء: ٤٨) وظلم بعضهم بعضا دون الشرك، روى ابن المبارك أنه قال: إن الله عَزَّ وَجَلَّ قد غفر لأهل عرفات وأهل المشعر وضمن عنهم التبعات، فقام عمر، فقال: يا رسول الله ، هذا لنا خاصة؟ قال: هذا لكم، ولمن أتى من بعدكم إلى يوم القيامة، فقال عمر الله كثر خير ربنا وطاب. وتمامه في «الفتح»، وساق فيه أحاديث أخر، والحاصل أن حديث ابن ماجه وإن ضعف فله شواهد تصححه، والآية أيضا تؤيده، ومما يشهد له أيضًا حديث البخاري مرفوعا: من حج ولم يرفث ولم يفسق رجع من ذنوبه كيوم ولدته أمه، وحديث مسلم مرفوعاً: إن الإسلام يهدم ما كان قبله، وإن الهجرة تهدم ما كان قبلها، وإن الحج يهدم ما كان قبله وظاهر كلام «الفتح» الميل إلى تكفير المظالم أيضًا، وعليه مشى الإمام السرخسي في شرح السير الكبير وقاس عليه الشهيد الصابر المحتسب، وعزاه أيضا المناوي إلى القرطبي. وقيل : غير المتعلقة بالآدمي كذمي أسلم، وقال عياض: أجمع أهل السنة أن الكبائر لا يكفرها إلا التوبة، ولا قائل بسقوط الدين، ولو حقا الله تعالى كدين صلاة وزكاة. نعم، أيم المطل. وتأخير الصلاة ونحوها يسقط، وهذا معنى التكفير على القول به والحاصل كما في البحر»: أن المسألة ظنية، فلا يقطع بتكفير الحج للكبائر من حقوقه تعالى، فضلا عن حقوق العباد، ولذا قال البيهقي : فلا ينبغي لمسلم أن يغرّ نفسه بأن الحج يكفر التبعات؛ فإن المعصية شؤم وخلاف الجبار في أوامره ونواهيه عظيم انتهى. نعم، يغلب على الظن رجاء المغفرة لمن حج حجا مبرورًا وسعيا مشكورًا، وأين من يجزم بذلك في نفسه أو غيره، وإن كان عالما أو صالحا في علو مقامه هنالك، فمن المعلوم أن غير المعصوم يجب أن يكون بين الخوف والرجاء، الدر المختار» و رد المحتار» و«المرقاة» ملتقط منها.

Note 1

ف: واضح ہو کہ اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ امت محمدیہ علی صاحبہا آلاف صلوات۔ امت مرحومہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کو چاہیں گے اس کے حقوق العباد بھی معاف کروا دیں گے لیکن شرک معاف نہیں ہوتا جیسا آیت شریفہ میں ارشاد ہے ”إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاءُ“ (سورۃ نساء،پ:5،ع:18،آیت نمبر:116)(اللہ تعالیٰ مشرک کو نہیں بخشتے لیکن مشرک کے سوا جس کو چاہیں بخش دیتے ہیں) تو حقوق العباد شرک کے سوا ہیں، اس لئے ان کی بخشش کی امید ہے اس کی تائید میں بخاری کی مرفوع حدیث بھی ہے کہ جو حج کرے اور (حج کے دوران) فساد اور گناہ نہ کرے تو وہ ایسا پاک و صاف ہو جاتا ہے جیسا کہ اپنی ماں کے پیٹ سے پیدائش کے وقت گناہوں سے پاک و صاف تھا۔ اور اسی طرح مسلم کی بھی ایک مرفوع حدیث ہے کہ اسلام لانے سے (زمانہ کفر کے) سارے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں اور ہجرت سے بھی (قبل ہجرت کے) سارے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں اور حج سے بھی (حج سے پہلے کے) سارے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔ ان احادیث شریفہ کی وجہ سے فتح الباری میں علامہ ابن حجر نے حج کی وجہ سے حقوق العباد کے معاف کر دیئے جانے کو ترجیح دی ہے اور شرح السیر الکبیر میں امام سرخسی نے اسی کو اختیار کیا ہے اور امام صدر الشہید بھی اسی کے قائل ہیں۔ البتہ قاضی عیاض رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ اہل السنہ والجماعۃ کی اس بات پر اجماع ہے کہ کبائر توبہ کے بغیر معاف نہیں ہوتے۔ خواہ حقوق اللہ ہوں، جیسے ترک نماز اور ترک زکوۃ یعنی ان کو بہر صورت قضاء کرنا پڑے گا۔ ہاں حج کی وجہ سے تاخیر کا گناہ معاف ہوگا۔ جب حقوق اللہ کا یہ حال ہے تو حقوق العباد کیسے معاف ہوں گے اسی وجہ سے امام بیہقی نے فرمایا ہے کہ کسی بندہ مسلم کو اس دھوکے میں نہ رہنا چاہئے کہ حج سے حقوق العباد بھی معاف ہو جاتے ہیں اس لئے کہ گناہ بدبختی ہے اور اللہ تعالیٰ کے احکام کے خلاف بڑی جسارت اور بے باکی ہے۔ ہاں جس کسی کو حج مبرور اور مقبول نصیب ہو جائے تو اس کی مغفرت کی امید ہے لیکن وہ کون مرد خدا ہے جو یہ دعویٰ کرے کہ میرا حج مقبول ہے اگرچہ کہ وہ عالم باعمل ہو اور بڑا نیک و کار ہو، جب کہ یہ معلوم ہے کہ انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے سوا سارے انسانوں کا مقام خوف اور رجاء کے درمیان ہے۔ اس لئے ہم کو چاہئے کہ گناہوں پر جرت نہ کریں اور حقوق العباد کے ضائع کرنے سے بچیں اور سابقہ گناہوں پر توبہ اور استغفار اور ان کی تلافی کی کوشش کرتے رہیں۔ یہ مضمون درمختار، ردالمحتار، مرقات اور اشعۃ اللمعات سے ماخوذ ہے۔12