اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7703
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا: قرآن کو
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چار حضرات (30) نے جمع کیا: ابی بن کعب، معاذ بن جبل، زید
بن ثابت اور ابو زید۔ تو حضرت انس سے کہا گیا ابو زید کون ہے تو انہوں نے کہا میرے ایک چچا ہیں
(متفق علیہ)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 5003 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 2465a (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement “four”: Anas meant four from his tribe, the Khazraj, as it is narrated that some Muhajirun also collected the Qur’an. The point is that these four Ansar memorized the entire Qur’an during his lifetime. There is no contradiction with the narration “Learn the Qur’an from four,” as the number’s implication is not definitive, and learning from them does not mean they memorized it all. Al-Mazari said in Muslim’s commentary: Some skeptics used this Hadith to question the Qur’an’s transmission. The response is twofold: First, it does not state only these four collected it; Anas meant the most knowledgeable Ansar were these four, not negating others. Muslim narrated that many companions memorized it during the Prophet’s (ﷺ) time, with Al-Mazari naming fifteen. It is confirmed that seventy who collected the Qur’an were killed at Yamamah, shortly after the Prophet’s (ﷺ) departure from this world. What of those who survived or were absent? Major companions like Abu Bakr, Umar, Uthman, and Ali likely collected it, given their zeal for good. Second, even if only four collected it, this does not undermine its transmission, as tawatur does not require all to transmit all; if each part is transmitted by a sufficient number, the whole is indisputably tawatur. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: أربعة: أي من الرجال أراد أنس بالأربعة أربعة من رهطه وهم خزرجيون؛ إذ روي أن جمعا من المهاجرين أيضًا جمعوا القرآن، والحاصل أن الذين حفظوا القرآن كله في حياته وهم من الأنصار هذه الأربعة، فلا منافاة بينه وبين خبر: «استقرؤا القرآن على أن مفهوم العدد غير معتبر، وعلى أنه لا يلزم من الأخذ بالقرآن منهم أن يكونوا استظهروا القرآن جميعه، هذا. وفي شرح مسلم: قال المازري: هذا الحديث مما تعلق به بعض الملاحدة في تواتر القرآن وجوابه من وجهين، أحدهما: أنه ليس فيه تصريح بأن غير الأربعة لم يجمعه، فيكون المراد الذين أعلمهم من الأنصار أربعة، والمراد نفي علمه لا نفي غيره من القراء. وقد روي مسلم حفظ جماعات من الصحابة في عهد النبي ، وذكر منهم المازري خمسة عشر صحابيا، وثبت في الصحيح أنه قتل يوم اليمامة سبعون ممن جمع القرآن، وكانت اليمامة قريبا من وفاة النبي ، فهؤلاء الذين قتلوا من جامعيه يومئذ، فكيف الظن بمن لم يقتل ممن حضرها، ومن لم يحضرها، ولم يذكر في هؤلاء الأربعة أبو بكر وعمر وعثمان وعلي ونحوهم من كبار الصحابة الذين يبعد كل البعد أنهم لم يجمعوه مع كثرة رغبتهم في الخير، وحرصهم على ما هو دون ذلك من الطاعات، وكيف يظن هذا بهم ونحن نرى أهل عصرنا يحفظ منهم في كل بلده ألوف، وثانيهما: أنه لو ثبت أنه لم يجمع إلا أربعة لم يقدح في تواتره؛ إذ ليس من شرط التواتر أن ينقل جميعهم جميعه، بل إذا نقل كل جزء عدد التواتر صارت الجملة متواترة بلا شك. كذا في «المرقاة».
Note 1
(30) قوله: اربعة. یعنی مردوں میں سے چار حضرات، اس سے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مراد ان کے قبیلہ خزرج کے چار حضرات ہیں، یہ اس لئے کہ مہاجرین کی جماعت نے بھی قرآن کو جمع کیا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جن حضرات نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پورا قرآن حفظ کیا ہے انصار میں یہ چار حضرات ہیں۔ اس حدیث شریف میں اور دوسری حدیث شریف ”استقرؤا القرآن من أربعة“ میں کوئی منافات نہیں ہے۔ وہ اس بناء پر کہ یہاں گنتی اور تعداد مقصود نہیں ہے، اور اس لئے بھی کہ ”إستقرءوا القرآن من أربعة“ کی خبر میں جن چار حضرات سے قرآن سیکھنے کا حکم دیا گیا ہے، اُس سے یہ لازم آتا ہے کہ یہ چاروں مکمل قرآن کو یاد کئے ہوئے حافظ ہوں۔ اور شرح مسلم میں ہے علامہ مازری نے فرمایا: اس حدیث شریف سے بعض ملحدین نے قرآن مجید کے متواتر ہونے میں کلام کیا ہے۔ اس کا جواب دو طرح سے ہے: ایک جواب یہ ہے کہ اس میں ایسی کوئی صراحت نہیں ہے کہ ان چار حضرات کے علاوہ کسی نے قرآن کو حفظ و جمع نہیں کیا، بلکہ ان کی مراد یہ ہے کہ انصار میں سے میرے علم کے مطابق چار ہیں، اس میں ان کے مطابق نفی ہے، ان کے علاوہ وہ دیگر قرّاء (حفاظ) کی نفی نہیں ہے۔ اور امام مسلم نے روایت کیا ہے کہ صحابہ کی جماعتیں ہیں جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں قرآن مجید کو حفظ کیا۔ اور امام مازری نے ان میں سے پندرہ (15) صحابہ کا ذکر کیا ہے۔ اور صحیح حدیث میں ثابت ہے کہ جنگ یمامہ کے موقعہ پر ستر (70) قراء (حفاظ) صحابہ شہید ہوئے تھے، اور جنگ یمامہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی (حاشیہ پچھلے صفحے سے) وفات سے قریب زمانہ میں ہوئی ہے، پھر یہ تعداد اُن حفاظ صحابہ کی ہے جو اس دن شہید ہوئے تھے تو تمہارا کیا خیال ہے ان حفاظ کی تعداد کے بارے میں جو اس جنگ میں شریک ہونے والوں میں سے شہید نہیں ہوئے تھے۔ اور وہ صحابہ بھی ہیں جو جنگ میں شریک ہی نہیں تھے۔ پھر مزید یہ ہے کہ ان چاروں حضرات کے ساتھ حضرات خلفاء راشدین سیدنا ابوبکر و عمر و عثمان و علی رضی اللہ عنہم اور ان کے جیسے کبار صحابہ کا تو ذکر ہی نہیں کیا گیا، جو چھوٹی چھوٹی نیکیوں میں حرص اور شدید رغبت رکھتے تھے ان کے بارے میں یہ خیال تک نہیں ہوسکتا کہ وہ قرآن کو حفظ نہ کئے ہوں جب کہ ہم دیکھتے ہیں ہمارے زمانہ میں ہر ہر شہر میں ہزاروں حافظ قرآن مجید ہیں۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ ولو بالفرض اگر یہ ثابت بھی ہوجائے کہ ان چار اصحاب کے سوا دوسروں نے جمع یعنی مکمل قرآن حفظ نہیں کیا تھا، تب بھی اس سے تواتر کے ثبوت میں فرق نہیں پڑتا کیونکہ تواتر کے لئے یہ شرط نہیں ہے کہ جملہ اصحاب پورا کلام نقل کئے ہوں، بلکہ ہر جز کو تواتر کی درکار تعداد میں صحابہ نے جب نقل کر دیا ہے تو بلاشبہ سارا کلام متواتر ہوگا۔ (مرقات)