واقدی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا ہے کہ بئر بضاعۃ نامی کنویں
میں ایک نہر تھی جو باغوں کی طرف بہتی رہتی تھی جس کا پانی ہمیشہ جاری رہتا تھا تو اس کا حکم نہر جاری
کے پانی کا تھا۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے، اور سعایہ میں لکھا ہے کہ ناقدین کی ایک جماعت
نے واقدی کی توثیق کی ہے اور علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ بنایہ میں لکھتے ہیں کہ واقدی رحمۃ اللہ علیہ اہل
مدینہ میں سے تھے اور وہاں کے حالات سے خوب واقف تھے، مگر جن حضرات نے ان کی روایت کا
انکار کیا ہے، شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ بئر بضاعۃ کا پانی سطح زمین پر نہیں بہتا تھا بلکہ وہ زمین کے اندر
سے جاری تھا اور اسی ناواقفیت کی بناء پر ان کی روایت کا انکار کیا گیا ہے۔12۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
کے پانی کا تھا۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے، اور سعایہ میں لکھا ہے کہ ناقدین کی ایک جماعت نے واقدی کی توثیق کی ہے اور علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ بنایہ میں لکھتے ہیں کہ واقدی رحمۃ اللہ علیہ اہل مدینہ میں سے تھے اور وہاں کے حالات سے خوب واقف تھے، مگر جن حضرات نے ان کی روایت کا انکار کیا ہے، شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ بئر بضاعۃ کا پانی سطح زمین پر نہیں بہتا تھا بلکہ وہ زمین کے اندر سے جاری تھا اور اسی ناواقفیت کی بناء پر ان کی روایت کا انکار کیا گیا ہے۔12۔