اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 6661
سیدنا زید بن اسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے: ایک روز سیدنا عمر
رضی اللہ تعالیٰ عنہ پانی طلب فرمائے، تو آپ کے پاس شہد ملا ہوا پانی لایا گیا، تو آپ نے کہا: کہ یہ
بہت اچھا تو ہے لیکن میں سنتا ہوں کہ اللہ عزوجل نے لوگوں پر اُن کے نفسانی خواہشات کو عیب1 قرار دیا اور
فرمایا: ﴿أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا﴾ (46۔الاحقاف، آیت:20) ”تم اپنے
حصہ کی نعمتیں اپنی دنیوی زندگی میں لے چکے اور اُن سے فائدہ اٹھا چکے“، لہذا مجھے اس بات کا اندیشہ ہے کہ
ہماری نیکیاں ہمیں (دنیا ہی میں) جلد دے دی جا رہی ہوں، پھر آپ نے اُس کو نوش نہیں فرمایا۔(رزین)۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
(1) His statement: "Reproaching" means censuring. (As stated in Al-Mirqat)