اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 6996
۞ حضرت حذیفہ و حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے ان
دونوں نے فرمایا: سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تبارک و تعالیٰ لوگوں کو جمع فرمائیگا
مومنین کھڑے ہوں گے یہاں تک کہ جنت انکے قریب کر دی جائیگی وہ سب حضرت آدم علیہ السلام
کے پاس حاضر ہوں گے عرض کریں گے اے ہمارے والد محترم ہمارے لئے جنت کھلوائیے آپ
فرمائیں گے: تمہیں جنت سے تمہارے والد کے بلا ارادہ عمل نے ہی نکالا میں اس مقام والا نہیں، میرے
صاحبزادے ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے پاس جاؤ فرمایا: حضرت ابراہیم علیہ السلام فرمائیں گے
میں اس مقام والا نہیں میں تو دور دور سے خلیل1 ہوں، موسیٰ علیہ السلام کا قصد کرو جن کو اللہ تعالیٰ
نے شرف کلام سے نوازا، وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے، آپ کہیں گے
میں اس مقام والا نہیں ہوں البتہ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ، جو اللہ کا کلمہ اور اسکی روح ہیں عیسیٰ
علیہ السلام فرمائیں گے میں اس مقام والا نہیں، تو وہ سب حضرت سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت
میں آئیں گے، آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اجازت دی جائیگی اور امانت و صلہ رحمی بھیجے جائیں گے اور پل
صراط کے سیدھے اور بائیں دو جانب کھڑے2 ہوں گے تم میں سب سے اول بجلی کی طرح گزریں
گے، میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان کوئی شے بجلی کے گزرنے کی طرح ہے؟
حضور نے فرمایا: کیا تم نے بجلی نہیں دیکھا پلک جھپکنے میں کیسے جاتی اور آتی ہے، پھر ہوا گزرنے کی
طرح پھر پرندہ گزرنے کی طرح لوگوں کی دوڑ کی طرح انکے اعمال انہیں لے چلیں گے اور تمہارے
نبی صراط پر تشریف فرما کہتے ہوں گے اے رب سلامت رکھ، سلامت رکھ، یہاں تک کہ بندوں کے
اعمال عاجز آئیں گے حتی کہ ایک شخص آئیگا چلنے کی طاقت نہ رکھے گا مگر گھسیٹ کر اور صراط کے
دو جانب کام پر مامور لٹکے ہوئے کانٹے ہوں گے جس پر مامور ہوں گے اسکو پکڑ لیں گے زخمی نجات
والا ہے اور بیڑیوں سے جکڑا ہوا دوزخ میں ہے اسکی قسم جسکے قبضہ میں ابوہریرہ کی جان ہے! جہنم کا
گڑھا ستر سال کی مسافت کا ہے۔ (مسلم)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 195 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (4)
Note 1
(1) His statement: “I was only a Friend from a distance beyond a distance”: This means I was given this status through Jibril, so I am behind Musa, who received direct speech without an intermediary, and he is behind Muhammad, who received direct speech and vision as well. Thus, I am a distance beyond a distance. (As stated in Al-Lama’at)
Note 2
(2) His statement: “They will stand on both sides of the Sirat…”: The hadith encourages upholding their rights and attending to their matters. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: كنت خليلا من وراء وراء : معناه أي أعطيت المكانة بواسطة جبرئيل، فأنا وراء موسى الذي حصل له السماع بغير واسطة، وهو وراء محمد الذي حصل له السماع بلا واسطة، والرؤية أيضًا، فأنا وراء وراء. كذا في «اللمعات».
Note 2
(۲) قوله: فيقومان جنبتي الصراط إلخ وفي الحديث حث على رعاية حقهما والاهتمام بأمرها. كذا في «المرقاة».