Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

کتاب ایمان کے بیان میں

Hadith 36

کتاب ایمان کے بیان میں

In this book

Current reading

کتاب ایمان کے بیان میں

کتاب ایمان کے بیان میں

Zujajat al-Masabih 36Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 41
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ ہم حضرت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد بیٹھے ہوئے تھے اور ہمارے ساتھ حضرت ابوبکر، حضرت عمر رضی اللہ عنہما بھی حاضرین کی جماعت میں شامل تھے، دفعۃً حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سامنے سے اٹھ کھڑے ہوئے، اور دیر تک تشریف نہ لائے، ہم کو خوف ہوا کہ کہیں (خدا نخواستہ) کوئی آفت نہ پڑی ہو، اس لئے ہم گھبرا کر اٹھ کھڑے ہوئے اور سب سے پہلے مجھے گھبراہٹ پیدا ہوئی۔ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں نکلا اور انصار بنی نجار کے ایک باغ تک پہنچا، ہر چند باغ کے چاروں طرف گھوما، مگر اندر جانے کا کوئی دروازہ نہ ملا، اتفاقاً ایک ربیع (نہر) دکھائی دی جو بیرونی کنویں سے باغ کے اندر جاری تھی۔ اور ربیع، نہر کو کہتے ہیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اسی نہر میں سمیٹ کر گھس گیا اور حضور والا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوہریرہ! میں نے عرض کیا: جی حضور! آپ نے فرمایا: تمہارا کیا حال ہے؟ میں نے عرض کیا: آپ ہمارے پاس تشریف فرما تھے پھر ایک دم اٹھ کر تشریف لے گئے اور واپس تشریف آوری میں آپ نے دیر فرمائی تو ہم کو خوف ہوا کہ (خدانخواستہ) کہیں حادثہ نہ گزرا ہو، اس لئے ہم گھبرا گئے، سب سے پہلے مجھے ہی گھبراہٹ پیدا ہوئی (تلاش کرتے کرتے) میں اس باغ تک پہنچا اور لومڑی کی طرح سمیٹ کر نہر کے راستہ سے اندر آ گیا، اور لوگ میرے پیچھے ہیں۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نعلین مبارک مجھے دے کر فرمایا: ابوہریرہ! میری یہ دونوں جوتیاں (بطور ثبوت کے) لے جاؤ اور باغ کی دیوار کے ادھر جو شخص یقین قلبی کے ساتھ ”لا اِلٰه اِلَّا الله“ کی گواہی دیتا ہوا ملے اس کو جنت کی بشارت دے دو۔ (میں نے حکم کی تعمیل کی) سب سے پہلے مجھے عمر رضی اللہ عنہ ملے اور دریافت کیا: ابوہریرہ یہ جوتیاں کس کی ہیں؟ میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتیاں ہیں، حضور نے یہ دونوں جوتیاں دے کر مجھے بھیجا ہے کہ جو شخص یقین قلبی کے ساتھ ”لا اله الا الله“ کی شہادت دینے والا تجھے ملے، میں اس کو جنت کی بشارت دے دوں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر میرے سینے کے بیچ میں ایک ضرب لگائی جس کی وجہ سے میں سرین کے بل گر پڑا، اور عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ لوٹ جاؤ اے ابوہریرہ، چنانچہ میں لوٹ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا اور آواز سے رونے لگا۔ میرے پیچھے پیچھے عمر رضی اللہ عنہ بھی آ پہنچے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوہریرہ! کیا بات ہے؟ میں نے عرض کیا: میری ملاقات عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور جو پیام دے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا میں نے ان کو پہنچا دیا، انہوں نے میرے سینے پر ایک ضرب لگائی جس کی وجہ سے میں سرین کے بل گر پڑا اور پھر کہنے لگے کہ لوٹ جا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر تم نے ایسا کیوں کیا؟ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان، کیا حضور نے ابوہریرہ کو اپنے نعلین مبارک دے کر حکم دیا تھا کہ جو شخص قلبی یقین کے ساتھ لا اله الا الله کی شہادت کا قائل ملے اس کو جنت کی بشارت دے دینا؟ ارشاد فرمایا: ہاں! عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: حضور! ایسا نہ کیجئے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ لوگ اسی پر بھروسہ کر بیٹھیں گے ان کو چھوڑ دیجئے کہ وہ عمل کریں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا چھوڑ دو۔ (مسلم نے اس کی روایت کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 31 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.