ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے
قیصر کو خط لکھا1؎ اس کو اسلام کی دعوت دیتے ہوئے اور اپنا نامہ مبارک دحیہ کلبی کے ذریعہ اس کے
پاس روانہ فرمایا اور ان کو حکم دیا کہ وہ بصریٰ کے گورنر کے حوالے کر دیں تاکہ وہ روم کے حاکم قیصر کو
پہنچا دے پس اس میں یہ تھا:
اللہ کے بندے اور اس کے رسول محمد (ﷺ) کی طرف سے روم کے حاکم ہرقل کی طرف
سلامتی ہے اس پر جو ہدایت کی پیروی کرے۔ اما بعد! میں تم کو اسلام کی دعوت دیتا ہوں اسلام قبول
کرلو تم سلامت رہو گے اور تم کو اللہ تعالیٰ تمہارا اجر دوگنا دے گا اور اگر منہ موڑو تو تم پر عوام کا بھی گناہ
ہوگا۔ اور اے اہل کتاب تم ایک بات کی طرف آؤ جو تمہارے اور ہمارے درمیان برابر ہے کہ ہم اللہ
کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور ہم سے بعض، بعض کو رب
نہ بنائے اللہ کے سوا۔ پس اگر وہ منہ موڑیں گے تو تم کہدو کہ تم گواہ ہو ہم مسلمان ہیں۔ (متفق علیہ)
اور مسلم کی ایک روایت میں ”مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللّٰهِ“ ہے اور ”إِثْمَ
الْأَرِيسِيِّينَ“ اور ”بِدَاعِيَةِ الْإِسْلَامِ“ ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 2941 (unverified) 97% confidence
Candidate: Sahih Muslim 1773a (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 3
wrote to Caesar, etc.
(3) The statement: "wrote to Caesar, etc.": In (Al-Mirqat), Al-Nawawi said: This letter contains several principles and benefits. Among them: His saying, "Peace be upon those who follow guidance," supports the view of Shafi‘i and most of his followers that a disbeliever should not be greeted with salam first. I say: I do not think there is any disagreement on this. Another benefit: Inviting disbelievers to Islam before fighting them is obligatory, and fighting them beforehand is forbidden if they have not been reached by the call to Islam. I say: Ibn al-Humam, one of our scholars, mentioned this, stating that if the call has reached them, it is not obligatory but recommended. Al-Nawawi added: Another benefit is the obligation to act upon the report of a single narrator, as he sent it with Dihyah al-Kalbi alone. Another: It is recommended to begin speech with the Bismillah, even when addressing a disbeliever. Another: It is permissible to travel to enemy territory with one or two verses or the like, and the prohibition of traveling with the Qur’an applies when there is fear of it falling into disbelievers’ hands. It is also permissible for someone in a state of minor impurity or a disbeliever to touch a verse or a few verses alongside other text. I say: This assumes the phrase "come to" refers to the Qur’anic text, but it appears to be a paraphrase, not a recitation, as evidenced by omitting "say" from the verse’s beginning. Another benefit: The Sunnah in correspondence is to begin with oneself, saying, "From Zaid to Amr," whether in the letter’s opening or address, as Allah said: Indeed, it is from Solomon, and it is: In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful [Qur’an 27:30]. Another: He said, "leader of the Romans." Another: It is recommended to use eloquence, brevity, and dignified language, as his words (ﷺ) are profoundly concise, eloquent, and comprehensive, with excellent wordplay. His saying "embrace Islam, and you will be safe" encompasses safety from worldly disgrace through war, captivity, death, and loss of homes and wealth, as well as safety from the Hereafter’s punishment. Another: Those who cause misguidance or prevent guidance bear greater sin, as Allah said: And they will surely carry their [own] burdens and [other] burdens along with their burdens [Qur’an 29:13]. Another: It is recommended to use "to proceed" (amma ba‘d) in speeches and letters.
Note 3
قوله
(٣) قوله: كتب إلى قيصر إلخ: وقال في (المرقاة): قال النووي: وفي هذا الكتاب جمل من القواعد وأنواع من الفوائد.منها: قوله: (سلام على من اتبع الهدى) فيه دليل لمذهب الشافعي، وجمهور أصحابه أن الكافر لا يبدأ بالسلام. قلت:ما أظن فيه خلافاً. ومنها: دعاء الكفار إلى الإسلام قبل قتالههم، وهو واجب، والقتال قبله حرام، إن لم تكن بلغتهمدعوة الإسلام. قلت: وكذا ذكره ابن الهمام من أئمتنا، وقال: فإذا كانت بلغتهم لا تجب، ولكن يستحب، انتهى. وقالالنووي: ومنها: وجوب العمل بخبر الواحد؛ لأنه بعثه مع دحية الكلبي وحده، ومنها: استحباب تصدير الكلامبالبسملة، وإن كان المبعوث إليه كافرًا، ومنها: جواز المسافرة إلى أرض العدو بآية أو آيتين ونحوهما، والنهي عنالمسافرة بالقرآن محمول على ما إذا خيف وقوعه في أيدي الكفار، وجواز مس المحدث والكافر آية أو آيات يسيرةمع غير القرآن. قلت: هذا كله مبني على أنه قصد بقوله: تعالوا لفظ القرآن، والظاهر أن هذا نقل بالمعنى، ولميقصد التلاوة بدليل حذف قل من أول الآية: ومنها: أن السنة في المكاتبة بين الناس أن يبدأ بنفسه، فيقول: من زيدإلى عمرو، سواء فيه تصدير الكتاب به أو العنوان، قال تعالى: ﴿إِنَّهُ مِن سُلَيْمَنَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ﴾يقل: (ملك الروم). ومنها: استحباب استعمال البلاغة والإيجاز وتحري الألفاظ الجزلة، فإن قوله ﷺ في غاية الإيجازوالبلاغة وجمع المعاني مع ما فيه من بديع التجنيس، فإن تسلم شامل لسلامته من خزي الدنيا بالحرب والسبيوالقتل وأخذ الديار والأموال ومن عذاب الآخرة، ومنها: أن من كان سبب ضلال، ومنع هداية كان أكثر إثما، قالتعالى: ﴿وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالَا مَّعَ أَثْقَالِهِمَّ﴾ (العنكبوت: ١٣)، ومنها: استحباب أما بعد في الخطابوالمكاتبات.
انہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا فرمان کسریٰ کی
طرف عبداللہ بن حذافہؓ ہی کے ساتھ روانہ فرمایا اور ان کو حکم فرمایا کہ وہ اس کو بحرین کے گورنر کو دیں
2پس بحرین کے گورنر نے اس کو کسریٰ کے پاس بھیج دیا۔ جب اس نے (کسریٰ نے) اس کو پڑھا تو
اس کو چاک کردیا۔ ابن مسیب نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے بددعا کی کہ وہ
سب پوری طرح چاک کردئے جائیں۔ (بخاری)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 64 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
sent his letter to Kisra with Abdullah ibn Hudhafah, etc.
(1) The statement: "sent his letter to Kisra with Abdullah ibn Hudhafah, etc.": In (‘Umdat al-Qari), in the chapter on scholars sending knowledge to other lands: It indicates that one person is sufficient to carry a ruler’s letter to another ruler, and it is not a condition that two witnesses carry it, as judges do today, as stated by Ibn Battal. I say: They required two witnesses due to the corruption that has spread among people, as a precaution to protect lives, honor, and property. I say: There is a clear difference between this letter and a judge’s letter to another judge, as the latter is binding and requires evidence to establish its obligation, unlike this letter, which is not binding, as Kisra had a choice, similar to a letter of safe-conduct from the people of war. The leader has the choice to grant safety or not, so evidence is not required. This is understood from (Al-Hidayah) and its commentaries.
Note 1
قوله
(١) قوله: بعث كتابه إلى كسرى مع عبد الله بن حذافة إلخ: وقال في (عمدة القاري) في باب كتاب أهل العلم بالعلم إلىالبلدان: فيه أن الرجل الواحد يجزئ في حمل كتاب الحاكم إلى الحاكم، وليس من شرطه أن يحمله شاهدان كما تصنعالقُضاة اليوم، قاله ابن بطال. قلت: إنما حملوا على شاهدين لما دخل على الناس من الفساد، فاحتيط لتحصين الدماء،والفروج والأموال بشاهدين، انتهى. قلت: بين هذا الكاتب وبين كتاب القاضي إلى القاضي فرق ظاهر؛ لأن كتابالقاضي إلى القاضي ملزم فلا بُدَّ للملزم من اشتراط البينة حتى يثبت به كونه ملزما بخلاف هذا الكتاب؛لأنه ليس بملزم؛ لأن الكسرى بالخيار ككتاب الاستثمان من أهل الحرب؛ لأن الإمام بالخيار إن شاء أعطاه الأمان،وإن شاء لم يعطه، فلا يشترط البينة، هذا يفهم من (الهداية) وشروحه.
انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسریٰ،
قیصر، نجاشی اور ہر صاحب اقتدار کو اللہ کی طرف بلاتے ہوئے تحریر روانہ فرمائی۔ اور یہ نجاشی وہ نہیں
ہے جس کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی تھی۔ (مسلم)
ابووائل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ خالد بن ولید نے فارس والوں کو
لکھا تھا بسم اللہ الرحمن الرحیم خالد بن ولید کی طرف سے رستم اور مہران کو فارس کے سرداروں میں۔
سلامتی ہے اس پر جس نے ہدایت کی پیروی کی۔ اما بعد! پس ہم تم کو اسلام کی طرف دعوت
دیتے ہیں پس اگر تم انکار کرتے ہو تو جزیہ دو اپنے ہاتھ سے درانحالیکہ تم ذلیل ہو۔ پس اگر تم انکار
کرو گے تو میرے ساتھ ایسی قوم ہے جو اللہ کے راستہ میں قتل کرنے کو ایسا پسند کرتی ہے جیسے اہل
فارس شراب کو پسند کرتے ہیں۔ اور سلامتی ہے ان پر جو ہدایت کی پیروی کریں۔ (شرح السنہ)
سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم جب کسی کو کسی لشکر یا سریہ پر امیر مقرر فرماتے تو آپ ﷺ ان کو وصیت کرتے کہ وہ خاص طور پر
اپنے لئے اللہ کا تقویٰ اختیار کریں اور اپنے ساتھی مسلمانوں کے ساتھ خیر کا معاملہ کریں پھر آپ ﷺ
فرماتے اللہ کا نام لے کر اللہ کے راستہ میں جہاد کرو۔ اور لڑو ان سے جو اللہ کا انکار کریں، جہاد کرو
خیانت مت کرو اور دھوکہ مت دو اور مثلہ مت کرو۔ اور کسی بچے کو قتل مت کرو اور جب تمہارا مقابلہ
ہو جائے مشرکین میں سے کسی کے ساتھ تو تم ان کو تین باتوں کی طرف بلاؤ۔ پس وہ ان میں سے کسی
کو بھی قبول کر لیں تو ان کی طرف سے قبول کر لو۔ اور ان سے (لڑائی کو) روک دو۔ پھر ان کو اسلام کی
دعوت دو پس اگر وہ قبول کریں تو ان کی طرف سے قبول کر لو اور ان سے (لڑائی) روک دو پھر ان کو
دعوت دو کہ وہ لوٹ کر آئیں اپنے گھروں سے مہاجرین کے گھروں کی طرف اور ان کو بتاؤ کہ اگر وہ
یہ کام کریں گے تو ان کے لئے وہ حقوق ہیں جو مہاجرین کے ہیں اور ان پر وہی ذمہ داریاں ہیں جو
مہاجرین پر ہیں پس اگر وہ ان (گھروں سے) منتقل ہونے سے انکار کریں تو ان کو بتا دو کہ وہ دیہاتی
مسلمانوں کی طرح ہیں ان پر اللہ کا حکم جاری کیا جائے گا جو مسلمانوں پر جاری کیا جاتا ہے اور ان کو
مالِ غنیمت اور مالِ فئی (دوسری قوم سے مالِ غنیمت حاصل کر کے دینا) میں سے کچھ بھی نہیں ملے گا
3 مگر یہ کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد کریں پس اگر وہ اس سے انکار کریں تو ان سے جزیہ کا
اگر وہ تم کو (جزیہ دینے کا) جواب دیں تو ان سے اس کو قبول کرلو اور ان سے لڑائی روک دو اگر انکار
کریں تو تم اللہ سے مدد طلب کرو اور ان سے لڑائی کرو۔ اور جب تم قلعہ والوں کا محاصرہ کرلو اور وہ چاہیں
کہ تم ان کو اللہ کا ذمہ اور اس کے رسول کا ذمہ دو تو تم ان کے لئے اللہ کا ذمہ اور اس کے رسول کا ذمہ مت
دو 5 لیکن تم ان کو اپنا اور اپنے ساتھیوں کا ذمہ دو کیونکہ تم اگر اپنے ذمہ اور اپنے ساتھیوں کے ذمہ کو
توڑ دو گے تو یہ ہلکا ہے اللہ کے اور اس کے رسول کے ذمہ کو توڑنے سے اور اگر تم کسی قلعہ والوں کا محاصرہ کرلو
اور وہ تم سے چاہیں کہ تم ان کو اللہ کے حکم پر اتاریں تو تم ان کو اللہ کے حکم پر مت اتارو بلکہ تم ان کو اپنے حکم پر
اتارو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ اس کے بارے میں تم اللہ کے حکم کے مطابق ٹھیک پہنچو گے۔ (مسلم)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 1731a (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (8)
Note 1
they will have no share in the spoils or fay’, etc.
(1) The statement: "they will have no share in the spoils or fay’, etc.": The Hadith contains benefits, including that the fay’ and spoils are not given to the Bedouins who did not migrate, who were poor and needy, and zakat is not given to those entitled to fay’ and spoils. Shafi‘i distinguished between fay’/spoils and zakat, saying the Bedouins have a right to the latter but not the former. Malik and Abu Hanifah saw no distinction, allowing each to be used for the other’s purpose. The statement (ﷺ): "they will have no share in the spoils or fay’" is abrogated and applied only in early Islam. Cited from (Al-Mirqat) and (Nayl al-Awtar).
Note 2
ask for the jizyah
(2) The statement: "ask for the jizyah": This Hadith is used by Malik, Al-Awza‘i, and those who agree with them to permit taking jizyah from all disbelievers, whether belligerent or non-Arab, People of the Book or otherwise. Shafi‘i said only the People of the Book and Magians are spared, whether Arab or non-Arab. Abu Hanifah said jizyah is taken from all disbelievers except Arab polytheists and their Magians. Ibn al-Humam said: The statement (ﷺ): "the jizyah" means if they are not apostates or Arab polytheists, for these are given only Islam or the sword, as will be clarified. Cited from (Al-Mirqat) and (Nayl al-Awtar).
Note 3
do not grant them the protection of Allah, etc.
(3) The statement: "do not grant them the protection of Allah, etc.": Al-Nawawi said: This is a prohibition of disapproval, as some, like Bedouins or common soldiers, may not recognize its sanctity and violate it. Similarly, "do not judge them by Allah’s ruling" is a prohibition of disapproval. It supports those who say not every mujtahid is correct; the correct one is the one aligned with Allah’s true ruling. Those who say every mujtahid is correct interpret the statement: "for you do not know if you will attain Allah’s ruling" as meaning you cannot be certain a revelation will not come contradicting your judgment, as the Prophet (ﷺ) said in the Hadith of Abu Sa‘id regarding Sa‘d ibn Mu‘adh’s judgment on Banu Qurayzah: "You have judged them with Allah’s ruling." This possibility ceased after the Prophet (ﷺ), so every mujtahid is correct. This is the view of the Mu‘tazilah and some Ahl as-Sunnah, meaning the Ash‘aris. As stated in (Al-Mirqat).
Note 1
قوله
(١) قوله: ولا يكون لهم في الغنيمة والفيء شيء إلخ: في الحديث فوائد، منها: أنه لا يعطى الفيء والغنيمة لأهلالصدقات من هؤلاء الأعراب الذين لم يتحولوا، وكانوا فقراء مساكن، ولا تعطى الصدقات لأهل الفيء والغنيمة،وبه قال الشافعي، وفَرَّق بين مال الفيء، والغنيمة وبين مال الزكاة، وقال: إن للأعراب حقا في الثاني دون الأول،وذهب مالك وأبو حنيفة إلى عدم الفرق بينهما، وأنه يجوز صرف كل واحد منهما في مصرف الآخر، وقوله ﷺ: (ولايكون لهم في الغنيمة والفيء شيء) منسوخ، وإنما كان في أوائل الإسلام. التقطته من (المرقاة) و(نيل الأوطار)۔
Note 2
قوله
(٢) قوله: فسلهم الجرية: والحديث مما يستدل به مالك والأوزاعي، ومن وافقهما على جواز أخذ الجزية من كل كافر،حربيًا كان أو عجميًا، كتابيا أو غير كتابي. وقال الشافعي: لا يقتل إلا من أهل الكتاب والمجوس، أعرابًا كانوا أوأعاجمَ. وقال أبو حنيفة: تؤخذ الجزية من جميع الكفار إلا من مشركي العرب ومجوسهم. وقال ابن الهمام: قوله ﷺ:(الجزية) يعني إن لم يكونوا مرتدين ولا مشركي العرب؛ فإن هؤلاء لا يُقبَل منهم إلا الإسلام أو السيف علىسيتضح، (المرقاة) و(نيل الأوطار) ملتقط منهما.
Note 3
قوله
(٣) قوله: فلا تجعل لهم ذمة الله إلخ: قال النووي: فيه نهي تنزيه؛ فإنه قد ينقضها من لا يعرف حقها، ونتهك حرمتها بعضالأعراب وسواد الجيش، وكذا قوله: (فلا تنزلهم على حكم الله) نهي تنزيه، وفيه حجة لمن يقول: ليس كل مجتهد مصيبًا،بل المصيب واحد، وهو الحق لحكم الله في نفس الأمر، ومن يقول: إن كل مجتهد مصيب يقول معنى قوله: (فإنك لاتدري أتصيب حكم الله بهم): أنك لا تأمن أن ينزل علي وحي، بخلاف ما حكمت، كما قال ﷺ في حديث أبي سعيد منتحكيم سعد بن معاذ في بني قريظة: (لقد حكمت فيهم بحكم الله). وهذا المعنى منتف بعد النبي ﷺ، فيكون كل مجتهدمصيبًا. وهو مذهب المعتزلة وبعض أهل السنة، يعني الأشاعرة. كذا في (المرقاة)
Note 1
اور ہم یہ کہتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ”ولا يكون لهم في الغنيمة والفيئ
شيء“ (ان کے لئے مال غنیمت اور مال فَئی میں سے کچھ نہیں ہے) یہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے
پاس منسوخ ہے اور یہ حکم ابتداء اسلام میں تھا اور شیخ ابن ہمام نے کہا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا
ارشاد ”فسلهم الجزية“ تم ان سے جزیہ کا مطالبہ کرو۔ یعنی اگر وہ مرتد نہیں ہیں اور عرب کے
مشرکین نہیں ہیں ان سے اسلام یا تلوار کے سوا کوئی چیز قبول نہیں کی جائے گی۔
Note 2
4 قولہ : فَسَلْهُمُ الْجِزْيَةَ (تو ان سے جزیہ کا مطالبہ کرو) اس حدیث شریف سے امام مالک، امام اوزاعی اور
جو حضرات (اس میں) ان کے موافق ہیں استدلال کرتے ہیں کہ ہر کافر سے جزیہ لیا جائے گا خواہ وہ عربی ہو یا عجمی، کتابی
ہو یا غیر کتابی۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ صرف اہل کتاب سے ہی جزیہ قبول کیا جائے گا خواہ وہ عربی ہوں یا
عجمی اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ جزیہ عرب کے مشرکین و مجوس کے سوا تمام کفار سے لیا جائے گا اور ابن ہمام
رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ”فَسَلْهُمُ الْجِزْيَةَ“ تم ان سے جزیہ کا مطالبہ کرو جب کہ وہ مرتد اور
عرب کے مشرکین نہ ہوں۔ کیونکہ ان سے اسلام یا پھر تلوار اس کے سوا کوئی چیز قبول نہیں کی جائے گی۔ عنقریب اس کی
وضاحت آئے گی۔ (ماخوذ از مرقات، نیل الاوطار)
5 قولہ : فلا تجعل لهم ذمة الله الخ (تم ان کے لئے اللہ کے ذمہ اور اس کے رسول کا ذمہ مت دو) امام
نووی نے کہا ہے کہ یہ نہی تنزیہی ہے کیونکہ کبھی وہ آدمی جو اس کا حق نہیں پہچانتا وہ اس کو توڑ دیتا ہے اور بعض دیہاتی اور
فوجی اس کی حرمت کو پامال کر دیتے ہیں اسی طرح ”فلا تنزلهم على حكم الله“ (تم ان کو اللہ کے حکم پر مت اتارو)
نہی تنزیہی ہے۔ اس میں ان حضرات کی دلیل ہے جو یہ کہتے ہیں کہ ہر مجتہد مصیب نہیں ہے بلکہ مصیب ایک ہی ہوتا ہے
اور وہ وہی ہے جو حقیقت میں اللہ کے حکم کے مطابق ہوتا ہے۔
اور جو یہ کہتے ہیں کہ ہر مجتہد مصیب ہے تو وہ یہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ”فانك لاتدري
اتصيب حكم الله فيهم“ یعنی ”تم بے خوف نہیں ہوسکتے اس امر سے کہ تم نے جو فیصلہ کیا ہے اس کے خلاف مجھ پر
کوئی وحی نازل ہو“ جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو سعید کی حدیث میں بنی قریظہ کے بارے میں حضرت سعد بن
معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم بنانے سے متعلق فرمایا ہے کہ تم نے ان کے بارے میں اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا۔ اور یہ
بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد (وصال) نہیں رہی۔ اب ہر مجتہد مصیب ہے اور یہی مذہب معتزلہ کا ہے اور بعض
اہل سنت یعنی اشاعرہ کا ہے۔ (مرقات)
6قولہ: فكان اذا طلع الفجر امسك الخ (پس جب فجر طلوع ہو جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رک
جاتے) ہو سکتا ہے یہ اس صورت میں ہے جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ کا آغاز کر رہے ہوں اور صلوٰة خوف اس
وقت ہے جب کہ کفار کا غلبہ ہو (مرقات)
7قولہ: فان سمع اذاناً كف عنهم الخ (پس اذان سنتے تو رک جاتے) خطابی نے کہا ہے کہ اس میں اس
بات کا بیان ہے کہ اذان دین اسلام کا شعار ہے اس کو چھوڑنا جائز نہیں ہے اور اگر کسی شہر والے اس کو چھوڑنے پر اتفاق کر لیں
تو بادشاہ کو اس پر ان سے جنگ کرنے کا حق ہے اور ہمارے ائمہ کرام میں امام محمد رحمہ اللہ سے ایسا ہی منقول ہے۔ (مرقات)
اور صاحب عمدۃ القاری نے کہا ہے کہ علامہ تیمی نے کہا ہے کہ اذان کی وجہ سے خونریزی روک دی جاتی ہے اس
لئے کہ اس میں توحید کی شہادت اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا اقرار ہے اور یہ ان لوگوں کے لئے ہے جن کو
دعوت پہنچ چکی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اذان کو سننے تک ان سے قتال کو روک دیتے تاکہ معلوم ہو کہ یہ لوگ دعوت کو قبول
کرنے والوں میں سے ہیں یا نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کیا ہے کہ وہ آپ ﷺ کے دین کو
دوسرے تمام ادیان پر غالب کرے گا اور آپ ان کے اسلام کی امید رکھتے تھے۔ اور آج تک دعوت پہنچ چکی ہے ان سے
اذان کو سننے تک قتال کو روکنا ائمہ کے لئے ضروری نہیں کیونکہ مسلمانوں کے ساتھ ان کی سرکشی معلوم ہو چکی ہے اس لئے
ان کے بارے میں اس موقع کا فائدہ اٹھانا ہی مناسب ہے۔
8قولہ: وان لم يسمع أذاناً أغار عليهم (اور اگر اذان نہیں سنتے تو ان پر حملہ کر دیتے) اس میں اس بات
کی دلیل ہے کہ جس کو دعوت اسلام پہنچ چکی ہو اس کو دوبارہ دعوت دئے بغیر اس سے قتال کیا جا سکتا ہے۔ اس حدیث شریف
میں اور ”باب الدعوة فى القتال“ میں جو حدیث شریف گزری ہے دونوں کو اس طرح جمع کیا جا سکتا ہے کہ دوبارہ
دعوت دینا شرط نہیں ہے بلکہ مستحب ہے۔ (فتح القدیر، نیل الاوطار، ہدایہ)
9قولہ: اذا رايتم مسجدا او سمعتم مؤذنا فلا تقتلوا احدا (جب تم کوئی مسجد دیکھو یا موذن کو سنو تو
کسی کو قتل مت کرو) اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ کسی شہر میں صرف مسجد کا پایا جانا وہاں کے باشندگان کے مسلمان
ہونے کی دلیل ہے۔ اگرچہ ان سے اذان سنائی نہ دے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فوجی دستوں کو حکم دیا کرتے کہ دو
چیزوں میں سے کسی ایک چیز کی وجہ سے جنگ سے رک جاؤ۔ 1۔ مسجد کا پایا جانا۔ 2۔ اذان کا سنائی دینا۔ (نیل الاوطار)
1قولہ: وری بغیرہا (دوسرے غزوہ سے توریہ کرتے تھے) ابن الملک نے کہا اس کے سوا دوسری چیز سے
اس کو چھپا دیتے تھے اور یہ ظاہر کرتے کہ آپ ﷺ کسی دوسرے غزوہ کا ارادہ فرما رہے ہیں یہ اس لئے کہ اس میں احتیاط
دور اندیشی اور دشمن کو بے خبر رکھنا اور اس جاسوس سے حفاظت مقصود ہے جو اس پر مطلع ہو کر دشمن کو اس کی خبر دے گا۔ حضور
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا توریہ فرمانا بطور کنایہ اس طرح ہوتا کہ مثال کے طور پر آپ ﷺ غزوہ مکہ کا ارادہ فرماتے تو
لوگوں سے خیبر کی حالت اور اس کے راستوں کی کیفیت دریافت فرماتے۔ آپ ﷺ صراحت کے ساتھ اس طرح نہیں
فرماتے تھے کہ میں فلاں مقام کے باشندوں کے ساتھ جنگ کا ارادہ رکھتا ہوں جب کہ آپ کا ارادہ کسی دوسروں کے
ساتھ جنگ کرنے کا ہو۔ کیونکہ یہ جھوٹ ہے جو درست نہیں۔ (مرقات)
2قولہ: الحرب خدعة (جنگ ایک تدبیر ہے) امام نووی نے کہا اس میں زیادہ فصیح لغت خاء کے فتحہ اور دال
کے سکون کے ساتھ خدعۃ ہے اور یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی لغت ہے کفار کے ساتھ جنگ میں جس طرح بھی ہو
تدبیر کے جواز پر سب کا اتفاق ہے مگر یہ کہ اس میں عہد شکنی یا نقض امن ہو۔ (تو یہ جائز نہیں)
حدیث شریف سے تین چیزوں میں کذب کا جواز معلوم ہوتا ہے۔ طبری نے کہا ہے کہ جنگ میں کذب بطور تعریض
جائز ہے اور حقیقت میں کذب جائز نہیں۔ اور بظاہر حقیقت میں کذب جائز معلوم ہوتا ہے لیکن کنایہ پر اکتفا کرنا افضل ہے۔
3قولہ: اذا غزا يسقين الماء ويداوين الجرحى (جب آپ جہاد کرتے تو وہ پانی پلاتیں اور زخمیوں کا
علاج کرتیں) ہدایہ میں ہے عورتوں کو اور قرآن شریف کو مسلمانوں کے ساتھ لے جانے میں کوئی حرج نہیں جب کہ لشکر
ایسا بڑا ہو جس میں امن ہو۔ اس لئے غالبا اس میں سلامتی ہی ہوا کرتی ہے اور غالب چیز واقع کے درجہ ہوتی ہے البتہ
ایسے سریہ میں ان کو لے جانے مکروہ ہے جس میں امن کی توقع نہ ہو یعنی بوڑھی عورتیں اپنے مناسب خدمت انجام دینے
کے لئے بڑے لشکر میں جا سکتی ہیں۔ جیسے پکانا، پانی پلانا اور علاج معالجہ کرنا۔ البتہ جوان عورتوں کا گھر میں رہنا ہی دفع
فتنہ کا زیادہ باعث ہے۔ اور عورتیں خود راست طور پر جنگ نہیں کر سکتیں کیونکہ اس سے مسلمانوں کی کمزوری و ذلت معلوم
ہوتی ہے الا یہ کہ ضرورت ہو اور ان کو ہمبستری اور خدمت کی خاطر لے جانا مکروہ ہے۔ اگر ان کو لے جانا واقعی ضروری
ہو تو باندیوں کو ساتھ لے جائیں نہ کہ آزاد عورتوں کو۔
صاحب عمدۃ القاری نے کہا اگر تم کہو یہ کیوں کر درست ہوگا؟ میں کہوں گا کہ یہ ان میں سے عمر رسیدہ عورتوں کے
لئے درست ہے کیونکہ زخم کے مقام کو مس کرنے سے کوئی لذت حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے
ہیں نفس ہیبت زدہ ہو جاتا ہے۔ اس کا چھونا، چھونے والے اور جس کو مس کیا گیا ہے ان دونوں کے لئے تکلیف دہ ہوتا
ہے۔ البتہ عمر رسیدہ عورتوں کے علاوہ تو وہ بغیر ہاتھ لگائے ان کا علاج کر سکتی ہیں وہ دوا ⟦?⟧ اور کوئی دوسرا اس کو زخم پر
رکھے گا اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بغیر جسم کو چھوئے کے خود دوا رکھیں اور اس کی دلیل علماء کا اتفاق ہے کہ عورت جب ......
...... مر جائے اور اس کو غسل دینے والی عورت نہ مل سکے تو آدمی اس کو راست طور پر غسل نہیں دے سکتا بلکہ اس کو کسی حائل
چیز کے ذریعہ دے گا۔ یہ حسن بصری، امام نخعی، امام زہری، امام قتادہ اور امام اسحق کے قول کے مطابق ہے اور سعید بن
مسیب، امام مالک، فقہاء کوفہ اور امام احمد رحمہم اللہ کے پاس پاک مٹی سے تیمم کرائے گا اور شافعیہ کے پاس یہی (تیمم
کرنا) زیادہ راجح ہے۔ اور امام اوزاعی نے کہا ہے اس کو ویسے ہی دفنایا جائے گا۔ اور تیمم نہیں کرائے گا اور یہ بات بھی
کہی گئی کہ علاج کرنے اور میت کو نہلانے کے درمیان فرق ہے کہ غسل دینا ایک عبادت ہے، جب کہ دوا اور علاج کرنا
ایک ضرورت ہے اور ضرورتیں ممنوعہ چیزوں کو مباح کر دیتی ہیں۔
4قولہ: اقتلوا شيوخ المشركين الخ (مشرکین کے بڑوں کو قتل کرو) اس میں (شیوخ سے) مراد وہ
جو بچوں کے مقابل ہوں اب رہا شیخ فانی (ایسا بوڑھا جو موت کے دہانے پر ہو) تو اس کو قتل نہیں کیا جائے گا مگر وہ جب کہ
رائے دیتا ہو۔ (مرقات)
5قولہ: لا تقتلوا شيخا فانيا الخ (کسی شیخ فانی کو مت قتل کرو) ہدایہ میں ہے کسی عورت کو قتل نہ کرو اور نہ کسی
بچے کو اور نہ کسی شیخ فانی کو اور نہ کسی اپاہج کو اور نہ کسی نابینا کو کیونکہ قتل کو جائز کرنے والی چیز ہمارے پاس جنگ ہے اور یہ ان
لوگوں سے نہیں ہوتی اسی لئے ایسے شخص کو قتل نہیں کیا جائے گا جس کا ایک حصہ سوکھ گیا ہو اور نہ اس شخص کو جس کا دایاں
ہاتھ یا ہاتھ اور پیر مخالف سمت سے کاٹ دئے گئے ہوں۔ عمر رسیدہ، اپاہج اور نابینا کے بارے میں امام شافعی رحمہ اللہ کا ہم
(احناف) سے اختلاف ہے کیونکہ ان کے پاس قتل کو جائز کرنے والی چیز کفر ہے اور ان پر حجت وہ شئے ہے جس کو ہم نے
بیان کیا ہے اور یہ بات صحت کے ساتھ ثابت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں، عورتوں اور شل کو قتل کرنے سے
منع فرمایا ہے اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قتل کی ہوئی عورت کو ملاحظہ فرمایا تو ارشاد فرمایا افسوس یہ عورت تو
لڑنے والی نہیں تھی پھر اس کو کیوں قتل کیا گیا؟
6قولہ: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن قتل النساء والصبيان (رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا)۔ شیخ ابن ہمام نے کہا بجز نسائی کے تمام اصحاب صحاح ستہ، نے
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ ایک عورت مقتول پائی گئی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کو
قتل کرنے سے منع فرمایا، انہوں (شیخ ابن ہمام) نے کہا میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کی حرمت پر
اجماع ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے یزید بن ابی سفیان کو ملک شام بھیجتے وقت وصیت فرمائی اور کہا
بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کو قتل مت کرو۔ (حدیث) ابن ہمام نے کہا البتہ جب کے بارے میں، ہم نے کہا کہ ان کو قتل نہ
کیا جائے اگر وہ جنگ کریں تو پھر ان کو قتل کیا جائے گا جیسے مجنون، بچہ، عورت، بوڑھے اور راہب (پادری)۔ مگر بچہ اور
مجنون کو ان کے لڑنے کی حالت میں قتل کردیا جائے گا البتہ ان کے علاوہ عورتیں، پادری اور ان جیسے لوگ، تو ان کو اس
وقت قتل کیا جائے گا جب کہ یہ قیدی بنائے جانے کے بعد جنگ کریں۔ حکم ان عورت کو قتل کردیا جائے گا اگرچہ وہ خود
نہ لڑے۔ اسی طرح حکمران اور بچہ اور نیم پاگل حکمران کا حکم ہے کیونکہ بادشاہ کو قتل کرنے میں ان کی شوکت کو توڑنا ہے۔
(مرقات)
7قولہ: هم منهم الخ (وہ لوگ انہی میں سے ہیں) صاحب عمدۃ القاری نے کہا ہے اگر تم کہو کہ یہ اس روایت
کے خلاف ہے جس کو امام بخاری نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ذکر کیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں
اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا تو میں کہوں گا خطابی نے کہا آپ کا ارشاد ”هم منهم“ (وہ لوگ ان میں سے ہیں)
سے دین کے حکم میں اس میں سے ہونا مراد ہے کیونکہ کافر کے بچے پر کفر ہی کا حکم عائد ہوگا۔ اس ارشاد سے عمداً و قصداً ان
کا خون کرنے کو مباح قرار دینا مقصود نہیں ہے۔ یہ حکم اس وقت ہے جب کہ ان کے آباء (باپ دادا) تک ان کے بغیر
پہنچنا ممکن نہ ہو۔ جب وہ اپنے آباء و اجداد کے ساتھ رہنے کی وجہ سے قتل کردئے گئے تو ان کے قتل کرنے میں ان لوگوں پر
کوئی چیز نہیں۔ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے جو منع فرمایا ہے تو وہ یہ ہے کہ
بالقصد ان کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ جب عورتیں جنگ کریں تو ممانعت ختم ہو جائے گی اور کافروں کے خون حلال ہو جائیں گے
مگر جان کی حفاظت کا معاہدہ ہو (تو حلال نہیں)۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی اس حدیث کی بناء پر جس کی امام ترمذی
نے روایت کی ہے جس میں عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت ہے تو انہوں نے کہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ......
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے اپنے بعض ان دنوں میں جن میں دشمن سے مقابلہ ہوا تھا، انتظار کیا یہاں تک کہ سورج
ڈوبنے لگا تو آپ ﷺ نے لوگوں میں کھڑے ہو کر فرمایا اے لوگو! دشمن سے مقابلے کی تمنا مت کرو
اور اللہ سے عافیت مانگو اور جب تمہاری مڈبھیڑ ہو جائے تو جمے رہو اور جان لو کہ جنت تلواروں کی
چھاؤں میں ہے پھر فرمایا: اے اللہ! کتاب کو اتارنے والے اور بادل کو چلانے والے اور لشکروں کو
شکست دینے والے، ان کو شکست دیدے اور ان کے خلاف ہماری مدد فرما۔ (متفق علیہ)
نعمان بن مقرن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کے ساتھ جنگ میں شریک رہا پس جب آپ ﷺ دن کے اول حصہ میں جنگ نہیں کرتے تو
انتظار کرتے یہاں کہ ہوائیں چلتیں اور نماز کا وقت آ جاتا۔ (بخاری)
انہی سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھا۔ اگر
آپ ﷺ دن کے ابتدائی حصہ میں جنگ نہ کرتے تو انتظار فرماتے یہاں تک کہ سورج ڈھل جاتا اور
ہوائیں چلتیں اور مدد اتر آتی۔ (ابوداؤد)
قتادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ سے میں نے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ میں شریک رہا ہوں پس جب فجر طلوع ہوتی تو آپ ﷺ
رک جاتے6 یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جاتا پس جب سورج طلوع ہو جاتا تو پھر جنگ کرتے پس
جب آدھا دن ہو جاتا تو رک جاتے یہاں تک کہ سورج ڈھل جاتا پس جب سورج ڈھل جاتا تو پھر
عصر تک جنگ کرتے پھر عصر کی نماز پڑھنے تک رک جاتے پھر جنگ کرتے۔ قتادہ رضی اللہ عنہ نے
کہا اس وقت کہا جاتا تھا مدد کی ہوائیں تیز ہو جاتی تھیں اور مسلمان اپنی فوجوں کے لئے اپنی نمازوں
میں دعائیں کرتے۔ (ترمذی)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 1612 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
When dawn broke, he would pause, etc.
(1) The statement: "When dawn broke, he would pause, etc.": This likely applies when he initiated the fighting, while the prayer of fear applies when the disbelievers had the upper hand. As stated in (Al-Mirqat).
Note 1
قوله
(١)قوله: فكان إذا طلع الفجر أمسك إلخ: لعل هذا فيما إذا كان هو البادئ للقتال، فصلاة الخوف
محمولة على غلبةالكفار. كذا في (المرقاة)
انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو
لے کر کسی قوم سے جنگ کرتے تو جنگ شروع نہیں کرتے یہاں تک کہ صبح ہو جاتی اور ان کی طرف
دیکھتے پس اگر اذان کو سنتے تو رک جاتے 7 اور اگر اذان کی آواز نہیں سنتے تو ان پر حملہ کر دیتے۔ 8
انہوں نے کہا پس ہم خیبر کی طرف نکلے اور ان کے پاس رات میں پہنچے پس جب حضور صلی اللہ علیہ
وسلم نے صبح کی اور اذان نہیں سنی تو آپ ﷺ سوار ہو گئے اور میں بھی ابوطلحہؓ کے پیچھے سوار ہو گیا اور
یقیناً میرے قدم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مس ہو رہے تھے۔ انہوں نے کہا پس وہ ہماری
طرف اپنے ٹوکرے اور پھاوڑے لے کر آئے پس جب انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا
تو کہنے لگے محمد (ﷺ) خدا کی قسم محمد اور فوج۔ پس وہ قلعہ میں پناہ لے لئے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے دیکھا تو آپ ﷺ نے فرمایا اللہ اکبر اللہ اکبر خیبر اجڑ گیا۔ جب ہم کسی قوم کے میدان
(صحن) میں اترتے ہیں تو جن کو آگاہ کیا گیا تھا ان کی صبح بری ہو جاتی ہے۔ (متفق علیہ)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 610 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (4)
Note 1
If he heard the call to prayer, he would refrain, etc.
(1) The statement: "If he heard the call to prayer, he would refrain, etc.": Al-Khattabi said: This indicates that the call to prayer is a symbol of Islam that must not be abandoned. If the people of a town agree to abandon it, the ruler may fight them over it. This was also reported from Imam Muhammad, one of our scholars. As stated in (Al-Mirqat). For those who had received the call to Islam, he would wait to hear the call to prayer to know if they had accepted it, as Allah promised to make His religion prevail over all others, and he hoped for their Islam. Today, leaders are not required to wait for the call to prayer from those who have received the call, as their harm to Muslims is known, and the opportunity against them should be seized.
Note 2
If he did not hear the call to prayer, he raided them
(2) The statement: "If he did not hear the call to prayer, he raided them": This indicates the permissibility of fighting those who have received the call to Islam without further invitation. It is reconciled with the earlier chapter on inviting before fighting by saying the invitation is recommended, not required. As stated in (Al-Fath), cited in (Nayl al-Awtar) and (Al-Hidayah).
Note 1
قوله
(١) قوله: فإن سمع أذانًا كفّ عنهم إلخ: قال الخطابي: فيه وبيان أن الأذان شعار لدين الإسلام لا يجوز تركه، فلو أنأهل بلد أجمعوا على تركه كان للسلطان قتالهم عليه اهـ. وكذا نقل عن الإمام محمد من أئمتنا. كذا في (المرقاة). وقاللمن قد بلغته الدعوة، وكان يمسك عن هؤلاء حتى يسمع الأذان ليعلم أكان الناس مجيبين للدعوة أم لا؛ لأن اللهوعده إظهار دينه على الدين كله، وكان يطمع في إسلامهم، ولا يلزم اليوم الأئمة أن يكفوا عمن بلغته الدعوة؛ لكييسمعوا أذانا؛ لأنه قد علم غائلتهم للمسلمين فينبغي أن تنتهز الفرصة فيهم.
Note 2
قوله
(٢) قوله: وإن لم يسمع أذانا أغار عليهم: فيه دليل على جواز قتال من بلغته الدعوة بغير دعوة، ويجمع بينه وبين ما تقدم في بابالدعوة قبل القتال بأن يقال: الدعوة مستحبة لاشتراطه. كذا في (الفتح). قاله في (نيل الأوطار) وكذا في (الهداية).
عصام مزنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ہم کو ایک سریہ میں روانہ فرمایا اور فرمایا کہ جب تم کوئی مسجد دیکھو 9یا مؤذن کو سنو تو کسی کو قتل مت
کرو۔ (ترمذی، ابوداؤد)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 2635 (unverified) 93% confidence
Candidate: Jami al-Tirmidhi 1549 (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
If you see a mosque or hear a muezzin, do not kill anyone
(1) The statement: "If you see a mosque or hear a muezzin, do not kill anyone": This indicates that the mere presence of a mosque in a town is sufficient to infer the Islam of its people, even if the call to prayer is not heard, as the Prophet (ﷺ) instructed his detachments to suffice with either the presence of a mosque or the call to prayer. As stated in (Nayl al-Awtar).
Note 1
قوله
(١) قوله: إذا رأيتم مسجدا أو سمعتم مؤذنا فلا تقتلوا أحدا: فيه دليل على أن مجرد وجود المسجد في البلد كافٍ فيالاستدلال منه على إسلام أهله، وإن لم يسمع منهم الأذان؛ لأن النبي ﷺ كان يأمر سرايا بالاكتفاء بأحد الأمرين،إما وجود مسجد أو سماع الأذان. كذا في (نيل الأوطار).
Commentary and footnotes (2)
Note 3
(3) The statement: "wrote to Caesar, etc.": In (Al-Mirqat), Al-Nawawi said: This letter contains several principles and benefits. Among them: His saying, "Peace be upon those who follow guidance," supports the view of Shafi‘i and most of his followers that a disbeliever should not be greeted with salam first. I say: I do not think there is any disagreement on this. Another benefit: Inviting disbelievers to Islam before fighting them is obligatory, and fighting them beforehand is forbidden if they have not been reached by the call to Islam. I say: Ibn al-Humam, one of our scholars, mentioned this, stating that if the call has reached them, it is not obligatory but recommended. Al-Nawawi added: Another benefit is the obligation to act upon the report of a single narrator, as he sent it with Dihyah al-Kalbi alone. Another: It is recommended to begin speech with the Bismillah, even when addressing a disbeliever. Another: It is permissible to travel to enemy territory with one or two verses or the like, and the prohibition of traveling with the Qur’an applies when there is fear of it falling into disbelievers’ hands. It is also permissible for someone in a state of minor impurity or a disbeliever to touch a verse or a few verses alongside other text. I say: This assumes the phrase "come to" refers to the Qur’anic text, but it appears to be a paraphrase, not a recitation, as evidenced by omitting "say" from the verse’s beginning. Another benefit: The Sunnah in correspondence is to begin with oneself, saying, "From Zaid to Amr," whether in the letter’s opening or address, as Allah said: Indeed, it is from Solomon, and it is: In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful [Qur’an 27:30]. Another: He said, "leader of the Romans." Another: It is recommended to use eloquence, brevity, and dignified language, as his words (ﷺ) are profoundly concise, eloquent, and comprehensive, with excellent wordplay. His saying "embrace Islam, and you will be safe" encompasses safety from worldly disgrace through war, captivity, death, and loss of homes and wealth, as well as safety from the Hereafter’s punishment. Another: Those who cause misguidance or prevent guidance bear greater sin, as Allah said: And they will surely carry their [own] burdens and [other] burdens along with their burdens [Qur’an 29:13]. Another: It is recommended to use "to proceed" (amma ba‘d) in speeches and letters.
Note 3
(٣) قوله: كتب إلى قيصر إلخ: وقال في (المرقاة): قال النووي: وفي هذا الكتاب جمل من القواعد وأنواع من الفوائد.منها: قوله: (سلام على من اتبع الهدى) فيه دليل لمذهب الشافعي، وجمهور أصحابه أن الكافر لا يبدأ بالسلام. قلت:ما أظن فيه خلافاً. ومنها: دعاء الكفار إلى الإسلام قبل قتالههم، وهو واجب، والقتال قبله حرام، إن لم تكن بلغتهمدعوة الإسلام. قلت: وكذا ذكره ابن الهمام من أئمتنا، وقال: فإذا كانت بلغتهم لا تجب، ولكن يستحب، انتهى. وقالالنووي: ومنها: وجوب العمل بخبر الواحد؛ لأنه بعثه مع دحية الكلبي وحده، ومنها: استحباب تصدير الكلامبالبسملة، وإن كان المبعوث إليه كافرًا، ومنها: جواز المسافرة إلى أرض العدو بآية أو آيتين ونحوهما، والنهي عنالمسافرة بالقرآن محمول على ما إذا خيف وقوعه في أيدي الكفار، وجواز مس المحدث والكافر آية أو آيات يسيرةمع غير القرآن. قلت: هذا كله مبني على أنه قصد بقوله: تعالوا لفظ القرآن، والظاهر أن هذا نقل بالمعنى، ولميقصد التلاوة بدليل حذف قل من أول الآية: ومنها: أن السنة في المكاتبة بين الناس أن يبدأ بنفسه، فيقول: من زيدإلى عمرو، سواء فيه تصدير الكتاب به أو العنوان، قال تعالى: ﴿إِنَّهُ مِن سُلَيْمَنَ وَإِنَّهُ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ﴾يقل: (ملك الروم). ومنها: استحباب استعمال البلاغة والإيجاز وتحري الألفاظ الجزلة، فإن قوله ﷺ في غاية الإيجازوالبلاغة وجمع المعاني مع ما فيه من بديع التجنيس، فإن تسلم شامل لسلامته من خزي الدنيا بالحرب والسبيوالقتل وأخذ الديار والأموال ومن عذاب الآخرة، ومنها: أن من كان سبب ضلال، ومنع هداية كان أكثر إثما، قالتعالى: ﴿وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالَا مَّعَ أَثْقَالِهِمَّ﴾ (العنكبوت: ١٣)، ومنها: استحباب أما بعد في الخطابوالمكاتبات.