اردو
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ
نے مجھے اس چیز کے بیچنے سے منع فرمایا ہے جو میرے پاس نہ ہو۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے
۔
اور ترمذی، ابوداود اور نسائی کی ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں: حکیم بن
حزام فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میرے پاس ایک شخص آتا ہے اور مجھ سے ایسی
چیز خریدنے کا ارادہ کرتا ہے جو میرے پاس نہیں ہوتی ہے تو میں اس کے لئے بازار سے خریدتا ہوں
تو حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا جو چیز تیرے پاس نہ ہو اس کو مت فروخت کر۔
اور ابوداود اور ترمذی نے عروہ بن الجعد بارقی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
وہ فرماتے ہیں کہ ان کو نبی کریم ﷺ نے ایک دینار عطا فرمایا: جس سے قربانی کے لئے ایک بکرا یا
بکری خرید لائیں انہوں نے اس دینار سے دو بکریاں خریدیں اور ان میں سے ایک کو ایک دینار
کے بدلہ بیچ دیا اور حضور ﷺ کی خدمت میں ایک دینار اور ایک بکری لے کر حاضر
ہوئے (حضور ﷺ بے حد خوش ہو کر) ان کے لئے ان کے کاروبار میں برکت کی دعا، فرمائی تو
(اس کے بعد حضور ﷺ کی دعا کی وجہ سے ان کے کاروبار میں ایسی برکت ہوئی کہ) وہ اگر مٹی بھی
خریدتے تو اس میں ان کو خاصا نفع ہوتا۔
اور ابوداود اور ترمذی نے اس حدیث کو تقریباً انہی الفاظ سے حکیم بن حزام
سے بھی روایت کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 1232 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: "selling what I did not possess" – This includes selling runaway slaves, birds in flight, or fish in water. Scholars extended it to reselling goods before taking possession or selling others’ property without authorization.
Note 1
(۱)قوله: نهاني رسول الله له أن أبيع ما ليس عندي: كعبد آبق ولم يدر محله وطير في الهواء، وسمك في الماء، وفي معنى ما ليس عنده في الفساد بيع المبيع قبل القبض، وفي معناه بيع مال غيره بغير إذنه؛ لأنه لا يدري هل يجيز مالكه أم لا، وبه قال الشافعي ، قال جماعة : يكون العقد موقوفا عى إجازة المالك، وهو قول مالك وأصحاب أبي حنيفة وأحمد . قاله في «المرقاة». وقال السندهي والجمهور على جواز بيع مال الغير موقوفا، وهو مقتضى حديث البارقي وغيره، ومنعه الشافعي الظاهر هذا الحديث قال الخطابي يريد العين دون بيع الصفة، يعني أن المراد بيع العين دون الدين كما في السلم، فإن مداره على الصفة، وهذا جائز فيما ليس عند الإنسان بالإجماع.
Note 2
(۲) قوله: فابتاع له من السوق: هذا يحتمل أمرين، أحدهما: أن يشتري له من أحد متاعا، فيكون دلالا، وهذا يصح. والثاني: أن يبيع منه متاعا لا يملكه، ثم يشتريه من مالكه ويدفعه إليه، وهذا باطل؛ لأنه باع ما ليس في ملكه وقت البيع. كذا في «المرقاة».