ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً
اللہ تعالیٰ نے میری امت کے ان وسوسوں کو معاف فرما دیا ہے جو ان کے دلوں میں پیدا ہوتے ہیں،
جب تک کہ ان پر عمل نہ کریں یا اس کو زبان سے ظاہر نہ کریں۔ (بخاری اور مسلم نے بالاتفاق اس کی
روایت کی ہے)۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ چند صحابہ رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی
خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہمارے دلوں میں بعض ایسے خیالات آتے ہیں جن کا زبان
پر لانا بڑا جرم معلوم ہوتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم ایسا پا رہے ہو؟ صحابہ رضی اللہ عنہم
نے عرض کیا: جی ہاں! ارشاد فرمایا کہ یہ کھلا ہوا ایمان ہے۔ (مسلم نے اس کی روایت کی ہے)۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم
میں سے کسی کے پاس شیطان آ کر کہتا ہے: اس چیز کو کس نے پیدا کیا؟ اس چیز کو کس نے پیدا کیا؟
یہاں تک کہ وہ کہے گا کہ تیرے رب کو کس نے پیدا کیا؟ جب اس نوبت پر آ جائے تو اسے چاہئے کہ
اللہ سے پناہ مانگے اور ایسی باتوں سے رک جائے۔ (بخاری اور مسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی
ہے)۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ
ایک دوسرے سے سوال کرتے رہیں گے یہاں تک کہ یہ کہا جائے گا کہ مخلوق کو تو اللہ نے پیدا کیا ہے:
اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ پس جو شخص ایسی کوئی بات اپنے دل میں پائے تو کہہ دے ”آمَنْتُ بِاللّٰهِ وَ
رُسُلِهِ“ میں اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا۔ (بخاری اور مسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی
ہے)۔
ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تم میں سے ہر ایک کے ساتھ ایک ہم نشین جنوں میں سے (یعنی شیطان) اور ایک ہم نشین فرشتوں
میں سے مقرر کیا گیا ہے، لوگوں نے عرض کیا: کیا آپ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہے یا رسول اللہ؟ فرمایا: میرے
ساتھ بھی ایسا ہی ہے لیکن اللہ نے میری اس کے خلاف مدد فرمائی۔ پس وہ میرا مطیع ہو گیا ہے (اس
لئے میں اس کے شر سے بچا رہتا ہوں) پس وہ مجھے صرف بھلائی کا مشورہ دیتا ہے (مسلم نے اس کی
روایت کی ہے)۔
انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
شیطان کا (وسوسہ اور مکر و فریب) انسان پر اس طرح جاری رہتا ہے جس طرح انسان کا خون انسان
میں جاری و ساری رہا کرتا ہے۔ (بخاری و مسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے)۔
ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا: بنی آدم کے ہر پیدا ہونے والے بچہ کو اس کی پیدائش کے وقت شیطان چھوتا ہے، جس کی
وجہ سے بچہ چیخ اُٹھتا ہے، بجز حضرت مریم اور ان کے فرزند حضرت عیسیٰ علیہما السلام کے (کہ ان کو
شیطان نے مس نہیں کیا)۔ (بخاری اور مسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے)۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
نومولود کا پیدائش کے وقت چلانا شیطان کے چوکانے کی وجہ سے ہوا کرتا ہے۔
(بخاری اور مسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے)۔
جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بتحقیق
ابلیس اپنا تخت پانی پر رکھتا ہے، پھر اپنی فوجیں بھیجتا ہے کہ لوگوں کو فتنے میں مبتلا کریں، ان میں ابلیس کا
زیادہ مقرب وہ ہے جو سب سے بڑا فتنہ برپا کرے، چنانچہ ایک ایک ان میں کا آتا ہے اور کہتا ہے کہ
میں نے فلاں فلاں فتنے پیدا کئے، تو ابلیس کہتا ہے کہ تو کچھ بھی نہیں کیا، پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا کہ، ان میں کا ایک آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے اس وقت تک اس کو نہیں چھوڑا جب تک کہ
میں نے مرد اور اس کی بیوی میں جدائی نہ ڈال دی۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابلیس اس کو اپنے قریب بلاتا ہے اور کہتا ہے کہ تو بہت
اچھا ہے! اعمش رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، مجھے خیال پڑتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ابلیس اس کو گلے لگاتا ہے۔ (مسلم نے اس کی روایت کی ہے۔)
جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
بے شک شیطان اس بات سے ناامید ہوگیا ہے کہ جزیرۂ عرب میں نمازی (یعنی مسلمان) اس کی
پرستش کریں (یعنی ان کے شرک کرنے سے مایوس ہوگیا) لیکن ان کے آپس میں خانہ جنگی کرانے
سے مایوس نہیں ہوا۔ (مسلم نے اس کی روایت کی ہے۔)
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی
خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں اپنے دل میں ایسے خیالات پاتا ہوں کہ ان کے اظہار کی
بجائے مجھے جل کر کوئلہ ہوجانا زیادہ پسند ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خدا کا شکر ہے کہ
ان خیالات کو وسوسہ کی طرف پھیر دیا۔ (ابوداؤد نے اس کی روایت کی ہے۔)
ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: درحقیقت ہر انسان پر ایک تصرف تو شیطان کا ہوا کرتا ہے اور دوسرا فرشتہ کا۔ شیطان کا تصرف
(یعنی وسوسہ) برائی پر انسان کو ابھارنا اور حق کا جھٹلانا ہے، اور فرشتہ کا تصرف (یعنی الہام) نیکی پر
ابھارنا اور حق کی تصدیق کرنا ہے، پس جس نے یہ کیفیت پائی تو یقین کرلے کہ یہ اللہ کی طرف سے
ہے، پس اللہ کا شکر بجالائے اور جس نے دوسری کیفیت (یعنی وسوسہ شیطانی) پائی تو اسے چاہئے کہ
شیطان مردود سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آئے، پھر آپ نے (سورہ بقرہ، پ:3، ع:37، آیت
نمبر:268 کی) یہ آیت ﴿الشَّيْطٰنُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَاءِ﴾ تلاوت فرمائی (یعنی
شیطان تم کو فقر و فاقہ سے ڈراتا ہے اور بے حیائی اور بری بات یعنی بخل پر ابھارتا ہے)۔ (اس کی
روایت ترمذی نے کی ہے)۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت
کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ ایک دوسرے سے مختلف سوال کرتے رہیں
گے یہاں تک کہ کہا جائے گا کہ اس مخلوق کو تو خدا نے پیدا کیا ہے، اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ جب لوگ ایسا
کہیں تو تم کہو: اللہ ایک ہے، اللہ بے نیاز ہے، اس کا کوئی بیٹا ہے نہ اس کے کوئی ماں باپ اور نہ کوئی
ہمسر (یعنی زوجہ) پھر اپنی بائیں جانب تین مرتبہ تھوک دے، اور شیطان مردود سے اللہ کی پناہ میں
آئے۔ (ابوداؤد نے اس کی روایت کی ہے)۔
انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لوگ ایک دوسرے پر مختلف سوالات کرتے رہیں گے، یہاں تک کہ کہیں گے کہ یہ اللہ تعالیٰ ہے اس نے ہر
چیز کو پیدا کیا اور اللہ عزوجل کو کس نے پیدا کیا۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے)۔
اور مسلم کی روایت اس طرح ہے: ”راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: اللہ فرماتا ہے کہ آپ کی امت ہمیشہ کہتی رہے گی یہ کیسے ہوا؟ یہ کیسے ہوا؟ یہاں تک کہیں گے اللہ
نے مخلوق کو پیدا کیا، اللہ عزوجل کو کس نے پیدا کیا؟“۔
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں میں نے عرض کیا:
یا رسول اللہ! شیطان مجھ میں اور میری نماز اور قرأت میں حائل ہو گیا ہے کہ مجھ پر ان چیزوں کا شبہ ڈالتا
رہتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ شیطان ہے، اس کا نام ”خِنْزَب“ ہے جب تم کو
اس کا احساس ہو تو اللہ کی پناہ مانگو اور اپنی بائیں جانب تین دفعہ تھوک دو، عثمان بن ابی العاص رضی اللہ
عنہ کہتے ہیں میں نے ایسا ہی کیا تو اللہ نے اس کو مجھ سے دفع کر دیا (مسلم نے اس کی روایت کی
ہے۔)
قاسم بن محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ان سے دریافت کیا
کہ مجھے نماز میں وہم ہوتا رہتا ہے اور یہ بات مجھ پر گراں گزرتی ہے پس انہوں نے کہا کہ نماز ادا
کرتے رہو، وہم سے دفع نہ ہوگا، یہاں تک کہ تم اپنی نماز ختم کرتے ہوئے کہو گے کہ میں نے اپنی نماز
کامل طریقہ سے ادا نہیں کی۔ (امام مالک نے اس کی روایت کی ہے۔)