اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7249
ان ہی سے روایت ہے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز ادا
فرماتے تو مدینہ شریف کے خادمین (حصول برکت کیلئے) آپ کی خدمت میں اپنے برتن لئے حاضر
ہوتے(12)، جن میں پانی ہوتا وہ حضرات جو بھی برتن لاتے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس میں اپنا دست
مبارک ڈبوتے، بسا اوقات وہ سردی کے دنوں میں حاضر ہوتے تو بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان
برتنوں میں اپنا دست مبارک ڈبوتے۔ (مسلم)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 2324 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement: “came, etc.”: meaning they sought blessing, increase, well-being, and healing. His statement: “he would dip his hand in it”: At-Tibi said: This shows his effort to please people’s hearts, especially servants and the weak, so they could seek blessing by him placing his noble hand in their vessels, and it shows his humility with the weak. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: جاء إلخ : أي فيطلبون البركة والنماء والعافية والشفاء. وقوله: فيغمس يده فيها». قال الطيبي: فيه تكلف المشاق لتطييب قلوب الناس، لا سيما مع الخدم والضعفاء، وليتبركوا بإدخال يده الكريمة في أوانيهم، وبيان تواضعه مع الضعفاء. كذا في «المرقاة».
Note 1
(12) قوله: جاء (حاضر ہوتے) پس وہ لوگ برکت، کثرت، عافیت اور شفاء چاہتے۔ قوله: فيغمس يده فيها. امام طیبی نے فرمایا: اس سے واضح ہوتا ہے کہ آپ لوگوں کی دلجوئی کی خاطر مشقتوں کو برداشت فرماتے، خصوصاً خدمت گزاروں اور کمزور لوگوں کے ساتھ تاکہ وہ اپنے برتنوں میں آپ کے دست مبارک رکھنے سے برکت حاصل کرلیں، اور ضعیفوں کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان تواضع کا بھی اس میں بیان ہے۔ (مرقات)۔