Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Sales

Hadith 3135a

Chapter: Gifts

In this book

Current reading

Sales

Chapter: Gifts

Zujajat al-Masabih 3135aVolume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4122
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ اگر ہبہ ایسے قرابت والے کو دیا گیا ہو جو محرم ہیں (یعنی اصول اور فروع میں ہیں) تو ایسا ہبہ رجوع نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی روایت حاکم نے مستدرک کے کتاب البیوع میں کی ہے اور دار قطنی اور بیہقی نے اپنی اپنی سنن میں کی ہے اور حاکم نے کہا ہے کہ یہ حدیث بخاری کی شرط کے مطابق صحیح ہے حالانکہ بخاری اور مسلم نے اس کی روایت نہیں کی ہے۔
Commentary and footnotes (3)

Note 1

If a gift is given, etc.—Its details, highlighting the benefits of its conditions, are as in Al-Hidayah and its commentaries

(1) The statement: If a gift is given, etc.—Its details, highlighting the benefits of its conditions, are as in Al-Hidayah and its commentaries: A gift is either accepted or not. If not accepted, the giver may retract it, and their retraction is effective, as an unaccepted gift does not confer ownership, as An-Nakha’i said: A gift is not valid until accepted, while charity is valid before acceptance. The condition of acceptance is evidenced by the narration of Abu Bakr’s gift. If accepted, it is either to a close relative (e.g., parents or children) or to someone else, whether a complete stranger, a distant relative like cousins, or a non-blood relative like a foster sibling. If to a close relative, retraction is invalid, as the purpose is maintaining family ties, which is achieved, as is the case with gifts between spouses. This is supported by Samurah’s narration. If to someone else, if given as charity to a poor person solely for Allah’s sake, retraction is also invalid. Otherwise, retraction is permissible unless prevented, such as if the recipient compensates for it, making the gift binding, or if the recipient enhances the gift with planting or building, or if it leaves their ownership through sale or gift, or if the gift perishes or one of them dies. As stated in At-Ta’liq Al-Mumajjad. In Rahmat Al-Ummah: If a parent gives a gift to their child, Abu Hanifah said they cannot retract it under any circumstances, while Shafi’i said they can always retract.

Note 1

قوله

(۱) قوله: إذا كانت الهبة إلخ : تفصيله بحيث تظهر فوائد قيوده، على ما في الهداية وشروحه: أن الهبة لا تخلو إما أن تكون مقبوضة أو غير مقبوضة، فإن كانت غير مقبوضة يجوز للواهب الرجوع فيها ويعمل برجوعه؛ لأن الهبة الغير المقبوضة لا تفيد ملكا، كما قال النخعي: لا تجوز الهبة حتى تقبض، والصدقة تجوز قبل أن تقبض. ويدل على اشتراط القبض حديث نحلة أبي بكر الصديق. وإن كانت مقبوضة، فلا يخلو إما أن يكون لذي رحم محرم، أي الذي قرابة المحرمية كالأصول والفروع، وإما أن يكون لغيره، سواء كان أجنبيا محضًا أو كان ذا قرابة ولم يكن محرما كبني الأعمام، أو كان محرما ولم يكن ذا رحم كالأخ الرضاعي، فإن كان الأول فلا يصح الرجوع فيه؛ لأن المقصود صلة الرحم، وقد حصل، وكذلك في هبة أحد الزوجين للآخر، ويدل عليه حديث سمرة مرفوعا له : إذا كانت الهبة لذي رحم محرم إلخ. وإن كان الثاني، فإن كان على سبيل الصدقة على الفقير يقصد بها وجه الله فحسب، فلا رجوع أيضًا، وإلا فله الرجوع، إلا أن يمنع مانع، نحو: أن يعوض عنها الموهوب له، فحينئذ تتقلب الهبة لازمة، كذا إذا زاد الموهوب له في الموهوب خيرا كالغرس والبناء، وكذا إذا خرج من ملكه بالبيع أو الهبة، وكذا إذا هلك الموهوب أو مات أحدهما. كذا في «التعليق الممجد». وقال في رحمة الأمة»: وإذا وهب الوالد لابنه هبة، قال أبو حنيفة: ليس له الرجوع فيها بحال، وقال الشافعي: له الرجوع بكل حال.

Note 1

ف: واضح ہو کہ ہدایہ میں لکھا ہے کہ ہبہ کی کئی صورتیں ہیں جن کی تفصیل یہ ہے: ہبہ یا تو مقبوضہ ہوگا یعنی جس کو ہبہ دیا گیا ہو وہ اس پر قابض ہو یا غیر مقبوضہ ہوگا اگر ہبہ غیر مقبوضہ ہو تو ہبہ دینے والے اپنے ہبہ کو واپس لے سکتا ہے اور یہ عمل درست ہے اس لئے کہ غیر مقبوض ہبہ پر لینے والی کی ملکیت ثابت نہیں ہوتی، چنانچہ حضرت ابراہیم نخعی رحمة اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ قبضہ کے بغیر ہبہ جائز نہیں البتہ صدقہ میں قبضہ شرط نہیں یعنی اگر کسی کو بطور صدقہ کوئی چیز دی جائے اور لینے والا اس پر قابض نہیں ہوا تو بھی صدقہ واپس نہیں لیا جا سکتا۔ اور اگر ہبہ مقبوضہ ہو تو ایسے ہبہ کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ ہبہ محرم رشتہ دار کو دیا گیا ہو جیسے باپ، دادا یا بیٹا پوتا تو اس صورت میں ہبہ کو واپس نہیں لیا جا سکتا اس لئے کہ ہبہ سے صلہ رحمی مقصود ہے اور وہ حاصل ہوگئی۔ اور اسی طرح شوہر بیوی میں کوئی ایک کسی کو کوئی چیز ہبہ دے تو ایسی چیز کو بھی واپس لینا درست نہیں جیسا کہ صدری حدیث سے ثابت ہوتا ہے۔ اور اگر ہبہ مقبوضہ ایسے شخص کے پاس ہو جو اجنبی ہو یا غیر محرم قرابت دار جیسے چچا کی اولاد ہو یا رضاعی بھائی ہو تو ایسے ہبہ کی دو صورتیں ہیں۔ ایک صورت تو یہ ہے کہ ان کو کوئی چیز بطور خیرات کے دی گئی جیسے کسی محتاج کو دی جاتی ہے جس کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ہوتی ہے تو ایسے ہبہ کو بھی واپس نہیں لیا جا سکتا۔ اور اگر ہبہ کو بطور خیرات نہیں دیا گیا تو ایسے ہبہ کو واپس لیا جا سکتا ہے البتہ ہبہ لینے والے نے ہبہ کے بدلہ کوئی اور چیز اپنی طرف سے ہبہ دینے والے کو دیدی تو ایسا ہبہ واپس نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح حسب ذیل صورتوں میں ہبہ واپس نہیں ہوسکتا۔ (1) ہبہ لینے والے نے ہبہ میں اضافہ کردیا جیسے ہبہ دی ہوئی زمین میں درخت لگادیئے یا اس پر تعمیر کردی۔ (2) ہبہ لینے والے نے ہبہ کو بیچ دیا یا دوسرے کو ہبہ کردیا تو چونکہ اس صورت میں ہبہ کی ہوئی چیز اس کی ملکیت سے نکل جاتی ہے اس لئے واپسی کا کوئی سوال نہیں۔ (3) یا ہبہ کی ہوئی چیز تلف ہوجائے یا ہبہ دینے والا یا ہبہ لینے والا دونوں میں سے کوئی ایک مر جائے تو اس صورت میں بھی ہبہ کی واپسی ممکن نہیں۔ اسی طرح باپ اپنے بیٹے کو کوئی چیز ہبہ کردے تو امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ایسا ہبہ بھی کسی صورت میں لائق رجوع نہیں ہے۔ یہ مضمون ہدایہ، تعلیق ممجد اور رحمت سے ماخوذ ہے۔