ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب بلی برتن میں منھ
ڈال کر پی لے تو اس کے پانی کو گرا دے اور برتن کو ایک دفعہ دھو لے۔ (اس کی روایت دارقطنی نے
موقوفاً کی ہے اور اس کی اسناد صحیح ہے۔)
ف: علامہ حلبی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ درندوں کے متعلق دو حکم ہیں: ایک حکم ان کے جھوٹے
کے متعلق ہے اور دوسرا حکم ان کے گوشت کے متعلق ہے۔ بلی کے گوشت کے متعلق یہ حکم ثابت رہا کہ اور
دیگر درندوں کی طرح اس کا گوشت بھی حرام ہے، اس لئے کہ اس کے خلاف کوئی حکم صادر نہیں ہوا، رہا
بلی کے جھوٹے کا حکم اور بلی کی خدمت کی وجہ سے اس کی ضرورت کا حکم دو مختلف چیزیں ہیں، جانوروں
میں بلی کی حیثیت ایک تو چیر پھاڑ کھانے والے درندوں اور دوسرے گوشت خور پرندوں کی طرح ہے،
چیر پھاڑ کھانے والے درندوں کی حیثیت سے اس کا جھوٹا نجس ہے اور گوشت خور پرندوں کی حیثیت
سے اس کا جھوٹا مکروہ ہے، بلی کی خدمت اور ضرورت کی بناء پر اس کے جھوٹے کی نجاست کا حکم باقی نہ
رہا تو ظاہر ہے کہ لازماً اس کی کراہت کا حکم متعین ہوگیا۔ چنانچہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا قول یہی ہے
کہ بلی کا جھوٹا مکروہ ہے اور سابقہ متعارض حدیثوں کی وجہ سے یہ کراہت بھی تنزیہی ہوگی اور اس
کراہت تنزیہی کی وجہ سے اس کے جھوٹے برتن کو ایک بار دھونے کا حکم دیا گیا ہے اور امام ابن الہمام
رحمۃ اللہ علیہ کراہت تنزیہی کے قائل ہیں البتہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے جھوٹے کو پاک قرار
دیا ہے۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: علامہ حلبی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ درندوں کے متعلق دو حکم ہیں: ایک حکم ان کے جھوٹے کے متعلق ہے اور دوسرا حکم ان کے گوشت کے متعلق ہے۔ بلی کے گوشت کے متعلق یہ حکم ثابت رہا کہ اور دیگر درندوں کی طرح اس کا گوشت بھی حرام ہے، اس لئے کہ اس کے خلاف کوئی حکم صادر نہیں ہوا، رہا بلی کے جھوٹے کا حکم اور بلی کی خدمت کی وجہ سے اس کی ضرورت کا حکم دو مختلف چیزیں ہیں، جانوروں میں بلی کی حیثیت ایک تو چیر پھاڑ کھانے والے درندوں اور دوسرے گوشت خور پرندوں کی طرح ہے، چیر پھاڑ کھانے والے درندوں کی حیثیت سے اس کا جھوٹا نجس ہے اور گوشت خور پرندوں کی حیثیت سے اس کا جھوٹا مکروہ ہے، بلی کی خدمت اور ضرورت کی بناء پر اس کے جھوٹے کی نجاست کا حکم باقی نہ رہا تو ظاہر ہے کہ لازماً اس کی کراہت کا حکم متعین ہوگیا۔ چنانچہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا قول یہی ہے کہ بلی کا جھوٹا مکروہ ہے اور سابقہ متعارض حدیثوں کی وجہ سے یہ کراہت بھی تنزیہی ہوگی اور اس کراہت تنزیہی کی وجہ سے اس کے جھوٹے برتن کو ایک بار دھونے کا حکم دیا گیا ہے اور امام ابن الہمام رحمۃ اللہ علیہ کراہت تنزیہی کے قائل ہیں البتہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے جھوٹے کو پاک قرار دیا ہے۔