Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(وہ کتاب جس میں طہارت کے احکام ہیں) · Chapter 8

(یہ باب ہے پانی کے احکام کے بیان میں)

32 narrations · In source reading order

Hadith 540

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 599
جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے سے ممانعت فرمائی ہے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)

Qur’an-related source paragraphs

And the saying of Allah, the Exalted: And He prohibits upon them the impure and the saying of Allah: ﴿And We sent down from the sky pure water (Al-A'raf: 157)

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 281 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: پانی سے مراد یہاں قلیل پانی ہے، اگر پانی کثیر ہو تو جاری کا حکم رکھتا ہے اور وہ پیشاب وغیرہ سے نجس نہیں ہوتا اور اس میں نہانا بھی جائز ہے اور بعضوں نے کہا ہے کہ اگر پانی کثیر ہو تو نجس نہیں ہوتا لیکن اس میں پیشاب کرنا ٹھیک نہیں، شاید دیکھا دیکھی اور لوگ بھی پیشاب کرنے لگیں، اور یہ رواج پا جائے اور رفتہ رفتہ پانی متغیر ہو جائے الغرض قلیل پانی میں پیشاب کرنا مکروہ تحریمی اور کثیر پانی میں پیشاب کرنا مکروہ تنزیہی ہے۔

Hadith 541

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 600Noor 601
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کوئی شخص ٹھیرے ہوئے پانی میں جو بہتا ہوا نہ ہو پیشاب کر کے اس سے غسل وغیرہ نہ کرے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے بالاتفاق کی ہے۔) اور مسلم کی ایک روایت میں یوں ہے کہ آپ نے فرمایا: کوئی شخص جنابت کی حالت میں ٹھیرے ہوئے قلیل پانی میں غسل نہ کرے، لوگوں نے کہا کہ اے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ پھر کیا کیا جائے؟ آپ نے کہا کہ ہاتھوں سے تھوڑا تھوڑا پانی لے کر غسل کرنا چاہئے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 239 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 283 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 282a (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

None of you should wash...

(1) The statement "None of you should wash..." — The Qadi said: The restriction of the prohibition to a specific state indicates that the water used for the ritual washing (ghusl) after janabah (impurity) if it is stagnant, no longer retains its purity. Otherwise, there would be no benefit in the restricted prohibition. This is either because the purity is lost, as said by Abu Hanifa, or because the water ceases to be purifying, as said by Shafi'i. This is also the opinion of Muhammad, and it is the view followed in legal rulings, as mentioned in "Al-Mirqaat."

Note 1

قوله

(۱) قوله : لا يغتسل إلخ : قال القاضي: تقييد النهي بالحال يدل على أن المستعمل في غسل الجنابة إذا كان راكدا لا يبقي على ما كان، وإلا لم يكن للنهي المقيد فائدة. وذلك إما بزوال الطهارة كما قال أبو حنيفة، أو بزوال الطهورية كما قال الشافعي. اهـ وكذا هو قول محمد، وعليه الفتوى، كذا في «المرقاة».

Note 1

ف: ٹھیرے ہوئے پانی میں جنابت کے غسل کی ممانعت کے متعلق قاضی نے کہا ہے کہ اس حدیث میں غسل کی ممانعت کو حالت جنابت کے ساتھ مشروط قرار دیا گیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ پانی جو غسل جنابت میں استعمال کیا جائے جب کہ وہ ٹھیرا ہوا ہو تو وہ اپنی اصلی حالت پر نہیں رہتا اگر یہ بات نہ ہوتی تو ممانعت سے کوئی فائدہ مقصود نہ ہوتا۔ اسی لئے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ کا مسلک یہ ہے کہ وہ پانی طاہر نہ رہا بلکہ ناپاک ہو گیا اور امام شافعی رحمہ اللہ علیہ کا مسلک یہ ہے کہ وہ پانی پاک رہا لیکن پاک کرنے والا نہ رہا اور یہی قول امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کا ہے اور اسی پر فتویٰ ہے۔ (مرقات)۔

Hadith 542

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 602
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں بیمار ہو گیا تو میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ عیادت کے لئے تشریف لائے دونوں حضرات نے مجھے بے ہوش پایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضوء فرمایا پھر وضوء کا مستعمل پانی مجھ پر ڈال دیا تو مجھے ہوش آگیا۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1616a (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 194 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 543

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 603
اَبُو جُحَیْفَہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف فرما ہوئے آپ کے لئے وضوء کا پانی لایا گیا تو آپ نے وضوء فرمایا تو صحابہ کرام حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مستعمل پانی لے کر اپنے اپنے بدن پر مل رہے تھے۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 187 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 544

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 604
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وضوء فرماتے تو لوگ آپ کے وضوء کے مستعمل پانی پر باہم لڑ پڑنے کے قریب ہو جاتے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 2731 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

(اس کی روایت بخاری نے کی ہے) سعایہ میں لکھا ہے کہ یہ اور اسی قسم کی احادیث اس بات پر دلیل ہیں کہ مستعمل پانی پاک ہوتا ہے ورنہ اس کو تبرک سمجھنے اور جسم پر ملنے اور اس طرح استعمال کرنے کی کوئی وجہ نہ تھی، مذہب حنفی میں فتویٰ اس پر ہے کہ استعمال شدہ پانی پاک ہے مگر پاک کرنے والا نہیں ہے۔

Hadith 545

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 605
ابن سیرین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ زمزم کے چشمہ میں ایک حبشی گر کر مر گیا تو ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے حکم دیا کہ اس آدمی کو نکالا جائے، چنانچہ وہ نکالا گیا پھر آپ نے زمزم کے پورے پانی کو نکالنے کا حکم دیا، راوی کہتے ہیں کہ رکن (یعنی حجر اسود) کی جانب ایک جھرہ تھا جس سے پانی اس چشمہ میں چلا آ رہا تھا اور بند نہ ہوتا تھا آپ نے حکم دیا تو اس جھرہ کے منہ کو سفید باریک کپڑوں اور ریشمی چادروں سے بند کیا گیا یہاں تک کہ پورا پانی کھینچ لئے اور جب سب پانی کھینچ چکے تو چشمہ کھل گیا۔ (اس کی روایت دارقطنی نے بطریق مرسل کی ہے، علامہ نیموی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے اسناد کو صحیح بتلایا ہے اور بیہقی اور ابن ابی شیبہ نے اور عبدالرزاق نے اسی طرح کی روایت کی ہے اور ابن ابی شیبہ کی سند صحیح ہے۔)

Hadith 546

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 606
عطا رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ ایک حبشی زم زم کی باؤلی میں گر کر مر گیا تو ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے حکم پر اس کا پانی خالی کیا جانے لگا، جب پانی نہیں رکنے لگا تو دیکھا گیا کہ ایک چشمہ حجر اسود کی طرف سے جاری ہے جس سے پانی چلا آ رہا ہے حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے تمام پانی کے کھینچ لئے جانے کے بعد فرمایا کہ بس کافی ہے (کیوں کہ پورا پانی تقریباً خالی ہو چکا تھا) (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے اور ابن ابی شیبہ نے بھی ایسی ہی روایت کی ہے۔ امام ابن ہمام کہتے ہیں کہ اس کی سند صحیح ہے۔)

Hadith 547

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 607
شعبی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ پرندہ، بلی اور ان دونوں کی طرح کوئی جانور جب کنویں میں گر جائے تو ان کے بارے میں آپ نے فرمایا کہ اس میں سے چالیس (40) ڈول پانی کھینچا جائے۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے اور امام ابن ہمام نے کہا کہ اس کی سند صحیح ہے۔)

Hadith 548

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 608
ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ جب کنویں میں چوہا یا بلی گر کر مر جائے تو ان کے بارے میں آپ نے فرمایا کہ اس میں سے چالیس ڈول پانی نکالا جائے۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔)

Hadith 549

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 609
حماد بن ابی سلیمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب مرغی کنویں میں گر کر مر جائے تو اس کے لئے آپ نے فرمایا کہ اس میں سے چالیس یا پچاس ڈول پانی کھینچ کر نکالا جائے، پھر اس کنویں کے پانی سے وضو کریں۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔)

Hadith 550

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 610Noor 611
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے چوہے کے بارے میں کہا کہ جب وہ کنویں میں گر کر مر جائے اور اسی وقت نکالا جائے تو کنویں سے بیس یا تیس ڈول پانی خارج کیا جائے۔ (امام ابن ہمام اور زیلعی نے بتلایا ہے کہ امام طحاوی نے شرح الآثار کی سند کے سوا دوسرے اور ابوعلی حافظ سمرقندی نے اس قسم کی ایک حدیث اپنے سند مرفوع سے روایت کی ہے۔
Commentary and footnotes (1)

Note 1

چند اسناد سے اس کی روایت کی ہے۔)

Hadith 551

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 612
معمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ایسے شخص نے بیان کیا جس نے حسن بصری رضی اللہ عنہ سے سنا ہے کہ آپ نے کہا جب کنویں میں جانور مر جائے تو ہم اس کنویں سے کچھ پانی نکالتے تھے اور اگر مر کر اس میں پھول جاتا تو پورا کنواں خالی کیا جاتا۔ (اس کی روایت عبدالرزاق نے کی ہے۔)

Hadith 552

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 613Noor 614
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں ایک تالاب پر آیا جس میں ایک مردہ گدھا پڑا تھا، ہم اس کے پانی کو استعمال کرنے سے رک گئے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ کثیر پانی کو کوئی چیز نجس نہیں کر سکتی تو ہم اس کا پانی پئے اور پلائے اور ساتھ لے لئے۔ (اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے اور طحاوی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔) اور عبدالرزاق کی ایک روایت میں ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے تالاب سے وضوء فرماتے یا پانی پیتے جس میں کتے کا گوشت اور مردار چیزیں ڈالی جاتی تھیں، جب لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا کہ کثیر پانی کو کوئی چیز نجس نہیں کرتی۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 519 (unverified) 80% confidence · Validation similarity: 0.498

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

I reached a pond...

(1) Regarding the phrase: "I reached a pond..." Ali al-Qari in the explanation of al-Nuqayah said: "Our scholars have unanimously agreed that a large pond is treated as a flowing water source. However, there is a difference regarding its classification. The earlier scholars said that the edge of the water should not move when the other edge is moved, meaning it should neither rise nor fall from its original position. According to Abu Hanifah, movement is considered for the purpose of ablution because it is more necessary in larger pools, and this is a narration from Abu Yusuf. From him, it is also said that moving the hand is sufficient, to make it easier for the people. Muhammad (may Allah be pleased with him) stated that moving for ablution is enough, which is considered the middle opinion. In "al-Ghaya", the apparent position of Abu Hanifah is that it should be judged by the predominant assumption. If the person performing ablution assumes that impurity has reached the other side, they should not perform ablution from it; otherwise, they may do so. This is considered the correct opinion. Abu Asimah reported that Muhammad (may Allah be pleased with him) used to estimate it to be ten by ten, but then he reverted to Abu Hanifah's opinion. The estimation was preferred by Ibn Mubarak and other scholars from Balkh, and this is the position of Abu Lays and the ruling followed by the jurists of 'Hidayah.'" It is also noted that the Shafi'i school estimated it based on the Hadith of the two qullas (two large vessels), but many scholars, including al-Hafiz Ibn Abd al-Barr, al-Qadi Ismail bin Is’haq, and Abu Bakr Ibn al-Arabi, who were Maliki scholars, rejected it, considering the narration weak. Al-Bayhaqi also commented that the Hadith is not strong, and even al-Ghazali and al-Ruwayani, despite their strong adherence to the Shafi'i school, disregarded it. Ali bin al-Madini, the teacher of al-Bukhari, also stated that the Hadith of the two qullas has not been proven. Furthermore, Ibn Abbas and Ibn Zubayr ordered the water of Zamzam to be drained when a black person died in it, and had this Hadith been valid, the other companions and followers would have used it to support their arguments. Therefore, it should be considered weak like the narration about "ablution from something touched by fire." In "Ihya' al-Sunan", it is clarified that the Hadith of the two qullas should be understood in the context of when water is spread over the ground, as in ponds. The Hadith specifically addresses this scenario. Water spread over the ground, if its depth is such that it doesn't leave the ground exposed when drawn from, would be treated as plentiful (two qullas), and its edges would not move when the other side is disturbed. This is the definition of 'abundant water' in this school. For practical guidance, they taught it as being ten by ten for ease of understanding among the public. This has been tested and confirmed by our teacher, Sayyid Ahmad Rashid al-Janjohee. The reason behind this is that impurity dissipates and doesn't affect the whole surface of water used for ablution, but if the water is shallow or limited, impurity has a stronger effect on the parts of the water, requiring careful consideration. The narration from al-Tahawi and others, including the one related by Abd al-Razzaq from Abu Sa'id al-Khudri, mentions that the Prophet ﷺ drank or performed ablution from a pond where dog and cat carcasses were thrown. Upon being informed about this, the Prophet ﷺ declared: "Water is not made impure by anything." This illustrates the idea that water, regardless of what may fall into it, does not become impure unless its qualities (taste, smell, or color) change due to contamination. Scholars have differed on the issue of whether water becomes impure (najis) upon contact with impurity. The Zahiriyyah and Imam Malik's view is that water does not become impure by contact with impurity unless one of its three qualities (taste, smell, or color) changes. The Hanafi, Shafi'i, Hanbali, and Ishaq schools, however, hold that even a small quantity of water becomes impure upon contact with impurity, even if its qualities do not change. They disagreed on what constitutes a "small quantity," with Imam Shafi'i and Imam Ahmad specifically determining the quantity by the "two qullas" measure (a large container). Imam Abu Hanifah, in the Hidayah, defined a large pond where one side does not move when the other side is disturbed as a space from which ablution can still be performed if the impurity is on one side. Some scholars estimated this space to be around "ten by ten" with the span of a cubit for ease, and this is the position followed in fatwas. Hadith about the protected area (harim) of a well: Narration 553 mentions that the Prophet ﷺ said the protected area (harim) of a well extends forty arms' length from all sides. [Narrated by Ahmad. Narration 554 reports that the Prophet ﷺ stated anyone who digs a well would have a protected area of forty arms' length surrounding it. [Narrated by Abu Yusuf, Ibn Majah, and al-Tabarani from Abdullah ibn Mughaffal. Narration 555 reports that al-Sha'bi said the protected area around a well extends forty arms' length from each side, and no one is allowed to enter this area or its water. [Narrated by Abu Yusuf. The scholar Sadr al-Shari'ah stated that this area is a protected space, and it is forbidden to dig another well within this protected area, as the water from the first well might be affected, resulting in impurity. However, wells outside of this space, defined as "ten by ten," are not subject to the same restriction. These narrations and scholarly opinions highlight the significance of maintaining the purity of water sources and ensuring that one well does not negatively affect another, particularly when dealing with the potential spread of impurity. The ten by ten measurement is a standard used to ensure that the area is adequately protected from contamination.

Note 1

قوله

(۱) قوله: انتهيت إلى غدير إلخ : قال علي القاري في شرح النقاية»: واعلم أن علماءنا اتفقوا على أن الغدير العظيم في حكم الجاري، واختلفوا بماذا يُعتبر ؟ فقال المتقدمون بعدم تحرك طرفه عند تحريك الطرف الآخر بأن لا ينخفض ولا يرتفع عن ساعته. ثم عن أبي حنيفة لتحريك الاغتسال؛ لأن الحاجة إلى الحياض فيه أشد، وهو رواية عن أبي يوسف، وعنه تحريك اليد؛ توسعة على الناس، وعن محمد تحريك التوضى؛ لأنه الوسط، وهو رواية عن أبي حنيفة وفي الغاية: ظاهر الرواية عن أبي حنيفة اعتباره بغلبة الظن بأن غلب على ظن المتوضئ وصول النجاسة إلى الجانب الآخر لا يتوضأ به، وإلا توضأ، قال : وهو الأصح. وقال أبو عصمة: كان محمد يقدره بعشر في عشر، ثم رجع إلى قول أبي حنيفة، وقال: لا أقدر فيه شيئا، لكن التقدير مختار ابن المبارك ومشايخ بلخ وجماعة من المتأخرين، قال أبو الليث وعليه الفتوى، وبه قال صاحب الهداية». ثم اعلم أن الشافعي قدره بقلتين بحديث القلتين، قلنا: ضعفه جماعة منهم الحافظ ابن عبد البر والقاضي إسماعيل بن إسحاق وأبو بكر بن العربي المالكيون، وقال البيهقي: إنه ليس بالقوي، وقد تركه الغزالي والروياني مع شدة اتباعهما للشافعي، وعن أستاذ البخاري علي بن المديني أنه قال: لم يثبت حديث القلتين، ولأن ابن العباس وابن الزبير أمرا بنزح ماء زمزم حين مات فيها الزنجي، ولو كان هذا صحيحا لاحتج به بقية الصحابة والتابعين عليهما به فيرد كخبر: الوضوء مما مسته النار. ثم حديث القلتين ضعفه أبو داود أيضا، للاضطراب في سنده، كذا في متنه. اهـ وقال في إحياء السنن: وما روي من أحاديث القلتين يحمل على ما إذا كان الماء مبسوطا على الأرض، كما يكون في الحياض. وقد وقعت الأحاديث في جواب السؤال عنها، والمبسوط من القلتين إذا كان عُمقه بحيث لا ينحسر الأرض بالاعتراف منه، كان في السعة، حيث لا يتحرك طرف منه بحركة طرف آخر. وهذا هو حد الكثير في المذهب. وقد رووه للضبط على العوام بعشر في عشر. هذا من إفادات سيد العلماء في عصره مولانا رشيد أحمد المحدث الجنجوهي، وجربناه نحن فوجدناه كذلك. والسر في قيد البسط أن النجاسة يضمحل، ولا يؤثر في كل وجه الماء الذي هو محل للاغتراف للوضوء، وإذا قل السعة قوي أثر النجاسة في أجزاء وجه الماء، فتدبر.

Note 1

ف(1): علماء نے پانی کے ناپاک ہونے کے بارے میں اختلاف کیا ہے، امام مالک رحمہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ نجاست سے ملنے پر پانی اس وقت تک ناپاک نہیں ہوتا جب تک اس کے تین اوصاف میں سے کوئی ایک وصف بدل نہ جائے، لیکن حنفیہ، شافعیہ اور حنابلہ کہتے ہیں قلیل پانی نجاست سے ملنے پر ناپاک ہو جاتا ہے، خواہ اس کا کوئی بھی وصف نہ بدلے۔ لیکن آب قلیل کے تعین کے بارے میں ان کا اختلاف ہے، امام شافعی اور امام احمد رحمہما اللہ نے آب قلیل کا تعین دو قلے سے کیا ہے اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا قول جس کی صراحت ہدایہ میں ہے یہ ہے کہ ایسا تالاب کہ جس کے ایک جانب حرکت دینے سے دوسری جانب پانی متحرک نہ ہو، ایسے تالاب کے کسی ایک جانب میں اگر نجاست گر جائے تو اس کی دوسری جانب سے وضوء کرنا جائز ہے اور بعضوں نے عوام کی سہولت کے خیال سے مقدار کا اندازہ دہ در دہ کپڑے ناپنے کے گز سے کیا ہے اور اسی پر فتویٰ ہے۔ ف(2): ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے شرح نقایہ میں بیان کیا ہے واضح رہے کہ ہمارے علماء کا اتفاق اس بات پر ہے کہ بڑے تالاب کا حکم آب جاری کا ہے اختلاف اس میں ہے کہ بڑا تالاب کس طرح معلوم کیا جائے کہ جس کا حکم آب جاری کا ہے۔ متقدمین نے کہا ہے کہ ایک جانب حرکت دینے سے پانی کو دوسری جانب حرکت نہ ہو، اس طرح کہ حرکت دیتے وقت پانی نہ تو بلند ہو جائے اور نہ پست یہ امر وضاحت طلب ہے کہ حرکت سے کونسی حرکت مراد ہے، امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ غسل کی حرکت مراد ہے اس لئے کہ غسل کے وقت حوض کی زائد ضرورت پیش آتی ہے، چنانچہ ایک روایت میں امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ سے اسی طرح منقول ہے اور امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ سے ایک دوسری روایت یہ بھی ہے کہ ہاتھ سے حرکت دینے کا اعتبار کیا جائے گا اور اسی میں لوگوں کے لئے آسانی ہے، البتہ امام محمد رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ وضوء کرتے وقت کی حرکت کا لحاظ ہوگا اور یہ درمیانی صورت ہے، اور یہ بھی امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے ایک روایت میں مروی ہے اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے ظاہر الروایۃ میں یہ مروی ہے کہ غالب گمان کا اعتبار کیا جائے گا اس طرح کہ وضوء کرنے والے کو غالب گمان پیدا ہو جائے کہ وضوء کے وقت پانی کو حرکت دینے میں ناپاکی دوسری جانب تک پہنچ گئی ہے تو اس سے وضوء نہ کرے اور اگر یہ گمان غالب پیدا نہ ہو تو وضوء کرے۔ غایۃ میں مذکور ہے کہ یہی قول صحیح ترین ہے اور ابو عصمہ نے کہا ہے کہ امام محمد رحمۃ اللہ علیہ اس کا تعین دہ در دہ سے کیا کرتے تھے پھر انہوں نے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے قول کی جانب رجوع کیا ہے اور یہ کہا ہے کہ میں اس بارے میں کوئی مقدار معین نہیں کرتا۔ البتہ دہ در دہ سے مقدار مقرر کرنے کا تعین ابن مبارک اور علمائے بلخ اور متاخرین میں سے ایک جماعت نے اختیار کیا ہے، امام ابواللیث نے کہا ہے کہ دہ در دہ پر فتوی ہے اور صاحب ہدایہ بھی اسی کے قائل ہیں اور جس طرح احناف کے پاس پانی کی مقدار آب جاری کے حکم میں داخل ہونے کے لئے دہ در دہ مقرر ہے۔ اسی طرح امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے قلتین کی حدیث کی بناء پر قلتین کے مقدار پانی کو آب جاری کے حکم میں داخل کیا ہے۔ جواباً ہم کہتے ہیں کہ قلتین کی حدیث کو ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے جس میں حافظ ابن عبدالبر، قاضی اسمعیل بن اسحاق اور ابوبکر بن العربی مالکی ہیں اور امام بیہقی نے کہا ہے کہ یہ حدیث قوی نہیں ہے اور اس حدیث کو خود امام غزالی اور امام رویانی رحمہم اللہ نے ترک کر دیا ہے باوجود یہ کہ یہ دونوں امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے شدید اتباع کرنے والے تھے، اسی طرح علی بن المدینی جو امام بخاری کے استاد ہیں انہوں نے کہا کہ قلتین کی حدیث صحیح ثابت نہیں ہوتی ہے۔ مزید برآں یہ کہ جب چاہ زمزم میں ایک حبشی گر کر مر گیا تھا اس وقت عبداللہ ابن عباس اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم دونوں حضرات نے چاہ زمزم کے خالی کرنے کا حکم دیا تھا، اگر قلتین کی حدیث صحیح ہوتی تو بقیہ صحابہ اور تابعین قلتین کی اس حدیث کی بناء پر ان دونوں صحابیوں سے احتجاج فرماتے کہ قلتین نجس نہیں ہوتا ہے تو زمزم کا کنواں کیوں خالی کیا جا رہا ہے؟ ان دونوں حضرات کا حکم رد کر دیا جاتا جس طرح وہ حدیث رد کر دی گئی جس میں آگ سے پکی ہوئی چیز کے کھانے سے وضوء کرنے کا حکم معلوم ہوتا ہے دیگر یہ کہ قلتین کی حدیث کو ابوداؤد نے بھی ضعیف ٹھہرایا ہے اور یہ بتلایا ہے کہ اس کی سند میں اضطراب ہے اور متن میں بھی اضطراب ہے۔ احیاء السنن میں ان احادیث کی وضاحت کے بارے میں جن میں قلتین کا ذکر ہے یہ لکھا ہے کہ جس طرح حوضوں میں پانی پھیلا ہوا ہوتا ہے اسی طرح قلتین کے پانی کا پھیلا ہوا ہونا مراد ہے کیونکہ قلتین مقدار کا پانی پھیلا ہوا ہو، اور اس کی گہرائی اس قدر ہو کہ ہاتھ سے پانی اٹھانے میں تہ کی زمین کھل نہ جائے اور اس کا پھیلاؤ اس قدر ہو کہ اس کی ایک جانب کو حرکت دینے سے دوسری جانب متحرک نہ ہوتی ہو تو مذہب قلتین کے ایسے پھیلے ہوئے پانی کی مقدار کو آب کثیر کی حد قرار دیا گیا ہے اور فقہاء نے عوام کی سہولت کے لحاظ سے آب کثیر کی مقدار کا تعین دہ دردہ مقدار پانی سے کیا ہے، اور ہم نے قلتین مقدار پانی کا اسی طریقہ سے تجربہ کیا تو اس کو بالکل درست پایا، پانی کا حوض کی طرح زمین پر پھیلا ہوا ہونے کی شرط لگانے کا راز یہ ہے کہ نجاست اس صورت میں دب جاتی ہے اور جس جگہ ہاتھ سے پانی لیا جا رہا ہے وہاں نجاست موثر نہیں ہونے پاتی، اس کے برخلاف جب پانی کا پھیلاؤ کم ہوتا ہے تو پانی کے اجزاء میں نجاست کا اثر قوی ہو جاتا ہے، حاصل کلام یہ ہے کہ قلتین کی احادیث کا تعلق پانی کے پھیلاؤ سے ہے، پانی کی گہرائی سے نہیں ہے قلتین مقدار کا پانی گہرائی کے لحاظ سے تو کم معلوم ہوتا ہے لیکن درحقیقت اس کو حوض کی طرح پھیلا دیا جائے تو وہ کثیر ہو جاتا ہے اگر چیکہ وہ گہرائی میں کم رہے اور اسی طرح آب کثیر کا حکم اس پر صادق آ جاتا ہے۔

Hadith 553

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 615
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کنویں کے گرد چالیس (40) ہاتھ یعنی اس کے چاروں جانب دس دس ہاتھ تک کوئی دوسرا نہ تو کنواں کھود سکتا ہے اور نہ سنڈاس بنا سکتا ہے۔ (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔)

Hadith 554

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 616Noor 617
حسن بصری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص کنواں کھدوائے تو کنویں کے اطراف ہر چہار جانب سے دس دس ہاتھ جملہ چالیس ہاتھ اسی کے ہیں (کہ اس کے اندر نہ تو کوئی کنواں کھدوا سکتا ہے اور نہ سنڈاس (یعنی بیت الخلاء) بنا سکتا ہے۔) (اس کی روایت امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ نے کی ہے۔) اور ابن ماجہ اور طبرانی نے عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً اسی طرح روایت کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 2486 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 555

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 618
شعبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ کنویں کی ہر چار طرف سے دس دس ہاتھ جملہ چالیس ہاتھ ہے کوئی شخص اس حد کے اندر دخل نہ دیوے اور نہ اس حد کے اندر دوسرا کنواں کھود کر اس کے پانی میں تصرف کرے۔ (اس کی روایت امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)

Note 1

امام صدر الشریعۃ نے کہا ہے کہ کنویں کے ہر جانب سے دس دس ہاتھ کا احاطہ اسی کنویں کا ہے اور اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اگر کوئی دس ہاتھ کے اندر دوسرا کنواں کھدوانا چاہے تو اس کو روک دیا جائے گا، اس لئے کہ پہلے کنویں کا پانی دوسرے کی جانب کھنچ جائے گا اور پہلے کنویں کا پانی کم ہو جائے گا اور اگر کوئی اس حد کے اندر گڑھا کھدوائے جس میں غلیظ پانی جمع ہوتا ہو تو اس سے بھی روک دیا جائے گا اس لئے کہ پہلے کنویں میں اس کی نجاست سرایت کر جائے گی اور اس کا پانی ناپاک ہو جائے گا، البتہ کسی کو دہ در دہ احاطہ کے بعد سے کنواں کھدوانے سے منع نہیں کیا جائے گا، لہٰذا معلوم ہوا کہ شریعت نے ناپاکی کے سرایت نہ کرنے کے متعلق دہ در دہ کا اعتبار کیا ہے، ہاں اگر اس کے بعد بھی نجاست سرایت کر جاتی تو وہاں سے بھی روکا جاتا اور چونکہ ایسا نہیں ہوا ہے اس لئے ثابت ہو گیا کہ دہ در دہ کے بعد نجاست سرایت نہیں کرتی ہے۔ اس تمام تقریر کا نتیجہ یہ ہے کہ فقہاء کا وہ دہ در دہ پانی، ہی کو آب کثیر کی تعریف میں داخل کرنے کا ماخذ یہی حدیثیں ہیں اور وہ حضرات جنہوں نے قلتین مقدار والے پانی کو آب کثیر کے حکم میں داخل کیا ہے وہ حضرات۔ بئر بضاعۃ سے استدلال کرتے ہیں کہ بئر بضاعۃ مدینہ منورہ میں ایک کنواں تھا جس میں نجاست گرتی تھی اور اس کا پانی لوگ استعمال کرتے تھے تو اس سے ان حضرات نے ثابت کیا ہے کہ قلتین مقدار والا پانی نجاست کا متحمل ہوتا ہے اور آب کثیر کا حکم اس پر صادق آجاتا ہے۔ اس کے جواب میں احناف نے یہ وضاحت کی ہے کہ بئر بضاعۃ ایسا کنواں تھا جس کی تہہ میں ایک نہر تھی جس سے مدینہ منورہ کے باغوں کو زمین کے اندر سے ہمیشہ پانی بہا کرتا تھا جس کی وجہ سے نجاست رہنے نہیں پاتی تھی، بئر بضاعۃ بظاہر تو ایک کنواں تھا لیکن حقیقت میں اس نہر کی وجہ سے اس کا پانی نہر جاری کے حکم میں تھا۔

Hadith 556

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 619
واقدی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا ہے کہ بئر بضاعۃ نامی کنویں میں ایک نہر تھی جو باغوں کی طرف بہتی رہتی تھی جس کا پانی ہمیشہ جاری رہتا تھا تو اس کا حکم نہر جاری
Commentary and footnotes (1)

Note 1

کے پانی کا تھا۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے، اور سعایہ میں لکھا ہے کہ ناقدین کی ایک جماعت نے واقدی کی توثیق کی ہے اور علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ بنایہ میں لکھتے ہیں کہ واقدی رحمۃ اللہ علیہ اہل مدینہ میں سے تھے اور وہاں کے حالات سے خوب واقف تھے، مگر جن حضرات نے ان کی روایت کا انکار کیا ہے، شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ بئر بضاعۃ کا پانی سطح زمین پر نہیں بہتا تھا بلکہ وہ زمین کے اندر سے جاری تھا اور اسی ناواقفیت کی بناء پر ان کی روایت کا انکار کیا گیا ہے۔12۔

Hadith 557

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 620
راشد بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانی کو کوئی چیز نجس نہیں کرتی جب تک کہ اس چیز کا اثر اس کے رنگ یا مزہ یا بو پر
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 521 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

غالب نہ آجائے۔ (اس کی روایت طحاوی نے کی ہے اور دارقطنی نے بطریق مرسل اس کی روایت کی ہے جس کو ابوحاتم نے صحیح قرار دیا ہے اور ابن ماجہ اور طبرانی سے بھی اوسط اور کبیر میں اسی طرح روایت ہے۔)

Hadith 558

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 621
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگ کشتی میں دریا کا سفر کرتے ہیں اور ہمارے ساتھ تھوڑا پانی رہتا ہے اگر اس سے وضو کر لیں تو پیاسے رہ جائیں تو کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کر لیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے (یعنی مری ہوئی مچھلی)۔ (اس کی روایت امام مالک، ترمذی، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ، دارمی اور امام محمد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 83 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 69 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 386 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 59 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 479 (unverified) 90% confidence

Mishkat (candidate) 479

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث کو ”الْحِلُّ مَيْتَتُهُ“ (اس کا مردار حلال ہے) سے حنفیہ کے نزدیک صرف مچھلی مراد ہے کیوں کہ وہ ذبح کے بغیر خود بخود مر جاتی ہے، اس کا شکار کرنا اور اس کو پانی سے نکالنا ہی ذبح کرنا ہے۔12

Hadith 559

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 622
سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے سلمان (رضی اللہ عنہ) کسی کھانے یا پانی میں کوئی ایسا جانور جس میں بہتا خون نہیں ہوتا گر کر مر جائے تو ایسے کھانے کا کھا لینا اور اس پانی کو پینا اور اس سے وضو کرنا جائز ہے۔ (اس کی روایت دارقطنی نے کی ہے۔)

Hadith 560

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 623
ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور میمونہ رضی اللہ عنہا نے ایک ایسے برتن سے غسل فرمایا جس کے پانی میں آٹے کا اثر تھا لیکن وہ اثر اس قدر غالب نہ تھا کہ پانی کی حالت کو بدل دے۔ (اس کی روایت نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 240 (unverified) 94% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 378 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 561

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 624Noor 625Noor 626Noor 627
ابو زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جنوں کی (حاضری کی) رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا تمہاری چھاگل میں کیا ہے؟ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ نبیذ ہے، آپ نے فرمایا کھجور پاک ہے اور پانی بھی پاک کرنے والا ہے۔ (اس کی روایت ابوداؤد، ابن ماجہ، بزار، طبرانی، دارقطنی اور ابن عدی نے کی ہے اور امام احمد، ترمذی، ابن ابی شیبہ اور طحاوی نے اس پر یہ اضافہ کیا ہے کہ آپ نے اس سے وضو فرمایا۔ اور صاحب مشکات نے یہ اعتراض کیا ہے کہ علقمہ رضی اللہ عنہ سے صحیح روایت یہ آئی ہے اور وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ میں جنوں کی (حاضری کی) رات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں تھا۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے)۔ ایک اور روایت جس کو ابو حفص ابن شاہین نے بیان کیا ہے اس میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے صراحت ہے کہ میں لیلۃ الجن میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا۔ اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ انہوں نے قبیلہ زط کے چند لوگوں کو دیکھ کر فرمایا کہ یہ لوگ ان جنوں سے جن کو میں نے لیلۃ الجن میں دیکھا تھا زیادہ
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 84 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 88 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 384 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

ترمذی کہتے ہیں کہ ابوزید راوی مجہول ہیں، ترمذی نے ابوزید راوی کو جو مجہول کہا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ ابوبکر بن عربی نے ترمذی کی شرح میں لکھا ہے کہ ابوزید، عمرو ابن حرث کے مولیٰ ہیں ان سے راشد بن کیسان عیسیٰ کوفی اور ابو روق دونوں حضرات نے روایت کی ہے اور جن سے دو راوی روایت کریں ان کو مجہول نہیں قرار دیا جا سکتا علاوہ ازیں یہ کنیت ہی سے مشہور ہیں۔ ترمذی کا منشاء ابوزید کے مجہول ہونے سے یہ ہو سکتا ہے، کہ یہ نام کے اعتبار سے مجہول ہیں جس سے کوئی ضرر واقع نہیں ہوتا کیوں کہ ایسے راویوں کی ایک جماعت ہے جن کے اسماء نامعلوم ہیں، اور وہ کنیتوں سے مشہور ہوگئے، امام ابن ہمام اور علامہ عینی نے یہی کہا ہے۔

Note 2

اس اعتراض کا جواب کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ لیلۃ الجن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں تھے کئی طریقوں سے دیا گیا ہے: ایک (1) جواب تو یہ ہے جس کو امام ابن ہمام رحمۃ اللہ علیہ نے بیان کیا ہے کہ وہ روایت جو ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے آئی ہے کہ انہوں نے خود کہا ہے کہ میں لیلۃ الجن میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہ تھا، یہ حدیث ابن ابی شیبہ کی حدیث سے متعارض ہے جس میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ساتھ موجود تھا۔

Note 3

مشابہت رکھتے ہیں اور ظاہر ہے کہ جہاں ثبوت اور نفی دو قسم کی روایتیں جمع ہو جائیں وہاں ثبوت کی روایت کو مقدم رکھا جاتا ہے، اس لئے یہاں لیلۃ الجن میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنے کو مرجح قرار دیا جائے گا۔ (2) دوسرا جواب ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ نے دیا ہے کہ اثبات و نفی کی روایات کے درمیان مطابقت اس طرح پیدا کی جا سکتی ہے کہ لیلۃ الجن میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تو تھے مگر اس خاص مقام پر نہیں تھے، جہاں جنات نے آپ سے ملاقات کی اور آپ نے ان کو قرآن پڑھ کر سنایا بلکہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ایسی جگہ بیٹھے رہے جہاں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے لئے ایک خط کھینچ کر آپ کو اس کے اندر بٹھا دیا تھا اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جنوں سے ملاقات کر کے واپس آنے تک اسی جگہ بیٹھے رہے، اور اس کی روایت مسند امام احمد میں موجود ہے، لہذا یہ واضح ہو گیا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام کے متعلق لیلۃ الجن میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنے کی جو نفی وارد ہے اس نفی کا تعلق اس مقام سے ہے جس میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جنوں سے ملاقات فرمائی، اسی طرح اس خاص مقام پر نہ رہنے سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی ہمراہی سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لہذا اس سے اس رات آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے رہنے یا نہ رہنے کی روایتوں میں اختلاف باقی نہ رہا۔ (3) اور تیسرا جواب وہ ہے جس کو علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ نے بیان کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ چودہ 14 حضرات سے مروی ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لیلۃ الجن میں موجود تھے اور یہ چیز استدلال کے لئے کافی ہے۔

Hadith 562

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 628Noor 629
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نبیذ (خرما) سے وضوء کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے تھے، ایسا ہی حسن بصری رضی اللہ عنہ اور امام اوزاعی نے بھی کہا ہے۔ اور عکرمہ رضی اللہ عنہ نے کہا ہے کہ جس کو پانی نہ ملے اس کے لئے نبیذ وضوء کے لئے کافی ہے۔ (یہ عمدۃ القاری میں مذکور ہے۔)
mentioned in ‘Umdat al-Qari’.

Hadith 563

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 630
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلی درندہ (جانور) ہے۔ (اس کی روایت حاکم نے کی ہے اور اس کو صحیح قرار دیا ہے اور دارقطنی اور امام احمد نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)

Hadith 564

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 631
کبشہ بنت کعب بن مالک رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، جو ابن ابی قتادہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں کہ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو میں ان کے لئے وضوء کا پانی ڈالی، پس ایک بلی آ کر اس میں سے پانی پینے لگی تو ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بلی کے پینے کے لئے برتن کو اور جھکا دیا یہاں تک کہ اس نے پانی پی لیا، کبشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے مجھے دیکھ لیا جبکہ میں حیرت سے ان کی طرف دیکھ رہی تھی اور کہنے لگے اے میری بھتیجی! کیا تم تعجب کرتی ہو؟ میں نے کہا: ہاں! ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ بلی نجس نہیں ہے وہ تو تمہارے پاس (خادموں کی طرح) آتی جاتی رہتی ہے۔ (اس کی روایت امام مالک، امام احمد، ترمذی، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ، دارمی اور امام محمد نے کی ہے اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 75 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 92 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 68 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 367 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 483 (unverified) 88% confidence

Mishkat (candidate) 483

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Unnumbered commentary

from those that frequently move around you

The statement "from those that frequently move around you" (min al-tawwafin)—The Sheikh explained that the reasoning behind considering the cat as tawwaf (one that moves around frequently) indicates that its original ruling is impurity. However, it has been exempted due to necessity. Therefore, the leftover water from all predatory animals (sabu‘) is considered impure, except in cases where necessity is established—such as with the cat. This was mentioned in the commentary on Ihya’ al-Sunan.

Note 1

قوله

(۱) قوله : من الطوافين: أفاد الشيخ أن علة الطواف تدل على أن الأصل فيها النجاسة. وإنما عفي عنها للحاجة، فيكون سؤر جميع السباع نجسًا، إلا فيها تتحقق فيه الضرورة، وهي الهرة، قاله في تعليق إحياء السنن».

Note 1

ف: بلی تمہارے پاس (خادموں کی طرح) آتی جاتی رہتی ہے، اس کے متعلق علامہ شیخ عبدالحق رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ بلی کی بار بار آمد و رفت کو بلی کے ناپاک نہ ہونے کی علت قرار دی گئی ہے ،جس سے پتہ چلتا ہے دراصل وہ ناپاک ہے اور اس کی ناپاکی حاجت اور ضرورت کے تحت (کہ وہ موذی جانور کو مارتی ہے) معاف قرار دی گئی ہے، اس لحاظ سے درندہ کا جھوٹا ناپاک ہوگا اور بلی کا جھوٹا اس کے درندہ ہونے کے باوجود ناپاک نہیں ہے، اس لئے کہ اس میں ضرورت اور حاجت ہے، احیاء السنن میں یہی مذکور ہے۔ بلی کی حاجت اور ضرورت اس طرح ہے کہ وہ خدمت کرتی ہے اور اس کی خدمت یہ ہے کہ وہ موذی جانوروں کو مارتی ہے اور ان کی خبرگیری میں ثواب ہوتا ہے، اور اسی ضرورت کے تحت بلیوں کے جھوٹے پانی کو پاک قرار دیا گیا کہ اس سے وضو کیا جا سکتا ہے۔12

Hadith 565

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 632Noor 633Noor 634
داؤد بن صالح بن دینار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں وہ کہتی ہیں کہ ان کی مالکہ نے ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس ہریس دے کر روانہ کیا، وہ کہتی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ آپ نماز پڑھ رہی ہیں، مجھے اشارہ سے فرمایا کہ اسے رکھ دو، اتنے میں ایک بلی آئی اور اس سے کچھ کھا لی اور جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نماز سے فارغ ہوئیں تو اسی جگہ سے تناول فرمایا جہاں سے بلی کھائی تھی اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ بلی ناپاک نہیں ہے، وہ تمہارے پاس (خادموں کی طرح) آنے جانے والوں میں سے ہے، اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلی کے جھوٹے پانی سے وضو فرماتے دیکھا ہے۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے اور علامہ نیموی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ اس حدیث کے اسناد صحیح ہیں۔) اور ترمذی نے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب برتن میں بلی منھ ڈال کر پی لے تو برتن کو ایک دفعہ دھو لیا جائے اور اس کو ترمذی نے صحیح کہا ہے۔ اور امام طحاوی اور دیگر محدثین نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ جب بلی برتن میں منھ ڈال کر پی لے تو برتن کو پاک کرنے کی صورت یہ ہے کہ برتن ایک دفعہ یا دو دفعہ دھو لیا جائے اور دارقطنی نے کہا کہ ”یہ حدیث صحیح ہے“۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 76 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 566

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 635
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب بلی برتن میں منھ ڈال کر پی لے تو اس کے پانی کو گرا دے اور برتن کو ایک دفعہ دھو لے۔ (اس کی روایت دارقطنی نے موقوفاً کی ہے اور اس کی اسناد صحیح ہے۔)
Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: علامہ حلبی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ درندوں کے متعلق دو حکم ہیں: ایک حکم ان کے جھوٹے کے متعلق ہے اور دوسرا حکم ان کے گوشت کے متعلق ہے۔ بلی کے گوشت کے متعلق یہ حکم ثابت رہا کہ اور دیگر درندوں کی طرح اس کا گوشت بھی حرام ہے، اس لئے کہ اس کے خلاف کوئی حکم صادر نہیں ہوا، رہا بلی کے جھوٹے کا حکم اور بلی کی خدمت کی وجہ سے اس کی ضرورت کا حکم دو مختلف چیزیں ہیں، جانوروں میں بلی کی حیثیت ایک تو چیر پھاڑ کھانے والے درندوں اور دوسرے گوشت خور پرندوں کی طرح ہے، چیر پھاڑ کھانے والے درندوں کی حیثیت سے اس کا جھوٹا نجس ہے اور گوشت خور پرندوں کی حیثیت سے اس کا جھوٹا مکروہ ہے، بلی کی خدمت اور ضرورت کی بناء پر اس کے جھوٹے کی نجاست کا حکم باقی نہ رہا تو ظاہر ہے کہ لازماً اس کی کراہت کا حکم متعین ہوگیا۔ چنانچہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا قول یہی ہے کہ بلی کا جھوٹا مکروہ ہے اور سابقہ متعارض حدیثوں کی وجہ سے یہ کراہت بھی تنزیہی ہوگی اور اس کراہت تنزیہی کی وجہ سے اس کے جھوٹے برتن کو ایک بار دھونے کا حکم دیا گیا ہے اور امام ابن الہمام رحمۃ اللہ علیہ کراہت تنزیہی کے قائل ہیں البتہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے جھوٹے کو پاک قرار دیا ہے۔

Hadith 567

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 636Noor 637
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی لڑائی کے دن گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا اور گھوڑوں کے گوشت کے متعلق رخصت و اجازت دی۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔) اور بخاری کی دوسری روایت میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی لڑائی کے دن گھریلو گدھوں کے گوشت کھانے سے ممانعت فرمائی۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 4219 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 5520 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

The Prophet ﷺ prohibited...

(1) The statement: "The Prophet ﷺ prohibited..." The evidence regarding the permissibility or prohibition of its meat conflicts. Additionally, there was disagreement among the companions about its purity and impurity. It was narrated from Ibn Abbas that it is pure, and from Ibn Umar that it is disliked. This raised doubt about its saliva. The most correct approach, as mentioned in "Al-Bahr" and "Al-Binayah" and others, is to be uncertain in the case of necessity. This is because the donkey is tied in homes and courtyards, and it drinks from vessels. Necessity has an effect in relieving impurity, as in the case of the saliva of a cat or a mouse. However, the necessity for the donkey is less than that for the cat or mouse, because they enter the narrow parts of the house, unlike the donkey. If necessity were not established at all, as in the case of dogs and wild animals, the ruling would have been impurity without any doubt. If the necessity were like that of the cat or mouse, the ruling would have been to relieve impurity without any doubt. Since necessity was established in some aspects and not others, and the reasons for impurity and purity were equal, they canceled each other out due to the conflict. Thus, the original ruling must be followed. Here, the two original rulings are: purity with respect to water and impurity with respect to saliva, so the matter remains uncertain. This is the essence of what is mentioned in "Al-Sayah".

Note 1

قوله

(۱) قوله : نهى النبي ﷺ إلخ : تعارضت الأدلة في إباحة لحمه وحرمته. وأيضًا اختلف الصحابة في نجاسته وطهارته، فروي عن ابن عباس طهارته، وروي عن ابن عمر كراهته، فأوجب الشك في سؤره. والأصح في التمسك على ما في «البحر» و«البناية» وغيرهما، هو التردد في الضرورة؛ فإن الحمار تربط في الدور والأفنية، ويشرب من الأواني. وللضرورة أثر في إسقاط النجاسة، كما في سؤر الهرة والفأرة، إلا أن الضرورة في الحمار دون الضرورة فيهما؛ لدخولهما مضايق البيت دونه، ولو لم تكن الضرورة ثابتة أصلا كما في الكلب والسبع، لَوَجَبَ الحكم بالنجاسة بلا إشكال. ولو كانت الضرورة فيه كضرورة الفأر والهرة، لَوَجَبَ الحكم بإسقاط النجاسة بلا إشكال. فلما ثبتت الضرورة من وجه دون وجه، واستوى موجب النجاسة والطهارة، تساقطا للتعارض، ووجب المصير إلى الأصل، والأصل ههنا شيئان: الطهارة في جانب الماء، والنجاسة في جانب اللعاب، فبقي الأمر مشكلا، هذا حاصل ما في «السعاية».

Note 1

ف: گدھے کا گوشت کھانے کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ممانعت فرمائی ہے، اس کے متعلق تحقیق یہ ہے کہ اس کے گوشت کے حلال ہونے اور حرام ہونے کے متعلق دلائل میں خود اختلاف ہے اور خود صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی گدھے کے ناپاک ہونے اور پاک ہونے کے متعلق اختلاف کیا ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ گدھا پاک ہے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مکروہ ہے، اس اختلاف نے گدھے کے جھوٹے کے متعلق شک پیدا کردیا کہ اس کا حکم کیا ہے، اس بارے میں صحیح ترین استدلال جو بحر اور بنایہ وغیرہ میں مذکور ہے یہ ہے کہ گدھے کے جھوٹے کی ضرورت کے بارے میں تردد اور شک ہے کہ کیا کہا جائے ضرورت اس لئے کہ گدھا گھر کے کنارے میں باندھا جاتا ہے اور گھر کے برتنوں سے پانی پی جاتا ہے اور یہ مسلّم ہے کہ ضرورت اور حاجت اس بات کی داعی ہوتی ہے کہ ناپاک ہونے کا حکم نہ دیا جائے اسی وجہ سے بلی اور چوہے کے جھوٹے کو ناپاک نہیں قرار دیا گیا، مگر گدھے کی ضرورت کم ہے اور بلی اور چوہے کی ضرورت زائد ہے، کیونکہ بلی اور چوہے گھر کے تنگ مقامات میں گھس جایا کرتے ہیں اس لئے ان سے بچنا مشکل ہے اور گدھے سے بچنا آسان ہے، اور اگر بالکلیہ ضرورت نہ ہوتی تو گدھے کے جھوٹے کے متعلق بلا اشکال یہ حکم دیا جاتا کہ وہ نجس ہے جس طرح کتے اور دوسرے درندوں کا حکم ہے، اور اگر گدھے کی ضرورت اس طرح ہوتی جس طرح کہ بلی اور چوہے کی ضرورت درپیش ہوتی ہے تو گدھے کے جھوٹے کا حکم بالکل بلا اشکال وہی دیا جاتا جو بلی اور چوہے کا ہے کہ ان کا جھوٹا بھی ناپاک نہیں ہے، پس جب ایک حیثیت سے ضرورت ثابت ہوتی ہے کہ وہ گھروں میں باندھا جاتا ہے اور برتنوں سے پانی پی جاتا ہے اور دوسری حیثیت سے ضرورت ثابت نہیں ہوتی ہے یعنی وہ بالکل بلی اور چوہے کی طرح ہر تنگ مقام تک نہیں جایا کرتا تو اس کے لئے دونوں باتیں برابر ہوگئیں، ایک ناپاکی اور دوسرے پاکی، اور یہ دونوں باتیں ایک دوسرے کے معارض اور مخالف ہونے کی وجہ سے ساقط ہوگئے۔ اس طرح ان دونوں باتوں میں کسی کا بھی اعتبار نہیں کیا جاسکتا، اس لئے اصل کی جانب لوٹنا ضروری ہوا، اور یہاں اصل دو چیزیں ہیں: ایک تو پانی کہ وہ پاک ہے اور دوسرے گدھوں کا تھوک کہ وہ ناپاک ہے اس لئے کہ اس کا گوشت حرام ہے، اگر پانی کو دیکھا جائے تو گدھے کے جھوٹے کو پاک کہنا پڑتا ہے اور اس کے تھوک کا لحاظ کیا جائے تو اس کے جھوٹے کو ناپاک کہنا پڑتا ہے اسی لئے گدھے کے جھوٹے کا قضیہ معرض اشکال میں ہونے کی وجہ سے فقہاء نے گدھے کے جھوٹے کو مشکوک کہا ہے۔ گدھے کے جھوٹے کی دو حیثیتیں ہیں: ایک حیثیت خود اس کے پاک ہونے کی ہے جس میں کوئی شک نہیں ہے، البتہ دوسری حیثیت جس میں شک ہے وہ یہ کہ کیا وہ پاک کرنے والا بھی ہے یعنی طاہر تو ہے کیا مطہر بھی ہے؟ تو اس کے مطہر ہونے میں شک کی بناء پر پانی ملنے کی صورت میں اس کو استعمال نہیں کرنا چاہئے، اگر پانی نہ ملے تو گدھے کے جھوٹے پانی سے وضوء بھی کرنا چاہئے اور تیمم بھی۔ (یہ عبارت سعایہ اور ردالمحتار کا حاصل ہے۔)

Hadith 568

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 638
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ نے فرمایا کہ ایسا پانی جو دھوپ سے گرم ہوا ہو، اس سے غسل مت کیا کرو، اس لئے کہ وہ کوڑھ کو پیدا کرتا ہے۔ (اس کی روایت دار قطنی نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (3)

Note 1

Do not perform ghusl with sun-exposed water

(1) The statement "Do not perform ghusl with sun-exposed water": In the book "Radd al-Muhtar," it is mentioned that we previously stated in the recommendations for ablution in "Al-Imdad" that one should not use sun-exposed water. This is affirmed in "Al-Hilya," citing the prohibition from Umar (may Allah be pleased with him), and in "Al-Fath," it is declared disliked. Similar views are found in "Al-Bahr." In "Miraj al-Darayah" and "Al-Qunya," it is stated that using sun-exposed water for purification is disliked, supported by the narration where Umar advised Aisha (may Allah be pleased with her) not to use sun-exposed water, saying it causes leprosy. Some have narrated differently, stating it is not disliked, and Malik and Ahmad held this view. According to the Shafi'i school, it is disliked only if the intention is to expose the water to the sun. In "Al-Ghayah," it is stated that it is disliked to use sun-exposed water in hot regions at certain times, but the intent is considered weak, and its absence does not have a significant effect. From this, it is clear that the accepted view in our madhhab is that it is disliked, supported by the authentic narration, and that the absence of dislike is considered a weak view. It is also apparent that the dislike is in the form of a recommendation for avoidance, not an absolute prohibition, as evident from its classification under desirable actions in the books of fiqh. Therefore, there is no difference between our madhhab and the Shafi'i view on this matter. This clarification should be noted.

Note 1

قوله

(۱) قوله : لا تغتسلوا بالماء المشمس إلخ : قال في رد المحتار أقول: وقدمنا في مندوبات الوضوء عن «الإمداد»: أن منها أن لا يكون بماء مشمس، وبه صرح في الحلية مستدلاً بما صح عن عمر من النهي عنه، ولذا صرح في «الفتح» بكراهته، ومثله في البحر». وقال في معراج الدراية» وفي القنية»: وتكره الطهارة بالمشمس؛ لقوله لعائشة ما حين سخنت الماء بالشمس: لا تفعلي يا حميراء؛ فإنه يورث البرص. وعن عمر مثله. وفي رواية لا يكره، وبه قال مالك وأحمد، وعند الشافعي يكره إن قصد تشميسه. وفي الغاية»: وكره بالمشمس في قطر حار في أوان منطبعة، واعتبار القصد ضعيف، وعدمه غير مؤثر، انتهى ما في المعراج فقد علمت أن المعتمد الكراهة عندنا؛ لصحة الأثر، وأن عدمها رواية، والظاهر أنها تنزيهية عندنا أيضًا بدليل عده في المندوبات، فلا فرق حينئذ بين مذهبنا ومذهب الشافعي، فاغتنم هذا التحرير.

Note 1

ف: صاحب ”ردالمحتار“ نے وضوء کے مستحبات کے بیان میں ”امداد“ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ مستحبات وضوء سے یہ بھی ہے کہ وضوء ایسے پانی سے نہ کیا جائے جو دھوپ پڑنے کی وجہ سے گرم ہو گیا ہے۔ جس کی صراحت ”حلیہ“ میں کی گئی ہے، مصنف حلیہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اسی حدیث سے استدلال کیا ہے کہ آپ نے اس کے استعمال سے منع فرمایا، اسی لئے ”در وفتح“ میں دھوپ زدہ پانی کے مکروہ ہونے کی صراحت کی گئی ہے اور ”بحر“ میں بھی یہی مذکور ہے اور ”معراج الدرایہ“ اور ”قنیہ“ میں مذکور ہے کہ وہ پانی جو دھوپ سے گرم ہو گیا ہو، اس سے وضو کرنا مکروہ ہے اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو ممانعت فرما دی تھی جب کہ انہوں نے پانی کو دھوپ میں گرم کیا تھا، یہ فرمایا کہ اے حمیراء (رضی اللہ عنہا) دھوپ سے پانی گرم مت کیا کرو، اس سے برص (یعنی کوڑھ) کی بیماری پیدا ہوتی ہے۔12۔

Hadith 569

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 639
اسلم رضی اللہ عنہ سے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مولیٰ ہیں روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے لئے تانبے کے برتن میں پانی آگ سے گرم کیا جاتا تھا اور آپ اس سے غسل فرماتے تھے۔ (اس کی روایت دارقطنی نے کی ہے اور یہ وضاحت کی ہے کہ اس کے اسناد صحیح ہیں۔)

[Narrated by Al-Daraqutni, who said: Its chain of narration is authentic]