Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں حج کے افعال، احکام اور فضائل کا بیان ہے)

Hadith 3116

(واجبات حج میں تقدیم و تاخیر سے کفارہ کے ساتھ حج درست ہو جاتا ہے)

In this book

Current reading

(اس کتاب میں حج کے افعال، احکام اور فضائل کا بیان ہے)

(واجبات حج میں تقدیم و تاخیر سے کفارہ کے ساتھ حج درست ہو جاتا ہے)

Zujajat al-Masabih 3116Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3696
امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر عرض کیا یا رسول اللہ میں نے طواف افاضہ (یعنی فرض طواف جو ایام نحر یعنی دس سے بارہ ذوالحجہ کے درمیان کیا جاتا ہے) سر مونڈھانے سے پہلے کرلیا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم اب سر مونڈھالو، یا بال کتروالو (اس تقدیم وتاخیر سے) گناہ نہ ہوگا۔ پھر ایک اور شخص حاضر خدمت ہوا، اور عرض کیا کہ میں نے رمی جمار سے پہلے قربانی دے دی ہے تو آپ نے ارشاد فرمایا اب تم کنکریاں مارو، اور اس تقدیم وتاخیر سے کوئی) گناہ نہیں (اگر حاجی مفرد ہے تو اس پر کوئی فدیہ نہیں۔ البتہ حاجی اگر قارن یا متمتع ہے تو اس پر کفارہ یعنی قربانی لازم ہوگی)۔ اس حدیث کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 885 (unverified) 80% confidence · Validation similarity: 0.810
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2668 (unverified) 40% confidence

Mishkat (candidate) 2668

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

No harm done

(1) "No harm done" means no sin and no compensation for those performing Ifrad. For Qarin and Mutamatti', there is no sin but compensation is required. [From Al-Mirqat]

Note 1

قوله

(۱) قوله: احلق أو قصر ولا حرج : أي لا إثم، ولا فدية. قاله في «المرقاة».

Note 2

قوله

(۲) قوله: ارم ولا حرج أي لا إثم، ولا فدية على المفرد، وأما القارن والمتمتع فليس عليهما الإثم إذا لم يكن عن عمد، لكن عليهما الكفارة. كذا في «المرقاة».