Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 5688

Chapter on Miracles

In this book

Current reading

the Virtues

Chapter on Miracles

Zujajat al-Masabih 5688Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7368
حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرمایا میں جنگ حنین (110) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر رہا پس جب مسلمانوں اور کفار میں مڈبھیڑ ہوئی تو مسلمان پیٹھ پلٹا کر نکل گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر کو کفار کی جانب ایڑھ لگانے لگے اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خچر کی لگام پکڑ کر اس کو روک رہا تھا اس ارادہ سے کہ وہ تیز نہ دوڑے اور ابوسفیان بن حارث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رکاب تھامے ہوئے تھے پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عباس بیعت رضوان والوں کو آواز دو، حضرت عباس نے کہا اور چونکہ آپ بلند آواز والے تھے میں اپنی بلند آواز سے کہا اے بیعت رضوان والو کدھر ہو! فرمایا: خدا کی قسم! جب انہوں نے میری آواز سنی تو ایسا پلٹے جیسے گائے اپنے بچوں پر پلٹتی ہے اور وہ بولے ہم حاضر ہیں ہم حاضر ہیں کہتے ہیں مسلمان اور جنگ کئے اور انصار کو بھی آواز دی گئی (111) وہ کہتے تھے اے انصار کی جماعت اے انصار کی جماعت فرمایا پھر بنی حارث بن خزرج پر دعوت کو محدود کر دیا گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر پر سوار ان کی طرف ایسا دیکھے جیسے آپ ان سے جنگ کرنے کے انتظار میں ہیں اور فرمایا یہ لڑائی کے گرم ہونے کا وقت ہے، آپ نے چند کنکریاں لیں (112) اور ان کو کفار کے منہ پر پھینکا اور فرمایا رب محمد کی قسم وہ شکست کھا گئے پس خدا کی قسم اس کے سوا نہیں کہ آپ نے ان پر اپنی کنکریاں پھینکیں تو میں دیکھتا رہا کہ ان کی دھار کند ہوگئی اور ان کا معاملہ ذلت کا ہوگیا۔ (مسلم)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1775a (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (7)

Note 1

Holding

(1) His statement: day of Hunayn: In diminutive form. It is said: The Battle of Hunayn was in Shawwal, year eight, and Hunayn is a valley between Makkah and Ta’if, beyond Arafat. His statement: restrain her: With ḍamma on kāf and tashdid on fā’, meaning prevent her, the reason being to prevent the she-camel from hastening to the enemy’s side. His statement: and Abu Sufyan: It is said: His name was Al-Mughirah ibn al-Harith ibn Abd al-Muttalib, the Prophet’s (ﷺ) paternal cousin. “Holding” in the active form, meaning grasping the Messenger of Allah’s (ﷺ) stirrup out of etiquette and protection. His statement: call the companions of the acacia tree: With fatḥa then ḍamma, the tree under which they pledged allegiance on the day of Hudaybiyyah. His statement: who had a loud voice: Parenthetical from the narrator Abbas after. Loud-voiced: With tashdid on yā’, meaning strong-voiced, originally ṣawt, i‘lāl like sayyid. His statement: they fought: Meaning the Muslims and disbelievers, with accusative, meaning with them. (As stated in Al-Mirqat)

Note 2

on his she-camel,

(2) His statement: the call: Subject. His statement: they say: Its predicate. His statement: among the Ansar: Meaning for the Ansar specifically, instead of the previous for the Muhajirun. His statement: the Messenger of Allah looked while on his she-camel: The wāw for state, meaning he looked while on his she-camel. His statement: like one dominating her: State from the raised pronoun in “on his she-camel,” meaning like the dominant one able to drive her. It is said: Like one stretching his neck to see what is far from him, leaning toward their fighting. At-Tibi said: Attached to “looked.” His statement: this is when the battle rages: More apparent: “This” subject, “when” predicate, built on fatḥa for attachment to the verb, meaning this time is when war intensifies. Then the wāṭīs is the oven’s heat or the oven itself, likened to the battle’s intensity resembling its heat. (As stated in Al-Mirqat)

Note 3

then he took pebbles, etc.

(3) His statement: then he took pebbles, etc.: Two apparent miracles for the Messenger of Allah (ﷺ), one active and one informative; he informed of their defeat and pelted them with pebbles, and they fled. Al-Nawawi said this. His statement: weak: Meaning frail. His statement: their affair fleeing: Meaning their state humiliated. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: يوم حنين بالتصغير قيل: غزوة حنين كانت في شوال سنة ثمان وحنين واد بين مكة والطائف وراء عرفات. وقوله: «أكفها» بضم الكاف وتشديد الفاء، أي أمنعها وعلة منعها إرادة أن لا تسرع» أي البغلة إلى جانب العدو. وقوله: وأبو سفيان. قيل: اسمه المغيرة بن الحارث بن عبد المطلب ابن عم النبي ، «آخذ» بصيغة الفاعل، أي ماسك بركاب رسول الله ﷺ أي تأدبا ومحافظة. وقوله: «ناد أصحاب السمرة بفتح فضم، وهي الشجرة التي بايعوا تحتها يوم الحديبية. وقوله: وكان رجلا صيتا جملة معترضة من كلام الراوي العباس بعده. و الصيت بتشديد الياء، أي قوي الصوت، وأصله صيوت، وإعلاله إعلاله سيد. وقوله: «فاقتتلوا» أي المسلمون والكفار بالنصب، أي معهم. التقطته من «المرقاة».

Note 2

قوله

(۲) قوله: والدعوة: مبتدأ. وقوله: يقولون» خبره. وقوله: «في الأنصار أي في حق الأنصار، والمعنى: والنداء في حق الأنصار بخصوصهم بدل ما تقدم في حق المهاجرين. وقوله: فنظر رسول الله ﷺ وهو على بغلته الواو للحال، أي نظر حال كونه على بغلته. وقوله: «كالمتطاول عليها حال من الضمير المرفوع في على بغلته» أي كالغالب القادر على سوقها. وقيل: كالذي يمد عنقه؛ لينظر إلى ما هو بعيد عنه مائلا إلى قتالهم وقال الطيبي: هو متعلق به «نظر». وقوله: هذا حين حمي الوطيس الأظهر أن «هذا» مبتدأ و «حين» خبره، وبنى على الفتح لإضافته إلى الفعل، أي هذا الزمان زمان اشتداد الحرب، ثم الوطيس شدة التنور أو التنور نفسه يضرب مثلا لشدة الحرب التي يشبه حرها حره التقطته من المرقاة».

Note 3

قوله

(۳) قوله : ثم أخذ حصيات إلخ فيه معجزتان ظاهرتان لرسول الله ، إحداهما فعلية والأخرى خبرية؛ فإنه أخبر بهزيمتهم، ورماهم بالحصيات فولوا مدبرين قاله النووي. وقوله: «كليلا أي ضعيفا. وقوله: «وأمرهم مديرا» أي وحالهم ذليلا. كذا في «المرقاة».

Note 1

(110) وقولہ: یوم حنین: لفظ حنین مصغر ہے اور کہا گیا ہے کہ یوم حنین سے مراد جنگ حنین ہے جو شوال 8 ہجری میں ہوئی تھی اور حنین مکہ مکرمہ اور طائف کے درمیان ایک وادی کا نام ہے جو کہ عرفات کے پیچھے ہے۔ وقولہ: اكفها۔ ک کو پیش اور ف کو تشدید ہے، یعنی میں اس کو روک رہا تھا۔ اور روکنے کا سبب خچر کو دشمن کی طرف تیزی سے بڑھنے سے روکنا تھا۔ وقولہ: ابو سفیان: کہا گیا کہ ان کا نام مغیرہ بن حارث بن عبدالمطلب ہے آپ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ الصلوۃ والسلام کے چچازاد بھائی ہیں۔ آخذ: فاعل کا صیغہ ہے، یعنی پکڑے ہوئے تھے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے رکاب کو اور با حفاظت تھامے ہوئے تھے۔ وقولہ: ناد اصحاب السمرة۔ سین کو فتحہ میم کو پیش ہے، یہ وہ درخت ہے جس کے نیچے صحابہ نے صلح حدیبیہ کے موقعہ پر بیعت کی۔ وقولہ: وكان رجلا صيتا۔ یہ جملہ معترضہ ہے راوی حضرت عباس اور ان کے کلام کے درمیان جو اس کے بعد ہے۔ اور صیّت میں یاء کو تشدید ہے جس کے معنی ہیں زوردار آواز والے اس کی اصل صیوت ہے اور اس کی تخفیف لفظ سید کی تقلیل کی طرح ہے۔ وقولہ: فاقتتلوا۔ یعنی مسلمان کافروں کے ساتھ لڑے والكفار میں راء کو نصب ہے اور واو بمعنی مع کے ہے۔ (ماخوذ از مرقات)۔ (111) وقوله: والدعوة. یہ ترکیب میں مبتدا ہے اور یہ قول ان کی خبر ہے۔ وقوله: فى الانصار یعنی انصار کے حق میں مطلب یہ ہے کہ خاص طور پر انصار کے لئے آواز دینا یہ مہاجرین کے حق سے پہلے جو ندا دی گئی تھی اس کی جگہ میں ہے۔ وقوله: فنظر رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو على بغلته. اس میں واو حالیہ ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر پر سوار رہنے کی حالت میں ان کو دیکھے۔ وقوله: كالمتطاول عليها. یہ ضمیر مرفوع سے حال ہے جو على بغلته میں (مقدر) ہے یعنی اس کو چلا نے پر قادر و غالب کی طرح اور یہ بھی کہا گیا ہے یعنی اس شخص کی طرح جو اپنی گردن کو دراز کرتا ہے اپنے سے دور کی چیز کو دیکھنے کے لئے ان سے جنگ کی طرف مائل ہوتے ہوئے۔ اور علامہ طیبی نے فرمایا الى قتالهم، نظر کے متعلق ہے۔ قوله: هذا حين حمى الوطيس. راجح بات یہ ہے کہ هذا مبتدا ہے اور حين اس کی خبر ہے، اور مبنی بر فتحہ ہے کیونکہ اس کی اضافت فعل کی طرف ہے یعنی یہ وقت جنگ کے تیز تر ہونے کا وقت ہے، پھر وطیس تنور کے تیز ہونے کو یا خود تنور کو کہتے ہیں، یہ مثال بیان کی جاتی ہے جنگ کی شدت کے لئے جس کی گرمی تنور کی گرمی کی طرح ہوتی ہے۔ (ماخوذ از: مرقات)۔ (112) قوله: ثم اخذ حصيات الخ. اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو کھلے معجزے ہیں۔ ان میں سے ایک فعلیہ ہے اور دوسرا معجزہ خبریہ ہے کیونکہ آپ نے ان کی شکست کی خبر دی اور ان پر کنکریاں پھینکیں تو وہ پیٹھ پلٹا کر بھاگے یہ امام نووی نے فرمایا۔ وقوله: كليلا. یعنی کمزور و کند۔ وقوله: وامرهم مدبرا. یعنی ان کی حالت ذلت کی ہوگئی۔ (مرقات)۔