سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نہیں ہے کوئی حاکم جو مسلمان رعایا پر حکومت کرتا ہو
اور وہ انتقال کر جائے اس حالت میں کہ وہ ان کو دھوکہ دیتا تھا مگر یہ کہ ضرور اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو
حرام کر دے گا۔ (متفق علیہ)
ان ہی سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے
ہوئے سنا ہے جو کوئی بندہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو کسی رعایا پر حاکم بنایا ہوا اور اس نے ان کے ساتھ کامل
خیر خواہی نہیں کی ہے تو وہ جنت کی خوشبو ہرگز نہیں پائے گا۔ (متفق علیہ)
ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت
کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ امیر جب لوگوں میں شبہات تلاش کرے گا تو وہ ان کو بگاڑ دے
گا (ان میں فساد ڈال دے گا)۔ (ابوداؤد)
حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ: میں نے رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے جب تو لوگوں کے عیوب کی تلاش میں رہے گا تو ان میں
فساد ڈال دے گا۔ (بیہقی شعب الایمان)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے فرمایا: اے اللہ جو آدمی میری امت کے کسی معاملہ کا حاکم بن جائے اور ان پر مشقت ڈالے تو
تو بھی اس پر مشقت ڈال اور جو آدمی میری امت کے کسی معاملہ کا حاکم بنایا جائے اور وہ ان کے
ساتھ نرمی کرے تو تو بھی اس کے ساتھ نرمی کر۔ (مسلم)
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے بندوں میں اللہ کے پاس قیامت کے دن مرتبہ میں سب سے بڑھ
کر فضیلت والا، انصاف کرنے والا اور نرمی کرنے والا امام ہے اور قیامت کے دن اللہ کے پاس
لوگوں میں سب سے بدترین درجہ والا، ظالم اور سختی کرنے والا امام ہے۔ (بیہقی شعب الایمان)
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ انصاف کرنے والے، اللہ کے پاس نور کے منبروں پر رحمن کے
سیدھے جانب ہوں گے اور اس کے دونوں ہاتھ سیدھے ہی ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے فیصلے میں
اور اپنے اہل وعیال اور ان چیزوں میں جن کے وہ حاکم بنائے گئے ہیں انصاف کرتے ہیں۔
(مسلم)
سیدنا ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے فرمایا نہیں بھیجا اللہ تعالیٰ نے کسی بھی نبی کو اور نہ کسی کو خلیفہ بنایا مگر ضرور اس کے لئے دو
اندرونی رفیق ہوتے ہیں۔ ایک اس کو نیکی کا حکم دیتا ہے اور اس کو اس پر ابھارتا ہے۔ دوسرا اندرونی
رفیق اس کو برائی کا حکم دیتا ہے اور اس کو اس پر ابھارتا ہے۔ اور معصوم (گناہ سے محفوظ) وہ ہے جس کو
اللہ (تعالیٰ) بچا لے (محفوظ رکھے)۔ (بخاری)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ حاکم کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لئے راستباز وزیر مقرر
کر دیتا ہے اگر وہ بھول جائے تو یہ اس کو یاد دلاتا اور اگر وہ یاد رکھتا ہے تو یہ اس کی مدد کرتا ہے۔ اور وہ
(اللہ تعالیٰ) اس کے ساتھ اس (بھلائی) کے سوا دوسری چیز کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لئے بُرا وزیر
مقرر کر دیتا ہے۔ اگر وہ بھول جائے یہ اس کو یاد نہیں دلاتا اور اگر وہ یاد رکھتا ہے تو یہ اس کی مدد نہیں
کرتا۔ (ابوداؤد، نسائی)
حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ کے پاس لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب اور اس سے ان میں سب
سے زیادہ قریب مجلس کے اعتبار سے انصاف کرنے والا امام ہے اور قیامت کے دن اللہ کے پاس
لوگوں میں سب سے زیادہ ناپسند اور ان میں سب سے زیادہ سخت عذاب والا۔
اور ایک روایت میں ہے اور ”اس سے ان میں سب سے زیادہ دور مجلس کے
اعتبار سے ظالم بادشاہ ہے“۔ (ترمذی اور امام ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن غریب ہے)۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا کہ بادشاہ زمین میں ظل اللہ (اللہ کی رحمت کا سایہ) ہوتا ہے جس کے پاس اس کے بندوں میں
سے ہر مظلوم پناہ لیتا ہے پس جب وہ انصاف سے کام لے گا تو اس کو اجر اور رعایا پر شکر (واجب
ہے) اور جب وہ ظلم کرے گا تو اس پر گناہ اور رعایا پر صبر (واجب ہے) (بیہقی شعب الایمان)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا: دس افراد کا کوئی امیر نہیں ہے مگر اس کو ضرور قیامت کے دن باندھا ہوا لایا جائے گا یہاں
تک کہ اس کو انصاف چھڑائے گا یا اس کو ظلم ہلاک کرے گا۔ (دارمی)
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا دس یا اس سے زائد افراد کے معاملہ کا کوئی بھی والی نہیں ہے مگر ضرور اس کو قیامت کے دن
اللہ بزرگ و برتر اس حالت میں لائے گا کہ اس کے ہاتھ اس کی گردن سے باندھے ہوئے ہوں
گے۔ اس کو اس کی نیکی چھڑائے گی یا اس کو اس کا گناہ ہلاک کرے گا۔ اس کی (امارت کی) ابتداء
ملامت ہے۔ اس کا درمیانی ندامت ہے اور اس کی انتہاء قیامت کے دن رسوائی ہے۔ (احمد)
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں اپنی امت پر تین چیزوں کا خوف کرتا ہوں۔ 1۔ کاہنوں
(سین کے نام) سے بارش طلب کرنا 2۔ بادشاہ کا ظلم کرنا 3۔ تقدیر کو جھٹلانا (احمد)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا: امراء کے لئے ہلاکت ہے، سرداروں کے لئے ہلاکت ہے، امانت رکھنے والوں کے لئے
ہلاکت ہے۔ کچھ لوگ قیامت کے دن ضرور اس بات کی تمنا کریں گے ان کی پیشانیوں کے بال
کہکشاں سے لٹکے ہوئے ہوتے اور وہ زمین و آسمان کے درمیان حرکت کرتے رہتے حالانکہ وہ کسی
کام پر مقرر نہیں کئے گئے۔ (شرح السنہ)
اور امام احمد نے آپ کی روایت میں یہ ہے کہ ان کی پیشانی کے بال ثریا سے
لٹکے ہوئے ہوتے اور وہ آسمان و زمین کے درمیان حرکت کرتے رہتے جب کہ وہ کسی چیز پر عامل
مقرر نہیں کئے گئے تھے۔
غالب قطانؒ ایک شخص سے وہ اپنے والد وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں
انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یقیناً سرداری حق ہے اور لوگوں کے لئے
چودھریوں کا ہونا ضروری ہے لیکن سردار دوزخ میں ہیں۔ (ابوداؤد)
سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے دو شانوں پر مارا پھر فرمایا اے قدیم تم کامیاب ہواگر تم اس حالت
میں انتقال کرو کہ تم نہ امیر تھے نہ کاتب تھے اور نہ چودھری۔ (ابوداؤد)
سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا ”اے معاویہ اگر تم (کسی معاملہ پر) حاکم بنائے جائیں تو اللہ سے ڈرو اور انصاف کرو“
انہوں نے کہا کہ میں ہمیشہ یہ گمان کرتا رہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ فرمان کی بنا پر میں ضرور
اس کام میں مبتلا ہونے والا ہوں یہاں تک کہ میں مبتلا ہوگیا۔ (امام احمد، اور دلائل النبوۃ بیہقی)
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا جو آدمی اپنے بھائی کو ڈراتے ہوئے ایک نگاہ7 بھی دیکھے تو اللہ تعالیٰ اس کو قیامت
کے دن ڈرائے گا۔ (امام بیہقی شعب الایمان)
Whoever looks at his brother with a look that frightens him,
(1) Regarding the saying: "Whoever looks at his brother with a look that frightens him," etc.: This hadith is mentioned in this chapter to indicate that merely causing fear incurs punishment on the Day of Resurrection, so how much more for greater forms of oppression? It implies that whoever looks at his brother with mercy and compassion, God will look at him with care on the Day of Resurrection, as stated in al-Marqah.
Note 1
قوله
(١) قوله: من نظر إلى أخيه نظرة يخيفه إلخ: إيراد هذ الحديث في هذا الباب للإشارة إلى أن مجرد الإخافة يترتب عليه العقوبة يوم القيامة، فكيف بما فوقها من أنواع المظلمة، ويؤخذ من مفهومه: أن من نظر بعين الرحمة والشفقة إلى أخيه نظر الله إليه بعين العناية يوم القيامة. كذا في (المرقاة).
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا صاحب مکس جنت میں داخل نہیں ہوگا یعنی وہ شخص جو لوگوں سے عشر (دسواں حصہ) لیتا
ہے۔ (احمد، ابوداؤد، دارمی)
سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ قیس بن سعد نبی اکرم صلی اللہ
علیہ وسلم کے پاس ایسے ہی رہتے تھے جیسے کسی امیر کے پاس اس کے احکام جاری کرنے والا رہتا
ہے۔ (بخاری)
سیدنا کعب بن عجرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مجھ سے رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں تم کو بیوقوفوں کی امارت سے اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا
وہ کیا ہے یا رسول اللہ ﷺ؟ آپ ﷺ نے فرمایا عنقریب میرے بعد چند امراء ہوں گے۔ جو ان کے
پاس داخل ہو کر ان کے جھوٹ پر ان کی تصدیق کرے اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کرے تو وہ مجھ سے
نہیں ہیں۔ اور میں ان سے نہیں۔ اور وہ ہرگز میرے پاس حوض پر وارد نہیں ہوں گے۔ اور جو ان کے
پاس داخل نہ ہوں اور نہ ان کے جھوٹ پر ان کی تصدیق کریں اور نہ ان کے ظلم پر ان کی مدد کریں تو وہ مجھ
سے ہیں اور میں ان سے ہوں اور وہ لوگ میرے پاس حوض پر وارد ہوں گے۔ (ترمذی، نسائی)
سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا: جو آدمی گاؤں میں رہا اس نے ظلم کیا اور جو شکار کے پیچھے پڑا وہ غافل رہا اور جو بادشاہ کے
پاس آیا فتنہ میں پڑا۔ (احمد، ترمذی، نسائی)
ابوداؤد کی روایت میں ہے: جو آدمی بادشاہ کو لازم کر لیا وہ فتنہ میں پڑا اور جو
کوئی بندہ بادشاہ سے قربت میں زیادہ ہوا تو وہ اللہ تعالیٰ سے دوری میں زیادہ ہوگا۔
یحییٰ بن ہاشم، یونس بن ابی اسحاق سے وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جیسے تم ہوگے ویسا ہی تم پر امیر مقرر ہوگا“ (امام بیہقی نے
شعب الایمان میں اس کی روایت کی ہے)
سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں بادشاہوں کا
مالک ہوں اور بادشاہوں کا بادشاہ ہوں۔ بادشاہوں کے دل میرے دست قدرت میں ہیں اور بے
شک جب بندے میری اطاعت کرتے ہیں تو میں ان کے بادشاہوں کے دلوں کو ان پر رحمت و
شفقت کے ساتھ موڑ دیتا ہوں اور بے شک جب بندے میری نافرمانی کرتے ہیں تو میں ان کے
دلوں کو ان پر ناراضگی اور سزا کے ساتھ موڑ دیتا ہوں تو وہ ان کو برا عذاب چکھاتے ہیں پس تم
بادشاہوں پر بد دعا کرنے میں اپنے آپ کو مشغول مت رکھو بلکہ ذکر اور گریہ و زاری میں اپنے آپ کو
مشغول رکھو تاکہ میں تمہارے لئے تمہارے بادشاہوں کے مقابلہ میں ہو جاؤں۔ (ابو نعیم نے حلیہ
میں اس کی روایت کی)۔
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کو یہ بات پہنچی کہ اہل فارس نے کسریٰ کی بیٹی کو اپنی بادشاہ بنا لیا تو آپ ﷺ نے فرمایا وہ قوم ہرگز
کامیاب نہیں ہوگی8 جس نے کسی عورت کو حاکم بنایا ہو۔ (بخاری)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 4425 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih al-Bukhari 7099 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
A people who entrust their affairs to a woman will never succeed
(1) Regarding the saying: "A people who entrust their affairs to a woman will never succeed": It is stated in al-Durr al-Mukhtar: Appointing an imam is one of the most important obligations, so it was prioritized over burying the one with miracles. The conditions include being a Muslim, free, male, rational, mature, capable, and from Quraysh, but not Hashimi or Alawi, and infallible.
Note 1
قوله
(١) قوله: لن يفلح قوم ولَّوا أمرهم امرأة: وقال في (الدر المختار): ونصب الإمام أهم الواجبات، فلذا قدَّموه على دفن صاحب المعجزات، ويشترط كونه مسلما حُرَّا ذَكرًا عاقلًا بالغًا قادرًا قرشيا لا هاشميًا علويًّا معصومًا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا: تم ستر کے دہے کے آغاز اور بے وقوفوں کی حکومت سے اللہ تعالیٰ کی پناہ
مانگو۔ (احمد)
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) Regarding the saying: "Whoever looks at his brother with a look that frightens him," etc.: This hadith is mentioned in this chapter to indicate that merely causing fear incurs punishment on the Day of Resurrection, so how much more for greater forms of oppression? It implies that whoever looks at his brother with mercy and compassion, God will look at him with care on the Day of Resurrection, as stated in al-Marqah.
Note 1
(١) قوله: من نظر إلى أخيه نظرة يخيفه إلخ: إيراد هذ الحديث في هذا الباب للإشارة إلى أن مجرد الإخافة يترتب عليه العقوبة يوم القيامة، فكيف بما فوقها من أنواع المظلمة، ويؤخذ من مفهومه: أن من نظر بعين الرحمة والشفقة إلى أخيه نظر الله إليه بعين العناية يوم القيامة. كذا في (المرقاة).