اردو
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ نبی
کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ تمہاری بہترین کمائی وہ ہے جس کو تم خود کما کر کھاؤ اور تمہاری اولاد
بھی تمہاری کمائی ہے (یعنی ان کی کمائی بھی تم کھا سکتے ہو)۔ اس کی روایت ترمذی، نسائی اور ابن ما
جہ نے کی ہے۔
اور ابوداود، دارمی کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں آدمی کی بہترین کمائی وہ
ہے جس کو وہ خود کما کر کھائے اور اس کی اولاد بھی اس کی کمائی میں داخل ہیں اور ابوداود نے کہا کہ
حماد بن ابی سلیمان کی روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ (تم اپنی اولاد کی کمائی اس وقت کھاؤ) جب
کہ تم ضرورت مند ہو۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 1358 (unverified) 96% confidence
- Candidate: Sunan Ibn Majah 2290 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (4)
Note 1
(1) "Your children are part of those earnings" - Since they result from marital relations, parents may benefit from children's earnings if needy - otherwise only with their consent. [Al-Mirqat, Al-Hidayah] (2) "Such additions" - Supplementary narrations that don't contradict stronger chains are accepted, as explained by Ibn Hajar in Sharh Nukhbat al-Fikr. [Badhl al-Majhud]
Note 1
(۱) قوله : إن أولادكم من كسبكم: أي من جملته؛ لأنهم حصلوا بواسطة تزوجكم، فيجوز لكم أن تأكلوا من كسب أولادكم إذا كنتم محتاجين، وإلا فلا، إلا أن طابت به أنفسهم، هكذا قرره علماؤنا . قاله في المرقاة» وكذا قال في «الهداية».
Note 2
(۲) قوله: فمثل هذه الزيادة إلخ : هكذا قال الحافظ في شرح النخبة». قاله في بذل المجهود».
Note 1
ف: واضح ہو کہ اگر والدین محتاج ہوں تو ان کا خرچ اولاد پر واجب ہے جب کہ وہ خود کمانے کے قابل نہ ہوں اور اگر محتاج نہ ہوں یا عاجز بھی نہ ہوں تب بھی اولاد کے مال سے کھا سکتے ہیں اس لئے کہ اولاد کی کمائی والدین کے لئے ان کی ذاتی کمائی کی طرح ہے۔ ماخوذ از مرقات و ہدایہ۔