اردو
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کو میں نے ارشاد فرماتے سنا ہے آپ حجۃ الوداع کے موقع پر خطبہ میں ارشاد فرمایا کرتے تھے کہ
اللہ تعالیٰ نے (وراثت میں) ہر حقدار کا حق مقرر فرما دیا ہے اس لئے وارث کے لئے (علاحدہ)
وصیت کی ضرورت نہیں۔ اس کی روایت ابوداود اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
اور ترمذی نے (اپنی روایت میں) یہ اضافہ کیا ہے کہ (شادی شدہ عورت
اگر زنا کرے تو اس سے جو) بچہ (ہوگا وہ اس عورت کے) شوہر کی طرف منسوب ہوگا اور زانی کو تو
پتھر ہے (یعنی اس کو سنگسار کیا جائے گا) اور ان کا حساب تو اللہ ہی پر ہے (اور قیامت میں ہر شخص
اپنے کئے کی سزا پائے گا)۔
اور دار قطنی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے وہ
فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ وارث کے لئے وصیت جائز
نہیں مگر یہ کہ خود وارث (وصیت) چاہیں۔
اور دار قطنی ہی کی ایک روایت میں عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد
کے واسطہ سے اپنے دادا سے روایت فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد
فرمایا وارث کے لئے وصیت (جائز) نہیں مگر یہ کہ خود وارث (وصیت کی) اجازت دے دیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 2870 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sunan Ibn Majah 2712 (unverified) 96% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 3073 (unverified) 92% confidence
Mishkat (candidate) 3073
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) The statement: A bequest to an heir is not valid unless the heirs consent—Thus, it is said in Al-Hidayah: It is not valid for an heir unless the heirs approve.
Note 1
(۱) قوله : لا تجوز وصية لوارث إلا أن يشاء الورثة : لذلك قال في «الهداية»: ولا تجوز لوارثه إلا أن يجيزها الورثة.