Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Trials

Hadith 5398

Chapter on Description of Paradise and Its People

In this book

Current reading

Trials

Chapter on Description of Paradise and Its People

Zujajat al-Masabih 5398Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7037
حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اللہ تعالیٰ سے مانگتا ہوں کہ مجھے اور آپ کو جنت کے بازار میں جمع فرمائے، حضرت سعید نے عرض کیا وہاں بازار ہے؟ فرمایا ہاں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خبر عطا فرمائی جب جنتی جنت میں جائیں گے تو ان کے اعمال کے اضافہ کی وجہ اس میں اتریں گے، پھر انہیں دنیوی ایام میں سے روز جمعہ کی مقدار2 میں اجازت دی جائے گی تو وہ اپنے رب کی زیارت سے مشرف ہوں گے، اس کا عرش ان کے لئے ظاہر ہوگا اور جنت کے باغوں میں سے ایک باغ میں ان پر تجلی فرمائے گا، پھر ان کے لئے نور کے منبر، موتی کے منبر، یاقوت کے منبر، زمرد کے منبر، سونے کے منبر، چاندی کے منبر رکھے جائیں گے اور ان میں سے کم درجہ شخص مشک اور کافور کے ٹیلوں پر بیٹھے گا3 اور ان میں کوئی کمتر نہیں ہوگا یہ لوگ کرسیوں پر بیٹھنے والوں کو باعتبار مجلس ان سے افضل نہ دیکھیں گے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا ہمیں اپنے رب کا دیدار حاصل ہوگا؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں کیا تم سورج کو اور چودہویں کے چاند کو دیکھنے میں شک کرتے ہو؟ ہم نے عرض کیا نہیں، فرمایا: اسی طرح تمہارے رب کو دیکھنے میں شک نہیں کرو گے اس مجلس میں کوئی آدمی باقی نہ رہے گا مگر اللہ تعالیٰ بے حجاب تجلی فرمائے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان میں سے ایک شخص سے فرمائے گا: اے فلاں بن فلاں کیا تو وہ دن یاد رکھتا ہے جب تو ایسا ایسا کہا تھا، تو وہ دنیا میں ہوئی بعض لغزشوں کو یاد کرے گا، پھر عرض کرے گا اے رب کیا تو مجھے نہ بخشے گا فرمائے گا کیوں نہیں، میری وسعت مغفرت کی وجہ سے تو اپنے اس درجہ تک پہنچا، یہ حضرات اسی درمیان ہوں گے کہ ان پر ایک بادل چھا جائے گا اور ان پر خوشبو برسائے گا وہ اس طرح کی خوشبو کبھی نہ سونگھے ہوں گے اور ہمارا رب ہم سے فرمائے گا: اٹھو! اس بزرگی کی طرف جو بزرگی میں نے تمہارے لئے تیار کی ہے تم جو چاہو لے لو، تو ہم ایک بازار میں آئیں گے جس کو فرشتے گھیرے ہوں گے اس میں ایسی نعمتیں ہوں گی جس کے مثل نہ آنکھیں کبھی دیکھی ہوں گی 1 نہ کان کبھی سنے ہوں گے اور نہ دلوں میں خیال گزرا ہوگا تو ہمارے لئے اٹھا کر لایا جائے گا، جو ہم چاہیں گے اس میں نہ خریداری کی جائے گی اور نہ فروختگی، اسی بازار میں جنتی لوگ ایک دوسرے سے ملیں گے ایک بلند مرتبہ شخص آ کر اس سے کم درجہ والے سے ملے گا جبکہ ان میں کوئی کم نہ ہوگا اس شخص پر جو لباس یہ دیکھے گا اسے پسند آئے گا، اس کی آخری گفتگو ختم نہ ہوگی کہ اس سے زیادہ خوبصورت لباس اس پر دکھائی دے گا اس لئے کہ وہاں کسی کا غمزدہ ہونا مناسب نہیں، پھر ہم اپنے گھر لوٹ آئیں گے ہماری بیویاں ہم سے ملیں گی اور کہیں گی مرحبا و اہلا خوش آمدید مبارکباد آپ تشریف لائے ہیں جبکہ آپ پر اس سے زیادہ حسن و جمال ہے جس کے ساتھ آپ ہم سے جدا ہوئے تھے، ہم کہیں گے آج ہمیں اپنے رب جبار کی مجالست حاصل ہوئی اور ہمارا یہی حق تھا کہ ہم اسی شان کے ساتھ لوٹیں جس شان سے ہم لوٹے ہیں۔(ترمذی، ابن ماجہ)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2549 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 4336 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (6)

Note 1

equivalent to a Friday

(1) His statement: “equivalent to a Friday”: In the marginal notes, it is said: meaning a week. The apparent meaning is that it refers to Friday itself, as the virtues of Friday indicate that it exists in Paradise as it does in this world, where they attend their Lord, and so on, as the hadith implies. (As stated in Al-Lama’at)

Note 2

The lowest of them sit

(2) His statement: “The lowest of them sit”: meaning those of the least rank and degree in Paradise relative to others. His statement: “none among them is lowly” negates any assumption of inferiority for the lowest among them. (As stated in Al-Lama’at)

Note 3

what eyes have never seen

(3) His statement: “what eyes have never seen”: Al-Muzhir said: “what” is a relative pronoun, and it, with its clause, may be in the accusative case as a substitute for the implied pronoun referring to “what I have prepared.” Alternatively, it may be in the nominative case as the predicate of an omitted subject, meaning “what has been prepared for you.” The commentator said: Or it is a subject with an omitted predicate, meaning “is in it.” I say: The latter is more fitting. Al-Tayyibi said: The interpretation is that “what” is an adjective substituting for “market.” (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: في مقدار يوم الجمعة في الحواشي: أي مقدار أسبوع، والظاهر أن المراد يوم الجمعة؛ فإنه ورد فضائل يوم الجمعة أنه يكون في الجنة يوم جمعة كما كان في الدنيا، ويحضرون ربهم، إلى آخر معنى الحديث. كذا في «اللمعات».

Note 2

قوله

(۲) قوله: ويجلس أدناهم أي أقلهم منزلة ودرجة في الجنة بالنسبة إلى بعض من عداه. وقوله: «ما فيهم دنيء» أي خسيس لدفع توهم الدناءة من أدناهم. كذا في «اللمعات».

Note 3

قوله

(۳) قوله : ما لم تنظر العيون: قال المظهر: «ما» موصولة، والموصول مع صلته يحتمل أن يكون منصوبا بدلا من الضمير المنصوب المقدر العائد إلى ما في قوله: «ما أعددت»، ويحتمل أن يكون في محل الرفع أنها خبر مبتدأ محذوف، أي المعد لكم. وقال شارح أو هو مبتدأ، خبره محذوف أي فيها أقول: وهو أحق وأوفق. وقال الطيبي له : الوجه أن يكون ما موصوفة بدلا من سوقا». كذا في «المرقاة».