Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 5581

Chapter on His Morals and His Characteristics (Shumail) (ﷺ)

In this book

Current reading

the Virtues

Chapter on His Morals and His Characteristics (Shumail) (ﷺ)

Zujajat al-Masabih 5581Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7248
ان ہی سے روایت ہے، فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بہتر اخلاق کے پیکر ہیں، آپ نے ایک دن مجھے کسی کام کے لئے روانہ فرمایا، میں نے کہا: بخدا میں نہیں جاؤں گا (11)، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم فرمایا ہے، پس میں اس کام کے لئے نکل پڑا، یہاں تک کہ بازار میں چند بچے کھیل رہے تھے وہاں سے میرا گزر ہوا، اچانک حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے سے میری گردن پکڑلی، کہتے ہیں میں نے دیکھا حضور کی طرف آپ مسکرا رہے ہیں اور محبت سے فرمایا: اے پیارے انس! کیا وہاں جا رہے ہو جہاں جانے کا میں نے حکم دیا تھا؟ میں عرض گزار ہوا: ہاں جا رہا ہوں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ (مسلم)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2310a (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (4)

Note 1

I will not go

(1) His statement: “I will not go”: meaning with my tongue. His statement: “until I passed by children, etc.”: It appears he stopped with them to play or watch, hence he said: “Then the Messenger of Allah grabbed, etc.” His statement: “the back of my neck”: with a short qaf, meaning the nape. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله : لا أذهب أي بلساني. وقوله: «حتى أمر على صبيان إلخ والظاهر أنه وقف عندهم إما للعب أو للتفرج ولذا قال: فإذا رسول الله له إلخ. وقوله: «بقفاي والقفا بالقصر مؤخر العنق. التقطته من «المرقاة».

Note 1

حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے لمعات میں فرمایا: حضرت انس رضی اللہ عنہ کا کہنا ’’میں نہیں جاؤں گا‘‘ ان سے ان کے بچپن میں جبکہ وہ غیر مکلّف تھے صادر ہوا، حالانکہ ان کے دل میں تھا کہ وہ اس کام کے لئے جائیں گے۔

Note 2

(11) قوله: لا اذهب (بخدا میں نہیں جاؤں گا) یعنی اپنی زبان سے کہا: قوله حتى امر على صبيان الخ (یہاں تک کہ بازار میں چند بچے کھیل رہے تھے)۔ (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) ظاہر ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ بچوں کے پاس کھیل کیلئے یا لطف اندوزی کے لئے ٹھہر گئے، اسی لئے کہا اچانک حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میری گردن پکڑلی۔ قوله: بقفاي (میری گردن پکڑلی) قفا الف مقصورہ کے ساتھ گردن کا آخری حصہ۔ (مرقات)۔