اردو
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
ﷺ نے مزابنہ سے منع فرمایا ہے (مزابنہ یہ ہے) کہ کوئی شخص اپنے باغ کے تازہ پھلوں کو خشک
پھلوں کے بدلے فروخت کرے (مثلاً) وہ پھل کھجور ہیں تو ان کو اس طرح بیچے کہ خشک کھجوروں کو
ناپ لے (یا تول لے) اور تازہ کھجوروں کا اندازہ (جن کے معاوضہ میں ان کو بیچتا ہے) درخت پر
کر لے (یہ ناجائز ہے) اسی طرح پھل اگر انگور ہوں تو خشک انگور کو تول لے اور ان کو تازہ انگور کو
(جو درخت پر ہوں ان کا اندازہ کر لے اور ان کے بدلے) بیچ دے (یہ صورت بھی ناجائز ہے)۔
یہی حکم دوسرے پھلوں کے تبادلہ کا ہے۔
اور مسلم میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ اگر کھیتی ہو تو اس کو بھی اسی طرح بیچنا کہ خشک
غلہ کو ناپ یا تول لے اور کھیتی میں جو اناج ہے اس کا اندازہ کر کے تبادلہً بیچ دے (یہ صورت بھی
ناجائز ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے بھی منع فرمایا ہے)۔
اور بخاری اور مسلم کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا ہے اور مزابنہ یہ ہے کہ (مثلاً) درختوں کے کھجور کو (نمودار ہونے سے
پہلے) معین مقدار خشک کھجور کے بدلہ اس شرط سے بیچے کہ اگر (درخت کے پھل) زیادہ ہوئے تو وہ
میرے ہیں اور اگر وہ کم نکلیں تو نقصان میرے ہی ذمہ ہوگا (اس قسم کی بیع چونکہ جوئے سے مماثلت
رکھتی ہے اور تبادلہ میں چیزوں کی کمی یا بیشی کا احتمال ہے اس لئے جائز نہیں ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 2185 (unverified) 93% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 1542b (unverified) 86% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) The statement: "selling the fruits of his garden" refers to Muzabana, which is selling fruits on trees for harvested dates estimated by guesswork. This is mentioned in Al-Hidayah. Ibn Battal said: Scholars unanimously agreed that selling dates still on palm trees for harvested dates is invalid because it is Muzabana, which is prohibited. As for selling fresh and dry dates together when harvested and measurable, the majority of scholars do not permit selling any of them for their kind, whether equal or unequal. Abu Yusuf and Muhammad held this view, while Abu Hanifah permitted selling fresh wheat for dry wheat or fresh dates for dry dates in equal measure but not in unequal measure. Ibn Al-Mundhir said he believed Abu Thawr agreed with this.
Note 1
(۱)قوله : أن يبيع ثمر حائطه إلخ : أي بيع المزابنة، وهو بيع الثمر على النخيل بتمر مجذوذ مثل كيله خرصا. قاله في «الهداية»، وقال في عمدة القاري»: قال ابن بطال: أجمع العلماء على أنه لا يجوز بيع التمر في رؤوس النخل بالتمر؛ لأنه مزابنة، وقد نهي عنه، وأما رطب ذلك مع يابسه؛ إذ كان مقطوعا وأمكن فيه المماثلة، فجمهور العلماء لا يجيزون بيع شيء من ذلك بجنسه، لا متماثلا ولا متفاضلا ، وبه قال أبو يوسف ومحمد ما، وقال أبو حنيفة : يجوز بيع الحنطة الرطبة باليابسة، والتمر بالرطب مثلا بمثل، ولا يجيزه متفاضلا . قال ابن المنذر وأظن أن أبا ثور وافقه.