اردو
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے مشکیزے کے منہ سے پینے سے منع فرمایا۔2 (متفق علیہ)۔
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و
سلم نے مشکیزوں کے منہ کو الٹا کر پینے سے منع فرمایا۔ (بخاری و مسلم)۔
اور ایک روایت میں یہ زیادہ ہے اور اس کا اختناث یہ ہے کہ اس کے دہانے کو
اُلٹا دے پھر اس سے پیئے۔
کبشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
میرے پاس تشریف لائے اور ایک لٹکائے ہوئے مشکیزہ کے منہ سے کھڑے ہو کر پیئے پس میں کھڑی
ہوگئی اور اس کے منہ کو کاٹ لی۔ (ترمذی، ابن ماجہ)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 5625 (unverified) 94% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 2023a (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 2
(2) The statement: “Prohibited drinking from the mouth of a waterskin”: Al-Mazhar said: This is because water rushing into the stomach harms it, and the Prophet (ﷺ) commanded drinking in sips, as mentioned earlier. Also, gulping is blameworthy, and sucking water from a waterskin’s mouth prevents sipping. Al-Bayhaqi narrated from Anas (raised to the Prophet): “Sip water and do not gulp it.” “Al-Ghayathiyyah” states: Do not drink from the mouth of a waterskin or jug, as it may allow harmful substances to enter the throat, per “Al-Mirqat.”
Note 2
(٢) قوله: نهى رسول اللّٰه صلي الله عليه واله وسلم عن الشرب من في السقاية: قال المظهر: وذلك أن جريان الماء دفعة وانصبابه في المعدةمضرّ بها. وقد أمر النبي صلي الله عليه واله وسلم بالدفعات كما سبق اه. ولأن العبَّ مذموم، ولا يمكن مص الماء عند شربه من فمالسقاء، فقد روى البيهقي عن أنس مرفوعًا:(مصوا الماء مصا ولا تعبوه عبَّا). قاله في (المرقاة). وقال في (العالمكيرية): ولا يشرب من فم السقاء والقربة؛ لأنه لا يخلو عن أن يدخل حلقه ما يضرّه. كذا في (الغياثية).
Note 1
ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث شریف اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مشکیزے کے منہ سے پینے کی ممانعت تحریمی نہیں ہے بلکہ تنزیہی ہے اور (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا) عمل بیان جواز کے لئے ہے۔