اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7025
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً میں جنت میں سب سے آخر میں داخل ہونے والے جنتی اور دوزخ
سے سب سے آخر میں نکلنے والے دوزخی کو جانتا ہوں، وہ ایسا آدمی ہوگا جسے روز قیامت لایا جائیگا
اور کہا جائیگا: اسکے سامنے اسکے چھوٹے گناہوں کو پیش کردو اور بڑے گناہوں کو اس سے دور ہٹالو،
چنانچہ اسکے روبرو اس کے چھوٹے گناہ پیش کئے جائیں گے اور کہا جائیگا: کیا تو نے فلاں فلاں روز ایسا
ایسا کیا؟ اور فلاں فلاں روز ایسا ایسا کیا؟ تو وہ عرض کریگا ہاں، انکار نہ کرسکے گا، جبکہ وہ اپنے بڑے
گناہوں کی وجہ سے لرزاں و ترساں ہوگا کہ کہیں وہ (بھی) اسکے سامنے پیش نہ کردیئے جائیں،
پس اس سے کہا جائیگا: دیکھ تیرے لئے ہر برائی کے بدلہ ایک نیکی 1؎ ہے، تو وہ عرض کریگا اے
میرے رب! میرے علم میں کچھ چیزیں ہیں جنہیں میں یہاں نہیں دیکھ رہا ہوں، اور میں نے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ ہنسنے لگے یہاں تک کہ آپ کی کوچلیاں ظاہر ہو گئیں۔ (مسلم)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 190a (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) His statement: “For every evil deed, you shall have a good deed in its place”: This is either because he repented to Allah, Exalted is He, as Allah says: “Except for those who repent, believe, and do righteous deeds, for them Allah will replace their evil deeds with good deeds” [Al-Furqan: 70]. However, this raises the question of how he could be the last to come out of the Fire. It can be said that he committed sins after repentance that warranted punishment. Alternatively, this replacement is an act of grace from the Lord of lords. The second view is more apparent, supported by his subsequent hope in Allah’s generosity. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: لك مكان كل سيئة حسنة: وهو إما لكونه تائبا إلى الله تعالى، وقد قال تعالى: ﴿إِلَّا مَن تَابَ وَءَامَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُوْلَبِكَ يُبَدِّلُ اللهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتِ﴾ (الفرقان: (۷۰)، لكن يشكل بأنه كيف يكون آخر أهل النار خروجا، ويمكن أن يقال: فعل بعد التوبة ذنوبا استحق بها العقاب، وإما وقع التبديل له من باب الفضل من رب الأرباب، والثاني : أظهر، ويؤيده أنه حينئذ يطمع في كرم الله سبحانه. كذا في «المرقاة».