Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں حج کے افعال، احکام اور فضائل کا بیان ہے)

Hadith 3115

(واجبات حج میں تقدیم و تاخیر سے کفارہ کے ساتھ حج درست ہو جاتا ہے)

In this book

Current reading

(اس کتاب میں حج کے افعال، احکام اور فضائل کا بیان ہے)

(واجبات حج میں تقدیم و تاخیر سے کفارہ کے ساتھ حج درست ہو جاتا ہے)

Zujajat al-Masabih 3115Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3695
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ دسویں ذوالحجہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منیٰ میں قیام فرمائے ہوئے تھے اور صحابہ کرام (آپ سے مناسک حج میں بھول چوک اور لاعلمی کی وجہ سے تقدیم و تاخیر کے بارے میں مسائل) دریافت کررہے تھے تو آپ ارشاد فرمارہے تھے (بھول چوک اور افعال حج کی تقدیم و تاخیر میں) کوئی گناہ نہیں ہوتا (البتہ تقدیم و تاخیر کی وجہ سے قربانی لازم آئے گی) چنانچہ ایک صحابی نے دریافت کیا کہ میں نے (آج دسویں ذوالحجہ کو) شام ہونے کے بعد رمی کی ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم پر کوئی گناہ نہیں۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1735 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

(1) Regarding stoning time: The stoning days are four - Day of Sacrifice and three Days of Tashreeq. On the Day of Sacrifice, the earliest time is after true dawn according to our school. The preferred time is after sunrise before noon. Shafi'i said it becomes obligatory after midday. Sufyan ath-Thawri said it can't be done before sunrise. Abu Hanifa said the time extends until sunset, while Abu Yusuf said until noon. If someone stones after sunset, it is valid before dawn the next day according to our scholars with no penalty, but Shafi'i has two opinions on this. [From Bada'i as-Sana'i]

Note 1

قوله

(۱) قوله: رميت بعد ما أمسيت أما وقت الرمي فأيام الرمي أربعة يوم النحر وثلاثة أيام التشريق، أما يوم النحر فأول وقت الرمي ما بعد طلوع الفجر الثاني من يوم النحر، فلا يجوز قبل طلوعه، وأول وقته المستحب ما بعد طلوع الشمس قبل الزوال، وهذا عندنا. وقال الشافعي: إذا انتصف ليلة النحر دخل وقت رمي الجمار، كما قال في الوقوف بعرفة ومزدلفة، فإذا طلعت الشمس وجب، وقال سفيان الثوري: لا يجوز قبل طلوع الشمس. وأما آخره فآخر النهار، كذا قال أبو حنيفة: إن وقت الرمي يوم النحر يمتد إلى غروب الشمس، وقال أبو يوسف: يمتد إلى وقت الزوال، فإذا زالت الشمس يفوت الوقت. ولأبي حنيفة الاعتبار بسائر الأيام، وهو أن في سائر الأيام ما بعد الزوال إلى غروب الشمس وقت الرمي، فكذا في هذا اليوم، فإن لم يرم حتى غربت الشمس فيرمي قبل طلوع الفجر من اليوم الثاني أجزأه، ولا شيء عليه في قول أصحابنا وللشافعي فيه قولان في قول: إذا غربت الشمس فقد فات الوقت، وعليه الفدية، وفي قول: لا يفوت إلا في آخر أيام التشريق، فإن أخر الرمي حتى طلع الفجر من اليوم الثاني رمى، وعليه دم للتأخير في قول أبي حنيفة. وفي قول أبي يوسف ومحمد لا شيء عليه، والكلام فيه يرجع إلى أن الرمي موقت عنده، وعندهما ليس بموقت، وهو قول الشافعي كذا في بذل المجهود».

Note 1

ف: واضح ہو کہ قیام منیٰ میں رمی کے چار دن ہیں: ایک یوم النحر یعنی دسویں ذوالحجہ اور ایام تشریق کے تین دن یعنی گیارہ، بارہ اور تیرہ ذوالحجہ۔ پہلے دن یعنی دسویں ذوالحجہ کو رمی کا مستحب وقت طلوع آفتاب کے بعد سے زوال آفتاب تک ہے اور زوال کے بعد سے گیارہ کی صبح صادق کے پہلے تک کراہت کے ساتھ رمی جائز ہے اور کوئی کفارہ لازم نہیں آئے گا اگر گیارہ ذوالحجہ کی صبح صادق ہو جائے تو رمی کرنے کے بعد تاخیر کی وجہ سے قربانی لازم ہوگی اور ایام تشریق یعنی گیارہ، بارہ اور تیرہ کو رمی کا مستحب وقت زوال آفتاب کے بعد سے غروب آفتاب تک ہے اور غروب آفتاب سے دوسرے دن کی صبح صادق کے پہلے تک بھی رمی کرسکتے ہیں مگر ایسا کرنا مکروہ ہے اور اگر دوسرے دن کی صبح صادق طلوع ہوجائے تو فوت شدہ رمی کرنے کے بعد تاخیر کی وجہ سے قربانی دینا لازم ہوگا اور اگر تیرہویں ذوالحجہ کے دن سورج ڈوب جائے تو رمی جمار کے ادا اور قضا دونوں کا وقت ختم ہوجائے گا اس سے ایک واجب ترک ہوجاتا ہے اس لئے حاجی رمی جمار کے اوقات کا بہت خیال رکھے۔ مرقات اور بذل المجہود۔12