Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 5660

Chapter on Miracles

In this book

Current reading

the Virtues

Chapter on Miracles

Zujajat al-Masabih 5660Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7332
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ام مالک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک(46) چھوٹی کپی میں گھی کا تحفہ پیش کرتی تھیں اور ان کے پاس ان کے بچے سالن پوچھنے آتے تھے جب کہ ان کے پاس کچھ نہیں ہوتا تو جس کپی میں وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تحفہ پیش کرتی تھیں اس میں ان کو گھی مل جاتا تھا اور ان کے گھر کا وہ ہمیشہ سالن بنا رہا یہاں تک کہ انہوں نے ایک مرتبہ اس کو نچوڑ دیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئیں تو آپ صلی ا للہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اس کو نچوڑ دیا تو وہ عرض کیں ہاں تو آپ نے فرمایا اگر تو اس کو ویسا ہی چھوڑ دیتی تو وہ ہمیشہ رہتا۔(مسلم)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2280a (unverified) 93% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

send.

(1) His statement: small skin: With damma and tashdid, a small leather container. In Al-Nihayah: It is a rounded leather vessel for clarified butter or honey, more specific to butter. His statement: clarified butter: The object of “send.” His statement: she would go: With kasra on mim, meaning their mother intended the skin, with masculine reference due to the container. His statement: until she squeezed it: Meaning out of greed, so the condiment ceased, as greed brings misfortune and the greedy are deprived. His statement: came to the Prophet (ﷺ): Meaning she told him the whole story. At-Tibi said: She came complaining of the condiment ceasing from the skin. His statement: Did you squeeze it: Meaning the skin, with ya’ for prolongation and an implied interrogative hamza. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: عكة بضم فتشديد قربة صغيرة ذكره شارح. وفي النهاية هي وعاء من جلد مستدير ويختص بالسمن والعسل، وهو بالسمن أخص لها، أي كانت لأم مالك سمنا» مفعول تهدي». وقوله: «فتعمد» بكسر الميم، أي تقصد أمهم إلى الذي»، أي إلى العكة، والتذكير باعتبار الظرف. وقوله: حتى عصرته أي لزيادة الطمع، فانقطع الإدام بناء على أن الحرص شؤم والحريص محروم. وقوله : فأنت النبي ، أي وأخبرته بالخبر جميعا. وقال الطيبي: أي فأتت وشكت انقطاع إدام بيتها من العكة. فقال: عصرتيها أي العكة، والياء للإشباع وهمزة الاستفهام مقدرة. كذا في «المرقاة».

Note 1

(46) قولہ : عُكَّة : ع کو پیش اور کاف کو تشدید، ایک شارح نے بیان کیا وہ چمڑے کی چھوٹی تھیلی (کپی) کو کہتے ہیں، اور کتاب نہایہ میں ہے یہ چمڑے کی ایک گول تھیلی ہے جو گھی اور شہد کے لئے خاص ہے اور وہ گھی کے لئے زیادہ خاص تھی۔ قولہ : لها . ہا ضمیر کا مرجع ام مالک ہے، سمنا یہ تهدى کا مفعول ہے۔ قولہ : فتعمد . میم کے زیر (کسرہ) کے ساتھ ہے، یعنی ان کی ماں ارادہ کرتی تھی الى الذى سے مراد الى العكة ہے، یعنی کپی کا ارادہ کرتی اور الذى کو مذکر ظرف کے معنی کا اعتبار کرتے ہوئے لایا گیا۔ وقولہ : حتى عصرته . یعنی زیادہ سے زیادہ کی خواہش میں اس کو نچوڑی تو وہ ختم ہو گیا کیونکہ حرص میں حرمان نصیبی ہے اور حریص محروم ہے۔ وقولہ : فاتت النبي صلى الله عليه وسلم یعنی آ کر آپ کو پورا واقعہ بتا دیں اور علامہ طیبی نے فرمایا وہ آئیں اور اپنے گھر میں سالن کے کپی میں سے ختم ہو جانے کی شکایت کیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس کو یعنی کپی کو نچوڑ دیں عصرتيها میں یا اشباع یعنی آواز کو دراز کرنے کا ہے اور ہمزہ استفہام مقدر ہے۔(ماخوذ از مرقات)۔