Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Sales

Hadith 3173a

Chapter: Inheritance

In this book

Current reading

Sales

Chapter: Inheritance

Zujajat al-Masabih 3173aVolume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4186
ہزیل بن شرحبیل رحمة اللہ علیہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے ایک بیٹی، ایک پوتی اور ایک بہن (کی وراثت کے حصوں) کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ بیٹی کو آدھا، اور بہن کو آدھا ملے گا (یہ کہہ کر سائل سے کہا کہ تم) ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ وہ (بھی میری اس تقسیم سے) اتفاق کریں گے (اس پر وہ سائل حضرت ابن مسعود کے پاس پہنچا اور (اس مسئلہ میں) حضرت ابن مسعود سے دریافت کیا اور حضرت ابو موسی نے جو (اس بارے میں) کہا تھا اس کو بھی بتا دیا تو (حضرت ابن مسعود نے یہ سن کر) کہا (کہ اگر میں حضرت ابو موسی کے رائے سے اتفاق کرلوں) تو میں گمراہ ہو گیا اور راہ حق پر نہ رہوں گا اور میں وہ فیصلہ دوں گا جو فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیا ہے (یعنی) بیٹی کو آدھا اور پوتی کا چھٹا دو تہائی کے تکملہ میں اور بہن کو (متروکہ کا) بقیہ حصہ ملے گا (سائلین کہتے ہیں کہ) ہم پھر حضرت ابوموسی کے پاس پہنچے اور حضرت ابن مسعود کا فیصلہ سنایا تو حضرت ابوموسی نے فرمایا جب تک یہ عالم تم میں موجود ہو تم مجھ سے (ایسے مسائل) نہ دریافت کیا کرو۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 6736 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح ہو کہ اس حدیث شریف میں وراثت کی تقسیم کا جو مسئلہ ہے وہ چھ حصوں میں ہوگا۔ تین حصے بیٹی کو، ایک حصہ پوتی کو اور دو حصے بہن کو ملیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب ایک لڑکی کے ساتھ پوتیاں ہوں یا ایک ہی پوتی ہو تو ان سب کو ایک حصہ اور نصف بیٹی کو مل کر دو تہائی کا تکملہ ہو جائے گا۔ اور بیٹیوں کے ساتھ عصبہ ہو جاتی ہیں، یعنی بیٹیوں کے حصہ سے جو بچ رہے وہ بہنوں کو مل جاتا ہے۔ جمہور علماء کا اس مسئلہ میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے فتویٰ پر عمل ہے (حاشیہ مشکاۃ12)