ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب جنازہ آجائے اور تم بے وضوء ہو (اور وضوء کرنے کا تک نماز جنازہ
کے فوت ہوجانے کا خوف ہو) تو تیمم کرلو۔ (اس کی روایت ابن عدی نے کی ہے۔)
ف: اس حدیث میں مذکور ہے کہ نماز جنازہ تیار ہو اور اندیشہ ہو کہ اگر وضوء کرنے لگیں تو نماز
جنازہ فوت ہوجائے گی تو ایسی صورت میں جائز ہے کہ تیمم کرلے اور نماز جنازہ میں شریک ہوجائے
کیونکہ نماز جنازہ کا بدل اور قائم مقام کوئی اور نماز نہیں ہے البتہ میت کا ولی یعنی ایسے قریبی رشتہ دار ہو کہ
جس کو نماز جنازہ پڑھانے کا حق ہے اور اسی طرح بادشاہ اور قاضی یہ تینوں مذکورہ بالا صورت میں تیمم نہیں
کریں گے بلکہ وضوء ہی کریں گے اس لئے کہ ان کا انتظار کیا جا سکتا ہے۔12
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں مذکور ہے کہ نماز جنازہ تیار ہو اور اندیشہ ہو کہ اگر وضوء کرنے لگیں تو نماز جنازہ فوت ہوجائے گی تو ایسی صورت میں جائز ہے کہ تیمم کرلے اور نماز جنازہ میں شریک ہوجائے کیونکہ نماز جنازہ کا بدل اور قائم مقام کوئی اور نماز نہیں ہے البتہ میت کا ولی یعنی ایسے قریبی رشتہ دار ہو کہ جس کو نماز جنازہ پڑھانے کا حق ہے اور اسی طرح بادشاہ اور قاضی یہ تینوں مذکورہ بالا صورت میں تیمم نہیں کریں گے بلکہ وضوء ہی کریں گے اس لئے کہ ان کا انتظار کیا جا سکتا ہے۔12