حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، آپ نے فرمایا: قریش
نے ایک رات مکہ مکرمہ میں مشورہ کیا(1) تو ان میں سے بعض نے کہا وہ جب صبح کریں تو ان کو بیڑیوں
میں جکڑ دو(2)، ان کی مراد اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے، اور ان میں سے بعض نے کہا کہ ان کو
قتل کر دو۔ اور بعض نے کہا بلکہ ان کو نکال دو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر مطلع کر دیا
اور حضرت علی اس رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر لیٹے ہوئے گزارے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ
وسلم تشریف لے گئے یہاں تک کہ غار میں پہنچ گئے۔ اور مشرکین حضرت علی کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
سمجھتے ہوئے پہرہ دیتے رہے اور جب صبح کئے تو ان پر ٹوٹ پڑے اور جب وہ حضرت علی کو دیکھے جبکہ
اللہ نے ان کے مکر کو پھیر دیا تو بولے آپ کے صاحب کہاں ہیں تو آپ نے فرمایا میں واقف نہیں
ہوں تو وہ آپ کے نشانات قدم پر تلاش کرتے ہوئے چلتے گئے اور جب پہاڑ تک پہنچ گئے تو نشانات
قدم ان پر مشتبہ ہوگئے پس پہاڑ پر چڑھ گئے اور غار کے پاس سے گزرے اور اس کے دروازے پر
مکڑی کا جالا دیکھتے ہوئے بولے اگر وہ اس میں داخل ہوئے ہوتے تو اس کے دروازے پر مکڑی کا
جالا نہ ہوتا اور آپ اس میں تین رات رہے۔ (احمد)۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (4)
Note 1
I am from Najd. I heard of your gathering, so I came to advise you.
(1) His statement: Quraysh consulted: Allah, the Exalted, informed about this in His saying: And [remember] when those who disbelieved plotted against you to restrain you or kill you or expel you (Al-Anfal: 30). When they heard of the Ansar’s acceptance of Islam and their support, they feared and gathered in Dar al-Nadwah to consult about his matter. Iblis entered upon them in the form of an old man and said, “I am from Najd. I heard of your gathering, so I came to advise you.” Abu al-Bakhtari said, “My opinion is to imprison him in a house.” The old man said, “A bad opinion; his people will come and free him.” Hisham ibn Amr said, “Expel him from your land.” He said, “A bad opinion.” Abu Jahl said, “I suggest you take a young man from each tribe to kill him together, so his blood is spread among the tribes, and Banu Hashim cannot wage war against Quraysh.” They agreed to compensate for it, and he said, “This youth has spoken the truth,” so they dispersed on his opinion. (As stated in Al-Mirqat) (2) His statement: bind him: With a fatha on the hamza and kasra on the ba’, meaning tie him. His statement: with chains: With a fatha on the first letter, meaning what is used to bind. His statement: referring to the Prophet (ﷺ): Meaning they intended him with the hidden and apparent pronouns; it is most likely that binding him meant imprisoning him. His statement: Allah informed His Prophet of this: Meaning Jibril came and informed him of the news and ordered him to migrate. His statement: left: Meaning with Abu Bakr to the cave. His statement: they rushed: With a tha’ and alif, meaning they leapt. His statement: toward him: Meaning toward the one on the bed, thinking it was the Prophet (ﷺ). His statement: they followed: With tashdid on the sad, meaning they tracked. His statement: his tracks: Meaning the traces of his footsteps. His statement: when they reached the mountain: Meaning Mount Thawr. His statement: became unclear to them: Meaning the tracks became confused. His statement: they passed by the cave: Meaning the cave above that mountain, and they thought he was in it. His statement: If he had entered, etc.: It is said that when he entered the cave, Allah sent two pigeons to lay eggs at its base, and a spider wove over it. It is narrated that the polytheists climbed above the cave such that if they looked at their feet, they would have seen them. Abu Bakr feared for the Messenger of Allah (ﷺ), so he said, “What do you think of two, with Allah as their third?” Allah blinded them to the cave, so they circled around it but did not see them. His statement: he stayed: With damma or fatha on the kaf, meaning he remained. His statement: in it for three nights: Meaning then he proceeded to Madinah. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
قوله
(۱) قوله: تشاورت قريش: وقد أخبر الله سبحانه عنه بقوله: ﴿ وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ﴾ (الأنفال: (۳۰)، وذلك أنهم لما سمعوا بإسلام الأنصار ومتابعتهم خافوا واجتمعوا في دار الندوة متشاورين في أمره، فدخل عليهم إبليس في صورة شيخ، قال: أنا من نجد، سمعت اجتماعكم فحضرتكم لأنصحكم في رأيكم. قال أبو البختري رأيي أن تحبسوه في بيت، فقال الشيخ: بئس الرأي، يأتيكم قومه ويخلصه منكم. وقال هشام بن عمرو أن تخرجوه من أرضكم، فقال: بئس الرأي. وقال أبو جهل: أنا أرى أن تأخذوا من كل بطن غلاما، فيقتلوه دفعة واحدة، فيتفرق دمه في القبائل، فلا يقوي بنو هاشم على حرب قريش، فعقلناه، فقال: صدق هذا الفتى فتفرقوا على رأيه. كذا في «المرقاة».
Note 2
قوله فأثبتوه بفتح همز وكسر موحدة، فاربطوه. وقوله
(۲) قوله فأثبتوه بفتح همز وكسر موحدة، فاربطوه. وقوله: بالوثاق بفتح أوله، وهو ما يشد به. وقوله: «يريدون النبي ﷺ أي يعنونه بالضميرين المستتر والبارز، والأظهر أن المراد بإثباته به حبسه. وقوله: «فاطلع الله نبيه على ذلك أي بأن جاءه جبريل وأخبره بالخبر وأمره بالهجرة. وقوله: خرج أي مع أبي بكر الله إلى الغار. وقوله: ثاروا بمثلثة بعدها ألف، أي وثبوا. وقوله: «عليه» أي على من على المرقد ظنا أنه النبي عليه. وقوله: «فاقتصوا» بتشديد الصاد المهملة، أي تتبعوا. وقوله: «أثره أي آثار قدمه. وقوله: «فلما بلغوا الجبل» أي جبل ثور. وقوله: اختلط عليهم أي اشتبه أمر الأثر. وقوله: «فمروا بالغار أي بالكهف الذي فوق ذلك الجبل، فظنوا أنه فيه وقوله: «لو دخل إلخ) وقيل : لما دخل الغار بعث الله حمامتين فباضتا في أسفله، والعنكبوت فنسجت عليه، وروي أن المشركين طلعوا فوق الغار بحيث لو نظروا إلى أقدامهم لرأوهما، فأشفق أبو بكر له على رسول الله ﷺ، فقال علي: ما ظنك باثنين الله ثالثهما فأعماهم عن الغار، فجعلوا يترددون حوله، فلم يروه. وقوله: «فمكث بضم الكاف وفتحه، أي لبث. وقوله: «فيه ثلاث ليال أي ثم توجه إلى المدينة. التقطته من «المرقاة».
Note 1
(1) قوله: تشاورت قريش (قریش نے مشورہ کیا)، اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اس کے بارے میں یہ وحی نازل
فرمائی: ”وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ“۔ (8۔ سورۃ الانفال، آیت نمبر:30) اور اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو
باخبر کر دیا۔ اور وہ اس لئے کہ قریش نے جب انصار کے اسلام لانے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنے
کی خبر سنا تو خوف زدہ ہو گئے اور آپ کے معاملہ میں مشورہ کرنے کے لئے دار الندوہ میں جمع ہوئے اور شیطان بھی
ایک بزرگ کی شکل میں داخل ہوا اور کہا: میں نجد سے آیا ہوں اور تمہارے اجتماع کے بارے میں سنا تو تمہارے
پاس آ گیا تا کہ تمہارے مشورہ کے بارے میں خیر خواہی کروں، مشورہ شروع ہوا تو ابو البختری نے مشورہ دیا میری
رائے یہ ہے کہ تم ان کو کسی کمرے میں قید کر دو۔ تو شیخ نجدی نے کہا: یہ کیا ہی بری رائے ہے، کیونکہ ان کی قوم
تمہارے پاس آئے گی اور تم سے ان کو چھڑا کر لے جائے گی۔ اور ہشام بن عمرو نے کہا تم انہیں اپنی سر زمین سے
نکال دو اس نے کہا یہ بھی کیا ہی بری رائے ہے اور ابو جہل نے کہا میری رائے یہ ہے کہ ہر خاندان میں سے تم ایک
طاقتور نوجوان کا انتخاب کرو اور وہ سب مل کر ان کو ایک ہی دفعہ میں شہید کر دیں پھر یہ خون مختلف قبائل میں تقسیم
ہو جائے گا تو بنی ہاشم کو پورے قریش سے جنگ کرنے کی قوت نہیں رہے گی اور ہم سب مل کر ان کی دیت دیدیں گے
تو اس نے کہا اس نوجوان نے ٹھیک بات کہی ہے اور اسی رائے پر متفق ہو کر سب چلے گئے۔ (مرقات)۔
(2) قوله: فَأَثْبِتُوهُ. ہمزہ کو زبر (فتحہ) اور باء کو زیر (کسرہ) ہے یعنی ان کو باندھ دو جکڑ دو۔
قوله: والوَثاق. واو پر زبر (فتحہ) ہے، ایسی چیز جس سے باندھا جاتا ہے۔
قوله: يريدون النبي صلى الله عليه وسلم. اذا اصبح اور اثبتوه میں دونوں ضمیریں منتشر اور بارز سے
ان کی مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اور اثبتوه میں اثبات سے ان کی مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قید کرنا ہے
(حاشیہ پچھلے صفحہ سے) وقوله: فاطلع الله نبيه صلى الله عليه وسلم ذلك. یعنی جبریل امین آئے اور آپ کو
اس کی خبر دیئے اور ہجرت کا حکم لائے۔
وقوله: خرج: یعنی آپ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ غار کی طرف تشریف لے گئے۔
قوله: ثاروا: میں ث کے بعد الف ہے اس کے معنی ہیں وثبوا آپ پر ٹوٹ پڑے۔
وقوله: عليه اي على رضى الله عنه من على المرقد ظنا انه النبي صلى الله عليه وسلم. یعنی ان
پر جو بستر پر تھے اس خیال میں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
وقوله: فمروا بالغار اي بالكهف الذى فوق ذلك الجبل فظنوا انه فيه. اور اس غار کے پاس سے
گزرے جو پہاڑ کے اوپر تھا اور خیال کئے کہ آپ اس میں ہیں۔
وقوله: اثره. یعنی آپ کے نشان قدم پر چلے۔ وقوله: فلما بلغوا الجبل. جب وہ ثور پہاڑ پر پہنچے۔ وقوله:
اختلط عليهم. یعنی نشان قدم ان پر مشتبہ ہو گئے۔
وقوله: لَوْ دخل الخ. کہا گیا ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غار میں داخل ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے دو کبوتریوں
کو بھیجا وہ دونوں اس کے نیچے کے حصہ میں انڈے دیئے اور مکڑی کو بھیجا اور وہ جالا بُن دی اور روایت میں آیا ہے کہ
مشرکین اس طرح غار کے اوپر چڑھے اگر وہ اپنے پاؤں کے نیچے کی طرف دیکھتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) اور
ابوبکر رضی اللہ عنہ دونوں کو دیکھ لیتے ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فکر مند
ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ماظنك باثنين، الله ثالثهما۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو غار دیکھنے
سے اندھا کر دیا اور غار کے اطراف گھومتے رہے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھ سکے۔ قولُه: فمكث. ک کو
پیش اور زبر دونوں طرح آیا ہے، یعنی آپ ٹھہرے رہے۔
وقوله : فيه ثلث ليال. اس میں تین رات۔ پھر مدینہ کی طرف چلے۔ (ماخوذ از مرقات)۔
اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق
رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں مشرکین کے قدموں کو اپنے سروں کے اوپر دیکھا جبکہ ہم غار میں تھے (3)،
میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اگر ان میں کا کوئی (4) اپنے قدم کی طرف نظر ڈالے تو وہ ہم کو دیکھ لے گا
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوبکر تمہارا کیا خیال ہے ان دونوں کے بارے میں جن کا تیسرا
اللہ ہے۔ (متفق علیہ)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 3653 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sahih Muslim 2381 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (4)
Note 1
If you are harmed today, the religion of Allah will be lost.
(1) His statement: while we were in the cave: At-Tibi said: The cave is a hollow at the top of Thawr, a mountain in Mina, Makkah, an hour’s journey away. It is said the polytheists climbed above the cave in pursuit of the Master of the Righteous, and Abu Bakr feared for the Messenger of Allah (ﷺ), saying, “If you are harmed today, the religion of Allah will be lost.” (As stated in Al-Mirqat) (2) His statement: if one of them looked at his feet, he would see us: It is narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said, “O Allah, blind their sight.” So they circled the cave without noticing, as Allah took their sight from it. This incident, combined with the narration about the pigeons and the spider, where Allah made them appear at the cave’s entrance in their eyes, becomes a miracle. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
قوله
(۱) قوله: ونحن في الغار : قال الطيبي : الغار نقب في أعلى ثور، وهو جبل بمنى مكة على مسيرة ساعة. قيل: طلع المشركون فوق الغار في طلب سيد الأبرار، فأشفق أبو بكر على رسول الله ، وقال: إن تصب اليوم ذهب دين الله. كذا في «المرقاة».
Note 2
قوله
(٢) قوله: لو أن أحدهم نظر إلى قدمه أبصرنا : روي أن رسول الله ﷺ قال: «اللهم أعم أبصارهم». فجعلوا يترددون حول الغار ولا يفطنون، قد أخذ الله بأبصارهم عنه. ولا يخفى أن القصة بانضمام هذه الرواية وما في معناه من قضية الحمامة والعنكبوت حيث أظهرها الله في عيونهم على باب الغار تصير معجزة، هذا. كذا في «المرقاة».
Note 1
(3) قوله : ونحن فى الغار . علامہ طیبی نے فرمایا۔ یہ غار جبل ثور کے اوپر ایک سوراخ ہے یہ منیٰ کا پہاڑ ہے مکہ مکرمہ
سے ایک گھنٹہ کی مسافت پر ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ مشرکین سید الابرار صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں غار کے اوپر
چڑھ گئے تھے، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بابت فکر مند ہوگئے اور عرض کئے اگر وہ
آج آپ تک پہنچ جائیں گے تو اللہ کا دین جاتا رہے گا۔ (مرقات)۔
(4) قوله : لو ان احدهم نظر الى قدمه ابصرنا (اگر ان میں سے کوئی اپنے قدم کی طرف نظر ڈالے گا) مروی
ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ تو ان کی آنکھوں کو اندھا کردے تو وہ غار کے اطراف گھومتے
رہے، مگر سمجھ نہیں سکے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں اندھا کردیا اور آپ کو دیکھ نہیں سکے۔
یہ بات پوشیدہ نہیں کہ پورے قصہ کی اس روایت کو اور اس کے ہم معنی جو روایت ہے ان دونوں کو ملا لیں جن میں
کبوتری اور مکڑی کا ذکر ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے غار کے دروازے پر ان کی آنکھوں میں دکھایا تو یہ سارا واقعہ معجزہ
قرار پاتا ہے۔ (مرقات)۔
اور حضرت براء بن عازب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے
حضرت ابوبکر سے کہا آپ مجھے بتائیے کہ جس وقت آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رات
میں چلے تھے (5) آپ دونوں نے کس طرح کیا تھا۔ تو آپ نے فرمایا، ہم اپنی اس رات میں اور
دوسرے دن صبح بھی چلتے رہے یہاں تک کہ دوپہر کا وقت آگیا (6) اور راستہ خالی ہوگیا اس میں کوئی
بھی نہیں گزر رہا تھا (7) تو ہمارے سامنے ایک لمبی چٹان آگئی جس کا سایہ تھا اور اس پر دھوپ نہیں آتی
تھی ہم وہاں اتر گئے اور میں نے اپنے ہاتھ سے ایک جگہ صاف کی تا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر
آرام فرمائیں اور اس پر ایک چمڑا بچھا دیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ آرام فرمائیے، میں آپ کے
اطراف پہرہ دوں گا پس آپ آرام فرمانے اور میں آپ کے اطراف پہرہ دینے لگا، اور اچانک ایک
چرواہے کو آتے ہوئے دیکھا تو میں نے کہا کیا تیری بکریوں میں دودھ ہے؟ اس نے کہا ہاں ہے میں
نے کہا کیا تُو دودھ نچوڑے گا؟ تو اس نے کہا ہاں۔ تو وہ ایک بکری کو پکڑا اور ایک پیالہ بھر دودھ نچوڑا
اور میرے ساتھ ایک مشکیزہ تھا جس کو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اٹھا کر لایا تھا۔ آپ اس
سے سیراب ہوتے، نوش فرماتے، اور وضو بناتے تھے پس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں
حاضر ہوا اور آپ کو نیند سے بیدار کرنا پسند نہیں کیا اور آپ کے پاس ٹھہرا رہا یہاں تک کہ آپ بیدار
ہوئے تو میں دودھ میں تھوڑا پانی ڈالا یہاں تک کہ اس کا تلہ ٹھنڈا ہوگیا تو میں عرض کیا: یا رسول اللہ!
آپ نوش فرمائیں تو آپ نے نوش فرمایا اور میں خوش ہوگیا۔ پھر آپ نے فرمایا کیا سفر کا وقت نہیں
آیا؟ میں عرض کیا: ہاں آگیا حضرت ابوبکر نے فرمایا سورج ڈھلنے کے بعد ہم سفر شروع کئے سراقہ بن
مالک نے ہمارا پیچھا کیا تو میں عرض کیا یا رسول اللہ وہ (دشمن) ہمارے قریب آگیا تو آپ نے فرمایا فکر
مت کرو یقیناً اللہ، ہمارے ساتھ ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر دعا کی تو اس کا گھوڑا اس کو
لے کر سخت زمین میں پیٹ تک دھنس گیا تو اس نے کہا میں سمجھتا ہوں کہ آپ دونوں نے میرے خلاف
دعا کی ہے اب آپ دونوں میرے حق میں دعا فرمائیں۔ آپ دونوں کا اللہ تعالیٰ کفیل ہے تو نبی اکرم
صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے دعا فرمائی تو وہ نجات پا گیا۔ پھر وہ کسی سے نہیں ملتا مگر اس سے یہ
کہتا تھا ادھر کی تمہاری ضرورت باقی نہیں رہی اور کسی سے نہیں ملتا مگر اس کو واپس کر دیتا تھا۔ (متفق
علیہ)(8)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 3615 (unverified) 97% confidence
Candidate: Sahih Muslim 2009a (unverified) 86% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (7)
Note 1
sara
(1) His statement: you traveled: From “sara” in the language, meaning traveled by night, i.e., when you journeyed from Makkah to Madinah for the migration after leaving the cave. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
the sun was at its zenith
(2) His statement: the sun was at its zenith: Meaning the sun reached the middle of the sky. In Al-Nihayah: When the sun reaches the meridian, its shadow slows until it passes, so it seems to the observer as if it stopped, though it moves slowly with no rapid effect as before or after the zenith. This is called the sun at its zenith. (As stated in Al-Mirqat)
Note 3
from it,
(3) His statement: with no one passing: Emphasizing or explaining the previous point. His statement: appeared: Meaning it was shown. His statement: I scout: With damma on the fa’, meaning I investigate news, check for enemies, or see if there is any harm from foes or otherwise. His statement: a quantity of milk: With damma on kaf, then tha’, then ba’, meaning a measure of milk. It may mean filling the bowl or a small amount of water or milk. His statement: to drink: At-Tibi said: It should be “from it,” not “in it.” I say: In Al-Qamus, “in” can mean “from.” His statement: to drink and perform ablution: Explanatory clauses; the phrase “I had a waterskin, etc.” is a circumstantial clause between “he milked” and “I came to the Prophet (ﷺ).” His statement: I waited: With fa’ before qaf in verified copies, meaning I delayed for him. His statement: until I was satisfied: Meaning my heart was content. His statement: caught: In the passive, meaning the enemy reached us. His statement: sank: Meaning its legs sank as in sand. His statement: in solid ground: With two fathas, meaning firm ground. His statement: by Allah, I will: Nominative as the subject, meaning Allah guarantees for you. In some copies, it is accusative, implying an oath or omitting its particle. His statement: you are relieved: In the passive, meaning you are spared pursuit in this direction. (As stated in Al-Mirqat)
Note 4
[Agreed Upon]
(4) His statement: [Agreed Upon]: Al-Nawawi said: This Hadith contains benefits, including this clear miracle for the Messenger of Allah (ﷺ) and the great virtue of Abu Bakr from several aspects. It shows the follower’s service to the one followed, carrying a waterskin for purification and drinking during travel, the virtue of trusting in Allah, and its good outcome. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
قوله
(۱) قوله: سريت من سرى لغة، أي أسرى بمعنى السير في الليل، أي حين سافرت من مكة إلى المدينة للهجرة بعد الخروج من الغار. كذا في «المرقاة».
Note 1
شیخ نے لمعات میں فرمایا: کہا گیا ہے کہ وہ بکریاں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ایک اور
دوست کی تھیں اور اس کی طرف سے رضا مندی و دودھ کی اجازت تھی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان
لوگوں کی عادت تھی کہ وہ اپنے چرواہوں کو اجازت دے رکھتے تھے کہ راستہ گزرنے والے اصحاب کو
اگر دودھ کی ضرورت و حاجت ہو تو ان کے لئے دودھ نچوڑ دیا کریں اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ اس کی
قیمت دے کر لئے ہوں۔
Note 2
(5) قوله : سريت من سرى لغة فى أسرى. (آپ رات میں چلے) سری مجرد اور اسری مزید فیہ، دونوں
کے معنی رات میں چلنے کے ہیں یعنی جس وقت آپ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کے لئے غار سے نکلنے
کے بعد چلے تھے (مرقات)۔
(6) قوله : قام قائم الظهيرة. یعنی جب سورج درمیان آسمان میں پہنچ گیا۔ کتاب نہایہ میں ہے یعنی جب سورج
زوال کے وقت ٹھہر گیا اور یہ مفہوم اہل لغت کے اس قول قامت به دابته سے لیا گئے ہے، یعنی ٹھہر گیا۔ مطلب یہ ہے
کہ سورج جب آسمان کے درمیان پہنچ جاتا ہے تو سایہ کی حرکت سورج کے ڈھلنے تک آہستہ ہوجاتی ہے اور دیکھنے
والا یہ سمجھتا ہے کہ وہ ٹھہر گیا ہے، حالانکہ وہ چلتا رہتا ہے اور اس کے رفتار کی تیزی کا اثر ایسا ظاہر نہیں ہوتا جیسا زوال
سے پہلے اور زوال کے بعد ظاہر ہوتا ہے اور اس طرح ٹھہرتے ہوئے جو دکھائی دیتا ہے اس کو قام قائم الظهيرة
سے تعبیر کرتے ہیں۔ (مرقات)۔
(7) قوله : لا يمر فيه احد. (اس وقت کوئی گزر نہیں رہا تھا) یہ اپنے ماقبل کی تاکید یا اس کا بیان ہے۔
قوله : فرفعت. یعنی نمودار ہوا۔
وقوله : انا انفض. اس میں ف کو پیش ہے یعنی میں حالات معلوم کرتے رہوں گا اور دشمن کے بارے میں
معلومات کروں گا اور دیکھوں گا کہ کیا یہاں کوئی دشمن یا موذی جانور تو نہیں ہے۔
وقوله : كثبة. کاف کو پیش ہے اور ث کو جزم ہے یعنی حلبہ کے برابر یہ بھی کہا گیا پیالہ بھر اور کبھی تھوڑے پانی اور
مختصر سے دودھ کے معنی میں بھی آتا ہے۔
وقوله : يرتوى فيها. علامہ طیبی نے کہا يرتوى فيها نہیں بلکہ يرتوى منها ہونا چاہئے تو میں کہتا ہوں کہ
قاموس میں ہے کہ فی کبھی من کے معنی میں بھی آتا ہے۔
قوله : يشرب ويتوضأ دونوں نئے جملے ہیں اور یہ دونوں بیان ہیں۔ اور ومعى جملہ حالیہ ہے۔ اور فحلب اور
فاتيت النبى کے درمیان جملہ معترضہ ہے۔
وقوله : فوافقته. (میں انتظار کرتا رہا) صحیح شدہ نسخوں میں پہلے ف اور اس کے بعد ق ہے اس کے معنی ہیں میں
انتظار کرتا رہا۔
(حاشیہ پچھلے صفحے سے) وقوله: حتى رضيت . (میں خوش ہوگیا) یعنی میرا دل خوش ہوگیا۔ وقوله: اتينا، ماضی
مجہول کا صیغہ ہے یعنی ہمارے پاس دشمن آگیا۔
وقوله : فارتطمت فرسه. (اس کا گھوڑا اس کو لیکر دھنس گیا) یعنی اس کے پاؤں دھنس گئے جیسے ریت میں دھنس
جاتے ہیں۔
وقوله: فى جلد ج اور ل دونوں کو زبر (فتحہ) ہے، یعنی سخت زمین میں۔
وقوله : فالله لكما . اسم جلالہ کو مبتدا ہونے کی وجہ سے پیش ہے، یعنی مجھ سے آپ دونوں کی حفاظت کا اللہ تعالیٰ
کفیل ہے، اور ایک نسخہ میں اسم جلالہ کو زبر ہے، لفظ اشهد محذوف ہے، یا قسم ہے اور حرف قسم محذوف ہے۔ وقوله:
كفيتم . مفعول کا صیغہ ہے یعنی اس جانب تلاش کرتے ہوئے کسی کے آنے سے آپ بے فکر ہوگئے ہیں، کیونکہ
میں آپ کے لئے اس کام کے لئے کافی ہوں۔ (ماخوذ از: مرقات)۔
(8) وقوله : متفق عليه. امام نووی نے فرمایا اس حدیث میں بہت فائدے ہیں منجملہ ان کے (1) یہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کا کھلا معجزہ ہے اور (2) حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس میں چند وجوہ سے فضیلت کا ذکر ہے
حضرت حزام بن ہشام رضی اللہ عنہ اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا حُبیش بن
خالد سے اور یہ ام معبد(9) کے بھائی ہیں روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے
نکلے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر اور ان کے غلام عامر بن فہیرہ ہجرت کرتے
ہوئے مدینہ کی طرف روانہ ہوئے، اور دونوں حضرات کو راستہ بتانے والے صاحب عبداللہ بن لیثی (10)
تھے یہ سب حضرات ام معبد کے دو خیمے کے پاس سے گزرے تو اس سے گوشت اور کھجور پوچھے تاکہ
اس میں سے کچھ خریدیں مگر اس کے پاس اس میں سے کوئی چیز بھی نہیں پائے اور حال یہ تھا کہ قوم کے
پاس کھانے کی کوئی چیز نہیں تھی، اور قحط پڑ گیا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیمہ کے کنارے میں
بکری کو دیکھا تو آپ نے فرمایا: اے ام معبد! یہ بکری کا کیا حال ہے؟ تو وہ بولی اس کا دُبلا پن اس کو
دیگر بکریوں سے پیچھے چھوڑ دیا ہے تو آپ نے فرمایا اس میں کچھ دودھ ہے تو وہ بولی اس میں بالکل
دودھ نہیں ہے تو آپ نے فرمایا کیا تم مجھے اس کا دودھ نچوڑنے کی اجازت دوگی، تو وہ عرض کی آپ پر
میرے ماں باپ قربان اگر آپ اس میں دودھ دیکھ رہے ہیں تو نچوڑ لیجئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے اس بکری کو منگوایا اور اپنے دست مبارک اس کے تھنوں پر پھیرا اور اللہ تعالیٰ کا نام لیا اور اس کی
بکری میں اس کے لئے دعا فرمائی تو اس بکری نے اپنے دونوں پاؤں کو آپ کے لئے کشادہ کر دیا اور
دودھ چھوڑ دی اور جگالی کی آپ ایک برتن ایسا منگوائے جو ایک جماعت کو سیراب کر سکے اور اس میں
لبالب بھر کر دودھ نچوڑے حتی کہ اس کے اوپر جھاگ آ گیا پھر آپ نے اس عورت کو پلایا یہاں تک کہ
وہ سیراب ہوگئی اور ساتھیوں کو بھی پلایا اور وہ بھی سیراب ہوگئے پھر ان سب کے آخر میں آپ نوش
فرمائے پھر اس میں دوسری مرتبہ فوری بعد دودھ نچوڑا یہاں تک کہ برتن کو بھر دیا پھر اس کو اس کے پاس
چھوڑ دیا اور اس سے بیعت لی اور اس کے پاس سے روانہ ہوگئے، امام بغوی نے اس کی روایت کی
ہے اور اس میں اور بھی قصہ ہے۔ (امام بغوی)۔
(1) His statement: Umm Ma’bad: Meaning the Khuzaiyah, Atikah bint Khalid. It is said she embraced Islam when the Prophet (ﷺ) stayed with her during his migration to Madinah, or she came to Madinah and embraced Islam. The well-known Hadith of Umm Ma’bad is famous, as mentioned by the author. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
Abdullah al-Laythi
(2) His statement: Abdullah al-Laythi: He was Abu Bakr al-Siddiq’s freedman who migrated with them to Madinah and had embraced Islam before the Prophet (ﷺ) entered Dar al-Arqam. His statement: destitute: Meaning lacking provisions. In Sharh al-Sunnah: The destitute is one whose provisions are exhausted. His statement: famine-stricken: Meaning afflicted by drought. His statement: corner of the tent: With fatha on kaf, sukun on sin, or kasra on the first, meaning its side. His statement: left behind: With tashdid on lam, meaning abandoned. His statement: exhaustion: With damma or fatha on jim, meaning weakness. His statement: from the flock: Meaning separated from it. His statement: too weak for that: Meaning it has no milk at all. His statement: called for it: Meaning requested it. His statement: spread its legs: With tashdid on jim, meaning it opened its legs for milking. His statement: gave milk: With tashdid on ra’, meaning it released milk. His statement: ruminated: With tashdid on ra’. At-Tibi said: Rumination is what a camel brings up from its stomach to chew and swallow. His statement: large enough for the group: With damma on ya’ and kasra on ba’, meaning it satisfies and fills them until they rest on the ground. His statement: frothy: Meaning flowing milk. His statement: frothy: With fatha on ba’, meaning the foam of milk that rises when it boils. His statement: after the first: With fatha then sukun, meaning immediately after starting. His statement: left it: Meaning he left it. His statement: with her: Meaning as a miracle for her to show her husband. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
قوله
(۱) قوله : أم معبد: أي الخزاعية، وهي عاتكة بنت خالد، يقال: إنها أسلمت لما نزل عليها النبي ﷺ في مهاجرته إلى المدينة، ويقال: إنها قدمت المدينة فأسلمت والحديث المعروف بحديث أم معبد مشهور ذكره المؤلف. كذا في «المرقاة».
Note 2
قوله
(۲) قوله : عبد الله الليثي : هو مولى أبي بكر الصديق هاجر معهما إلى المدينة، وكان قد أسلم قبل دخول النبي ﷺ دار الأرقم. وقوله: «مرملين» أي فاقدين الزاد، في شرح السنة: المرمل من نفد زاده، يقال: أرمل الرجل إذا ذهب طعامه. وقوله: «مسنتين» أي أصابهم القحط، يقال: أسنت الرجل، فهو مسنت. وقوله: «كسر الخيمة» بفتح الكاف وسكون السين وبكسر أوله، أي جانبها. وقوله: «خلفها بتشديد اللام، أي تركها وقوله: «الجهد» بضم الجيم ويفتح، أي الهزال. وقوله: عن الغنم أي متخلفة عنها. وقوله: «قالت : هي أجهد من ذلك». والمعنى ليس فيها لبن أصلا. وقوله: «دعا بها أي طلبها. وقوله: تفاجت عليه بتشديد الجيم، أي فتحت ما بين رجليها للحلب. وقوله: و درت» بتشديد الراء، أي أرسلت الدر بالفتح، وهو اللبن. وقوله: واجترت» بالراء المشددة.
قال الطيبي: الجرة ما يخرجه البعير من بطنه ليمضغه، ثم يبلعه. وقوله: يربض الرهط بضم الياء وكسر الموحدة، أي يرويهم ويثقلهم حتى يناموا ويمتدوا على الأرض من ربض في المكان؛ إذ لصق به وأقام ملازما له. وقوله: «تجاجا» أي حلبا ذا سيلان. وقوله: «حتى علاه أي ظهر على الإناء. وقوله: «البهاء» أي بهاء اللبن، وهو بفتح الباء رغوة اللبن، أي الزبد يعلوا الشيء عند غليانه. وقوله: «بعد بدء بفتح فسكون، أي بعد ابتداء بلا مكث. وقوله: «ثم غادره أي تركه. وقوله: «عندها أي معجزة تريها زوجها. التقطته من «المرقاة».
Note 1
(9) قوله ام معبد. یہ خزاعیہ ہے، ان کا نام عاتکہ بنت خالد ہے کہا جاتا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ
منورہ کی طرف اپنی ہجرت کے موقع پر ان کے پاس اترے اسی وقت وہ مشرف بہ اسلام ہو گئیں اور یہ بھی قول ہے
کہ وہ مدینہ منورہ آ کر اسلام قبول فرمائیں۔ یہ حدیث ام معبد کی حدیث کے نام سے مشہور ہے مؤلف نے اس کا
ذکر کیا ہے۔ (مرقات)۔
(10) قوله: عبد الله الليثي. یہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے غلام تھے اور آپ دونوں کے ساتھ یہ مدینہ
منورہ کو ہجرت کئے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دار ارقم میں تشریف رکھنے سے پہلے اسلام قبول کئے۔
قوله: مرملين. توشہ ان کے پاس ختم ہوگیا تھا شرح السنہ میں ہے المرمل وہ شخص ہے جس کا توشہ ختم ہوگیا ہو۔ اور
آدمی کے پاس جب کھانا ختم ہوجاتا ہے تو أرمل الرجل کہا جاتا ہے۔
قوله: مسنتين. یعنی ان پر قحط آگیا تھا۔ جب کوئی شخص قحط سے دوچار ہوجاتا ہے تو اسنت الرجل کہا جاتا ہے۔
قوله: كسر الخيمة. کاف کو زیر اور ”سین“ کو جزم کے ساتھ اور کاف کو زیر کے ساتھ بھی ہے اس کے معنی ہیں
خیمہ کا کنارہ۔ قوله: خلفها. لام کو تشدید کے ساتھ یعنی اس کو چھوڑ دیا۔ وقوله: الجهد. جیم کو پیش کے ساتھ
اور اس کو زبر سے پڑھا جاتا ہے۔ یعنی دبلا پن۔ وقوله: عن الغنم. بکریوں سے پیچھے رہ جانے والی۔ وقوله:
قالت هي اجهد من ذاك. یعنی اس میں بالکل دودھ نہیں ہے۔
وقوله: دعا بها. یعنی بکری کو منگوایا۔
وقوله: تفاجت. ج کو تشدید کے ساتھ یعنی اس نے دونوں پاؤں کو دودھ چھوڑنے کے لئے کشادہ کردیا۔
وقوله: ودرت. راء کو تشدید ہے، لفظ در میں دال کو زبر ہے، دودھ کے معنی میں ہے، ارسلت یعنی دودھ
چھوڑ دی۔ وقوله: واجترت. راء کو تشدید ہے۔ علامہ طیبی نے فرمایا: ”الجرة“ کہتے ہیں وہ چیز جو اونٹ کے
پیٹ سے باہر نکلتی ہے اس کو چبا کر نگلنے کے لئے۔ (جگالی)۔
وقوله: يربض الرهط. یاء کو پیش اور ب کو زیر (کسرہ) یعنی ان کو سیراب کرے یہاں تک کہ وہ آرام کریں اور
زمین پر دراز ہوجائیں یہ لفظ ربض في المكان سے ہے، جب آدمی زمین سے چپک کر اور چمٹ کر رہتا ہے،
تو یہ بولتے ہیں۔ وقوله: ثجا. ایسا دودھ جو بہنے لگے۔ قوله: حتى علاه. یعنی برتن کے اوپر تک آگیا۔
وقوله: البهاء باء کو زبر ہے، یعنی جھاگ جو کسی چیز کے جوش کے وقت اوپر آجاتا ہے، مراد دودھ کا جھاگ۔ و
قوله: بعد بدء باء کو زیر (کسرہ) دال کو جزم یعنی شروع کرتے ہی بغیر وقفہ کے اول وقت۔ وقوله: ثم غادره
پھر آپ نے اس کو چھوڑ دیا۔ وقوله: عندها. یعنی اس کے پاس بطور معجزہ چھوڑ دیئے تاکہ وہ اپنے شوہر
کو دکھائے۔ (مرقاۃ)۔
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ عبداللہ بن
سلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کی خبر سنی(11) وہ اس وقت ایک باغ میں پھل توڑ
رہے تھے، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا میں آپ سے تین ایسے
سوال کروں گا جن کو سوائے نبی کے کوئی نہیں جانتا(12) قیامت کی علامتوں میں پہلی علامت کونسی ہے،
اور جنتیوں کی پہلی غذا کیا ہے، اور کونسی چیز بچے کو اپنے باپ ماں کی طرف کھینچتی ہے (راوی نے کہا)
تو آپ نے فرمایا: ابھی جبریل نے مجھے ان کے بارے میں خبر دی۔ رہا قیامت کی پہلی علامت تو وہ
ایک آگ ہے جو لوگوں کو مشرق سے مغرب کی طرف جمع کرے گی۔ اہل جنت جو پہلی غذا کھائیں گے
وہ مچھلی کے جگر کا زائد ٹکڑا ہوگا۔ اور مرد کا نطفہ جب عورت کے نطفہ سے پہلے پہنچ جاتا ہے تو وہ لڑکے کو
کھینچ لیتا ہے اور جب عورت کا نطفہ پہلے پہنچ جاتا ہے تو وہ لڑکی کو کھینچ لیتا ہے (13)۔ عبداللہ بن سلام
نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں اور انھوں
نے کہا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہود بہتان تراش قوم ہے آپ کے ان سے کچھ پوچھنے سے پہلے
وہ اگر میرے اسلام لانے سے واقف ہو جائیں گے تو مجھ پر تہمت لگا دیں گے پھر یہود آئے تو آپ
نے دریافت فرمایا عبداللہ بن سلام تم میں کیسے آدمی ہیں تو وہ بولے ہم میں سب سے اچھے اور سب
سے اچھے کے بیٹے ہیں اور ہمارے سردار اور ہمارے سردار کے بیٹے ہیں، تو آپ نے فرمایا تم بتاؤ اگر
عبداللہ بن سلام اسلام قبول کر لیں؟ تو بولے اللہ ان کو اس سے بچائے، عبداللہ بن سلام نکل آئے اور
کہا: ”أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰهِ. میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا
کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں تو بولے یہ ہم میں کے سب سے
برے اور سب سے برے کے بیٹے ہیں۔ اور ان کو عیب لگائے تب عبداللہ بن سلام نے کہا: یارسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہی وہ ہے جس کا میں اندیشہ کرتا تھا۔(بخاری)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 3329 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sahih al-Bukhari 4480 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (7)
Note 1
arrival of the Messenger of Allah
(1) His statement: arrival of the Messenger of Allah: Meaning his arrival from Makkah to Madinah. His statement: in a garden: Meaning an orchard. His statement: picking fruit: Meaning gathering fruits. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
only a prophet knows
(2) His statement: only a prophet knows: Meaning or one who takes from him or his book, so it does not raise an issue that he knew them generally or specifically. Thus, the answer became a miracle for him and certain knowledge of his prophethood, which is evident from including the Hadith in this chapter. I say: The Messenger of Allah (ﷺ) did not take from anyone or any book, so his answer undeniably proves his prophethood. His statement: Jibril informed me: Said to dispel the notion that he heard from scholars of the People of the Book. His statement: gather people: Meaning collect them. His statement: caudate lobe of a whale’s liver: Meaning its edge, the tastiest part of the liver. (As stated in Al-Mirqat)
Note 3
Resembles her
(3) His statement: if the woman’s fluid precedes, it resembles her: The commentator said: “Resembles her” means the woman draws the child to resemble her due to her fluid’s dominance, or her fluid causes femininity. His statement: slander: With damma on ba’ and sukun on ha’, in Al-Nihayah: It is the plural of bahut, an intensive form of slander. His statement: they will slander me: With tashdid on nun or lightened, meaning they attribute slander to me or make me confused, as my Islam was not a clear proof against them. His statement: the best of us and the son of the best of us: Meaning in knowledge and righteousness. His statement: our master and the son of our master: Meaning in lineage. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
قوله
(۱) قوله: بمقدم رسول الله : أي بقدومه من مكة إلى المدينة. وقوله: «في الأرض أي في بستان. وقوله: يخترف» أي يجتني من الفواكه. كذا في «المرقاة».
Note 2
قوله
(۲) قوله: لا يعلمهن إلا نبي: أي أو من يأخذ منه أو من كتابه؛ لئلا يشكل بأنه كان ممن يعلمها، إما مجملا أو مفصلا، ولهذا صار جوابها معجزة له وعلم يقين بنبوته عنده، وهو الظاهر من إيراد الحديث في هذا الباب. قاله في «المرقاة». قلت: ورسول الله ﷺ ما أخذ من أحد، ولا من كتاب، فيدل جوابه على نبوته لا محالة، انتهى. وقوله: «أخبرني بهن جبرئيل» قاله دفعا لتوهم أنه سمع من بعض علماء أهل الكتاب. وقوله: «تحشر الناس» أي تجمعهم. وقوله: «فزيادة كبد حوت أي طرفها، وهي أطيب ما يكون من الكبد. كذا في «المرقاة».
Note 3
قوله
(۳) قوله : إذا سبق ماء المرأة نزعت قال شارح قوله: نزعت أي جذبت المرأة بالولد إلى مشابهتها بسبب غلبة ماءها، أو جذبت مائها فأكسب التأنيث من المضاف إليه. وقوله: «بهت بضم موحدة وسكون هاء، في «النهاية»: هو جمع بهوت من بناء المبالغة في البهتان. وقوله: يبهتوني بتشديد النون ويخفف أي يبهتونني كما في بعض النسخ المصححة، أي ينسبوني إلى البهتان، ويجعلوني مبهوتا حيران، ولم يكن إسلامي عليهم حجة واضحة البرهان. وقوله: «خيرنا وابن خيرنا أي في الحسب من العلم والصلاح وسيدنا وابن سيدنا، أي في النسب. التقطته من «المرقاة».
Note 1
(11) قولہ: بمقدم رسول الله صلى الله عليه وسلم۔ یعنی آپ کے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ آنے کو سنا۔
قولہ: في الارض۔ یعنی باغ میں۔ قولہ: تخترف۔ یعنی میوے توڑ رہے تھے۔ (مرقات)۔
(12) قولہ: لا يعلمهن الا نبي۔ یعنی اس کو کوئی نہیں جانتے سوائے نبی کے یا اس شخص کے جو نبی یا نبی کی کتاب سے
سیکھے یہ تاویل اس لئے ہے کہ اس پر یہ اشکال نہ ہو کہ خود عبداللہ بن سلام ان لوگوں میں سے تھے جو اس کو جانتے تھے
(حاشیہ پچھلے صفحہ سے) یہ جاننا خواہ اجمالی ہو یا تفصیلی اسی لئے آپ کا ان سوالات کے جوابات دینا ان کے لئے معجزہ اور
آپ کی نبوت کا ان کے لئے علم یقین بن گیا۔ باب معجزات میں مؤلف کا اس حدیث کو لانے سے یہی بات ظاہر
ہوتی ہے۔ (صاحب مرقات نے یہ بات بیان کی ہے) تو میں کہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ
جواب کسی سے نہیں سیکھا تھا اور کسی کتاب سے بھی نہیں لیا تھا اس لئے یہ لا محالہ آپ کی نبوت کی دلیل بن گیا۔
و قوله: اخبرني بهن جبريل عليه السلام نے ابھی مجھے اس بارے میں بتا دیا۔ آپ نے یہ اس لئے فرمایا
تاکہ ایسا خیال نہ ہو کہ آپ نے کسی اہل کتاب کے عالم سے اس کو سنا ہے اس خیال کو دور کرنے کے لئے یہ بات
بیان فرمائی۔
وقوله : تحشر الناس۔ یعنی لوگوں کو جمع کرے گی۔
وقوله : فزيادة كبد حوت۔ یعنی جگر کا کنارہ جگر سے زیادہ ذائقہ دار ہوتا ہے۔ (مرقات)۔
(13) وقوله : اذا سبق ماء المرأة نزعت۔ ایک شارح نے کہا: نزعت کا مطلب یہ ہے کہ عورت اپنے نطفہ کے
غلبے کے سبب لڑکے کو اپنی مشابہت کی طرف کھینچے گی یا عورت کا نطفہ کھینچے گا۔ نزعت کا فاعل ماء ہے ہاں مونث عورت
میں مونث کا صیغہ مضاف الیہ کے اعتبار سے لایا گیا ہے۔
وقوله : بهت۔ باء کو پیش اور ہاء کو جزم ہے کتاب نہایہ میں ہے یہ لفظ بہتان سے بنا ہے اور بہوت کی جمع ہے جو
مبالغہ کا صیغہ ہے۔ وقوله : يبهتوني۔ نون کو تشدید کے ساتھ اور تخفیف یعنی بغیر تشدید کے بھی آتا ہے، یبہتونی
جیسا کہ بعض صحیح شدہ نسخوں میں ہے یعنی میری طرف بہتان کی نسبت کریں گے اور مجھے مبہوت اور حیران و پریشان
ظاہر کریں گے اور میرا اسلام لانا ان کے خلاف واضح حجت نہیں رہے گا۔ وقوله: خيرنا و ابن خيرنا۔ حسب
اور علم و صلاح کے اعتبار سے اور ”سیدنا و ابن سیدنا“ نسب کے اعتبار سے ہے۔ (ماخوذ از مرقات)۔
حضرت انیسہ بنت زید بن ارقم اپنے والد سے روایت کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی
اللہ علیہ وسلم حضرت زید کے پاس ان کی بیماری کی وجہ سے عیادت کیلئے تشریف لائے(14)، آپ نے
فرمایا تمہاری بیماری سے تم پر کوئی حرج نہیں لیکن تمہارا کیا حال ہوگا جب کہ تم کو میرے بعد دراز عمری
دی جائیگی، اور تم نابینا ہو جاؤ گے انھوں نے کہا میں ثواب کی نیت کروں گا اور صبر کروں گا تو آپ نے
فرمایا تب تو تم جنت میں بغیر حساب جاؤ گے وہ کہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد وہ
نابینا ہوگئے پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی بینائی لوٹا دی(15) پھر وہ انتقال کئے۔ (دلائل النبوۃ
للبیہقی)۔
(1) His statement: visited Zayd: Meaning himself, either in abstraction, by way of rhetorical shift, or due to the narrator’s wording. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
then Allah restored his sight
(2) His statement: then Allah restored his sight: Perhaps Allah did not mention restoring his sight to increase the hardship of his patience and the reward tied to it, then he achieved victory with patience. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
قوله
(۱) قوله: على زيد: يعني نفسه إما على التجريد أو بنوع الالتفات أو بتصرف الرواة. كذا في «المرقاة».
Note 2
قوله
(۲) قوله : ثم رد الله عليه بصره ولعله الله لم يذكر له رد بصره ليكون مشقة صبره أكثر وأجره المرتب عليه أكبر، ثم حصل له النصر مع الصبر. كذا في «المرقاة».
Note 1
(14) وقوله: علی زید. یعنی علی نفسہ خود راوی حدیث زید مراد ہے، یہ بطور تواضع ہے یا بطور التفات ہے یعنی علی ضمیر
متکلم کے بجائے علی زید کہا یا کسی راوی کا تصرف ہے۔(مرقات)۔
(15) وقوله: ثم رد الله عليه بصره. پھر اللہ نے ان کی بینائی لوٹا دی ممکن ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی
بینائی کے لوٹانے کے لئے دعا نہ کی تاکہ صبر کی مشقت زیادہ رہے اور اس پر جو ثواب ملنے والا ہے وہ
زیادہ سے زیادہ ہو۔ پھر ان کو صبر کے ساتھ اللہ کی مدد حاصل ہوگئی۔(مرقات)۔
حضرت عمرو بن اخطب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انھوں نے
کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو ایک دن فجر کی نماز پڑھائے اور منبر پر تشریف لے گئے اور ہم
کو خطبہ دئے یہاں تک کہ ظہر کا وقت آگیا پھر آپ اترے اور نماز پڑھائے پھر منبر پر تشریف لے گئے
اور ہم کو خطبہ دئے یہاں تک کہ عصر کی نماز کا وقت آگیا پھر آپ اترے اور نماز پڑھائے پھر منبر
پر تشریف لے گئے یہاں تک سورج غروب ہوگیا اور آپ نے ہم کو وہ سب بتادیا جو قیامت تک
ہونے والا ہے۔ راوی نے کہا ہم میں زیادہ علم والا وہ ہے جو ہم میں اس کو زیادہ یاد رکھنے والا
ہے(16)۔(مسلم)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 2892 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
he said
(1) His statement: he said: Meaning Amr. His statement: the most knowledgeable of us: Meaning the one who remembers most of those events, as they contain knowledge and proof. (As stated in Al-Mirqat and Al-Lama’at)
Note 1
قوله
(۱) قوله : قال : أي عمرو «فأعلمنا أي الآن احفظنا أي يومئذ لتلك الأخبار لاشتمالها على علوم وحجة. كذا في المرقاة» و«اللمعات».
Note 1
(16) وقوله: قال ای عمرو۔ یعنی عمرو نے کہا آج ہم میں زیادہ علم والا وہ شخص ہے جو اس دن کی خبروں کو زیادہ یاد
رکھنے والا ہے، کیونکہ وہ خبریں علوم و حجت پر مشتمل تھیں۔(مرقات،لمعات)۔
ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً تمہاری مدد کی جائیگی(17) اور تم
غنیمت سے مالا مال ہوجاؤ گے اور تمہارے لئے فتح ہوگی۔ تم میں سے جو کوئی یہ صورت حال پائے وہ
اللہ سے ڈرے اور نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے۔(ابوداؤد)۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
victorious
(1) His statement: victorious: Meaning over enemies. His statement: acquire spoils: Meaning gain spoils. His statement: lands will be opened for you: Meaning many lands. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
قوله
(۱) قوله: منصورون أي على الأعداء. ومصيبون» أي للغنائم. ومفتوح لكم أي البلاد الكثيرة. كذا في «المرقاة».
Note 1
(17) وقوله: منصورون۔ یعنی دشمنوں پر غالب ہوجائیں گے و مصيبون مال غنیمت سے مالا مال ہوجائیں گے،
ومفتوح لکم یعنی تمہارے لئے بہت سے ملک فتح ہوجائیں گے۔(مرقات)۔
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہا : رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم عنقریب مصر کو فتح کرو گے اور وہ ایسی زمین ہے جس میں قیراط
کا نام لیا جاتا ہے(18)۔ جب تم اس کو فتح کرلو تو وہاں کے باشندگان کے ساتھ حسن سلوک
کرو(19)۔ کیونکہ ان کے لئے امان ہے اور رشتہ داری ہے یا آپ نے یہ فرمایا امان ہے اور سسرالی
رشتہ داری ہے اور جب تم دو آدمیوں کو اینٹ کی جگہ کے بارے میں جھگڑتے ہوئے دیکھو تو وہاں سے
نکل جاؤ(20) تو وہ کہتے ہیں میں نے عبدالرحمٰن بن شرجیل بن حسنہ اور ان کے بھائی ربیعہ کو ایک اینٹ
کی جگہ کے بارے میں جھگڑتے ہوئے دیکھا تو وہاں سے نکل گیا(21)(مسلم)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 2543a (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (9)
Note 1
where the qirat is mentioned
(1) His statement: where the qirat is mentioned: Qadi said: Meaning its people frequently mention qirats in their transactions due to their strictness and lack of generosity. The Hadith’s meaning: The people have baseness or vulgarity in their speech. His statement: treat its people well: Meaning with forgiveness and pardon for what you disapprove of, and do not let their bad actions or words lead you to harm them. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
they have a covenant
(2) His statement: they have a covenant: Meaning its people have a covenant of protection and safety through Ibrahim, the son of the Prophet (ﷺ), and kinship through Hajar, the mother of Isma’il (peace be upon her), as Hajar and Mariyah were Copts. Or he said: a covenant and marriage ties, due to the narrator’s doubt. The commentator said: In this narration, marriage ties refer to Mariyah, and the covenant to Hajar. (As stated in Al-Mirqat)
Note 3
leave it
(3) His statement: leave it: Meaning Abu Dharr, leave Egypt. It seems the command was addressed to him out of concern to protect him from falling into fitnah if he stayed among them. (As stated in Al-Mirqat)
Note 4
so I left it
(4) His statement: so I left it: This occurred toward the end of Uthman’s era when they criticized his appointment of Abdullah ibn Sa’d ibn Abi Sarh, his foster brother. This is among what the Prophet (ﷺ) was shown of the unseen, that this event would occur in Egypt, followed by trials and evils, such as the Egyptians’ rebellion against Uthman initially, and their killing of Muhammad ibn Abi Bakr, who was their governor under Ali, hiding in a donkey’s carcass and being burned. This was a sign of those trials, and he ordered Abu Dharr to leave when he saw it. This is the apparent meaning relied upon by commentators. At-Tibi said: Or he knew the people’s nature included baseness and haggling, as the Hadith’s beginning indicates, so when they dispute over something trivial like a brick, one should avoid mixing with or living among them. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
قوله
(۱) قوله: هي أرض يسمى : أي يذكر فيها القيراط. قال القاضي: أي يكثر أهلها ذكر القراريط في معاملاتهم لتشددهم فيها وقلة مرواتهم. ومعنى الحديث: أن القوم لهم دناءة وخسة أو في لسانهم بذاء وفحش، وقوله: «فأحسنوا إلى أهلها أي بالصفح والعفو عما تنكرون، ولا يحملنكم سوء أفعالهم وأقوالهم على الإساءة. كذا في «المرقاة».
Note 2
قوله
(۲) قوله: فإن لها: أي لأهلها ذمة، أي حرمة وأمانا من جهة إبراهيم ابن النبي ، ورحما بفتح فكسر، أي قرابة من قبل هاجر أم إسماعيل عليها، فإن هاجر ومارية كانتا من القبط، أو قال ذمة وصهرا شك من الراوي. قال شارح: فعلى هذه الرواية الصهر يختص بمارية والذمة بهاجر. كذا في «المرقاة».
Note 3
قوله
(۳) قوله: فأخرج أي أبا ذر منها» أي من مصر، والظاهر المطابق لـ «رأيتم أن يقال: فاخرجوا، ولعله ﷺ خص الأمر به شفقة عليه من وقوعه في الفتنة لو أقام بينهم. كذا في «المرقاة».
Note 4
قوله
(٤) قوله: فخرجت منها وقد وقع هذا في آخر عهد عثمان حين عتبوا عليه ولاية عبد الله بن سعد بن أبي سرح أخيه من الرضاعة، فهذا من قبيل ما كوشف للنبي الله من الغيب أنه ستحدث هذه الحادثة في مصر، وسيكون عقيب ذلك فتن وشرور بها، كخروج المصريين على عثمان ، أولا ، وقتلهم محمد بن أبي بكر ثانيا، وهو وال عليهم من قبل علي، فاختبأ حين أحس بالشر في جوف حمار میت فرموه بالنار فجعل ذلك علامة وإمارة لتلك الفتن، وأمر أبا ذر بالخروج منها حيثما رآه. وهذا هو الظاهر عليه اقتصر الشراح. وقال الطيبي: أو علم أن في طباع سكانها خسة ومماكسة كما دل عليه صدر الحديث، فإذا اقتضت الحال إلى أن يتخاصموا في هذا المحقر، فينبغي أن يتحرز عن مخالطتهم ويجتنب عن مساكنتهم. كذا في «المرقاة».
Note 1
(18) وقوله: هى ارض يسمى۔ یعنی اس سرزمین میں قیراط کا ذکر ہوگا۔علامہ قاضی نے فرمایا وہاں کے باشندے
معاملات میں ان کی تنگی اور مروت کی کمی کی وجہ سے وہ اپنے معاملات میں کثرت سے قیراط کا ذکر کریں گے،اور
حدیث شریف کا مطلب یہ ہے کہ وہ قوم خسیس اور بدزبان ہوگی۔وقوله: فاحسنوا الى اهلها۔ یعنی ان کے
(حاشیہ پچھلے صفحہ سے) برے سلوک پر ان کو درگزر کرو اور ان کی بدسلوکی اور بدزبانی تمہیں ان کے ساتھ بدسلوکی پر آمادہ
نہ کرے۔(مرقات)۔
(19) وقوله : فان لها۔ یعنی وہاں کے باشندگان کے لئے ذمہ ہے، اس سے مراد احترام اور امان ہے اور یہ حضرت
ابراہیم رضی اللہ عنہ کی طرف سے ہے جو رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم کے صاحبزادے ہیں۔ وَرَحِمًا
ر کو زبر (فتح) اور ح کو زیر (کسرہ) ہے، یعنی حضرت بی بی ہاجرہ کی طرف سے جو حضرت سیدنا اسمعیل علیہ السلام
کی والدہ محترمہ ہیں کیونکہ سیدتنا ہاجرہ اور سیدتنا ماریہ دونوں قبطی خاندان سے ہیں۔ اوقال ذمة وصهرا۔ یہ راوی کا شک
ہے یا آپ نے یہ فرمایا امان اور سسرالی رشتہ ہے، ایک شارح نے فرمایا اس روایت کی صورت میں صہر سسرالی رشتہ
یہ حضرت ماریہ کے ساتھ خاص ہے اور ذمہ یعنی حرمت والی یہ بی بی ہاجرہ کی وجہ سے ہے۔(مرقات)۔
(20) وقوله : فاخرج۔ ای ابا ذر منها۔ منها سے مراد من مصر ہے، یعنی شہر مصر سے تم نکل جاؤ۔ فاذا اتيتم کے
اعتبار سے بظاہر فاخرجوا ہونا چاہئے تھا۔(تم سب وہاں سے نکل جاؤ) مگر شاید کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے نکل کر چلے جانے کا حکم حضرت ابوذر کے ساتھ خاص فرمایا اس اندیشے سے کہ اگر وہ ان کے درمیان میں رہیں
تو کہیں فتنے میں پڑ جائیں گے۔(مرقات)۔
(21) وقوله : فخرجت منها۔ میں اس شہر سے نکل گیا۔ یہ واقعہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے آخری زمانہ میں اس
وقت پیش آیا جب آپ کے رضاعی بھائی عبداللہ بن سعد بن ابوسرح کی گورنری پر لوگ آپ کے سامنے ناراضگی کا
اظہار کئے تھے اور یہ منجملہ علم غیب کے واقعات میں سے ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر منکشف کئے گئے تھے کہ
شہر مصر میں یہ واقعہ پیش آئے گا اور اس کے بعد اس میں شر و فساد اور فتنے رونما ہوں گے۔ جیسا کہ باشندگان مصر کا اولاً
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کرنا اور ثانیاً حضرت محمد بن ابوبکر رضی اللہ عنہما جو سیدنا علی مرتضیٰ رضی
اللہ عنہ کرم اللہ وجہ کی طرف سے اہل مصر پر گورنر تھے اہل مصر کا ان کو قتل کردینا آپ نے جب ان کے شر کو محسوس
کیا تو مرے ہوئے گدھے کے پیٹ میں چھپ گئے تو وہ لوگ ان پر آگ کے شعلے پھینکے، اس کو آپ نے ان فتنوں
کی علامت بنایا اور ابوذر کو اس شہر سے نکل جانے کا حکم فرمایا یہ ایک واضح بات ہے، شارحین حدیث نے ان ہی
(حاشیہ پچھلے صفحہ سے) واقعات پر اختصار کیا ہے اور علامہ طیبی نے فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم تھا کہ وہاں کے
باشندگان کی طبیعتوں میں نخوت اور جھگڑالو پن ہے، جیسا کہ حدیث شریف کے ابتدائی متن سے یہ بات ظاہر
ہو رہی ہے پس جب صورت حال اس قدر بگڑ جائے کہ ایک حقیر چیز کے لئے وہ آپس میں لڑ پڑیں تو مناسب یہ ہے
کہ ان کے ساتھ رہنے اور ان میں بود و باش اختیار کرنے سے احتراز کریں۔(مرقات)۔
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے
ہیں کہ آپ نے فرمایا: میرے اصحاب میں(22) اور ایک روایت میں ہے میری امت میں بارہ(12)
منافقین ہیں جو نہ جنت میں جائیں گے اور نہ اس کی خوشبو سونگھ پائیں گے یہاں تک کہ سوئی کے ناکہ
میں اونٹ داخل ہو جائے(23)۔ ان میں سے آٹھ ایسے ہیں جن کے لئے چھوٹا دنبل کافی ہو جائے گا
اور یہ آگ کے چراغ کی طرح ان کے کندھوں میں ظاہر ہوگا، یہاں تک وہ آگ ان کے سینوں میں
نکلے گی۔ (مسلم)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 2779b (unverified) 96% confidence
Candidate: Sahih Muslim 2779a (unverified) 93% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 1
companion
(1) His statement: among my companions: Shaykh al-Turbishti said: Companionship with the Prophet (ﷺ) that counts is tied to faith, and the term “companion” applies only to those true in faith with evident signs, not those concealed in hypocrisy. Attributing companionship to them is metaphorical, due to their resemblance to companions and hiding under the term, mixing among them. Hence, he said, “among my companions,” not “of my companions.” This is like saying Iblis was among the angels, meaning in their group, not one of them, as Allah says, He was of the jinn (Al-Kahf: 50). He confided this to his closest companions to avoid accepting their faith or being deceived by their plots. Their status was not hidden from the preserved companions due to their notoriety, though they confronted them openly, following the Messenger of Allah (ﷺ). Hudhayfah was the most knowledgeable of their names, as he was with the Prophet (ﷺ) on the night of Al-Aqabah during the return from Tabuk when they plotted to kill him. Only the Prophet (ﷺ), Ammar leading his mount, and Hudhayfah driving it were at Al-Aqabah. The Prophet’s (ﷺ) caller announced to take the valley’s base as it was wider, while the Prophet (ﷺ) took the pass. The hypocrites, hearing this, sought to plot against him and followed, masked, twelve in number. The Prophet (ﷺ) heard their movement, ordered Hudhayfah to turn them back, who struck their mounts’ faces with a stick, and Allah frightened them upon seeing Hudhayfah. They retreated quickly, mixing with the people. Hudhayfah reached the Prophet (ﷺ), who asked, “Did you recognize any of them?” He said, “No, they were masked, but I recognized their mounts.” He said, “Allah informed me of their names and their fathers’ names. I will inform you of them, Allah willing, in the morning.” Thus, people referred to Hudhayfah about the hypocrites. It is narrated from Hudhayfah that they were fourteen, two repented, and twelve remained hypocrites as the Truthful One informed. I found their names in books of Hadith scholars narrated from Hudhayfah, but some differed, so I did not risk my religion in what is not necessary. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
appearing
(2) His statement: eight of them: Meaning of the twelve hypocrites, their harm will be repelled by a destructive sore. Qadi said: The sore, originally a diminutive of calamity, is a harmful ulcer in a person’s body. It is also called a sore with fatha or damma. His statement: a lamp of fire: Explaining the sore. It seems this is Hudhayfah’s statement. His statement: appearing: Meaning the lamp emerges on their shoulders until it shines, with damma on jim, meaning it appears in their chests, i.e., their stomachs. Qadi’s statement implies “appearing” is feminine, as he said: It is explained in the Hadith as a fire emerging on their shoulders until it shines, from “najama” with damma, meaning appears. He said: Perhaps it means a hot swelling on their shoulders, its heat’s effect appearing in their chests, likened to a lamp of fire, the flame of a lantern. It is narrated from Hudhayfah that he identified them, and they perished as the Messenger (ﷺ) informed. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
قوله
(۱) قوله : قال في أصحابي: قال الشيخ التوربشتي صحبة النبي المعتد بها هي المقترنة بالإيمان، ولا يصح أن يطلق الصحابي إلا على من صدق في إيمانه، وظهرت منه أمارته دون من أغمض عليهم بالنفاق، فإضافتها إليهم لا تجوز إلا على المجاز لتشبههم بالصحابة وتسترهم بالكلمة وإدخالهم أنفسهم في غمارهم، ولهذا قال: «في أصحابي» ولم يقل: «من أصحابي». وذلك مثل قولنا: إبليس كان في الملائكة، أي في زمرتهم، ولا يصح أن يقال: كان من الملائكة، فإن الله سبحانه وتعالى يقول: ﴿كَانَ مِنَ الْجِنَّ﴾ ، وقد أسر بهذا القول إلى خاصته وذوي المنزلة من أصحابه أمر هذه الفئة المسومة المتلبسة؛ لئلا يقبلوا منهم الإيمان، ولا يقبلوا من قبلهم المكر والخداع، ولم يكن يخفى على المحفوظين شأنهم لاشتهارهم بذلك في الصحابة، إلا أنهم كانوا يواجهونهم بصريح المقال أسوة برسول الله ﷺ.
وكان حذيفة أعلمهم بأسمائهم؛ وذلك لأنه كان ليلة العقبة مع النبي ﷺ مرجعه من غزوة تبوك حين هموا بقتله ولم يكن على العقبة إلا رسول الله ﷺ وعمار يقود به وحذيفة يسوق به، وكان منادي رسول الله ﷺ قد نادى أن خذوا بطن الوادي، فهو أوسع لكم، فإن رسول الله ﷺ قد أخذ الثنية، فلما سمعه المنافقون طمعوا في المكر به، فأتبعوه متلثمين وهم اثنا عشر رجلا، فسمع رسول الله له خشفة القوم من ورائه، فأمر حذيفة أن يردهم، فاستقبل حذيفة وجوه رواحلهم بمحجن كان معه، فضربها ضربا فرعبهم الله حين أبصروا حذيفة، فانقلبوا مسرعين على أعقابهم حتى خالطوا الناس، فأدرك حذيفة رسول الله ، فقال الحذيفة : هل عرفت أحدا منهم؟» قال: لا، فإنهم كانوا متلثمين، ولكن أعرف رواحلهم، فقال: «إن الله تعالى أخبرني بأسمائهم وأسماء آبائهم، سأخبرك بهم إن شاء الله عند الصباح». فمن ثم كان الناس يراجعون حذيفة في أمر المنافقين، وقد ذكر عن حذيفة أنهم كانوا أربعة عشر، فتاب اثنان وبقي اثنا عشر على النفاق على ما أخبر به الصادق المصدوق. وقد اطلعت على أسمائهم في كتب حفاظ الحديث مروية عن حذيفة غير أني وجدت في بعضها اختلافا، فلم أر أن أخاطر بديني فيما لا ضرورة لي. كذا في المرقاة».
Note 2
قوله
(۲)قوله: ثمانية منهم: أي من الاثني عشر منافقا تكفيهم أي تدفع شرهم الدبيلة» قال القاضي: الدبيلة في الأصل تصغير الدبل، وهي الداهية، فأطلقت على قرحة ردية تحدث في باطن الإنسان، ويقال لها: الدبلة بالفتح والضم سراج من نار تفسير للدبيلة، والظاهر أنه من كلام حذيفة. يظهر» أي يخرج السراج في أكتافهم حتى تنجم بضم الجيم، أي تظهر وتطلع النار في صدورهم أي في بطونهم.
وفي كلام القاضي إيماء إلى أن قوله: «تظهر بصيغة التأنيث حيث قال: وفسرها في الحديث بنار تخرج في أكتافهم حتى تنجم، أي تظهر من نجم ينجم بالضم إذا ظهر وطلع، ثم قال: ولعله أراد بها ورما حارا يحدث في أكتافهم بحيث يظهر أثر تلك الحرارة وشدة لهبها في صدرورهم ممثلة بسراج من نار، وهو شعلة المصباح، وقد روي عن حذيفة أنه عرفه إياهم، وأنهم هلكوا كما أخبره الرسول صلوات الله وسلامه عليه. كذا في «المرقاة».
Note 1
(22) وقوله : قال في اصحابي۔ (میرے اصحاب میں) علامہ شیخ تورپشتی نے فرمایا قابل اعتنا بات یہ ہے کہ نبی
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہونے کے لئے ایمان کی حالت ہونا ضروری ہے اور صحابی وہی ہے جو اپنے ایمان
میں سچے ہوں اور اس کی علامت بھی ان پر ظاہر ہو اور سوائے ان کے جن پر ان کے نفاق سے چشم پوشی کی گئی ہو وہ
صحابی نہیں ہو سکتا ان کے صحابہ سے مشابہت ظاہر کرنے اور گلے پڑ کر اپنے کو چھپانے اور ان کے صحابہ میں رہنے کی
وجہ سے ان پر صحابی کا اطلاق مجازی طور پر ہے اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فی اصحابی یعنی میرے صحابہ
میں ہیں فرمایا اور من اصحابی یعنی میرے صحابہ میں سے ہیں نہیں فرمایا اور اس کی مثال ایسی ہے جیسے ہم کہتے
ہیں ابليس كان في الملئكة : ابلیس فرشتوں میں تھا یعنی ان کی جماعت میں رہتا تھا، اور اس کو فرشتوں میں
سے کہنا یعنی ایک فرشتہ کہنا درست نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”كَانَ مِنَ الْجِنِّ“۔(18۔ سورۃ
الکہف، آیت نمبر:50) وہ جنات میں سے تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس ارشاد سے پوشیدہ طور پر اپنے
خاص اور اہل مرتبت صحابہ سے اس تلبیسی نشان زدہ نفاقی جماعت کا معاملہ بتا دیا تا کہ ان کے ظاہری ایمان کو قبول نہ
کریں اور ان کے اس دھوکہ اور کفر و فریب کو قبول نہ کریں، اور جن صحابہ کو یہ بات محفوظ تھی ان پر ان کا معاملہ پوشیدہ
نہیں تھا کیونکہ صحابہ میں ان کی یہ کیفیت مشہور تھی مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کے مطابق صحابہ ان کے
ساتھ صاف گفتگو سے پیش آتے تھے، اور حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابہ میں ان کے ناموں کو خوب جانتے
تھے اس لئے کہ غزوہ تبوک سے واپسی کے موقعہ پر لیلۃ العقبہ میں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے جس وقت
منافقین رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کرنے کا عزم کر چکے تھے اور عقبہ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، اور حضرت
عمار جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے سامنے تھے اور حضرت حذیفہ جو سواری کے پیچھے تھے کے سوا اور کوئی نہیں
تھے، حضرت عمار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے سامنے تھے اور حضرت حذیفہ سواری کے پیچھے تھے اور رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا کہ وادی کے نشیبی حصہ کو اختیار کرو کیونکہ وہ تمہارے لئے وسیع اور کشادہ ہے۔
(حاشیہ پچھلے صفحہ سے) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھاٹی کے اوپر کو اختیار فرمایا پس جب منافقین اس اعلان کو سنے
تو آپ کے ساتھ دھوکہ کرنے کا ارادہ کر لئے اور چہروں پر نقاب ڈال کر پیچھا کئے اور یہ بارہ کی تعداد میں تھے پس
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے کچھ لوگوں کی آہٹ سنی تو حضرت حذیفہ کو حکم دیا کہ ان کا جواب دو تو حضرت
حذیفہ نے اپنی ایک چھڑی سے ان کی سواریوں کے چہروں پر زور سے ایسا مارا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر رعب ڈال دیا
اور وہ جب حضرت حذیفہ کو دیکھے تو سب تیزی سے ایڑیوں کے بل پلٹ گئے اور لوگوں میں جا کر مل گئے اور حضرت
حذیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئے تو آپ نے حضرت حذیفہ سے فرمایا کیا تم نے ان میں سے کسی کو
پہچانا تو حضرت حذیفہ نے کہا نہیں کیونکہ وہ نقاب ڈالے ہوئے تھے لیکن ان کی سواریوں کو جانتا ہوں تو آپ نے
فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کے اور ان کے باپ دادا کے ناموں کو بتا دیا ان شاء اللہ صبح کے وقت میں تم کو بتاؤں گا۔
اسی وجہ سے لوگ منافقین کے معاملہ میں حضرت حذیفہ کے پاس رجوع کرتے تھے۔ اور حضرت حذیفہ سے مروی
ہے کہ وہ چودہ (14) تھے ان میں سے دو توبہ کر لئے تھے، اور بارہ (12) نفاق پر اڑے رہے، جیسا کہ صادق
مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی خبر دی ہے۔ اور میں کتب حدیث میں ان کے ناموں کو جو حضرت حذیفہ سے
مروی ہیں پایا ہوں، البتہ بعض ناموں میں اختلاف پایا اور دین میں جس چیز کی ضرورت نہیں اس میں ایسے آپ
کو ڈالنا مناسب نہیں سمجھا۔ (مرقات)۔
(23) قوله: ثمانية منهم۔ یعنی بارہ (12) منافقین میں سے آٹھ (8) تكفيهم یعنی ان کے شر کو دفع کر دے گا،
الدبيلة علامہ قاضی نے فرمایا دبیلہ اصل میں دبل کی تصغیر ہے اور چالاک کو کہتے ہیں، اور یہاں خراب پھوڑا مراد
ہے جو انسان کے پیٹ میں پیدا ہوتا ہے اور اس کو دبلہ دال کے زبر اور پیش کے ساتھ بھی بولتے ہیں۔ سراج
من نار آگ کا شعلہ یہ دبیلہ کی تفسیر ہے اور بظاہر یہ حضرت حذیفہ کا کلام معلوم ہوتا ہے۔ يظهر یعنی شعلہ نکلے گا۔
في اكتافهم ان کے کندھوں میں حتى تنجم ج کو پیش ہے یعنی یہاں تک کہ وہ ظاہر ہوگا اور نکلے گا، في
صدورهم یعنی ان کے پیٹوں میں۔ علامہ قاضی کے کلام میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تظهر مؤنث کا
صیغہ ہے کیونکہ انہوں نے کہا ہے کہ حدیث میں اس کی تفسیر ایسی آگ سے کی گئی ہے جو ان کے مونڈھوں میں نکلے
گی یہاں تک کہ وہ ظاہر ہوگی تنجم یعنی وہ ظاہر ہوگی یہ نجم ينجم ج کو پیش کے ساتھ ہے، یعنی ظاہر ہوا اور
نمودار ہوا پھر فرمایا ہو سکتا ہے اس سے مراد سوجن اور ورم ہو جو ان کے کندھوں میں پیدا ہوگا اور اس کی حرارت اور
(حاشیہ پچھلے صفحہ سے) شعلے کی لپٹ ان کے سینوں میں چراغ کے شعلے کی شکل میں نمودار ہوگی اور حضرت حذیفہ سے
مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو ان کی شناخت کروائی۔ اور یہ سب ایسا ہی ہلاک ہوئے جیسے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں آپ کو بتا دیا تھا۔ صلوات الله وسلامه عليه۔ (مرقات)۔
حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا، ہم رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ تبوک (24) میں نکلے اور وادی قری میں ایک عورت کے باغ کے
پاس پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس باغ کے پھلوں کا اندازہ لگاؤ، تو ہم ان کا اندازہ
لگائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کا دس وسق سے اندازہ کیا اور آپ نے اس خاتون
سے فرمایا، ہمارے ان شاء اللہ تیرے پاس آنے تک اس کا اندازہ کر کے رکھ اور ہم چلتے رہے، یہاں
تک کہ تبوک پہنچ گئے تو آپ نے فرمایا آج کی رات تم پر تیز ہوا چلے گی رات میں کوئی بھی نہ اٹھے اور
اگر کسی کے پاس کوئی اونٹ ہو تو اس کی رسی کو باندھ دے، پس ایک تیز ہوا چلی اور ایک صاحب اٹھے
تو ہوا ان کو اٹھا لی اور مقام طے کے دو پہاڑوں میں پھینک دی پھر ہم آئے یہاں تک کہ وادی قری میں
پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے اس کے باغ کے متعلق دریافت فرمایا کہ اس کے
پھل کتنے ہوئے تو وہ بتائی دس وسق ہوئے۔(25)(متفق علیہ)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1481 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sahih Muslim 1392 (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (11)
Note 1
expedition
(1) His statement: expedition to Tabuk: Meaning to it or during it, with “expedition” in the accusative due to the omission of the preposition.
Note 2
Wadi al-Qura
(2) His statement: Wadi al-Qura: It is a well-known place, three days’ journey from Madinah toward Sham.
Note 3
its rope
(3) His statement: its rope: With a kasra on the ‘ayn, meaning what is used to tie a camel’s shank to its foreleg.
Note 4
a strong wind blew
(4) His statement: a strong wind blew: This is a miracle.
Note 5
a man stood up, etc.
(5) His statement: a man stood up, etc.: This is another miracle. His statement: she said, ten awsuq: This is a third miracle, due to her challenge and request for verification, though such an event could occur coincidentally. Perhaps he intended these miracles to demonstrate his prophethood to the hypocrites among them and to strengthen the faith of the knowledgeable. (As stated in Al-Mirqat and Al-Lama’at)
Note 1
قوله
(۱) قوله: غزوة تبوك : أي إليها أو فيها فنصب غزوة على نزع الخافض.
Note 2
(۲) وقوله: «وادي القرى هو موضع مشهور بينه وبين المدينة ثلاثة أيام من جهة الشام.
Note 3
(۳) وقوله: «عقاله» بكسر العين ما يربط به وظيف البعير إلى ذراعه.
Note 4
(٤) وقوله: فهبت ريح شديدة فهذه معجزة.
Note 5
(٥) وقوله: فقام رجل إلخ هذا معجزة أخرى. وقوله: «فقالت عشرة أوسق فهذه معجزة ثالثة لأجل تحديها وطلب معارضتها، فلا ينافيه أنه قد يقع مثل هذا اتفاقيا، ولعله أراد بهذه المعجزات إظهار نبوته للذين كانوا معه من أهل النفاق، ولزيادة إتقان إيمان أهل العرفان التقطته من «المرقاة» و«اللمعات».
Note 1
(24) قوله: غزوة تبوك۔ غزوۃ میں ت کو زیر ہے اور یہ منصوب بنزع الخافضہ یہ اصل میں الى غزوة، یا فى
غزوة تھا۔ وقوله: وادى القرى۔ یہ ایک مشہور مقام ہے اس کے اور مدینہ منورہ کے درمیان ملک شام کی جہت
سے تین دن کی مسافت ہے۔ وقوله: عقاله۔ ع کو زیر (کسرہ) ہے وہ ڈوری جس کے ذریعہ اونٹ کی پنڈلی اس
کے ہاتھ سے باندھی جاتی ہے۔ وقوله: فهبت ريح شديدة۔ یہ ایک معجزہ ہے۔ وقوله: فقام رجل۔ یہ ایک
دوسرا معجزہ ہے۔ وقوله: فقالت عشرة اوسق یہ تیسرا معجزہ ہے۔ اگرچہ کہ اس طرح کی چیز اتفاقی طور پر بھی ہو
بھی جاتی ہے اس کے باوجود یہ معجزہ ہے اس لئے کہ آپ نے اسے جیسا کہ فرمایا تھا اور اس کا معاوضہ طلب فرمایا تھا۔
اور ان معجزات کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سفر میں جو منافقین تھے ان کے لئے اپنی نبوت کا اظہار
فرمایا اور جو اہل عرفان ہیں ان کے اتقان میں اضافہ فرمایا۔ (ماخوذ از مرقات ولمعات)
(25) قوله : متفق عليه۔(بخاری و مسلم نے اس کی روایت کی ہے) مرقات میں اسی طرح ہے۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
ایک سفر سے تشریف لائے پس جب آپ مدینہ منورہ کے قریب آئے تو ایک ایسی ہوا چلی جو قریب تھا
کہ سوار کو دفن کر دے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ہوا ایک منافق کی موت کی وجہ سے بھیجی
گئی ہے، پس جب مدینہ منورہ پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک بڑا منافق مر گیا ہے۔(متفق علیہ)۔
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ
وسلم نے حضرت زید حضرت جعفر اور حضرت ابن رواحہ کی شہادت کی اطلاع آنے سے پہلے ہی
لوگوں کو اس کی خبر دی(26) جبکہ وہ لوگ اس سرزمین میں تھے جس کو مؤتہ کہا جاتا تھا۔ آپ نے فرمایا
حضرت زید نے جھنڈے کو لیا اور شہید ہو گئے، پھر حضرت جعفر نے لیا اور وہ بھی شہید ہو گئے، پھر
حضرت ابن رواحہ نے لیا وہ بھی شہید ہو گئے اور آپ کی دونوں آنکھیں بہہ رہی تھیں یہاں تک کہ اللہ
کی تلواروں میں سے ایک تلوار نے یعنی خالد بن ولید نے اس کو لیا یہاں تک کہ اللہ نے ان کو فتح عطا
فرمائی۔(بخاری)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 3757 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih al-Bukhari 4262 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (9)
Note 1
announced the death
(1) His statement: announced the death: Meaning he informed of their deaths, permitting such announcements. His statement: before their news reached them: Meaning it was a miracle. His statement: Mu’tah: With damma on mim, sukun on hamza, then ta’ above, a village in Sham. This was in the eighth year, with 3,000 Muslims against 100,000 Romans with Heraclius.
Note 2
he said
(2) His statement: he said: Explaining and detailing what came before.
Note 3
Zayd took the banner
(3) His statement: Zayd took the banner: As it was custoMaryam (Mary) for the army’s leader to take it.
Note 4
a sword from the swords of Allah
(4) His statement: a sword from the swords of Allah: Meaning a brave warrior among His warriors, as he was worth a thousand, and eight swords broke in his hand that day. The attribution is for honor. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
قوله
(۱) قوله : نعى أي أخبر بموتهم للناس فيه جواز النعي. وقوله: قبل أن يأتيهم خبرهم أي فكان معجزة. وقوله: مؤنة» بميم مضمومة فهمزة ساكنة فمثناة فوقية قرية بالشام، وكانت في السنة الثامنة، وكان المسلمون ثلاثة آلاف والروم مع هر قل مائة ألف.
Note 2
(۲) وقوله: «فقال» تفسير وتفصيل لما قبله.
Note 3
(۳) وقوله: «أخذ الراية زيد؛ إذ العادة أن يأخذه أمير العسكر.
Note 4
(٤) وقوله: «أخذ الراية سيف من سيوف الله أي شجيع من شجعانه؛ فإنه كان يعد ألفا، وانقطع في يده يومئذ ثمانية أسياف، والإضافة للتشريف. التقطته من «المرقاة».
Note 1
(26) قوله: نعى یعنی لوگوں کو ان حضرات کی موت کی اطلاع دی اس سے موت کی اطلاع دینے کا جواز معلوم ہوتا ہے۔
وقوله : قبل ان ياتيهم خبرهم مطلب یہ ہے کہ یہ آپ کا معجزہ ہے۔ وقوله: مؤتة، اس میں میم کو پیش اور
ہمزہ کو جزم ہے پھر ۃ ہے یہ ملک شام کا ایک شہر ہے اور اس جنگ میں مسلمان تین ہزار تھے اور رومی فوج ہرقل کے
ساتھ آئی تھی اور وہ ایک لاکھ تھے اور یہ جنگ 8ہجری میں ہوئی۔ وقوله : فقال۔ یہ سابق مضمون کی تفصیل اور
اس کی تفسیر ہے۔ وقوله : اخذ الراية زيد۔ کیونکہ عرف یہ ہے کہ لشکر کا امیر (کمانڈر) سردار جھنڈے کو اپنے
ہاتھ میں لیتا ہے۔ وقوله : اخذ الراية سيف من سيوف الله۔ اس سے مراد بہادروں میں سے ایک بہادر
ہے کیونکہ حضرت خالد بن ولید ایک ہزار آدمی کے برابر شمار کئے جاتے تھے، اور اس دن آپ کے ہاتھ میں آٹھ
تلواریں ٹوٹی تھیں اور اس میں اضافت تشریفی ہے۔(ماخوذ از مرقات)۔
اور انہی سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشورہ
فرمایا جس وقت ہم کو ابوسفیان کے آنے کی اطلاع ملی تو حضرت سعد بن عبادہ کھڑے ہوئے(27)اور
کہا یا رسول اللہ قسم ہے اس ذات کی جس کے دست قبضہ میں میری جان ہے اگر آپ ہمیں حکم
فرمائیں کہ ہم ان (گھوڑوں) کو سمندر میں ڈال دیں تو ہم ان کو ڈال دیں گے(28)اور اگر آپ ہمیں حکم
فرمائیں کہ ہم ان کے جگر کو برک الغماد تک ایڑ لگائیں (29) تو ہم یقیناً عمل کریں گے راوی نے کہا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بلایا (30) اور لوگ چلے یہاں تک کہ مقام بدر میں اترے تو
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ فلاں (کافر) کے قتل کی جگہ ہے اور اپنا دست مبارک زمین
پر یہاں اور یہاں رکھا رہے تھے۔
راوی نے کہا: ان میں کا ایک بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کی جگہ سے
نہیں ہٹا۔ (مسلم)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 1779 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (9)
Note 1
O people of Makkah, to the rescue!
(1) His statement: Sa’d stood: Meaning he rose among the companions, the leader of the Ansar. He said what he said because the consultation’s purpose was to test the Ansar, as they had not pledged to fight or pursue enemies but to protect him from attackers. When the opportunity arose to intercept Abu Sufyan’s caravan, he wanted to know if they agreed, and they responded with full agreement here and elsewhere. This encourages consulting companions and those with insight and experience. At-Tibi said: Quraysh came from Sham with great trade, accompanied by forty riders including Abu Sufyan. The Muslims were eager to intercept the caravan due to its wealth and few men. When they set out, Makkah heard of their move, so Abu Jahl called above the Ka’bah, “O people of Makkah, to the rescue!” Abu Jahl set out with all of Makkah’s people. He was told the caravan took the coastal route and escaped, so return to Makkah. He said, “No, by Allah,” and proceeded to Badr. Jibril descended, informing that Allah promised one of the two groups. The Messenger of Allah (ﷺ) said, “The caravan has passed along the coast, and here is Abu Jahl approaching.” Sa’d ibn Ubadah stood and said, “O Messenger of Allah,” etc. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
plunge it
(2) His statement: plunge it: Qadi said: Plunging means entering the water, referring to horses and camels by context. His statement: strike its livers: Qadi said: Striking the livers means urging the mount to travel beyond its capacity. The meaning is: If you ordered us to travel swiftly and far. (As stated in Al-Mirqat)
Note 3
Bark al-Ghimad
(3) His statement: Bark al-Ghimad: A place in Yemen, or five nights beyond Makkah, or the farthest inhabited land. In Al-Qastalani: Meaning, for example, a distant place. (As stated in Al-Mirqat)
Note 4
called
(4) His statement: called: Meaning he summoned. His statement: they reached Badr: Al-Nawawi said: Badr is a well-known water source about four stages from Madinah, between it and Makkah. Ibn Qutaybah said: It was a well belonging to a man named Badr. The Battle of Badr was on Friday, the seventeenth of Ramadan in the second year of Hijrah. His statement: none deviated: Meaning none moved, strayed, or exceeded. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
قوله
(۱) قوله: قام سعد أي وقد قام من بين الصحابة، وهو رئيس الأنصار. وقال ما قال مما سيأتي، وإنما خص بالقيام؛ لأن سبب الاستشارة اختبار الأنصار؛ لأنه لم يكن بايعهم على أن يخرجوا معه للقتال وطلب العدو، وإنما بايعهم على أن يمنعوه من قصده، فلما عرض له الخروج لعير أبي سفيان أراد أن يعلم أنهم يوافقونه على ذلك أم لا، فأجابوا أحسن جواب بالموافقة التامة في هذه المرة وفي غيرها. وفيه حث على استشارة الأصحاب وأهل الرأي والخبرة. قال الطيبي: وذلك أن قريشا أقبلت من الشام فيها تجارات عظيمة، ومعه أربعون راكبا منهم أبو سفيان فأعجب المسلمين تلقي العير لكثرة الخير وقلة القوم، فلما خرجوا بلغ مكة خبر خروجهم فنادى أبو جهل فوق الكعبة يا أهل مكة النجاء النجاء، فخرج أبو جهل بجميع أهل مكة، فقيل له : إن العير أخذت طريق الساحل ونجت فارجع إلى مكة بالناس، فقال: لا والله، فمضى بهم إلى بدر، ونزل جبريل، فأخبر أن الله وعدكم إحدى الطائفتين، فقال رسول الله ﷺ : إن العير قد مضت على ساحل البحر. وهذا أبو جهل قد أقبل، فقام سعد بن عبادة، فقال: يا رسول الله إلخ. كذا في «المرقاة».
Note 2
قوله
(۲) قوله: إن نخيضها قال القاضي: الإفاضة الإدخال في الماء، والكناية للخيل والإبل، وإن لم يجر ذكرها بقرينة الحال. وقوله: «أن نضرب أكبادها قال القاضي ضرب الأكباد عبارة عن تكليف الدابة للسير بأبلغ مما يمكن. فالمعنى لو أمرتنا بالسير البليغ والسفر السريع. كذا في «المرقاة».
Note 3
قوله
(۳) قوله: برك الغماد بلدة باليمن أو وراء مكة بخمس ليال، أو أقصى معمور الأرض. كذا في القسطلاني. قال في «المرقاة»: أي مثلا من المواضع البعيدة.
Note 4
قوله
(٤) قوله: فندب: أي فدعا. وقوله: نزلوا بدرا». قال النووي: بدر ماء معروف على نحو أربع مراحل من المدينة، بينها وبين مكة. قال ابن قتيبة هو بئر كانت لرجل يسمى بدرا، وكانت غزوة بدر يوم الجمعة لسبع عشرة خلت من رمضان في السنة الثانية من الهجرة. وقوله: فما ماط» أي ما زال وبعد وتجاوز التقطته من «المرقاة».
Note 1
(27) قوله : قام سعد. یعنی صحابہ رضی اللہ عنہم کے درمیان سے کھڑے ہوگئے اور آپ انصار کے سردار تھے پھر آپ
نے وہ بات کہی جس کی تفصیل آگے آ رہی ہے اور خاص طور پر آپ کے اٹھنے کا ذکر اس لئے ہوا ہے کہ آپ صلی اللہ
علیہ وسلم کا منشا انصار کے بارے میں معلوم کرنا تھا کیونکہ انصار نے جو بیعت کی وہ جنگ کے لئے نکلنے اور دشمن کا پیچھا
کرنے کے لئے نہیں تھی بلکہ ان کی بیعت اس بات پر تھی کہ جو شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے درپے ہوگا وہ اس کو
روکیں گے۔ پس جب ابوسفیان کے قافلہ کے لئے نکلنے کا معاملہ درپیش ہوا تو آپ نے چاہا کہ یہ معلوم کریں کہ وہ
اس میں موافقت کرتے ہیں یا نہیں۔ تو انصار نے اچھا جواب دیا اور کمل موافقت کے ساتھ اس بار بھی اور اس کے
علاوہ بھی۔ اور اس حدیث میں اپنے اصحاب، اہل رائے، اور اہل تجربہ حضرات سے مشورہ کی ترغیب ہے۔ علامہ
طیبی نے فرمایا کہ قریش ملک شام سے بڑی بڑی تجارتوں کے ساتھ واپس آئے اور ان کے(40)چالیس سوار تھے
اور ان میں ابوسفیان بھی تھے۔ مسلمانوں کو یہ بات پیش تھی کہ قافلہ کو روک لیا جائے کیونکہ اس کی تعداد کم تھی اور مال
زیادہ تھا، جب مسلمان اس قافلہ کو روکنے کے لئے نکل پڑے تو یہ خبر اہل مکہ کو پہنچ گئی تو ابوجہل کعبہ کے اوپر چڑھ
کر دوسرے قریش کو آواز دیا کہ جلدی کرو جلدی کرو۔ پھر یہ تمام اہل مکہ کو لے کر نکل پڑا اور اس سے جب یہ کہا گیا
کہ قافلہ ساحل سمندر کا راستہ اختیار کر کے محفوظ طریقہ پر پہنچ گیا ہے لوگوں کو لیکر تم مکہ کو واپس ہوجاؤ تو اس نے کہا
نہیں خدا کی قسم اور ان کو لیکر بدر کی طرف چل پڑا تو حضرت جبریل علیہ السلام تشریف لائے اور اس بات کی اطلاع
دیئے کہ اللہ تعالیٰ نے دو جماعتوں میں سے ایک جماعت کا تم سے وعدہ کیا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا قافلہ سمندر کے ساحل کے راستہ سے گزر چکا ہے اور یہ ابوجہل ہے جو آگیا ہے تو حضرت سعد بن عبادہ رضی
اللہ تعالیٰ عنہ اٹھے اور بولے یا رسول اللہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر آپ حکم
فرمائیں تو سمندروں میں بھی گھوڑے دوڑا دیں گے۔ (مرقات)۔
(28) قوله : ان نخيضها. علامہ قاضی نے فرمایا الاخاضة کے معنی پانی میں داخل کر دینا ہے اور ہا ضمیر کا مرجع خیل
وابل یعنی گھوڑے اور اونٹ ہے اگرچہ اس کا سابق میں ذکر نہیں ہے اور یہ قرینہ حال سے واضح ہے۔ وقوله :
ان نضرب اكبادها. علامہ قاضی نے فرمایا ضرب الاكباد (جگر کو ایڑ لگانا) سے مراد گھوڑے کو جس قدر ممکن ہو تیز
(حاشیہ پچھلے صفحہ سے) دوڑانا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اگر آپ حکم فرمائیں تو سفر میں تیز سے تیز تر چلیں گے اور
سواریوں کو تیز سے تیز تر دوڑائیں گے۔ (مرقات)۔
(29) قوله : برك الغماد۔ یہ یمن کا ایک شہر ہے یا مکہ سے آگے پانچ دن کی مسافت پر ایک شہر ہے یا زمین کی آخری
آبادی۔ (قسطلانی) صاحب مرقات نے کہا ہے کہ یہ مثال کے طور پر ہے یعنی دور سے دور تک بھی چلیں گے۔
(مرقات)۔
(30) قوله : فندب۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا۔ وقوله نزلوا بدرا۔ امام نووی نے فرمایا بدر پانی کا مشہور
چشمہ ہے جو کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ کے درمیان چار مراحل پر ہے اور ابن قتیبہ نے فرمایا یہ بدر نامی ایک شخص کا کنواں
تھا۔ اور جنگ بدر کا واقعہ سترہ (17) رمضان المبارک 2 ہجری جمعہ کے دن واقع ہوا۔ وقوله : فما ماط ذرا بھی
نہیں ہٹا اور اس سے کچھ بھی تجاوز نہیں کیا۔ (ماخوذ از مرقات)۔
اور انہی سے روایت ہے، فرمایا: ہم حضرت عمر کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے
درمیان میں تھے ہم پہلی کا چاند دیکھنے کی کوشش کے میں تیز نظر کا تھا میں اس کو دیکھ لیا اور میرے سوا
کوئی بھی یہ دعویٰ نہیں کرتا تھا کہ اس نے چاند کو دیکھا ہے، میں حضرت عمر سے کہنے لگا کیا آپ اس کو
نہیں دیکھتے تو آپ اس کو نہیں دیکھ پا رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ عمر فرما رہے تھے میں اپنے بستر
پر لیٹے ہوئے (31) اس کو دیکھ لوں گا پھر وہ ہم کو اہل بدر کے بارے میں بیان کرنے لگے فرمایا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اہل بدر کے قتل ہونے کے مقامات بتاتے تھے۔ فرما رہے تھے ان
شاء اللہ یہ مقام قتل فلاں کے قتل کا ہے اور یہ مقام قتل ان شاء اللہ فلاں کے قتل ہونے کا ہے۔ حضرت
عمر نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ روانہ فرمایا وہ ان مقامات سے جو
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا تھا نہیں ہٹے اور ان کو کنویں میں ایک کے اوپر ایک ڈال دیئے۔
پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے یہاں تک کہ ان کے پاس آئے اور فرمایا اے فلاں
بن فلاں اور اے فلاں بن فلاں کیا تم نے اللہ اور اس کے رسول کے وعدے کو حق پایا پس بے شک اللہ
نے مجھ سے جو وعدہ فرمایا تھا یقیناً میں نے تو اسے حق پایا۔ تو حضرت عمر عرض کئے یا رسول اللہ آپ کیسے
گفتگو فرما رہے ہیں ان جسموں سے جن میں روح نہیں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جو کچھ
کہہ رہا ہوں اس کو تم ان سے زیادہ نہیں سنتے سوائے اس کے کہ وہ مجھ کو کچھ جواب نہیں دے سکتے۔ (مسلم)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 2873 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (4)
Note 1
see it,
(1) His statement: I will see it while lying: A circumstantial clause for “see it,” meaning I have no need to see it now with effort, and I will see it later without trouble. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
قوله
(۱) قوله: سأراه وأنا مستلق حال من ضمير «أراه أي لا حاجة لي الآن إلى رؤيته بتعب، وسأراه بعد ذلك بزمان أو بيوم من غير تعب. كذا في «المرقاة».
Note 1
عمدۃ الرعایہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ما انتم باسمع لما اقول
منهم سے معلوم ہوتا ہے کہ مردہ سنتا ہے اور مردے کے نہ سننے پر کوئی قوی دلیل نہیں ہے نہ کتاب اللہ
سے ہے نہ سنت سے بلکہ صحیح و صریح احادیث مردہ کے سننے پر دلالت کرتی ہیں (اگر تم اس بحث کی
تفصیل چاہتے ہو تو کتاب الجہاد، منہیات اور باب حکم الاسراء کو دیکھو)۔
Note 2
(31) قوله : سأراه وانا مستلق۔ یہ ’اراہ‘ کی ضمیر سے حال ہے یعنی مجھے اس وقت مشقت اٹھا کر اسے دیکھنے کی
ضرورت نہیں میں اس کو کچھ وقفہ یا ایک دن کے بعد بھی بغیر مشقت کے دیکھ لوں گا۔ (لمعات)۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ
علیہ وسلم بدر کے تین سو پندرہ (315) صحابہ کر لیکر تشریف لے گئے اور دعا کی اے اللہ یہ سب ننگے
پاؤں ہیں ان کو تو سواریاں عطا فرما۔ اے اللہ یہ برہنہ بدن ہیں ان کو کپڑے پہنا، اے اللہ یہ بھوکے
ہیں ان کو شکم سیر کر دے۔ پس اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کامیابی عطا فرمائی اور وہ
سب اس حال میں واپس ہوئے کہ ان میں سے ہر ایک کے پاس ایک یا دو اونٹ تھے اور وہ لباس بھی
زیب تن کئے اور شکم سیر بھی ہو گئے۔ (ابوداؤد)۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا: جنگ بدر کے دن جب کہ آپ ایک ڈیرہ میں تھے(32) اے اللہ میں تجھ سے تیرا عہد اور تیرا
وعدہ مانگتا ہوں اے اللہ اگر تو چاہے کہ آج کے بعد تیری عبادت نہ کی جائے تو حضرت ابوبکرؓ آپ کا
دست مبارک پکڑ لئے اور عرض کئے یا رسول اللہ آپ کے لئے کافی ہے آپ نے اپنے پروردگار سے کافی
زاری کے ساتھ دعا مانگی پس آپ نکلے اس طرح کہ آپ اپنے زرہ بکتر میں مستانہ چل رہے تھے(33) اور
فرماتے جاتے تھے یہ کفار کی بھیڑ کو شکست دے دی جائے گی اور وہ پیٹھیں پلٹا دیں گے۔(بخاری)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 4875 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 1
O Allah, etc.
(1) His statement: while in a tent on the day of Badr: A circumstantial clause between the statement and its content, i.e., “O Allah, etc.” His statement: if You will: Meaning the absence of worship, Islam, or the believers’ destruction, so You will not be worshipped is in the indicative as the response to the condition, meaning no Muslim would remain on earth. If asked: The Prophet (ﷺ) knew Allah best and that Allah would not break His promise, so why this supplication? We say: The principle is that supplication is recommended whether the supplicant knows the outcome or not. Knowledge of Allah entails fear of Him, and prophets are not free from fear despite their assurances of a good outcome. He may have feared an obstacle from himself or his nation preventing the promised victory. Or he was promised victory without a specified time and feared its delay, so he supplicated for it that day. As for his intense supplication, it is best said that his exaggeration in asking, despite his great trust and perfect knowledge, was to encourage the companions and strengthen their hearts, as they knew his supplication was surely answered, especially when intensified. I say: It indicates that one unable or not commanded to fight should supplicate for victory to gain the reward of participation. When he saw his companions turning to creation, he returned to the Absolute Essence, seeking the truth from his Lord. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
leaping
(2) His statement: leaping: Meaning moving quickly with joy and energy. His statement: in his armor: Meaning while wearing it for protection and intent to fight. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
قوله
(۱) قوله: وهو في قبة يوم بدر والجملة حالية معترضة بين القول ومقوله، وهو قوله: اللهم إلخ. وقوله: «اللهم إن تشأ أي عدم العبادة أو عدم الإسلام أو هلاك المؤمنين لا تعبد بالجزم على جواب الشرط بعد اليوم»؛ لأنه لا يبقى على وجه الأرض مسلم. فإن قيل: كان النبي الله أعلم الناس بالله، وقد علم أن الله سبحانه لم يكن ليعده وعدا فيخلفه، فما وجه هذا السؤال ؟ قلنا : الأصل الذي لا يفارق هذا الحكم هو أن الدعاء مندوب إليه علم الداعي حصول المطلوب أو لم يعلم، ثم إن العلم بالله يقتضي الخشية منه، ولا ترفع الخشية من الأنبياء عليهم بما أوتوا ووعدوا من حسن العاقبة، فيجوز أن يكون خوفه من مانع ينشأ ذلك من قبله، أو من قبل أمته، فيحبس عنهم النصر الموعود.
ويحتمل أنه وعد بالنصر ولم يعيّن له الوقت، وكان على وجل من تأخر الوقت، فتضرع إلى الله تعالى لينجز له الوعد في يومه ذلك. وأما ما أظهر من الضراعة، فقيل: الأحسن أن يقال: إن مبالغة رسول الله ﷺ في السؤال مع عظم ثقته بربه و کمال علمه کان به تشجيع للصحابة وتقوية لقلوبهم؛ لأنهم كانوا يعرفون أن دعاءه لا محالة مستجاب لا سيما إذا بالغ فيه. قلت: وفيه إشعار بأن من لم يقدر على المحاربة ولم يؤمر بالمقاتلة، فينبغي له حينئذ أن يدعو بالنصرة ليحصل له ثواب المشاركة؛ فإنه الله لما رأى أصحابه أنهم توجهوا إلى الخلق رجع بنفسه إلى الذات المطلق، وراجع ربه في طلب الحق. كذا في «المرقاة».
Note 2
قوله
(۲) قوله : وهو يثب: أي يسرع فرحا ونشاطا. وقوله: «في الدرع أي حال كونه في درعه للمحافظة، وعلى نية المقاتلة. كذا في «المرقاة».
Note 1
(32) قوله : وهو في قبة يوم بدر . یہ جملہ حالیہ ہے اور قول و مقولہ اللهم الخ کے درمیان جملہ معترضہ ہے۔
وقوله: اللهم ان تشأ مراد اس سے عبادت کا نہ کیا جانا۔ اسلام کا نہ ہونا اور مسلمان کا ہلاک ہوجانا اگر تو چاہتا
ہے لا تعبد دال کو جزم ہے جواب شرط ہے، بعد اليوم کیونکہ اس کے بعد پھر روئے زمین پر کوئی مسلمان باقی
نہیں رہے گا۔ پس اگر یہ سوال کیا جائے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں میں سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی معرفت
رکھتے ہیں اور آپ کو معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے تو خلاف نہیں کرتا پھر اس سوال کی حاجت کیا تھی تو ہم اس
کا یہ جواب دیں گے کہ وہ قاعدہ جس سے یہ حکم بھی مستثنیٰ نہیں یہ ہے کہ دعاء ہر حال میں مستحب ہے خواہ دعاء کرنے
والے کو مطلوب کے حصول کا علم ہو یا نہ ہو۔ نیز بے شک اللہ کی معرفت اس کی خشیت کا تقاضہ کرتی ہے، انبیاء علیہم
السلام کو جو سرفرازی ہے اور حسن عاقبت کا ان سے جو وعدہ کیا گیا ہے اس سے ان کی خشیت و خوف ختم نہیں ہوتا۔
ہوسکتا ہے ان کا یہ خوف خود ان کی کسی کیفیت کی وجہ سے یا امت کی فکر کی وجہ سے ہو ایسا نہ ہو کہ وعدہ کی ہوئی مدد
روک لی جائے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مدد کا وعدہ تو ہوا ہے مگر وقت متعین نہیں ہوا تھا اس لئے ہوسکتا ہے اس بات کا
خوف ہو کہ کہیں مدد کا وقت مؤخر نہ ہو۔ اس لئے آپ اللہ کی جناب میں گریہ و زاری کرتے رہے تا کہ اللہ تعالیٰ وہ
وعدہ آج ہی کے دن پورا کرے۔
اب رہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رب تعالیٰ پر کمال بھروسہ اور کمال علم کے باوجود مبالغہ کے ساتھ جو گریہ و زاری
فرمائی وہ صحابہ کی حوصلہ افزائی اور ان کو تقویت پہنچانے اور ان کی ہمت افزائی کے لئے تھا کیونکہ صحابہ کو یقین تھا کہ
آپ کی دعا لا محالہ مقبول ہوتی ہے، خصوصاً ایسے وقت جبکہ آپ دعا میں مبالغہ کرتے ہوں۔ میں کہتا ہوں کہ اس میں
اس بات کا بھی اعلان ہے کہ جو شخص جنگ پر قدرت نہیں رکھتا اور اس کو لڑائی کا بھی حکم نہیں دیا گیا ہے تو اس کو چاہئے
کہ ایسے وقت نصرت و کامیابی کے لئے دعا کرے تا کہ اس کو اس میں شرکت کا ثواب بھی مل جائے کیونکہ آپ نے
جب دیکھا کہ صحابہ مخلوق کی طرف متوجہ ہیں تو آپ بنفس نفیس ذات مطلق خداوندی کی طرف متوجہ ہوگئے اور طلب
حق میں رب کی طرف متوجہ رہے۔(مرقات)۔
(33) قوله: وهو يثب. آپ نشاط وخوشی میں تیز چل رہے تھے۔ وقوله: فى الدرع یعنی اپنی حفاظت اور مقابلہ کی
نیت سے اپنا زرہ پہنے ہوئے تھے۔(مرقات)۔
اور انہی سے روایت ہے کہ جنگ بدر کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا یہ جبریل ہیں(34) جو اپنے گھوڑے کی لگام پکڑے ہیں اور ان پر سامان جنگ ہے۔(بخاری)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 3995 (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
This,
(1) His statement: This is Jibril, etc.: Perhaps he showed him to Anas so he could see him, as indicated by “This,” which is typically used for the tangible, explaining why the Hadith is included in the chapter on miracles. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
قوله
(۱) قوله: هذا جبريل إلخ لعله له أظهره لأنس حتى أبصره كما يشير إليه قول هذا»؛ لأنه في الأصل موضوع للمحسوس، وبهذا يتبين وجه إيراد الحديث في باب المعجزات. كذا في «المرقاة».
Note 1
(34) قوله: هذا جبرئيل الخ. ہوسکتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرات صحابہ کرام کو جبریل دکھائے ہوں جیسا
کہ آپ کے ارشاد هذا (یہ جبریل ہیں) سے معلوم ہوتا ہے کیونکہ لفظ ہذا اصل میں محسوس چیز کے لئے مقرر ہے اس
سے اس حدیث کو باب المعجزات میں لانے کی وجہ بھی معلوم ہوتی ہے۔(مرقات)۔
اور انہیں سے روایت ہے فرمایا: اس اثناء میں کہ مسلمانوں میں سے ایک
صاحب اس دن ایک مشرک آدمی کے پیچھے دوڑ رہے تھے(35) جو ان کے سامنے تھے، اچانک انہوں
نے اس کے اوپر کوڑے مارنے کی اور ایک گھڑ سوار کی آواز سنی یہ کہتے ہوئے کہ حیزوم آگے بڑھ پھر
اچانک انہوں نے دیکھا کہ مشرک ان کے سامنے چت گرا پڑا ہے اور دیکھا کہ اس کی ناک زخمی ہوگئی
ہے اور منہ پھٹ گیا ہے کوڑے کی مار کی طرح اور وہ پورا ہرا ہوگیا تو وہ انصاری آ کر رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم سے بیان کئے تو آپ نے فرمایا تم نے سچ کہا(36) یہ تیسرے آسمان کی مدد میں سے ہے(37)
پس مسلمانوں نے اس دن ستر(70) کو قتل کیا اور ستر(70) کو گرفتار کر لیا۔(مسلم)۔
(1) His statement: pursuing: Meaning hastening and running. His statement: a whip’s strike: Meaning the sound of a whip’s strike above the polytheist. His statement: Hayzum: The name of the angel’s horse. His statement: Advance: Al-Nawawi said: With a cut hamza and kasra on dal, a command to urge the horse. I say: It seems to order advancing, as it lacks understanding of speech. For an angel’s horse, it may be literal or a breach of norm, supported by addressing it by name, and Allah knows best. His statement: his nose wounded: Meaning his nose was injured. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
You have spoken the truth
(2) His statement: You have spoken the truth: This indicates a karamah for the companion, and a follower’s karamah is akin to the miracle of the one followed, especially occurring in his presence due to his blessing. Or, the trustworthy companion narrated a true report of an angel’s descent to aid, and the Truthful One confirmed it, making it a miracle. (As stated in Al-Mirqat)
Note 3
from the aid of the third heaven
(3) His statement: from the aid of the third heaven: Indicating aid came from all heavens, this specifically from the third. The reference is to the angel, the subject, with what follows as its predicate. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
قوله
(۱) قوله: يشتد أي يسرع ويعدو. وقوله: «ضربة أي صوت ضربة بالسوط فوقه أي فوق المشرك. وقوله: حيزوم» اسم فرس الملك. وقوله: «أقدم» قال النووي: هو بهمزة قطع مفتوحة وبكسر الدال من الأدام، قالوا: وهي كلمة زجر للفرس. أقول : فكأنه يؤمر بالإقدام؛ فإنه ليس له فهم الكلام، وأما بالنسبة إلى فرس الملك، فيمكن حمله على الحقيقة، أو على خرق العادة، ويؤيده النداء باسمه، والله أعلم. وقوله: قد خطم أي جرح أنفه. التقطته من «المرقاة».
Note 2
قوله صدقت فيه أن هذا الكشف كرامة للسحابي، وكرامة الاتباع بمنزلة معجزة المتبوع، لا سيما وقوعه في حضرته وحصوله لأجل بركته، أو يقال
(۲) قوله صدقت فيه أن هذا الكشف كرامة للسحابي، وكرامة الاتباع بمنزلة معجزة المتبوع، لا سيما وقوعه في حضرته وحصوله لأجل بركته، أو يقال : أخبر الصحابي، وهو ثقة بنقل صحيح عما يدل على نزول الملك للمعاونة وقد صدقه الصادق المصدوق في هذه المقالة فيصح عده من المعجزة. كذا في «المرقاة».
Note 3
قوله
(۳) قوله: ذلك من مدد السماء الثالثة: تنبيه على أن المدد كان من السماوات كلها. وهذا من الثالثة خاصة، فالإشارة إلى الملك في ذلك، وهو مبتدأ خبره ما بعده. كذا في «المرقاة».
Note 1
(35) قوله: يشتد. یعنی تیزی سے دوڑ رہے تھے۔ وقوله: ضربة. یعنی مار کی آواز بالسوط فوقه یعنی مشرک کے
اوپر، وقوله: حيزوم. فرشتے کے گھوڑے کا نام تھا۔ وقوله: ”اقدم“ امام نووی نے فرمایا: یہ ہمزہ قطعی ہے، اور
مفتوح ہے، اور دال کو زیر (کسرہ) ہے، باب افعال یعنی اقدام سے ہے۔ اور علماء نے کہا ہے کہ یہ کلمہ گھوڑے کو
ڈانٹنے کا ہے، میں کہتا ہوں کہ اس کے ذریعہ گویا گھوڑے کو آگے بڑھنے کا حکم دیا جاتا ہے کیونکہ گھوڑے کو فہم کلام نہیں
ہے البتہ فرشتے کے گھوڑے کی نسبت سے اس کو اس کے حقیقی معنی پر محمول کر سکتے ہیں یا یہ خرق عادت ہے اور
گھوڑے کو اس کے نام کے ساتھ آواز دینا اس کی تائید کر رہا ہے۔ وقوله: قد خطم. یعنی اس کی ناک زخمی
ہوگئی۔(ماخوذ از: مرقات)۔
(36) قوله : صدقت . یہ کشف صحابی کی کرامت ہے اور اتباع کی کرامت متبوع کے معجزہ کے درجہ میں ہے، خاص
طور پر جب کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ہوا ہے اور صحابی کو اس کرامت کا حاصل ہونا حضور پاک صلی
اللہ علیہ وسلم کی برکت کی وجہ سے ہے، بلکہ یہ کہا جا سکتا ہے صحابی نے جو قصہ بیان اس کی خبر دی جس سے معاونت کے
لئے فرشتہ کا نزول (اتر کر آنا) معلوم ہوتا ہے اور صادق مصدوق نے اس کی تصدیق بھی فرمائی ہے لہذا اس کو معجزہ
میں شمار کرنا درست ہے۔(مرقات)۔
(37) قوله : ذلك من مدد السماء الثالثة. اس میں اس بات پر آگاہ کیا گیا ہے کہ مدد سارے آسمانوں سے آئی
ہے اور یہ مدد خاص طور پر تیسرے آسمان سے آئی ہے اور ذلک سے فرشتہ کی طرف اشارہ ہے اور یہ مبتداء ہے اور
اس کے بعد کا جملہ اس کی خبر ہے۔(مرقات)۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ
میں جنگ احد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سیدھے اور بائیں دو جانب اشخاص کو دیکھا(38) جن
پر سفید کپڑے تھے اور وہ بہت سخت قتال کر رہے تھے(39) میں نے ان دونوں کو نہ اس سے پہلے دیکھا
اور نہ اس کے بعد یعنی وہ جبریل اور میکائیل تھے۔(متفق علیہ)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 4054 (unverified) 96% confidence
Candidate: Sahih Muslim 2306a (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 1
on the right and left of the Messenger of Allah (ﷺ) on the day of Uhud
(1) His statement: on the right and left of the Messenger of Allah (ﷺ) on the day of Uhud: It seems they were distributed, one on each side, otherwise there would be four. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
fighting with the fiercest combat
(2) His statement: fighting with the fiercest combat: At-Tibi said the kaf is for emphasis, but this is unclear. More likely, it means fighting like the fiercest human combat. His statement: I had not seen them before nor after: Meaning they must be angels. His statement: meaning Jibril and Michael: From the narrator’s statement for clarification, likely known from evidence. [Narrated by Bukhari]
Note 1
قوله
(۱) قوله : عن يمين رسول الله ﷺ وعن شماله يوم أحد رجلين الظاهر أنهما على سبيل التوزيع بأن يكون كل منهما على جانب منه، وإلا لكانوا أربعة. كذا في «المرقاة».
Note 2
قوله
(۲) قوله : يقاتلان كأشد القتال الكاف زائدة للتأكيد ذكره الطيبي، ولا يظهر وجه كونه للتأكيد، والأظهر أن معناه قتالا مثل أشد قتال رجال الإنس. وقوله: ما رأيتهما قبل ولا بعد أي فتعين أنهما من الملائكة. وقوله: يعني جبريل وميكائيل من قول الراوي أدرجه بيانا، ولعله عرف ذلك من دليل، رواه البخاري.
Note 1
(38) قوله : عن يمين رسول الله صلى الله عليه وسلم وعن شماله يوم احد رجلين. یعنی یہ بر سبیل تقسیم
ہے یعنی ہر ایک ان میں سے ایک ایک جانب تھے ورنہ یہ چار ہو جائیں گے۔(مرقات)۔
(39) قوله : يقاتلان كأشد القتال. اس میں کاف زائد ہے تاکید کے لئے ہے علامہ طیبی نے یہ بیان کیا ہے کہ کاف
کا تاکید کے لئے ہونا ظاہر نہیں ہے۔ اس بات یہ ہے کہ اس کے معنی اس طرح ہیں کہ ایسا قتال جو انسانی مردوں
کے سخت قتال کی طرح تھا۔ وقوله: ما رأيتهما قبل ولا بعد. یعنی یہ بات متعین ہے کہ وہ دونوں فرشتے تھے۔
وقوله. يعنى جبريل وميكائيل. یہ راوی کا قول ہے راوی نے بطور بیان اس کو متن حدیث کے ساتھ شامل
کر دیا ہے ہو سکتا ہے کہ کسی دلیل سے انہوں نے ان دونوں کو پہچانا ہو۔(بخاری)۔
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ایک جماعت کو(40) ابورافع کی طرف روانہ کیا(41) اور عبداللہ بن عتیکؓ رات کے وقت
اس کے گھر میں جب کہ وہ سو رہا تھا داخل ہوئے اور اس کو قتل کر دیا اور عبداللہ بن عتیکؓ نے فرمایا(42)
میں نے تلوار کو اس کے پیٹ میں رکھ دیا یہاں تک کہ تلوار اس کے پیٹھ میں اتر گئی اور میں جان گیا کہ
میں اس کو قتل کر دیا ہوں پھر میں دروازوں کو کھولنے لگا یہاں تک کہ ایک سیڑھی تک پہنچا اور اپنا پاؤں
رکھا چاندنی رات تھی(43) میں گر پڑا اور میری پنڈلی ٹوٹ گئی تو شملہ سے اس پر پٹی باندھ لیا اور اپنے
ساتھیوں کے پاس گیا(44) اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گیا اور آپ کو بیان کیا تو آپ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنا پاؤں دراز کرو میں اپنا پاؤں پھیلا دیا تو آپ نے اس پر دست مبارک پھیر دیا
پھر گویا ایسا ہو گیا کہ کبھی مجھے اس کے درد کی شکایت ہی نہیں ہوئی۔(بخاری)۔
(1) His statement: a group: The commentator said: A group is less than ten men, with no women among them. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
to Abu Rafi’
(2) His statement: to Abu Rafi’: Qadi said: His kunyah was Abu al-Huquq, with ha’ mahmalah and two qafs with a ya’ between, in diminutive form, a great enemy of the Messenger of Allah (ﷺ). He broke his covenant, slandered him, and fortified himself in a fortress, so they were sent to kill him. (As stated in Al-Lama’at and Al-Mirqat)
Note 3
in
(3) His statement: Abdullah ibn Atik said: Meaning describing the killing. His statement: reached his back: At-Tibi said: Using “in” indicates the sword’s deep penetration, taking every hold, as indicated by “until it reached his back.” His statement: I began opening the doors: Perhaps he closed them after opening to protect what was behind, or he came from another path. His statement: placed my foot: Meaning assuming I reached the ground. (As stated in Al-Mirqat)
Note 4
in a moonlit night
(4) His statement: in a moonlit night: Meaning illuminated by moonlight. It is said: The night is moonlit when it has a moon, and the fall was due to mistaking the staircase for the ground because of the moonlight. (As stated in Al-Lama’at)
Note 5
my companions
(5) His statement: my companions: Meaning the group waiting below the fortress. His statement: Extend your leg: Meaning stretch it out. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
قوله
(۱) قوله: رهطا قال شارح: الرهط ما دون العشرة من الرجال ليست فيهم امرأة. كذا في «المرقاة».
Note 2
قوله
(۲) قوله : إلى أبي رافع : قال القاضي: كنيته أبو الحقيق بالحاء المهملة وقافين بينهما تحتانية على لفظ التصغير أعدى عد ورسول الله ﷺ نبذ عهده، وتعرض له بالهجاء وتحصل بحصن كان له، فبعثهم إليه؛ ليقتلوه. كذا في «اللمعات» و «المرقاة».
Note 3
قوله
(۳) قوله: فقال عبد الله بن عتيك: أي في صفة قتله. وقوله: «أخذ في ظهره قال الطيبي: عداه بـ «في» ليدل على شدة التمكن، وأخذ منه كل مأخذ، وإليه أشار بقوله: حتى أخذ في ظهره وقوله: فجعلت افتح الأبواب، ولعله بعد فتحها أولا ردها حفظا لما وراءه، أو طلع عليه من طريق آخر. قوله: فوضعت رجلي أي على ظن أني وصلت الأرض. كذا في «المرقاة».
Note 4
قوله
(٤) قوله: في ليلة مقمرة: أي مضيئة من نور القمر يقال : أقمرت الليلة صارت ذا قمر، وسبب الوقوع اشتباه الدرج بالأرض؛ لضوء القمر. كذا في «اللمعات».
Note 5
قوله
(٥) قوله : أصحابي: أي من الرهط الوافقين أسفل القلعة. وقوله : أبسط رجلك، أي مدها. كذا في «المرقاة».
Note 1
(40) قوله : رهطا. ایک شارح نے فرمایا کہ رہط مردوں کی دس سے کم افراد پر مشتمل جماعت ہے جس میں کوئی عورت
نہ ہو۔(مرقات)۔
(41) قوله : الى ابى رافع. علامہ قاضی نے فرمایا اس کی کنیت ابوالحقیق ہے اس میں ایک حاء اور دو قاف ہیں اور ان
دونوں کے درمیان یاء ہے اور یہ لفظ مصغر ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑا دشمن ہے جس نے حضور
پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ہوا عہد توڑا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درپئے ہو گیا اور اپنے ایک قلعہ میں
رہنے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو اس کی طرف روانہ فرمایا تا کہ اس کو قتل کر دیں۔(لمعات ومرقات)۔
(42) قوله : فقال عبد الله بن عتيك. یعنی اس کو قتل کرنے کا بیان کرتے ہوئے فرمایا۔ قوله : اخذ فى
ظهره. علامہ طیبی نے فرمایا اخذ کو فی سے متعدی کیا گیا تا کہ معلوم ہو کہ وہ اس کی پیٹھ میں پوری طرح اتر گئی
اخذ فى ظهره سے اسی طرف اشارہ ہے۔ وقوله : فجعلت افتح الابواب. ہو سکتا ہے کہ انہوں نے
چڑھتے وقت دروازوں کو کھولنے کے بعد بند کر دیا تھا تا کہ پیچھے کوئی نہ آسکے ہو یا ہو سکتا ہے کسی اور طرف سے
چڑھے ہوں۔ قوله : فوضعت رجلى. اس خیال میں پاؤں رکھ دیا کہ میں زمین تک پہنچ گیا ہوں۔(مرقات)
(43) قوله : فى ليلة مقمرة. یعنی چاندنی رات میں اقمرت الليلة اس وقت بولتے ہیں جب رات چاند کی روشنی
سے منور ہو جائے اور گرنے کا سبب چاند کی روشنی کی وجہ سے زمین پر سیڑھی کا شبہ ہو گیا۔(لمعات)۔
(44) قوله : الى اصحابى. یعنی ان ساتھیوں کے پاس جو قلعہ کے نیچے ٹھہرے ہوئے تھے۔ قوله : ابسط
رجلك. کے معنی ہیں تم اپنا پاؤں دراز کرو۔(مرقات)۔
حضرت یزید بن ابی عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں
سلمہ بن اکوع کی پنڈلی میں مار کا نشان دیکھا تو کہا اے ابو مسلم یہ مار کیا ہے تو انہوں نے کہا یہ وہ مار ہے
جو مجھ کو جنگ خیبر کے موقع پر لگا تھا تو لوگوں نے کہا سلمہ شہید ہو گیا(45) تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے اس میں تین مرتبہ دم فرمایا پس اب تک مجھے اس میں کوئی تکلیف
نہیں ہوئی۔(بخاری)۔
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ام مالک نبی اکرم صلی اللہ
علیہ وسلم کے لئے ایک(46) چھوٹی کپی میں گھی کا تحفہ پیش کرتی تھیں اور ان کے پاس ان کے بچے
سالن پوچھنے آتے تھے جب کہ ان کے پاس کچھ نہیں ہوتا تو جس کپی میں وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
کے لئے تحفہ پیش کرتی تھیں اس میں ان کو گھی مل جاتا تھا اور ان کے گھر کا وہ ہمیشہ سالن بنا رہا یہاں تک
کہ انہوں نے ایک مرتبہ اس کو نچوڑ دیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئیں تو آپ صلی ا
للہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اس کو نچوڑ دیا تو وہ عرض کیں ہاں تو آپ نے فرمایا اگر تو اس کو ویسا ہی
چھوڑ دیتی تو وہ ہمیشہ رہتا۔(مسلم)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 2280a (unverified) 93% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
send.
(1) His statement: small skin: With damma and tashdid, a small leather container. In Al-Nihayah: It is a rounded leather vessel for clarified butter or honey, more specific to butter. His statement: clarified butter: The object of “send.” His statement: she would go: With kasra on mim, meaning their mother intended the skin, with masculine reference due to the container. His statement: until she squeezed it: Meaning out of greed, so the condiment ceased, as greed brings misfortune and the greedy are deprived. His statement: came to the Prophet (ﷺ): Meaning she told him the whole story. At-Tibi said: She came complaining of the condiment ceasing from the skin. His statement: Did you squeeze it: Meaning the skin, with ya’ for prolongation and an implied interrogative hamza. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
قوله
(۱) قوله: عكة بضم فتشديد قربة صغيرة ذكره شارح. وفي النهاية هي وعاء من جلد مستدير ويختص بالسمن والعسل، وهو بالسمن أخص لها، أي كانت لأم مالك سمنا» مفعول تهدي». وقوله: «فتعمد» بكسر الميم، أي تقصد أمهم إلى الذي»، أي إلى العكة، والتذكير باعتبار الظرف. وقوله: حتى عصرته أي لزيادة الطمع، فانقطع الإدام بناء على أن الحرص شؤم والحريص محروم. وقوله : فأنت النبي ، أي وأخبرته بالخبر جميعا. وقال الطيبي: أي فأتت وشكت انقطاع إدام بيتها من العكة. فقال: عصرتيها أي العكة، والياء للإشباع وهمزة الاستفهام مقدرة. كذا في «المرقاة».
Note 1
(46) قولہ : عُكَّة : ع کو پیش اور کاف کو تشدید، ایک شارح نے بیان کیا وہ چمڑے کی چھوٹی تھیلی (کپی) کو کہتے ہیں،
اور کتاب نہایہ میں ہے یہ چمڑے کی ایک گول تھیلی ہے جو گھی اور شہد کے لئے خاص ہے اور وہ گھی کے لئے زیادہ
خاص تھی۔ قولہ : لها . ہا ضمیر کا مرجع ام مالک ہے، سمنا یہ تهدى کا مفعول ہے۔ قولہ : فتعمد . میم کے زیر
(کسرہ) کے ساتھ ہے، یعنی ان کی ماں ارادہ کرتی تھی الى الذى سے مراد الى العكة ہے، یعنی کپی کا ارادہ کرتی اور
الذى کو مذکر ظرف کے معنی کا اعتبار کرتے ہوئے لایا گیا۔ وقولہ : حتى عصرته . یعنی زیادہ سے زیادہ کی
خواہش میں اس کو نچوڑی تو وہ ختم ہو گیا کیونکہ حرص میں حرمان نصیبی ہے اور حریص محروم ہے۔ وقولہ : فاتت
النبي صلى الله عليه وسلم یعنی آ کر آپ کو پورا واقعہ بتا دیں اور علامہ طیبی نے فرمایا وہ آئیں اور اپنے گھر میں
سالن کے کپی میں سے ختم ہو جانے کی شکایت کیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس کو یعنی کپی کو نچوڑ دیں
عصرتيها میں یا اشباع یعنی آواز کو دراز کرنے کا ہے اور ہمزہ استفہام مقدر ہے۔(ماخوذ از مرقات)۔
انہیں سے روایت ہے انہوں نے کہا میرے والد کا انتقال ہوا ان پر قرضہ تھا
میں نے ان کے قرض خواہوں سے خواہش کیا کہ میرے والد کے قرض کے بدلہ میں میرے تمام کھجور
لے لیں (47) مگر وہ آمادہ نہیں ہوئے تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض
کیا: آپ جانتے ہیں کہ میرے والد جنگ احد میں شہید ہوگئے اور بہت قرضہ چھوڑ گئے ہیں اور میں
چاہتا ہوں کہ آپ کو قرض خواہ دیکھیں تو آپ نے فرمایا جاؤ اور کھجور کی ہر قسم کا ڈھیر الگ لگاؤ پس میں یہ
کام کیا پھر آپ کو بلایا جب وہ آپ کو دیکھے تو اس وقت گویا مجھ پر اور بھڑک گئے، جب آپ نے جو کچھ
وہ کر رہے تھے دیکھا تو سب سے بڑے ڈھیر کے اطراف تین مرتبہ چکر لگائے پھر اس کے پاس بیٹھ
گئے پھر فرمایا تمہارے قرض خواہ لوگوں کو میرے سامنے بلا دو پس آپ ان کے لئے ناپواتے رہے
یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میرے والد کی امانت ادا کر دی اور میں تو اس سے بھی راضی تھا کہ اللہ تعالیٰ
میرے والد کی امانت ادا کر دے اور میں اپنے بھائی و بہنوں کے پاس ایک کھجور بھی نہ لے جاؤں تاہم
اللہ تعالیٰ نے تمام ڈھیروں کو محفوظ رکھ دیا یہاں تک کہ میں اس ڈھیر کو دیکھ رہا تھا جس کے پاس نبی
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے تھے اس میں ایک کھجور بھی کم نہیں ہوا۔(بخاری)۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Separate
(1) His statement: to take the dates: Meaning all our dates in exchange for what was owed by my father, but they refused, as it seemed little in their eyes, and they were Jews. His statement: that the creditors see you: Meaning in my presence, so they might show me consideration. His statement: separate each type of date into its own pile: Meaning gather each type into a separate heap. “Separate” refers to threshing food in a threshing area, the place where food is threshed. Here, it means to make each type of date into a single heap. It is said: Distinguish each type in its place. His statement: they were urged: In the passive form, meaning they persisted in demanding from me, as if their motives drove them to press me, from “urging a dog,” meaning to provoke it. The meaning is that they were harsh with me, assuming he would not order them to be lenient, reduce the debt, or be patient, so they showed they would not accept anything of that. His statement: his trust: Meaning his debt, called a trust because he was entrusted to pay it. His statement: I did not return: Meaning I did not go back. His statement: and even I looked, etc.: The point is that it is connected to an implied phrase, meaning Allah preserved all the piles so that none of the unmeasured piles decreased at all, and even I looked, etc. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
قوله
(۱) قوله: أن يأخذوا التمر: أي جميع تمرنا بما عليه أي في مقابلة ما علي أبي فأبوا أي امتنعوا؛ لأنه كان في أعينهم قليلا وهم يهود. وقوله: إن يراك الغرماء، أي عندي لعلهم يراعوني. وقوله: فبيدر كل تمر على ناحية» أي أجمع كل نوع صبرة على حدة، أمر من بيدر» الطعام إذا داس في البيدر، وهو الموضع الذي يداس فيه الطعام، والمراد هنا أجعل كل نوع من تمرك بيدرا، أي صبرة واحدة. وقيل: فرق كل نوع في موضعه. وقوله: «أغروا بي بصيغة المجهول، أي لجوا في مطالبتي وأخوا كان دواعيهم حملتهم على الإغراء بي من أغريت الكلب، أي هيجته، والمعنى أغلظوا علي فكأنهم هيجو بي ظنا منهم أنه لا يأمرهم بالمسامحة، أو بحط بعض الدين، أو بالصبر، فأظهروا ما يدلى على أنهم لا يرضون بشيء من ذلك. وقوله: «أمانته أي دينه وسمي الأمانة؛ لأنه ائتمن على أدائه. وقوله: «ولا أرجع» أي ولا أنقلب. وقوله: «وحتى إني إلخ الحاصل أنها عطف على مقدر، أي فسلم الله البيادر كلها حتى لم ينقص من تلك البيادر التي لم يكلها شيء أصلا، وحتى إني أنظر إلخ. التقطته من «المرقاة».
Note 1
(47) قوله : ان ياخذوا التمر . یعنی ہمارے تمام کھجور لے لیں۔ بما عليه یعنی میرے والد پر جو کچھ قرضہ ہے اس
کے بدلے میں۔ فابوا یعنی قبول نہیں کئے کیونکہ ان کی نظر میں وہ کم تھے اور وہ یہودی تھے۔
وقوله: ان يراك الغرماء . یعنی میرے پاس آپ کو دیکھیں گے تو شاید وہ میرے ساتھ رعایت کریں گے۔
وقوله : فبيدر كل تمر على ناحية . یعنی ہر قسم کے ڈھیر کو علیحدہ جمع کرو۔ یہ صیغہ امر ہے، بيدر الطعام سے
ماخوذ ہے جب وہ کھلہ میں بھوسہ سے دانہ کو الگ کرتا ہے۔ بیدر وہ مقام ہے جس میں غلہ کو بھوسہ سے الگ کیا
جاتا ہے۔ یہاں اس سے مراد یہ ہے کہ کھجوروں کی ہر قسم کا الگ الگ ڈھیر بناؤ۔ یہ بھی کہا گیا ہے ہر قسم کو اس کی جگہ میں
الگ الگ رکھو۔ وقوله: اغروا بى . یہ مجہول کا صیغہ ہے یعنی مجھ سے مطالبہ کرنے میں سختی کئے۔ گویا ان کے
اسباب مجھ پر تیار کرنے کے لئے ان کو ابھارے۔ یہ لفظ اغريت الكلب سے بنا ہے یعنی میں اس کو ہیجان میں
لایا اور پریشان کر دیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مجھ پر سختی کئے۔ گویا انہوں نے یہ سمجھ کر مجھ پر سختی کی کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم ان کو نظر انداز کر دینے کا حکم فرمائیں گے یا قرضہ کم کر دینے کا حکم فرمائیں گے یا کچھ صبر و انتظار کرنے کا
حکم فرمائیں گے لہذا انہوں نے اس بات کو ظاہر کیا کہ وہ اس میں سے کسی چیز سے بھی راضی نہیں ہیں۔
وقوله : امانته . امانت سے مراد ان کا قرضہ ہے اور اس کو امانت اس لئے کہا کہ وہ اس کے ادا کرنے کے ذمہ دار ہیں۔
وقوله : لا ارجع . یعنی میں نہ لوٹوں۔
وقوله: وحتى انى الخ . خلاصہ یہ ہے کہ یہ عطف ہے اور اس کا معطوف علیہ مقدر ہے یعنی فسلم الله
البيدر كلها حتى لم ينقص . الخ اللہ تعالیٰ نے تمام ڈھیر محفوظ رکھے یہاں تک کہ جن ڈھیروں میں سے
ناپا نہیں گیا تھا اس میں کچھ بھی کم نہیں ہوا یہاں تک کہ میں دیکھ رہا تھا اس ڈھیر کو جس کے پاس حضور صلی اللہ علیہ وسلم
تشریف فرما تھے۔ (ماخوذ از مرقات)۔
اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا میں نبی اکرم
صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں چند کھجور لے کر آیا(48) اور عرض کیا یا رسول اللہ اس میں برکت کے
لئے اللہ سے دعا فرمائیں تو آپ نے ان کو ملا دیا اور میرے لئے ان میں برکت کی دعا کی اور فرمایا
تم اس کو لے لو اور اپنے توشہ دان میں رکھ دو جب بھی تم اس میں سے کچھ لینا چاہو تو اس میں اپنا ہاتھ
ڈالو اور اس کو لے لو اور اس کو پوری طرح مت جھکاؤ اور ان کھجوروں میں سے میں نے اتنے اتنے وسق
اللہ کے راستہ میں خرچ کیا اور ہم اسی میں سے کھاتے اور کھلاتے رہے اور وہ میری کمر سے جدا نہیں
ہوتا تھا یہاں تک کہ حضرت عثمان کی شہادت کا دن آیا اور وہ گر گیا۔(ترمذی)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 3839 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
we ate from it,
(1) His statement: some dates: With fatḥa on all letters. Sheikh Abu Nasr said: The dates were twenty-one, as mentioned in Al-Adhkar. His statement: he gathered them: Meaning he took them in his hand or placed his hand on them. His statement: I carried: At-Tibi said: It could mean literally carrying or taking, meaning I took that amount in portions. The literal carrying is more fitting, as it is stronger in the claim, supported by his statement: “we ate from it,” etc. His statement: until the day: With raf‘, meaning “was” is complete. His statement: it ceased: Meaning the bag that day; it fell from me and was lost, so I grieved greatly for it. It hints that when corruption spreads, blessing is lifted. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
قوله
(۱) قوله: بتمرات بفتحات قال الشيخ أبو نصر : كانت التمرات إحدى وعشرين. كذا في «الأذكار». وقوله: فضمهن أي فأخذهن بيده أو وضع يده عليهن. وقوله: فقد حملت. قال الطيبي: يجوز أن يحمل حملت على الحقيقة، وأن يحمل على معنى الأخذ، أي أخذته مقدار كذا بدفعات، انتهى. والحمل على الحقيقة أولى؛ فإنه أبلغ في المدعى ويؤيده قوله: «فكنا نأكل إلخ»، وقوله: حتى كان يوم بالرفع على أن «كان» تامة. وقوله: «فإنه» أي المزود «انقطع» أي ذلك اليوم، وسقط مني وضاع، فحزنت عليه حزنا شديدا. وفيه إيماء إلى أن الفساد إذا شاع ارتفعت البركة. التقطته من «المرقاة».
Note 1
(48) و قولہ: بتمرات۔ بتنوین حرف پر زبر فتحہ ہے علامہ شیخ ابوالنصر نے فرمایا وہ (21) اکیس کھجور تھے اذکار میں بھی
ایسا ہی ہے۔ و قولہ: فضمهن ان کو اپنے ہاتھ سے لے لیا اپنا دست مبارک اس پر رکھے۔
و قولہ: فقد حملت علامہ طیبی نے فرمایا حملت حقیقی معنی میں ہو سکتا اور لینے کے معنی میں بھی ہو سکتا ہے یعنی
میں اتنی مقدار میں متعدد مرتبہ لیا مگر حقیقی معنی پر محمول کرنا ہی بہتر ہے کیونکہ یہ مقصد کے لئے زیادہ مناسب ہے اور
فكنا ناكل کا لفظ اس پر دلالت کرتا ہے۔ و قولہ: حتى كان يوم۔ میں یوم کو پیش ہے کیونکہ کان تامہ ہے۔
و قولہ. فانه. ضمیر کا مرجع مزود ہے یعنی توشہ دان اس دن گر گیا اور ضائع ہو گیا میں اس پر بہت غمگین ہوا اور اس
میں اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ فساد جب پھیل جاتا ہے تو برکت اٹھ جاتی ہے۔(ماخوذ از مرقات)۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے
پاس ایک صاحب کھانا لانے آئے تو آپ نے انہیں آدھا وسق جو عطا فرمایا پس وہ شخص اور اس کی بیوی
اور ان کے مہمان اس میں سے کھاتے رہے یہاں تک کہ اس شخص نے اس کو ناپا تو وہ ختم ہوگیا اور وہ
شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا اگر تم اس کو نہ ناپتے ہوتے تو اس میں
سے کھاتے ہی رہتے اور وہ تمہارے لئے ہمیشہ رہتا۔ (مسلم)۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
ابھی حضرت زینب سے شادی کے نوشاہ تھے (49) تو میری والدہ ام سلیم نے کھجور، گھی اور پنیر کا ارادہ کیا
اور حیس (حلوا) تیار کیا اور اس کو ایک پیالہ میں رکھا (50) اور بولیں اے انس اس کو رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کی خدمت میں لے جاؤ اور عرض کرو میری والدہ نے یہ آپ کی خدمت میں بھیجا ہے اور وہ
آپ کی خدمت میں سلام عرض کرتی ہیں اور کہتی ہیں یا رسول اللہ یہ آپ کی خدمت میں ہماری طرف
سے چھوٹا سا ہدیہ ہے تو میں گیا اور عرض کیا تو آپ نے فرمایا اس کو رکھ دو اور فرمایا جاؤ فلاں فلاں
وفلاں کو میرے پاس بلا لاؤ آپ نے کئی اشخاص کا نام لیا اور جس سے بھی تمہاری ملاقات ہو ان کو بھی
میرے پاس بلا لاؤ تو آپ نے جن جن کا نام لیا تھا ان کو اور جن سے بھی میری ملاقات ہوئی ان سب کو
بلا لیا اور جب میں واپس آیا تو گھر لوگوں سے بھرا ہوا ہے۔ حضرت انس سے کہا گیا تمہاری تعداد کتنی
تھی تو کہا تقریباً تین سو (300) تھے اور پھر میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا دست
مبارک اس حیسہ (حلوے) پر رکھے اور اللہ نے جو چاہا آپ نے پڑھا پھر آپ دس دس کو بلاتے رہے
وہ اس میں سے کھاتے گئے اور آپ ان سے فرماتے اللہ کا نام لو اور ہر ایک اپنے سامنے سے کھائے
انہوں نے کہا وہ کھائے اور شکم سیر ہوگئے، ایک جماعت نکلی اور دوسری جماعت داخل ہوئی یہاں تک
کہ سب کھا چکے (51)۔ مجھ سے آپ نے فرمایا اے انس اٹھاؤ پس میں اٹھا دیا اور میں یہ بتا نہیں سکتا
کہ جس وقت میں نے اس کو رکھا تھا زیادہ تھا یا جس وقت میں اس کو اٹھایا زیادہ تھا۔ (متفق علیہ)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 1428a (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (7)
Note 1
newlywed
(1) His statement: newlywed: An adjective used for both masculine and feminine, meaning a new husband with Zaynab, due to her. His statement: dried yogurt: With fatḥa then kasra, meaning dried, hard milk, as in An-Nihayah. In Al-Qamus: Something made from churned sheep’s milk. She made hays, which is a combination of the three. This Hadith indicates it. (As stated in Al-Mirqat) In Al-Lama’at: Hays, with fatḥa on the ḥā’, is a mixture, referring to dates mixed with ghee and dried yogurt, kneaded thoroughly.
Note 2
meaning.
(2) His statement: in a vessel: With a yā’ above, then wāw, then rā’, a container like a bowl. His statement: men he named: Meaning three men he specified by name and lineage, expressed as so-and-so, so-and-so, so-and-so. His statement: men he named: From Anas’s words, replacing so-and-so, etc., or implying “meaning.” Allah knows best. His statement: full of people: With tashdīd on the ṣād, meaning filled with them. It appears the house means the dwelling, or possibly the entrance, indicating another miracle as it accommodated many people. (As stated in Al-Mirqat)
Note 3
until they all ate
(3) His statement: until they all ate: It is said: The Hadith suggests Zaynab’s wedding feast was from the hays sent by Umm Sulaym. The well-known narrations state he held a feast for her with bread and meat, and no multiplication of food was mentioned. It was answered that the hays may have coincided with the bread and meat. Denying the multiplication of food in the bread and meat story is surprising, as Anas says he held a feast for her with a sheep, feeding the Muslims—about a thousand—bread and meat. I say: There is no indication that the hays was the feast; it was sent as a gift. Then, either later that day or another day, he held a feast with a sheep, feeding a thousand with bread and meat, so there is no contradiction. (As stated in Al-Lama’at)
Note 1
قوله عروسا هو نعت يستوي فيه المذكر والمؤنث، والمعنى زوجا جديدا بزينب أي بسببها. وقوله
(۱) قوله عروسا هو نعت يستوي فيه المذكر والمؤنث، والمعنى زوجا جديدا بزينب أي بسببها. وقوله: «أقط» بفتح فكسر، أي لبن مجفف يابس شحجر على ما في النهاية». وفي القاموس» شيء يتخذ من المخيض الغنمي فصنعت حيسا، فالحيس مجموع الثلاثة. وهذا الحديث يدل عليه التقطته من المرقاة». وقال في «اللمعات»: والحيس بفتح الحاء المهملة الخلط ويطلق على تمر يخلط بسمن وأقط، فيعجن عجنا شديدا.
Note 2
قوله
(۲) قوله: في تور بمثناة فوقية فواو ساكنة فراء إناء كالقدح. وقوله: «رجالا أي ثلاثة سماهم» أي عينهم بأسمائهم ونسبتهم، فعبرت عنهم بفلانا وفلانا وفلانا، فقوله: رجالا سماهم من كلام أنس بدل من فلانا إلخ» أو بتقدير «أعني» أو «يعني». والله أعلم. وقوله: غاص بأهله تشديد الصاد المهملة، أي ممتلئ بهم، والظاهر أن المراد بالبيت هو الدار. ويحتمل أن يكون على بابه، ويكون فيه معجزة أخرى حيث وسع خلقا كثيرا. التقطته من «المرقاة».
Note 3
قوله
(۳) قوله: حتى أكلوا كلهم وقيل : ظاهر الحديث أن الوليمة لزينب كانت من الحيس الذي أهدته أم سليم، والمشهور من الروايات أنه أولم عليها بخبز ولحم، ولم يقع في القصة تكثير الطعام، وأجيب بأنه يجوز أن يكون حضور الحيس صادف حضور الخبز واللحم، وإنكار وقوع تكثير الطعام في قصة الخبز واللحم عجيب؛ فإن أنسا يقول: أولم عليها بشاة، وأنه أشبع المسلمين خبزا والحما، هم يومئذ نحو الألف. قلت: لا دلالة فيه على أن الحيس وليمة، وإنما وقع إرساله هدية، ثم إما في آخر ذلك اليوم، وإما في يوم آخر أولم عليها بشاة، وأشبع الألف خبزا ولحما، فلا منافاة بين القضيتين. كذا في «اللمعات».
Note 1
(49) وقوله: عروسا۔ یہ صفت ہے اس میں مذکر و مؤنث دونوں برابر ہیں مطلب یہ ہے کہ آپ نوشاہ تھے بزینب یعنی
زینب سے شادی کے سبب۔ وقوله. اقط۔ ہمزہ کو زبر پھر ق کو زیر (کسرہ) کے ساتھ ہے یعنی خشک دودھ جو پتھر
کی طرح سخت بن جاتا ہے (نہایہ) اور قاموس میں ہے اقط ایک ایسی چیز ہے جو بکری کے پٹھوں سے بنایا
جاتا ہے۔ فصنعت حيسا۔ حیس (حلوا) تین چیزوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ اور یہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے۔
(ماخوذ از مرقات)۔
اور صاحب لمعات نے فرمایا حیس حاء بزبر (فتح) کے ساتھ ایک مخلوط حلوا ہے ایسے کھجوروں پر بولا جاتا ہے جن
کو گھی اور پنیر سے ملا کر خوب گوندا جاتا ہو۔
(50) وقوله: في تور. شروع میں تاء پھر واو ساکن پھر راء ہے پیالی کی طرح ایک برتن ہوتا ہے۔ وقوله. رجالا۔ یعنی
تین آدمی سماہم یعنی ان کے ناموں اور کنیتوں کے ساتھ ذکر فرمائے اور میں ان کی تعبیر فلاں فلاں اور فلاں کے
ساتھ کیا ہوں کچھ لوگ جن کا آپ نے نام لیا انس کا قول: رجالا سماهم سے بدل ہے یا لفظ اعنی یا لفظ یعنی
محذوف ہے۔ واللہ اعلم۔ وقوله: غاص باهله. اس میں صاد کو تشدید ہے یعنی لوگوں سے بھر گیا اور ظاہر بات
ہے کہ بیت سے مراد دار ہے (اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دروازہ) اور اس میں ایک دوسرا معجزہ بھی ہے وہ یہ ہے کہ تھوڑا
حلوا کثیر مخلوق (بڑی تعداد) کے لئے کافی ہوا۔ (ماخوذ از مرقات)۔
(51) و قولہ: حتی اکلوا کلہم۔ ظاہر حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت زینب کا ولیمہ اس حلوے سے ہوا تھا جو
ام سلیم نے ہدیہ بھیجا تھا مگر مشہور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب کا ولیمہ روٹی اور گوشت سے
کیا تھا۔ اور اس قصہ میں کثرت طعام کا ذکر نہیں ہے تو اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ یہ ایک اتفاقی صورت ہوگئی
گوشت اور روٹی سے ولیمہ کے موقعہ پر ام سلیم کا حلوہ بھی آگیا ہو۔ اور اس روٹی گوشت کے واقعہ میں تکثیر طعام کے
وقوع کا انکار عجیب ہے۔ کیونکہ حضرت انس فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب کا ولیمہ ایک
بکری سے کیا اور مسلمان گوشت اور روٹی سیر ہو کر کھائے اور ان کی تعداد نو نفر یا ایک ہزار کی تھی۔ میں یہ کہتا ہوں کہ
اس میں اس حلوے سے ولیمہ کرنے کی کوئی دلالت نہیں۔ صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ ام سلیم نے حلوہ کا ہدیہ بھیجا تھا
یا تو اس دن کے آخر میں بھیجا ہو یا دوسرے دن بھیجا ہو۔ اور زینب کا ولیمہ بکری سے کیا گیا ہو اور ایک ہزار آدمی روٹی
اور گوشت پیٹ بھر کر کھائیں ہوں اور دو واقعوں میں کوئی منافات نہیں ہے۔ (لمعات)۔
حضرت ابوالعلاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سمرہ بن جندب سے روایت کرتے ہیں
فرمایا کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک پیالہ میں صبح سے شام تک کھاتے تھے (52) دس
حضرات اٹھتے تھے اور دس حضرات بیٹھتے تھے تو ہم نے کہا کس چیز سے اس میں برکت آتی تھی، انہوں
نے کہا تم کس چیز سے تعجب کرتے ہو اس میں برکت وہاں سے (53) آتی تھی اور انہوں نے اپنے
ہاتھ سے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔ (ترمذی، دارمی)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 3625 (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 1
taking turns
(1) His statement: taking turns: It is said: Hands took turns, meaning they alternated, one after another. The commentator mentioned this. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
it was only replenished from here, etc.
(2) His statement: it was only replenished from here, etc.: The question from the Successors to the Companion may be understood as them assuming food was brought and placed in the bowl repeatedly, as is custoMaryam (Mary). The Companion answered that this occurred miraculously, the replenishment coming from the Lord of the heavens, not from earthly creatures. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
قوله
(۱) قوله: نتداول: يقال: تداولته الأيدي، أي تناوبته، يعني أخذته هذه مرة وهذه مرة، ذكره شارح. كذا في «المرقاة».
Note 2
قوله
(۲) قوله: ما كانت تمد إلا من ههنا إلخ وأما سؤال التابعين من الصحابي، فقد يوجه بأنه توهم أنه كان يأتي الطعام ويوضع في القصعة مرة بعد مرة بعد فراغ عشرة أو نحوها، كما يقع في العرف على طريق العادة، فأجاب الصحابي بأن هذا لم يقع إلا على سبيل خرق العادة، فالمدد من رب السماء لا من أحد من المخلوقين من سكان الأرض. كذا في «المرقاة».
Note 1
(52) و قولہ: نتداول۔ تداولت الايدى۔ بولا جاتا ہے تو اس کے معنی ہوتے ہیں ہم اس کو باری باری سے لے
رہے تھے۔ یہ ایک مرتبہ لے تو یہ ایک مرتبہ لے۔ (مرقات)۔
(53) وقوله: ما كانت تمد الا من ههنا الخ۔ حضرات تابعین کا صحابی سے یہ سوال کرنا اس خیال کی بناء پر تھا کہ
ہوسکتا ہو کہ کھانا دیس کے فارغ ہونے کے بعد لاکر پیالے میں ڈالا جاتا تھا ہو۔ جیسا کہ عام طور پر ہوتا ہے۔
تو صحابی نے جواب دیا کہ یہ تو خرق عادت معجزہ کے طور پر ہے اور مدبر اسماع کی طرف سے ہے زمین کی کسی مخلوق
کی طرف سے نہیں ہے۔ (مرقات)۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے جب جنگ تبوک (54) کا
دن آیا لوگوں کو بھوک نے گھیر لیا (55) تو حضرت عمر نے عرض کیا (56) یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ
ان لوگوں سے ان کے بچے ہوئے توشے منگوائے پھر اس پر اللہ سے ان کے لئے برکت کی دعا
فرمائے تو آپ نے فرمایا ٹھیک ہے پھر آپ نے دسترخوان منگوایا اور اس کو بچھایا آپ ان کے بچے
ہوئے توشے منگوائے تو کوئی شخص مٹھی بھر مکائی اور ایک دو سر مٹھی بھر کھجور اور ایک صاحب روٹی کا ایک
ٹکڑا لانے لگے یہاں تک کہ دسترخوان پر تھوڑی سی چیز جمع ہوگئی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
برکت کی دعاء فرمائی پھر فرمایا تم اپنے برتنوں میں بھر لو تو وہ اپنے برتنوں میں بھر لئے تا آنکہ لشکر میں
ایک برتن کو بھی نہیں چھوڑے بلکہ سب کو بھر لئے راوی نے کہا: وہ کھائے یہاں تک کہ سیر ہوگئے اور
کچھ بچ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور
بے شک میں اللہ کا رسول ہوں۔ ان دو شہادتوں کو لے کر کوئی بندہ جو اس میں شک کرنے والا نہ ہو اللہ
سے ایسی حالت میں نہیں ملے گا کہ وہ جنت سے حجاب میں رہے۔ (مسلم)۔
اور امام بخاری نے اس کی روایت حضرت سلمہ سے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 27b (unverified) 96% confidence · Validation similarity: 0.780
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (7)
Note 1
expedition to Tabuk
(1) His statement: expedition to Tabuk: Tabuk is a place between Sham and Madinah, a month’s journey from Madinah. The expedition was in Rajab, year 9 AH, his last expedition. Tabuk is commonly not declined due to femininity and proper noun status, but declining it refers to the place. Both considerations are permissible for place names, interpreted as a region or location. (As stated in Al-Lama’at)
Note 2
when,
(2) His statement: afflicted the people: The response to “when,” meaning it happened to them. (As stated in Al-Mirqat)
Note 3
O Messenger of Allah, permit us to slaughter our camels for food and oil.
(3) His statement: Umar said, etc.: The Hadith is abbreviated, as it is narrated that they were afflicted with famine and said, “O Messenger of Allah, permit us to slaughter our camels for food and oil.” He said, “Do so.” Umar came and said, “O Messenger of Allah, if you do, we will lack mounts. Instead, call them to bring the surplus of their provisions.” Surplus is what exceeds need, and provisions are food for travel. The meaning: Order them to bring the remainder of their provisions. His statement: a piece: Meaning a piece of bread. His statement: the Messenger of Allah said: I bear witness, etc.: It hints that witnessing miracles strengthens certainty in beliefs. His statement: is barred: At-Tibi said: “Is barred” is raised, conjoined with the previous sentence, and the negation applies to both. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
قوله
(۱) قوله: غزوة تبوك تبوك اسم أرض بين الشام والمدينة بينه وبين المدينة مسيرة شهر، وغزوته كانت سنة تسع في رجب، وهي آخر غزواته . والمشهور في تبوك عدم الصرف للتأنيث والعلمية، ومن صرفها أراد الموضع، وكلا الاعتبارين جائز في أسماء المواضع والأماكن؛ للتأويل بالبقعة والناحية وبموضع ومكان. كذا في «اللمعات».
Note 2
قوله
(۲) قوله : أصاب الناس: جواب «لما» أي حصل لهم. قاله في «المرقاة».
Note 3
قوله
(۳) قوله : فقال عمر إلخ في الحديث اختصار؛ إذ روي أنهم أصابهم مجاعة، فقالوا: يا رسول الله ! لو أذنت لنا فنحرنا نواضحنا، فأكلنا وآدمنا». فقال: افعلوا». فجاء عمر، فقال: يا رسول الله إن فعلت قلت الظهور، ولكن ادعهم بفضل أزوادهم، والفضل ما زاد عن شيء، والأزواد جمع زاد، وهو طعام يتخذ للسفر. فالمعنى: مُرْهُم بأن يأتوا ببقية أزوادهم. وقوله: بكسرة» أي بقطعة من الخبز. وقوله : فقال رسول الله الله : أشهد إلخ» فيه إيماء إلى أن رؤية المعجزات سبب زيادة اليقين في المعتقدات وقوله: فيجب قال الطيبي: فيحجب مرفوع عطفا على الجملة السابقة، والنفي منصب عليهما معا. التقطته من المرقاة».
Note 1
(54) وقوله: غزوة تبوك۔ تبوک ایک سرزمین کا نام ہے جو مدینہ منورہ اور ملک شام کے درمیان ہے اور ان دونوں
کے درمیان ایک مہینہ کی مسافت ہے اور یہ غزوہ ماہ رجب 9ھ ہجری میں ہوا اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے
آخری غزوات میں سے ہے، اور مشہور قول یہ ہے کہ تبوک غیر منصرف ہے تانیث اور علمیت کے سبب، اور جو اس کو
منصرف قرار دیتے ہیں وہ اس کو موضع کی تاویل میں کئے ہیں اور دونوں اعتبارات مقامات اور جگہوں کے ناموں
میں، بقعہ اور ناحیہ، اور موضع و مکان کی تاویل کی بناء پر جائز ہیں۔ (لمعات)۔
(55) وقوله: اصاب الناس۔ یہ ”لَمَّا“ کا جواب ہے یعنی انہیں بھوک گھیر لی۔ (مرقات)۔
(56) وقوله: فقال عمر الخ۔ اس حدیث شریف میں اختصار ہے، کیونکہ روایت میں آیا ہے ان کو بھوک نے گھیر لیا
تو وہ عرض کئے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اگر آپ ہمیں اجازت دیں تو ہم اپنی اونٹنیوں کو ذبح کریں اور کھائیں
اور سالن بنائیں تو آپ نے فرمایا ایسا ہی کرو تو حضرت عمر آئے اور عرض کئے یا رسول اللہ اگر ایسا کیا جائے
تو سواریاں کم ہو جائیں گے۔ البتہ آپ نے ان سے ان کے بچے ہوئے توشے منگوائے اور فضل کہتے ہیں کسی چیز
میں سے بچے ہوئے کو، زاد واحد ہے اس کی جمع ازواد ہے، سفر کے بھی توشہ کو ’زاد‘ کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ آپ
ان کو ان کے بچے ہوئے توشے لانے کا حکم فرمائیں۔ وقوله بكسرة۔ یعنی روٹی کا ٹکڑا۔ وقوله: فقال رسول
الله صلى الله عليه وسلم اشهد او الخ۔ اس میں اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ معجزات کا دیکھنا عقائد میں
مضبوطی اور یقین میں زیادتی کا سبب ہوتا ہے۔ قوله: فيحجب۔ علامہ طیبی نے فرمایا فيحجب حالت رفعی
میں ہے، اور اس کا سابقہ جملہ پر عطف ہے اور نفی ان دونوں کو ایک ساتھ شامل ہے۔ (ماخوذ از مرقات)۔
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا ہم جنگ خندق کے دن
خندق کھود رہے تھے کہ اس میں ایک سخت چٹان (57) نکل آئی تو صحابہ کرام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کئے یہ چٹان خندق میں سامنے آگئی ہے تو آپ نے فرمایا میں
اس میں اترتا ہوں پھر آپ اٹھے جبکہ آپ کے شکم مبارک پر پتھر بندھا ہوا تھا اور ہم تین دن اس طرح
رہے (58) کہ کوئی چیز چکھ بھی نہیں سکے تھے پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کدال لئے اور چٹان پر
ضرب لگائے تو وہ اڑتی ہوئی ریت کا ڈھیر بن گئی، پھر میں اپنی بیوی کی طرف گیا اور کہا کیا تمہارے
پاس کوئی چیز ہے کیونکہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شدید بھوک دیکھا ہوں تو وہ ایک تھیلی نکالی جس
میں ایک صاع جَو تھی اور ہمارا ایک پالتو بکری کا بچہ تھا میں اس کو ذبح کیا اور بیوی نے جو پیسا یہاں تک
کہ ہم نے گوشت کو ہانڈی میں ڈالا پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے آہستہ
سے (59) عرض کیا اور کہا یا رسول اللہ ہم نے اپنی بکری کے بچے کو ذبح کیا اور میری بیوی نے ایک صاع
جو کو پیسا ہے پس آپ تشریف لائیں (60) اور آپ کے ساتھ چند لوگ بھی آئیں تو نبی اکرم صلی اللہ
علیہ وسلم نے اعلان فرمایا اے اہل خندق جابر نے کھانا تیار کیا ہے تم سب چلو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا: اپنی ہانڈی کو ہرگز مت اتارو اور گوندھے ہوئے آٹے سے ابھی روٹی مت پکاؤ یہاں
تک کہ میں آ جاؤں اور آپ تشریف لائے تو (حضرت جابرؓ کی) بیوی گوندھا ہوا آٹا لائیں آپ صلی اللہ
علیہ وسلم نے اس میں اپنا لعاب دہن ڈالا اور برکت کی دعا کی پھر فرمایا ایک روٹی پکانے والی نان بائی کو
بلا لو وہ تمہارے ساتھ روٹی پکائے گی اور تم اپنی ہانڈی سے سالن نکالتی جاؤ اور اس کو مت اتارو۔ اور وہ
(صحابہ) ایک ہزار(61) تھے اور میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ سب کے سب کھائے یہاں تک کہ
اس کو بچا بھی دیا پھر چلے گئے اس حال میں کہ ہماری ہانڈی جیسی تھی ویسی ہی جوش مار رہی تھی اور آٹا
جیسا تھا(62) ویسا ہی روٹی پکائی جا رہی تھی۔ (متفق علیہ)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 4101 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (13)
Note 1
kuland
(1) His statement: rock: With ḍamma then sukūn, followed by yā’ below, meaning hard ground, something solid between stone and clay. Food: What is tasted of food or drink. Pickaxe: Like minbar, an iron tool to break mountains, called “kuland” in Persian. His statement: I returned: Meaning I turned and leaned, from “turned it” or “tilted.” (As stated in Al-Qamus and Al-Lama’at)
Note 2
we had stayed three days without tasting food
(2) His statement: we had stayed three days without tasting food: This is parenthetical, explaining why the stone was tied. His statement: it became: Meaning the rock turned into loose sand. His statement: loose: Meaning flowing. The rock they could not break became, with one strike from the Prophet (ﷺ), like poured, flowing sand. His statement: hunger: With two fatḥas or sukūn on the second, meaning hunger, so named as the stomach shrinks. His statement: small animal: With fatḥa on bā’ and sukūn on hā’, Al-Nawawi said: A young sheep, used for both male and female, like sheep. His statement: domestic: Meaning fattened, as said by the author of Al-Mawahib. In Sharh Muslim: Familiar with the house. His statement: pot: Meaning a stone cooking pot. (As stated in Al-Mirqat)
Note 3
I confided in him
(3) His statement: I confided in him: Al-Nawawi said: It permits confiding a need in a group’s presence, but whispering to two excluding a third is forbidden. There is an issue here, but it is clearer to say: The prohibition applies when harm is suspected for the group. His statement: we slaughtered a small animal, etc.: The intent is that this is a small amount, and your companions are many, so come, etc. (As stated in Al-Mirqat)
Note 4
hala
(4) His statement: come, you and a few: A few being less than ten men. His statement: prepared a meal: With ḍamma then sukūn and wāw, meaning food. In Al-Qamus: A meal is hospitality, Persian, honored by the Prophet. Come along: With tashdīd on yā’ and fatḥa, “hala” with fatḥa on hā’ and lām, tanwīn or without. The bā’ in “with you” is for causation, meaning hasten to it. His statement: and blessed: Meaning he prayed for blessing in it. His statement: scoop: With fatḥa on dāl, meaning ladle from your pot. (As stated in Al-Mirqat)
Note 5
it
(5) His statement: they were: Meaning the number of his companions was a thousand, hungry for three days and nights. His statement: simmering: With kasra on ghayn and tashdīd on ṭā’, meaning boiling with audible simmering. His statement: as it was: Meaning full as it was initially, the predicate of “it” omitted. (As stated in Al-Mirqat)
Note 6
as it was
(6) His statement: as it was: Meaning as it was in the dish, as if nothing was taken. Al-Nawawi said: Hadiths like this—multiplying little food, water gushing and multiplying, food glorifying, the tree trunk yearning, and more—are well-known, reaching tawatur, giving certain knowledge. Scholars like Al-Qaffal Al-Shashi, Abu Abdullah Al-Halimi, Abu Bakr Al-Bayhaqi, and others compiled signs of prophethood in their books, the best being Al-Bayhaqi’s. Praise be to Allah for His favor on our Prophet and us by honoring him. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
قوله
(۱) قوله : كدية بضم فسكون بعدها ياء تحتانية الأرض الغليظ والشيء الصلب بين الحجارة والطين والذواق بالفتحما يذاق من المأكول والمشرب، والمعول كمنبر حديدة ينقر بها الجبال، وبالفارسية كلند. قوله: «فانكفأت» أي انصرفت وملت، من كفأه وأكفأ»، مال وأمال، وقلب. قاله في القاموس». كذا في «اللمعات».
Note 2
قوله
(۲) قوله: ولبثنا ثلاثة أيام لا نذوق ذواقا هذه الجملة معترضة لبيان سبب ربط الحجر. وقوله: «فعاد» أي انقلب الحجر، وصار كثيبا» أي رملا . وقوله: «أهيل أي سائلا، والمعنى أن الكدية التي عجزوا عن رضها صارت بضربة واحدة ضربها رسول الله ﷺ كتل من الرمل مصبوب سيال. وقوله: «خمصا» بفتحتين ويسكن الثاني، أي جوعا. وسمي به؛ لأن البطن يضمر به وقوله: «بهمة بفتح موحدة وسكون هاء قال النووي: هي الصغيرة من أولاد الضأن، ويطلق على الذكر والأنثى كالشاة. وقوله: «داجن» أي سمينة، قاله صاحب المواهب». وفي شرح مسلم»: ما ألف البيت. وقوله: «البرمة» أي القدر من الحجر. التقطته من «المرقاة».
Note 3
قوله
(۳) قوله : فساررته قال النووي فيه جواز المسارة بالحاجة في حضرة الجماعة، وإنما المنهي أن يناجي اثنان دون الثالث. وفيه بحث لا يخفى اهـ. والأظهر أن يقال: إنما محل النهي توهم ضرر للجماعة. وقوله: «ذبحنا بهيمة إلخ والمقصود أن هذا قدر يسير وأصحابك كثير، فتعال إلخ». كذا في «المرقاة».
Note 4
قوله
(٤) قوله: فتعال أنت ونفر وهو ما دون العشرة من الرجال. وقوله: صنع سورا بضم فسكون واو، أي طعاما. وفي «القاموس»: السور الضيافة فارسية، شرفها النبي . فحي بتشديد الياء المفتوحة «هلا» بفتح لهاء واللام منونة. وفي نسخة بغير تنوين والباء في بكم للتعدية، أي أسرعوا بأنفسكم إليه. وقوله: وبارك» أي ودعا بالبركة فيه. وقوله: «واقدحي بفتح الدال أي أغرفي من بر مكتكم. كذا في «المرقاة».
Note 5
قوله
(٥) قوله: وهم: أي عدد أصحابه له ألف أي ألف رجل أكال في جوع ثلاثة أيام وليال. وقوله: «لتغط» بكسر الغين المعجمة وتشديد الطاء المهملة، أي لتفور وتغلي ويسمع غليانها. وقوله: «كما هي أي ممتلئة على الهيئة الأولى، فخبر «هي» محذوف. كذا في «المرقاة».
Note 6
قوله
(٦) قوله: كما هو : أي كما هو في الصحفة كأنه ما نقص منه شيء. قال النووي: قد تظاهرت الأحاديث بمثل هذا من تكثير طعام القليل، ونبع الماء وتكثيره وتسبيح الطعام وحنين الجذع، وغير ذلك مما هو معروف حتى صار مجموعها بمنزلة التواتر، وحصل العلم القطعي به. وقد جمع العلماء إعلاما من دلائل النبوة في كتبهم كالقفال الشاشي وصاحبه أبي عبد الله الحليمي وأبي بكر البيهقي أو غيرهم مما هو مشهور، وأحسنها كتاب البيهقي، والله الحمد على ما أنعم به على نبينا وعلينا بإكرامه. كذا في «المرقاة».
Note 1
(57) قوله: كدية. کاف کو پیش دال کو جزم اس کے بعد یاء یہ سخت زمین، پتھر اور مٹی کے درمیان کی سخت چیز کو کہتے
ہیں، اور ”ذواق“ ذال کو زبر (فتح) ہے، کھانے پینے کی اس قدر تھوڑی مقدار جس کو چکھ سکیں۔ ”معول“ ”منبر“
کے وزن پر لوہے کے کدال کو کہتے ہیں جس سے پہاڑوں کو پھوڑا جاتا ہے اور فارسی میں اس کو کلند کہتے ہیں۔
قوله: فانكفأت. پلٹا اور مائل ہوا۔ یہ لفظ ’كفأه واكفأ‘ سے ماخوذ ہے یعنی مائل کیا اور پلٹا یہ بات صاحب
قاموس نے کہی ہے۔ (لمعات)۔
(58) وقوله: ولبثنا ثلاثة ايام لا نذوق ذواقا. یہ جملہ معترضہ ہے پتھر باندھنے کے سبب کو بیان کرنے کے لئے ہے۔
(حاشیہ پچھلے صفحے سے) وقوله: فعاد. یعنی پتھر پھٹ کر ریت بن گیا۔ وقوله: اهيل. یعنی بہتا ہوا مطلب یہ ہے کہ
ایسی (مضبوط) چٹان جس کو چورا چورا کرنے سے سب عاجز ہو گئے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی بار
میں اسے بہتے ہوئے پانی کی طرح ریت کا ڈھیر بنا دیا۔ وقوله: خمصا. خاء اور میم دونوں کو زبر اور میم کو جزم بھی
پڑھا جاتا ہے، یعنی بھوک اور اس شخص اس لئے نام دیا گیا کہ بھوک کی وجہ سے پیٹ دبلا ہو جاتا ہے۔ وقوله:
بهمة. با کو زبر (فتح) اور ھاء کو جزم ہے، علامہ نووی نے فرمایا یہ بھیڑ کا چھوٹا بچہ ہے جو شاة کی طرح نر اور مادہ
دونوں پر بولا جاتا ہے۔ وقوله: داجن. صاحب مواہب نے کہا ہے کہ اس سے مراد گھریلو تازی، اور مسلم کی شرح
میں ہے کہ داجن گھر کی پالتو بکری کو کہتے ہیں۔
قوله: البرمة. پتھر کی ہانڈی۔ (ماخوذ از مرقات)۔
(59) وقوله: فساررته. امام نووی فرماتے ہیں اگر ضرورت ہو تو جماعت کی موجودگی میں بھی سرگوشی جائز ہے۔ البتہ
تین اشخاص میں سے دو شخصوں کا تیسرے کو چھوڑ کر سرگوشی کرنا منع ہے۔ اس میں جو بحث ہے وہ پوشیدہ نہیں۔ راجح
قول یہ ہے کہ یہ منع اس مقام پر ہے جہاں جماعت کو ضرر ہوتا ہے۔ وقوله: ذبحنا بهيمة الخ. مقصد یہ ہے کہ
یہ تھوڑی سی مقدار ہے اور آپ کے صحابہ بہت ہیں اس لئے پس آپ تشریف لائیں۔ (مرقات)۔
(60) وقوله: فتعال انت ونفر. نفر دس سے کم مرد حضرات کی جماعت کو کہتے ہیں۔ وقوله: صنع سورا سین کو
پیش اور واو کو جزم ہے، کھانے کو کہتے ہیں اور قاموس میں ہے کہ سور مہمان کے لئے تیار کئے جانے کو کہتے ہیں، اور
یہ لفظ فارسی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اپنا کرم فرمایا، فحی یا کو تشدید اور زبر ہے هلا یا ھاء کو زبر اور
لام کو تنوین ہے اور ایک نسخہ میں بغیر تنوین کے ہے اور بکسر میں بأ ثقہ یہ کلمہ ہے یعنی ان کے پاس اپنے آپ کو تیزی سے
لے چلو۔ وقوله: وبارك. یعنی آپ نے اس میں برکت کی دعا فرمائی۔ وقوله: واقدحي. دال کو زبر ہے
یعنی تمہاری ہانڈی میں سے ڈوئی کے ذریعہ سالن نکالتے جاؤ۔ (مرقات)۔
(61) وقوله: وهم۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تعداد جو کھانے والے تھے ایک ہزار تھی جو تین دن اور تین
رات سے بھوکے تھے۔ وقوله: لتغط۔ غ کو زیر اور ط کو تشدید ہے، یعنی جوش مار رہی تھی اور اس کے جوش کی آواز
سنائی دے رہی تھی۔ وقوله: كما هي۔ پہلی حالت کی طرح بھر پور تھی، ھی ضمیر کی خبر محذوف ہے۔ (مرقات)۔
(62) وقوله: كما هو۔ یعنی جیسا وہ پلیٹ میں تھا گویا اس میں سے کچھ بھی کم نہیں ہوا۔ امام نووی نے فرمایا تھوڑے
سے کھانے کو زیادہ کرنا، پانی کا پھوٹ نکلنا، اس کا زیادہ کرنا کھانے کا تسبیح پڑھنا، کھجور کے تنے کا لپٹ کر رونا اور اس
کے علاوہ بھی اس قدر احادیث سے ثابت ہیں جو کہ مجموعی طور پر درجہ تواتر تک پہنچ گئی ہیں اور اس سے علم قطعی
حاصل ہوتا ہے اور علماء کرام نے دلائل نبوت کے معجزات کو اپنی کتابوں میں جمع کیا ہے، جیسے علامہ قفال شاشی اور
ان کے شاگرد ابو عبداللہ حلیمی، علامہ ابوبکر بیہقی اور ان کے سوا دوسرے بزرگ ہیں (ان کی کتابوں میں مشہور) اور
ان میں بہترین کتاب بیہقی ہے۔ اللہ ہی کے لئے تعریف ہے کہ اس نے ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر انعام
فرمایا اور ہم پر آپ کا اکرام کر کے انعام فرمایا۔ (مرقات)۔
Commentary and footnotes (4)
Note 1
(1) His statement: Quraysh consulted: Allah, the Exalted, informed about this in His saying: And [remember] when those who disbelieved plotted against you to restrain you or kill you or expel you (Al-Anfal: 30). When they heard of the Ansar’s acceptance of Islam and their support, they feared and gathered in Dar al-Nadwah to consult about his matter. Iblis entered upon them in the form of an old man and said, “I am from Najd. I heard of your gathering, so I came to advise you.” Abu al-Bakhtari said, “My opinion is to imprison him in a house.” The old man said, “A bad opinion; his people will come and free him.” Hisham ibn Amr said, “Expel him from your land.” He said, “A bad opinion.” Abu Jahl said, “I suggest you take a young man from each tribe to kill him together, so his blood is spread among the tribes, and Banu Hashim cannot wage war against Quraysh.” They agreed to compensate for it, and he said, “This youth has spoken the truth,” so they dispersed on his opinion. (As stated in Al-Mirqat) (2) His statement: bind him: With a fatha on the hamza and kasra on the ba’, meaning tie him. His statement: with chains: With a fatha on the first letter, meaning what is used to bind. His statement: referring to the Prophet (ﷺ): Meaning they intended him with the hidden and apparent pronouns; it is most likely that binding him meant imprisoning him. His statement: Allah informed His Prophet of this: Meaning Jibril came and informed him of the news and ordered him to migrate. His statement: left: Meaning with Abu Bakr to the cave. His statement: they rushed: With a tha’ and alif, meaning they leapt. His statement: toward him: Meaning toward the one on the bed, thinking it was the Prophet (ﷺ). His statement: they followed: With tashdid on the sad, meaning they tracked. His statement: his tracks: Meaning the traces of his footsteps. His statement: when they reached the mountain: Meaning Mount Thawr. His statement: became unclear to them: Meaning the tracks became confused. His statement: they passed by the cave: Meaning the cave above that mountain, and they thought he was in it. His statement: If he had entered, etc.: It is said that when he entered the cave, Allah sent two pigeons to lay eggs at its base, and a spider wove over it. It is narrated that the polytheists climbed above the cave such that if they looked at their feet, they would have seen them. Abu Bakr feared for the Messenger of Allah (ﷺ), so he said, “What do you think of two, with Allah as their third?” Allah blinded them to the cave, so they circled around it but did not see them. His statement: he stayed: With damma or fatha on the kaf, meaning he remained. His statement: in it for three nights: Meaning then he proceeded to Madinah. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: تشاورت قريش: وقد أخبر الله سبحانه عنه بقوله: ﴿ وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ﴾ (الأنفال: (۳۰)، وذلك أنهم لما سمعوا بإسلام الأنصار ومتابعتهم خافوا واجتمعوا في دار الندوة متشاورين في أمره، فدخل عليهم إبليس في صورة شيخ، قال: أنا من نجد، سمعت اجتماعكم فحضرتكم لأنصحكم في رأيكم. قال أبو البختري رأيي أن تحبسوه في بيت، فقال الشيخ: بئس الرأي، يأتيكم قومه ويخلصه منكم. وقال هشام بن عمرو أن تخرجوه من أرضكم، فقال: بئس الرأي. وقال أبو جهل: أنا أرى أن تأخذوا من كل بطن غلاما، فيقتلوه دفعة واحدة، فيتفرق دمه في القبائل، فلا يقوي بنو هاشم على حرب قريش، فعقلناه، فقال: صدق هذا الفتى فتفرقوا على رأيه. كذا في «المرقاة».
Note 2
(۲) قوله فأثبتوه بفتح همز وكسر موحدة، فاربطوه. وقوله: بالوثاق بفتح أوله، وهو ما يشد به. وقوله: «يريدون النبي ﷺ أي يعنونه بالضميرين المستتر والبارز، والأظهر أن المراد بإثباته به حبسه. وقوله: «فاطلع الله نبيه على ذلك أي بأن جاءه جبريل وأخبره بالخبر وأمره بالهجرة. وقوله: خرج أي مع أبي بكر الله إلى الغار. وقوله: ثاروا بمثلثة بعدها ألف، أي وثبوا. وقوله: «عليه» أي على من على المرقد ظنا أنه النبي عليه. وقوله: «فاقتصوا» بتشديد الصاد المهملة، أي تتبعوا. وقوله: «أثره أي آثار قدمه. وقوله: «فلما بلغوا الجبل» أي جبل ثور. وقوله: اختلط عليهم أي اشتبه أمر الأثر. وقوله: «فمروا بالغار أي بالكهف الذي فوق ذلك الجبل، فظنوا أنه فيه وقوله: «لو دخل إلخ) وقيل : لما دخل الغار بعث الله حمامتين فباضتا في أسفله، والعنكبوت فنسجت عليه، وروي أن المشركين طلعوا فوق الغار بحيث لو نظروا إلى أقدامهم لرأوهما، فأشفق أبو بكر له على رسول الله ﷺ، فقال علي: ما ظنك باثنين الله ثالثهما فأعماهم عن الغار، فجعلوا يترددون حوله، فلم يروه. وقوله: «فمكث بضم الكاف وفتحه، أي لبث. وقوله: «فيه ثلاث ليال أي ثم توجه إلى المدينة. التقطته من «المرقاة».
Note 1
(1) قوله: تشاورت قريش (قریش نے مشورہ کیا)، اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اس کے بارے میں یہ وحی نازل فرمائی: ”وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ“۔ (8۔ سورۃ الانفال، آیت نمبر:30) اور اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو باخبر کر دیا۔ اور وہ اس لئے کہ قریش نے جب انصار کے اسلام لانے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنے کی خبر سنا تو خوف زدہ ہو گئے اور آپ کے معاملہ میں مشورہ کرنے کے لئے دار الندوہ میں جمع ہوئے اور شیطان بھی ایک بزرگ کی شکل میں داخل ہوا اور کہا: میں نجد سے آیا ہوں اور تمہارے اجتماع کے بارے میں سنا تو تمہارے پاس آ گیا تا کہ تمہارے مشورہ کے بارے میں خیر خواہی کروں، مشورہ شروع ہوا تو ابو البختری نے مشورہ دیا میری رائے یہ ہے کہ تم ان کو کسی کمرے میں قید کر دو۔ تو شیخ نجدی نے کہا: یہ کیا ہی بری رائے ہے، کیونکہ ان کی قوم تمہارے پاس آئے گی اور تم سے ان کو چھڑا کر لے جائے گی۔ اور ہشام بن عمرو نے کہا تم انہیں اپنی سر زمین سے نکال دو اس نے کہا یہ بھی کیا ہی بری رائے ہے اور ابو جہل نے کہا میری رائے یہ ہے کہ ہر خاندان میں سے تم ایک طاقتور نوجوان کا انتخاب کرو اور وہ سب مل کر ان کو ایک ہی دفعہ میں شہید کر دیں پھر یہ خون مختلف قبائل میں تقسیم ہو جائے گا تو بنی ہاشم کو پورے قریش سے جنگ کرنے کی قوت نہیں رہے گی اور ہم سب مل کر ان کی دیت دیدیں گے تو اس نے کہا اس نوجوان نے ٹھیک بات کہی ہے اور اسی رائے پر متفق ہو کر سب چلے گئے۔ (مرقات)۔ (2) قوله: فَأَثْبِتُوهُ. ہمزہ کو زبر (فتحہ) اور باء کو زیر (کسرہ) ہے یعنی ان کو باندھ دو جکڑ دو۔ قوله: والوَثاق. واو پر زبر (فتحہ) ہے، ایسی چیز جس سے باندھا جاتا ہے۔ قوله: يريدون النبي صلى الله عليه وسلم. اذا اصبح اور اثبتوه میں دونوں ضمیریں منتشر اور بارز سے ان کی مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اور اثبتوه میں اثبات سے ان کی مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قید کرنا ہے (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) وقوله: فاطلع الله نبيه صلى الله عليه وسلم ذلك. یعنی جبریل امین آئے اور آپ کو اس کی خبر دیئے اور ہجرت کا حکم لائے۔ وقوله: خرج: یعنی آپ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ غار کی طرف تشریف لے گئے۔ قوله: ثاروا: میں ث کے بعد الف ہے اس کے معنی ہیں وثبوا آپ پر ٹوٹ پڑے۔ وقوله: عليه اي على رضى الله عنه من على المرقد ظنا انه النبي صلى الله عليه وسلم. یعنی ان پر جو بستر پر تھے اس خیال میں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ وقوله: فمروا بالغار اي بالكهف الذى فوق ذلك الجبل فظنوا انه فيه. اور اس غار کے پاس سے گزرے جو پہاڑ کے اوپر تھا اور خیال کئے کہ آپ اس میں ہیں۔ وقوله: اثره. یعنی آپ کے نشان قدم پر چلے۔ وقوله: فلما بلغوا الجبل. جب وہ ثور پہاڑ پر پہنچے۔ وقوله: اختلط عليهم. یعنی نشان قدم ان پر مشتبہ ہو گئے۔ وقوله: لَوْ دخل الخ. کہا گیا ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غار میں داخل ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے دو کبوتریوں کو بھیجا وہ دونوں اس کے نیچے کے حصہ میں انڈے دیئے اور مکڑی کو بھیجا اور وہ جالا بُن دی اور روایت میں آیا ہے کہ مشرکین اس طرح غار کے اوپر چڑھے اگر وہ اپنے پاؤں کے نیچے کی طرف دیکھتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) اور ابوبکر رضی اللہ عنہ دونوں کو دیکھ لیتے ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فکر مند ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ماظنك باثنين، الله ثالثهما۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو غار دیکھنے سے اندھا کر دیا اور غار کے اطراف گھومتے رہے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھ سکے۔ قولُه: فمكث. ک کو پیش اور زبر دونوں طرح آیا ہے، یعنی آپ ٹھہرے رہے۔ وقوله : فيه ثلث ليال. اس میں تین رات۔ پھر مدینہ کی طرف چلے۔ (ماخوذ از مرقات)۔