اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3902
ابو بردہ ابن ابی موسی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب
میں مدینہ منورہ آیا تو عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی تو آپ نے فرمایا کہ تم ایسی
سرزمین میں ہو جہاں سود کا رواج عام ہے (یاد رکھو) اگر تمہارا کسی پر قرض ہے اور وہ تمہارے پاس
بطور ہدیہ بھوسہ یا جو کا ایک تھیلا یا گھاس کا گٹھا بھیجے تو تم اس کو ہرگز نہ لو یہ بھی سود کا حکم رکھتا
ہے۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 3814 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: ان حدیثوں سے معلوم ہوا ہے کہ اگر قرض سے پہلے آپس میں میل جول اور تحفہ تحائف کی راہ و رسم تھی تو اب بھی اس کا قبول کرنا درست ہے اگر قرض سے پہلے ایسی راہ و رسم نہ تھی تو یقیناً اس کا سبب قرض ہی ہے اور ہماری شریعت غراء میں قرض دے کر نفع اٹھانا جائز نہیں ہے۔ ف: قرض دار سے فائدہ نہ اٹھانے کے بارے میں امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کا ایک مثالی واقعہ ہے چنانچہ مرقات میں امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ جو اپنے زمانے میں ورع (یعنی پرہیزگاری) میں بھی امام تھے آپ کے بارے میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ قرض کے تقاضے کے لئے ایک شخص کے گھر پہنچے اور اس وقت سخت گرمی تھی اس کے باوجود بھی اس شخص کے گھر کی دیوار کے سایہ میں ٹھہرنا پسند نہیں فرمایا اور اس شخص کے گھر سے نکلنے تک دھوپ ہی میں ٹھہرے رہے اس لئے کہ اس شخص کے گھر کی دیوار کے سایہ میں ٹھہرنا بھی ایک قسم کی منفعت حاصل کرنا تھا جس کو آپ نے جائز نہیں سمجھا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قرضدار سے کسی طرح کی منفعت حاصل کرنا جائز نہیں ہے چہ جائے کہ سود لینا وغیرہ۔