اردو
عمرو بن شعیب اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک اونٹ کے قریب تشریف لائے اور اس کی کوہان سے ایک بال لے کر فرمایا:
اے لوگو! اس مال فئی میں سے میرے لئے کوئی چیز نہیں ہے اور نہ یہ ہے اور اپنی انگشت مبارک کو بلند
کیا سوائے خمس کے اور خمس بھی تم پر ہی خرچ کیا جاتا ہے پس تم دھاگہ اور سوئی بھی ہو تو ادا کر دو۔ پس
ایک صاحب اٹھے۔ ان کے ہاتھ میں بالوں کا ایک گچھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اس کو اس
لے لیا تھا کہ اس سے نمدہ کو ٹھیک کروں۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن جو حصہ میرا اور بنی
عبدالمطلب کا ہے تو وہ تیرے لئے ہے۔ انہوں نے کہا جب اس کا معاملہ اس درجہ میں پہنچ گیا ہے جو
میں دیکھ رہا ہوں تو مجھے اس کی ضرورت نہیں اور اس کو چھوڑ دیا۔ (ابوداود)
ان ہی کی ایک روایت میں جو عمرو بن عبسہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم مال غنیمت کے ایک اونٹ کی طرف نماز پڑھائے جب آپ ﷺ نے سلام پھیرا تو اونٹ
کے پہلو میں سے ایک بال نکال کر فرمایا تمہارے اموال غنیمت میں سے اس کے مثل بھی سوائے خمس
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 2694 (unverified) 88% confidence · Validation similarity: 0.705
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
کے میرے لئے حلال نہیں اور خمس بھی تمہارے طرف ہی واپس کیا جائے گا اور شیخ ابن ہمام نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرابت داروں کے لئے کچھ بھی مختص نہیں کیا اور اپنے اس ارشاد ”والخمس مردود فيكم“ کے ذریعہ تمام مسلمانوں کو شامل فرمایا۔ پس اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ان کا طریقہ بھی دوسرے حاجت مند مسلمانوں کی طرح ہے ان میں جو بھی ضرورت مند ہیں ان کو بطور کفایت عطا کیا جائے گا۔