Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Etiquette

Hadith 4462

Chapter on Greeting

In this book

Current reading

Etiquette

Chapter on Greeting

Zujajat al-Masabih 4462Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6012Noor 6013
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور ان میں روح پھونکی تو ان کو چھینک آئی۔ اور انہوں نے ”الحمدلله“ کہا، اللہ کی توفیق سے اس کی تعریف کی، تو ان کے رب نے ان سے فرمایا: ”يرحمك الله يا آدم‘‘ اللہ تم پر رحم کرے اے آدم! تم ان فرشتوں کی طرف جاؤ، ان میں کی بیٹھی ہوئی جماعت کی طرف، اور ’’السلام عليكم‘‘ کہو، پس آپ نے ’’السلام عليكم‘‘ کہا تو انہوں نے جواب دیا ’’عليك السلام و رحمة الله‘‘ پھر وہ اپنے رب کی طرف واپس آئے تو فرمایا: یہ تمہارا سلام ہے اور آپ میں تمہاری اولاد کا سلام ہے، اللہ نے آپ سے فرمایا: اور اس کی دونوں مٹھیاں بند تھیں، تم ان دونوں میں سے جس کو چاہو اختیار کرو، تو انہوں نے کہا: میں نے اپنے رب کے سیدھے ہاتھ کو اختیار کرلیا، اور میرے رب کے دونوں ہاتھ سیدھے اور مبارک ہیں، پھر اس نے اس کو کھولا تو اس میں آدم اور ان کی اولاد تھی۔ تو آپ نے کہا: اے میرے رب! یہ کون ہیں؟ فرمایا: یہ تمہاری اولاد ہے، تو تب دیکھا کہ ہر انسان کی عمر اس کے دونوں آنکھوں کے درمیان لکھی ہوئی ہے، تو اچانک دیکھا کہ ان میں ایک نہایت روشن چہرہ صاحب ہیں یا ان میں کے روشن چہرہ اصحاب میں سے ہیں، آپ نے کہا: اے میرے رب! یہ کون ہیں؟ تو فرمایا: یہ تمہارے بیٹے داؤد ہیں، میں نے ان کی عمر، ان کے لئے چالیس سال لکھ دی ہے، تو آپ نے کہا: اے میرے رب! ان کی عمر میں اضافہ فرما، تو فرمایا: یہ وہ ہے جس کو میں نے ان کے لئے لکھ دیا ہے، تو آپ نے عرض کیا: اے میرے رب میں نے ان کے لئے میری عمر میں سے ساٹھ سال دے دئے، تو فرمایا: تم کو اس کا اختیار ہے، حضور ﷺ نے فرمایا: پھر اللہ نے جس قدر چاہا وہ جنت میں رہے پھر وہاں سے اتارے گئے۔ آدم اپنی عمر کو گنتے رہتے تھے اور موت کا فرشتہ آپ کے پاس آیا تو اس سے آدم نے فرمایا: تم جلدی آگئے، میرے لئے تو ہزار سال لکھے گئے ہیں، تو اس نے عرض کیا: ہاں! لیکن آپ نے اپنے بیٹے داؤد کو ساٹھ سال دے دیئے ہے، تو وہ انکار کئے پس ان کی اولاد بھی انکار کرتی ہے؟ اور وہ بھول گئے تھے، تو ان کی اولاد بھی بھولتی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: پس اسی دن سے لکھنے اور گواہ بنانے کا حکم دیا گیا۔ (ترمذی)۔ بخاری و مسلم میں ان ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آدم کو ان کی صورت1 پر پیدا کیا اور آپ کی لمبائی ساٹھ (60) ہاتھ تھی، پس جب اس نے آپ کو پیدا کیا تو فرمایا: تم جاؤ! ان لوگوں کو سلام کرو اور وہ فرشتوں کی ایک جماعت ہے جو بیٹھی ہوئی ہے اور وہ تم کو جو جواب دیں گے اس کو غور سے سنو! کیونکہ وہ تمہارا اور تمہاری اولاد کا سلام ہے، پس آپ گئے اور ”السلام علیکم“ کہا تو انہوں نے جواب دیا ”السلام علیک ورحمة الله“۔ حضورﷺ نے فرمایا: انہوں نے اس میں ”ورحمة1 الله“ کا اضافہ کیا۔ حضورﷺ نے فرمایا: پس ہر وہ شخص جو جنت میں داخل ہوگا وہ آدم کی صورت پر ہوگا اور اس کی لمبائی (60) ساٹھ ہاتھ ہوگی، پس مخلوق کا قد و قامت اب تک گھٹتا جاتا رہا ہے۔ (متفق علیہ)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3368 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (4)

Note 1

Allah created Adam in his form

(1) His statement: “Allah created Adam in his form” means in the form he retained until he was sent down and until he died, to dispel the notion that his form in Paradise was different. It is also said that the pronoun refers to Allah, and “form” refers to attributes like life, knowledge, hearing, and sight, though Allah’s attributes resemble nothing else. Alternatively, the pronoun refers to an omitted servant, and the context is that a man struck a boy’s face, and the Prophet forbade it, saying, “Allah created Adam in his form.” As stated in Suyuti’s marginal notes on Bukhari, cited in Al-Mirqat.

Note 2

He said, ‘Peace be upon you,’ and they replied, ‘Upon you be peace and the mercy of Allah,’ and he said, ‘They added and the mercy of Allah’

(2) His statement: “He said, ‘Peace be upon you,’ and they replied, ‘Upon you be peace and the mercy of Allah,’ and he said, ‘They added and the mercy of Allah’”: It is said this indicates the permissibility of adding to the greeting. I say: Rather, adding is preferable, as inferred from the verse as well. Indeed, it indicates the permissibility of initiating the greeting in the response, or even its recommendation, as the context is one of teaching. However, the majority hold that responding with “And upon you be peace” is preferable, whether or not an addition is made. Perhaps the angels also intended to initiate a greeting to Adam, as often happens among people, but the response’s validity requires it to follow the greeting, not occur simultaneously, as indicated by the sequential “fa” (then). Most people are unaware of this issue. As stated in Al-Mirqat. And it is said in Al-Alamgiriyyah: “The best for a Muslim is to say, ‘Peace be upon you and the mercy of Allah and His blessings,’ and the responder should reply likewise. Nothing should be added beyond ‘and His blessings.’ Ibn Abbas said, ‘Everything has a limit, and the limit of the greeting is blessings.’” As stated in Al-Muhit. The response includes the conjunction “and” in “And upon you be peace.” If the conjunction is omitted, saying “Upon you be peace,” it suffices. If the initiator says, “Salaam be upon you” or “As-salaam be upon you,” the responder may say in both cases, “Salaam be upon you” or “As-salaam be upon you,” but including “al-” (the) is preferable. As stated in At-Tatarkhaniyyah.

Note 1

قوله

(۱) قوله : خلق الله آدم على صورته أي على صورته التي استمر عليها إلى أن أهبط، وإلى أن مات؛ دفعا لتوهمه أن صورته كانت في الجنة على صفة أخرى. وقيل: الضمير الله، والمراد بالصورة الصفة من الحياة والعلم والسمع والبصر وإن كانت صفاته تعالى لا يشبهها شيء. وقيل: الضمير للعبد المحذوف من السباق، وإن سبب الحديث أن رجلا ضرب وجه غلام فنهاه عن ذلك. وقال: «إن الله خلق آدم على صورته». كذا في حاشية البخاري للسيوطي. قاله في «المرقاة».

Note 2

قوله

(۲) قوله: فقال: السلام عليكم، فقالوا : السلام عليك ورحمة الله، قال: فزادوه ورحمة الله : قيل: يدل هذا على جواز الزيادة. قلت: بل الزيادة هي الأفضل، كما يستفاد من الآية أيضًا. نعم، يدل على جواز تقديم السلام في الجواب، بل على ندبه؛ لأن المقام مقام التعليم، لكن الجمهور على أن الجواب بقوله: وعليكم السلام أفضل، سواء زاد أم لا. ولعل الملائكة أيضًا أرادوا إنشاء السلام على آدم، كما يقع كثيرًا فيما بين الناس، لكن يشترط في صحة الجواب أن يقع بعد السلام، لا أن يقعا معا، كما يدل عليه فاء التعقيب وهذه المسألة أكثر الناس عنها غافلون. كذا في «المرقاة». وقال في العالمكيرية»: والأفضل للمسلم أن يقول: السلام عليكم ورحمة الله وبركاته، والمجيب كذلك يرد، ولا ينبغي أن يزاد على البركات شيء. قال ابن عباس لما لكل شيء منتهى، ومنتهى السلام البركات. كذا في «المحيط». ويأتي بواو العطف في قوله: وعليكم السلام. وإن حذف واو العطف، فقال عليكم السلام أجزأه، ولو قال المبتدئ: سلام عليكم أو قال: السلام عليكم، فللمجيب أن يقول في الصورتين: سلام عليكم، وله أن يقول: السلام عليكم، ولكن الألف واللام أولى. كذا في التاتارخانية».