ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احرام کی
حالت میں اپنے سر مبارک کو دھولیا کرتے تھے۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1840 (unverified) 97% confidence
Candidate: Sahih Muslim 1205a (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
قوله
(۱) قوله: كان يغسل إلخ : يجوز للمحرم غسل رأسه بحيث لا ينتف شعرا بلا خلاف، أما لو غسل رأسه بالخطمي فعليه دم عند أبي حنيفة ، وبه قال مالك، وقالا : صدقة. كذا في قاضيخان».
Note 1
واضح ہو:۔ قاضی خاں میں مذکور ہے کہ محرم حالت احرام میں اس طرح اپنے سر کو پانی سے دھوسکتا
ہے کہ سر کے بال نہ جھڑیں اور اگر اس نے اپنے سر کو خطمی (خوشبودار گھاس) ملے ہوئے پانی سے دھولیا
تو امام اعظم رحمہ اللہ کے پاس اس پر دم یعنی قربانی دینا ضروری ہے اور اگر پانی سے دھونے میں
یا کھجانے میں سر یا داڑھی کے بال گر جائیں تو صدقہ لازم آئے گا۔ اور اگر محرم سر یا ناک یا داڑھی کے
بال اکھڑے تو ہر بال کے بدلہ ایک مُٹھی غلہ صدقہ کرنا لازم ہوگا۔ یہ پورا مضمون فتاویٰ عالمگیری سے
ماخوذ ہے۔12
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(۱) قوله: كان يغسل إلخ : يجوز للمحرم غسل رأسه بحيث لا ينتف شعرا بلا خلاف، أما لو غسل رأسه بالخطمي فعليه دم عند أبي حنيفة ، وبه قال مالك، وقالا : صدقة. كذا في قاضيخان».
Note 1
واضح ہو:۔ قاضی خاں میں مذکور ہے کہ محرم حالت احرام میں اس طرح اپنے سر کو پانی سے دھوسکتا ہے کہ سر کے بال نہ جھڑیں اور اگر اس نے اپنے سر کو خطمی (خوشبودار گھاس) ملے ہوئے پانی سے دھولیا تو امام اعظم رحمہ اللہ کے پاس اس پر دم یعنی قربانی دینا ضروری ہے اور اگر پانی سے دھونے میں یا کھجانے میں سر یا داڑھی کے بال گر جائیں تو صدقہ لازم آئے گا۔ اور اگر محرم سر یا ناک یا داڑھی کے بال اکھڑے تو ہر بال کے بدلہ ایک مُٹھی غلہ صدقہ کرنا لازم ہوگا۔ یہ پورا مضمون فتاویٰ عالمگیری سے ماخوذ ہے۔12