Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 6006

Chapter on the Comprehensive Virtues

In this book

Current reading

the Virtues

Chapter on the Comprehensive Virtues

Zujajat al-Masabih 6006Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7726
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: ایمان کی علامت(54) انصار کی محبت ہے اور نفاق کی علامت انصار سے بغض ہے۔ (متفق علیہ)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 17 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 74a (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

sign of faith

(1) The statement “sign of faith”: Meaning a sign of its perfection. The statement “love for the Ansar”: Ibn At-Tin said: This refers to loving all of them, as this is for the sake of religion. If someone hates one of them for a justifiable reason, they are not included in this. This is a good explanation. The Ansar are the supporters of the Messenger of Allah (ﷺ) from the Aws and Khazraj. Before Islam, they were known as the sons of Qaylah, their common ancestress. The Prophet (ﷺ) named them the Ansar, and it became their title. The Qur’an praised them. The term extended to their children, allies, and freed slaves. They earned this virtue by sheltering and supporting the Prophet (ﷺ), establishing faith and a home in Madinah, making it their permanent base. This led to enmity from Arabs and non-Arabs, resulting in envy and hatred. Hence, the warning against hating them and the encouragement to love them. Whoever loves them has perfected their faith, and whoever hates them shows a sign of hypocrisy and deficiency. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله : آية الإيمان أي علامة كماله. وقوله: «حب الأنصار قال ابن التين المراد حب جميعهم؛ لأن ذلك إنما يكون للدين، فمن أبغض بعضهم لمعنى يسوغ البغض به فليس داخلا في ذلك، وهو تقرير حسن، والمراد بالأنصار أنصار رسول الله ﷺ من الأوس والخزرج، وكانوا يُعرفون قبل الإسلام بأبناء قيلة، وهي الأم التي تجمع القبيلتين، فسماهم النبي ﷺ الأنصار، فصار علما لهم، ونزل القرآن بمدحهم. وقد أطلق على أولادهم وحلفائهم ومواليهم، وإنما فازوا بهذه المنقبة لأجل إيوائهم النبي ﷺ ونصرته حيث تبوؤا الدار والإيمان، وجعلوه مستقرا ومتوطنا لهم؛ لتمكنهم منه واستقامتهم عليه، كما جعلوا المدينة كذلك، فكان ذلك موجبا لمعاداة العرب والعجم، فأفضى ذلك إلى الحسد، وهو يجر إلى البغض، فلذا جاء الترهيب عن بغضهم والترغيب في حبهم، فمن أحبهم فذلك من كمال إيمانه، ومن أبغضهم فذلك من علامة نفاقه ونقصانه. كذا في «المرقاة».

Note 1

(54) قوله: آية الايمان. یعنی کمال ایمان کی علامت۔ قوله: حب الانصار. ابن تین نے کہا مراد تمام انصار کی محبت ہے کیونکہ یہ دین کی وجہ سے ہے پس جو ان میں سے کسی سے دلی صفائی نہ رکھے کسی مناسب معنی کی وجہ سے تو وہ اس وعید کے تحت داخل نہ ہوگا، اور انصار سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انصار ہیں اوس و خزرج قبیلوں کے اور وہ اسلام سے پہلے ابناء قیلہ سے جانے جاتے تھے اور یہ اصل ہے جو دو قبیلوں کو جمع کرتی ہے سو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو انصار سے موسوم کیا تو وہ ان کا نام ہی ہوگیا اور قرآن کریم ان کی تعریف میں نازل ہوا اور ان کی اولاد ”وحلیفوں“ غلاموں پر انصار کا اطلاق کیا گیا بے شک وہ اس فضیلت کے حقدار بنے ان کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو (خالصانہ طور پر) ٹھکانہ دینے اور آپ کے دین کی (بے لوث) مدد کرنے کی وجہ سے جیسا کہ وہ گھر اور ایمان کو ٹھکانا بنانے اور انہوں نے اس کو اپنے لئے مستقر اور وطن بنا لیا ان کے ایمان پر قابو پا لینے اور اس پر استقامت کی وجہ سے جیسا کہ انہوں نے مدینہ کو اسی طرح بنا لیا سو یہ بات عرب و عجم کیلئے ان سے دشمنی کا باعث ہوئی اور یہ حسد تک پہنچا دیتی اور حسد بغض تک لے جاتا اسی لئے ان سے بغض رکھنے سے ترہیب آئی اور ان سے محبت رکھنے میں ترغیب آئی پس جو ان سے محبت کرے یہ اس کے کمال ایمان کی علامت اور جو ان سے بغض رکھے یہ اس کے نفاق اور یقین کی کمزوری کی علامت ہے۔ (مرقات)