Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 5966

Chapter on the Comprehensive Virtues

In this book

Current reading

the Virtues

Chapter on the Comprehensive Virtues

Zujajat al-Masabih 5966Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7684
حضرت خیثمہ ابن ابی سبرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا: میں مدینہ کو آیا اور اللہ سے دعا کیا کہ میرے لئے ایک نیک ہمنشین میسر کر دے، تو اُس نے میرے لئے ابوہریرہ کو میسر کیا، تو میں ان کے پاس بیٹھا اور عرض کیا کہ میں نے اللہ سے سوال کیا تھا کہ میرے لئے ایک نیک ہمنشین فراہم کر دے، تو آپ کو میرے لئے توفیق دی گئی، تو انہوں نے کہا تم کہاں کے ہو؟ تو میں نے کہا کہ اہل کوفہ میں سے ہوں، بھلائی کی تلاش و طلب میں آیا(12) ہوں، تو انہوں نے کہا کیا تم میں سعد بن مالک مجاب الدعوۃ (مقبولِ دعاء) اور ابن مسعود جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے وضو کا پانی اور نعلین شریفین اُٹھائے رکھنے والے ہیں، اور حذیفہ جو صاحبِ سرِّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رازدار) اور عمار جن کو اللہ نے اپنے نبی کی زبان پر شیطان سے بچایا ہے، اور سلمان صاحب کتابین، یعنی انجیل و قرآن والے انہیں ہیں۔ (ترمذی)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3811 (unverified) 85% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 6234 (unverified) 30% confidence

Mishkat (candidate) 6234

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

seeking goodness

(1) The statement “seeking goodness”: Meaning knowledge accompanied by action, expressed as wisdom, about which Allah said: And whoever is given wisdom has been given abundant good [Qur’an 2:269]. The statement “pursuing it” is an explanatory apposition indicating emphasis. The statement “Sa’d ibn Malik”: Meaning Sa’d ibn Abi Waqqas. The statement “companion of the two Books”: Meaning the Gospel and the Qur’an, as he believed in the Gospel before the Qur’an’s revelation and acted upon it, then believed in the Qur’an as well. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: التمس الخير : أي العلم المقرون بالعمل المعبر عنهما بالحكمة التي قال الله فيها: ﴿وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْراً كَثِيراً) (البقرة: ٢٦٩). وقوله: «أطلبه» عطف تفسير يفيد بيان المبالغة. وقوله: «سعد بن مالك وهو سعد بن أبي وقاص. وقوله: صاحب الكتابين يعني الإنجيل والقرآن؛ فإنه آمن بالإنجيل قبل نزول القرآن وعمل به، ثم آمن بالقرآن أيضا. كذا في «المرقاة».

Note 1

(12) قوله: التمس الخير۔ یعنی ایسا علم جو عمل کے ساتھ ہو، جس کو حکمت سے تعبیر کیا گیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا“۔ (2، البقرۃ، آیت نمبر:268) جس کو حکمت دی گئی اس کو خیر کثیر دیا گیا۔ (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) وقوله: اطلبه. یہ عطف تفسیری ہے، بیان مبالغہ کا فائدہ دیتا ہے۔ وقوله: سعد بن مالک آپ سعد بن ابی وقاص ہیں۔ وقوله: صاحب الكتابين. یعنی انجیل و قرآن کیونکہ آپ نے نزول قرآن سے پہلے انجیل پر ایمان لایا اور اس پر عمل کرتے رہے، پھر قرآن پر بھی ایمان لائے۔ (مرقات)