اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3705
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زمزم
کی سبیل پر تشریف لائے اور زمزم طلب فرمائے تو حضرت عباسؓ (اپنے صاحبزادے) فضلؓ سے
فرمایے تم اپنی ماں کے پاس جاؤ اور ان کے پاس سے حضورؐ کے پینے کے لئے (صاف) پانی لے آؤ
(یہ سن کر) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مجھے یہی زمزم پلا دو تو حضرت عباس نے فرمایا یا رسول
اللہ! لوگ اس میں ہاتھ ڈال دیتے ہیں۔ اس پر بھی حضور نے پھر فرمایا مجھے یہی زمزم پلادو (تو آپ کو
زمزم پیش کیا گیا آپ نے اس کو پی لیا۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زمزم کے کنویں پر تشریف
لائے، اس وقت لوگ (یعنی اولاد عبدالمطلب) لوگوں کو زمزم پلا رہے تھے۔ اور اس کام میں مشقت
اٹھا رہے تھے حضور نے ان کو دیکھ کر فرمایا تم اپنے کام میں مشغول رہو، تم ایک نیک کام کر رہے ہو۔
پھر ارشاد فرمایا کہ اگر مجھے اس بات کا خوف نہ ہوتا کہ میرے ہاتھ لگاتے ہی لوگ ٹوٹ پڑیں گے
(اور پانی پلانا تمہارے لئے مشکل ہو جائے گا) تو میں (اونٹنی پر سے) اترتا اور رسی کو کندھے پر رکھتا
(اور پانی کھینچتا اور تمہارے اس نیک کام شریک ہوتا)۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1635 (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.