اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 4798
شریک بن شہاب سے روایت ہے انہوں نے کہا میں تمنا کرتا تھا کہ نبی اکرم
صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کسی صحابی سے میں ملاقات کروں اور خوارج کے بارے میں ان
سے دریافت کروں پس ابو بُردہ سے عید کے دن ان کے چند ساتھیوں کے ساتھ میری ملاقات ہوئی تو
میں نے ان سے کہا کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوارج کا ذکر کرتے سنا ہے تو انہوں
نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے کانوں سے سنا ہوں اور اپنی آنکھوں سے آپ ﷺ کو
دیکھا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ مال لایا گیا تو آپ ﷺ نے اس کو تقسیم کیا اور
سیدھے اور بائیں جانب جو اشخاص تھے ان کو عطا فرمایا اور جو پیچھے تھے ان کو کچھ نہیں دیا۔ آپ ﷺ
کے پیچھے سے ایک شخص کھڑا ہوا اور کہا یا محمد (ﷺ) آپ نے تقسیم میں انصاف نہیں کیا۔ وہ کالا تھا
اور اس کے بال کٹے ہوئے تھے۔ اس پر دو سفید کپڑے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت غصہ میں آکر فرمایا خدا کی قسم تم میرے سوا کسی کو مجھ سے
زیادہ انصاف کرنے والا نہیں پاؤ گے۔ پھر فرمایا آخری زمانے میں ایک قوم نکلے گی یہ انہی میں سے
ہے۔ وہ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کی نسلی سے آگے نہیں جائے گا۔ وہ اسلام سے ایسے نکل
جائیں گے جیسے تیر کمان سے باہر نکل جاتا ہے۔ ان کی نشانی سر منڈھانا ہے۔ وہ ہمیشہ نکلتے رہیں گے
اور ان میں کا آخری شخص دجال کے ساتھ نکلے گا۔ جب تم ان لوگوں سے ملو گے تو ان کو بد اخلاق اور
بدطینت پاؤ گے۔ (نسائی)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan al-Nasa'i 4103 (unverified) 75% confidence · Validation similarity: 0.853
Confidence and text similarity are not editorial verification.