اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 4420
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھیں (خوش طبعی کے طور پر) میں اور رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم دوڑنے لگے (کہ ہم دونوں میں کون آگے بڑھ جاتا ہے) ام المؤمنین فرماتی ہیں کہ میں
دوڑتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے آگے نکل گئی۔ جب میرا بدن بھاری ہو گیا تو
(دوسرے موقع پر) میں حضور کے ساتھ دوڑ لگائی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ سے آگے نکل
گئے اس پر آپ نے (مجھ سے) فرمایا کہ یہ اس دوڑ کے بدلہ میں ہے (جس میں تم مجھ سے آگے نکل
گئی تھیں)۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 2578 (unverified) 99% confidence · Validation similarity: 0.847
- Candidate: Mishkat al-Masabih 3251 (unverified) 90% confidence
Mishkat (candidate) 3251
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) The statement: “I raced him on foot”: Qadikhan said: Racing is permissible in four things: camels, horses, archery, and running on foot. It is permissible if the wager is from one side, e.g., “If I outrun you, I get this, but if you outrun me, you get nothing.” If the wager is from both sides, it is forbidden as gambling unless a third party is included, e.g., each says, “If you outrun me, you get this, and if I outrun you, I get this, but if the third wins, he gets nothing.” This is permissible and lawful, meaning morally good, not obligatory. What rulers do is also permissible, e.g., saying to two, “Whoever wins gets this.” Racing is allowed in these four due to textual evidence, and there is no evidence for others, as in Al-Marqah.
Note 1
ف: واضح ہو کہ اس حدیث شریف کی روشنی میں علامہ قاضی خان نے لکھا ہے کہ چار چیزوں میں ایک دوسرے سے مقابلہ کی اجازت ہے (1) اونٹ کی دوڑ پر (2) گھوڑے کی دوڑ پر (3) تیر اندازی میں اور (4) آدمیوں کی آپس میں دوڑ لگانے پر اور اس میں یک طرفہ شرط جائز ہے چنانچہ یوں کہے کہ اگر میں تم سے سبقت لے جاؤں تو مجھے اتنا ملے گا اور اگر تم مجھ پر سبقت لے جاؤ تو تمہیں کچھ نہیں ملے گا اگر دونوں طرف سے شرط لگائی جائے تو حرام ہے، اس لئے کہ یہ جوا ہے، البتہ طرفین ایک تیسرے شخص کو شریک کر لیں ایک کہے کہ تو مجھ پر سبقت کرے تو تجھے اتنا ملے گا اور اگر میں سبقت کروں تو مجھے اتنا ملے گا اور اگر تیسرا شخص سبقت کرے تو اسے کچھ نہیں ملے گا اس طرح کی شرط جائز ہے اور جو انعام ملے گا وہ حلال ہے۔ اس سلسلہ میں قابل ذکر چیز یہ ہے کہ مذکورہ بالا شرط جو ایک طرفہ ہو جائز ہے سے مراد یہ ہے کہ یہ چیز درست ہے نہ یہ کہ یک طرفہ شرط سے وہ بدلہ کا مستحق ہو جاتا ہے اسی طرح بعض امراء کسی دو شخصوں کے بارے میں یوں کہیں کہ تم دونوں میں جو بھی سبقت کرے اسکو اتنا ملے گا۔ مذکورہ بالا چیزوں میں مقابلہ کی اجازت اس لئے جائز ہے کہ اس کا ذکر آثار اور روایتوں میں موجود ہے۔ (یہ مرقات سے ماخوذ ہے)12۔