اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7718
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا ہر نبی کے سات نجباء اور رقباء(47) ہیں اور مجھے چودہ عطا کئے گئے ہیں۔ ہم عرض کئے وہ
کون ہیں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا میں اور میرے دونوں صاحبزادے اور حضرت جعفر وحمزہ
وابوبکر وعمر مصعب بن عمیر اور بلال وسلمان وعمار وعبداللہ بن مسعود اور ابوذر اور مقداد۔ (ترمذی)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 3785 (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement “seven noble guardians”: With “seven” added, both “noble” and “guardians” are in the plural form. “Noble” refers to the honorable and chosen, and “guardians” to those who protect with capability. The meaning refers to those present during the time of each prophet, as indicated by “I have been given.” The statement “we said”: Meaning, to Ali, “Who are they?” The statement “he said”: Meaning Ali said: “Myself, etc.” (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: سبعة نجباء رقباء بإضافة سبعة، وهما على وزن فعلاء جمع، والنجيب وهو الكريم المختار، والرقيب الحافظ على الاقتدار، والمراد بهم الموجودون في زمن كل نبي لقوله: وأعطيت وقوله: «قلنا» أي لعلي من هم؟ «قال» أي علي: أنا إلخ.
Note 1
(47) وقوله: سبعة نجباء رقباء۔ سبعہ مضاف ہے اور نجباء ورقباء مضاف الیہ ہیں۔ اور یہ دونوں فعلاء کے وزن پر جمع ہیں۔ نجیب کے معنی ہیں کریم منتخب شدہ پسندیدہ اور رقیب اقتدار کی حفاظت کرنے والے کو کہتے ہیں۔ ان سے مراد ہر نبی کے زمانہ میں موجود حضرات ہیں۔ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و اعطیت سے سمجھ میں آتی ہے۔ وقوله: قلنا۔ یعنی ہم حضرت علی سے عرض کئے وہ کون ہیں۔ آپ نے یعنی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں الخ۔