Ma'qil ibn Yasar, may God be pleased with him, said: I heard the Messenger of God, peace and blessings be upon him, say: "No governor who rules over a Muslim community and dies while deceiving them will enter Paradise."
العربية
Typed, pending editorial approval
٣٦٥٤- وعن معقل بن يسار رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلي الله عليه وسلم يقول : (ما من وال يَلِيْ رَعِيَّةً مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَيَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لَهُمْ إِلَّا حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ). مُتَّفَقٌّ عَلَيْهِ.
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نہیں ہے کوئی حاکم جو مسلمان رعایا پر حکومت کرتا ہو
اور وہ انتقال کر جائے اس حالت میں کہ وہ ان کو دھوکہ دیتا تھا مگر یہ کہ ضرور اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو
حرام کر دے گا۔ (متفق علیہ)
From him, may God be pleased with him, he said: I heard the Messenger of God, peace and blessings be upon him, say: "No servant whom God entrusts with a community and does not advise them sincerely will smell the fragrance of Paradise."
العربية
Typed, pending editorial approval
٣٦٥٥ - وَعَنْهُ رضي الله عنه ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صلي الله عليه وسلم يَقُوْلُ: (مَا مِنْ عَبْدٍ اسْتَرْعَاهُ اللهُ رَعِيَّةً فَلَمْ يَحْظْهَا بِنَصِيحَةٍ إِلَّا لَمْ يَجِدْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ). مُتَّفَقُّ عَلَيْهِ.
ان ہی سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے
ہوئے سنا ہے جو کوئی بندہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو کسی رعایا پر حاکم بنایا ہوا اور اس نے ان کے ساتھ کامل
خیر خواہی نہیں کی ہے تو وہ جنت کی خوشبو ہرگز نہیں پائے گا۔ (متفق علیہ)
Abu Umama, may God be pleased with him, reported that the Prophet, peace and blessings be upon him, said: "If a leader seeks suspicion among the people, he corrupts them."
العربية
Typed, pending editorial approval
٣٦٥٦ - وَعَنْ أَبِيْ أُمَامَةَ رضي الله عنه ، عَنِ النَّبِيِّ صلي الله عليه وسلم قَالَ: (إِنَّ الْأَمِيرَ إِذَا ابْتَغَى الرِّيَبَةَ فِي النَّاسِ أَفْسَدَهُمْ). رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.
ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت
کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ امیر جب لوگوں میں شبہات تلاش کرے گا تو وہ ان کو بگاڑ دے
گا (ان میں فساد ڈال دے گا)۔ (ابوداؤد)
Muawiya, may God be pleased with him, said: I heard the Messenger of God, peace and blessings be upon him, say: "If you pursue people's faults, you will corrupt them."
العربية
Typed, pending editorial approval
٣٦٥٧ - وَعَنْ مُعَاوِيَةَ رضي الله عنه ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صلي الله عليه وسلم يَقُولُ: (إِنَّكَ إِنِ اتَّبَعْتَ عَوْرَاتِ النَّاسِ أَفْسَدْتَهُمْ). رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي (شُعَبِ الْإِيْمَانِ).
حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ: میں نے رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے جب تو لوگوں کے عیوب کی تلاش میں رہے گا تو ان میں
فساد ڈال دے گا۔ (بیہقی شعب الایمان)
Aisha, may God be pleased with her, said: The Messenger of God, peace and blessings be upon him, said: "O God, whoever takes charge of any matter of my nation and causes them hardship, cause him hardship. Whoever takes charge of any matter of my nation and is gentle with them, be gentle with him."
العربية
Typed, pending editorial approval
٣٦٥٨ - وَعَنْ عَائِشَةَ رضي الله عنها قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّهِ صلي الله عليه وسلم : (الُلهُمَّ مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَشَقَّ عَلَيْهِمْ فَاشْقُقْ عَلَيْهِ، وَمَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَرَفَقَ بِهِمْ فَارْفُقْ بِهِ). رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے فرمایا: اے اللہ جو آدمی میری امت کے کسی معاملہ کا حاکم بن جائے اور ان پر مشقت ڈالے تو
تو بھی اس پر مشقت ڈال اور جو آدمی میری امت کے کسی معاملہ کا حاکم بنایا جائے اور وہ ان کے
ساتھ نرمی کرے تو تو بھی اس کے ساتھ نرمی کر۔ (مسلم)
Umar ibn al-Khattab, may God be pleased with him, said: The Messenger of God, peace and blessings be upon him, said: "The best of God's servants in rank with God on the Day of Resurrection are the just and gentle imam, and the worst of God's servants in rank with God on the Day of Resurrection are the unjust and harsh imam."
العربية
Typed, pending editorial approval
٣٦٥٩ - وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَظّابِ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلي الله عليه وسلم : (إِنَّ أَفْضَلَ عِبَادِ اللهِ عِنْدَ اللهِ مَنْزِلَةٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِمَامٌّ عَادِلٌ رَفِيْقُ، وَشَرَّ عِبَادِ اللهِ عِنْدَ اللهِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامِةِ إِمَامٌّ جَائِرٌ خَرِقٌّ). رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي (شُعَبِ الْإِيْمَانِ).
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے بندوں میں اللہ کے پاس قیامت کے دن مرتبہ میں سب سے بڑھ
کر فضیلت والا، انصاف کرنے والا اور نرمی کرنے والا امام ہے اور قیامت کے دن اللہ کے پاس
لوگوں میں سب سے بدترین درجہ والا، ظالم اور سختی کرنے والا امام ہے۔ (بیہقی شعب الایمان)
Abdullah ibn Amr ibn al-As, may God be pleased with them, said: The Messenger of God, peace and blessings be upon him, said: "The just will be with God on pulpits of light at the right hand of the Merciful, and both His hands are right—those who are just in their rulings, their families, and what they govern."
العربية
Typed, pending editorial approval
٣٦٦٠- وعن عبدالله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما قال : قال رسول الله صلي الله عليه وسلم : ( ان الْمُقْسِطِينَ عِنْدَ اللهِ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ عَنْ يَمِينِ الرَّحْمَنِ، وَكِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ، الَّذِينَ يَعْدِلُونَ فِي حُكْمِهِمْ وَأَهْلِيهِمْ وَمَا وَلُوا). رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ انصاف کرنے والے، اللہ کے پاس نور کے منبروں پر رحمن کے
سیدھے جانب ہوں گے اور اس کے دونوں ہاتھ سیدھے ہی ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے فیصلے میں
اور اپنے اہل وعیال اور ان چیزوں میں جن کے وہ حاکم بنائے گئے ہیں انصاف کرتے ہیں۔
(مسلم)
Abu Sa'id, may God be pleased with him, reported that the Messenger of God, peace and blessings be upon him, said: "No prophet was sent by God, nor any caliph appointed, except that he had two confidants: one who commands good and urges it, and one who commands evil and urges it. The protected is the one whom God protects."
العربية
Typed, pending editorial approval
٣٦٦١ - وَعَنْ أَبِيْ سَعِيْدٍرضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلي الله عليه وسلم : (مَا بَعَثَ اللهُ مِنْ نَبِيٍّ وَلَا اسْتَخْلَفَ مِنْ خَلِيفَةٍ إِلَّا كَانَتْ لَهُ بَطَائَتَانٍ: بِطَائَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْمَعْرُوفِ وَتَحْضُّهُ عَلَيْهِ، وَبِطَائَةٌ تَأْمُرُهُ بِالشَّرِّ وَتَحْضُّهُ عَلَيْهِ، فَالْمَعْصُومُ مَنْ عَصَمَهُ اللهُ). رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
سیدنا ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے فرمایا نہیں بھیجا اللہ تعالیٰ نے کسی بھی نبی کو اور نہ کسی کو خلیفہ بنایا مگر ضرور اس کے لئے دو
اندرونی رفیق ہوتے ہیں۔ ایک اس کو نیکی کا حکم دیتا ہے اور اس کو اس پر ابھارتا ہے۔ دوسرا اندرونی
رفیق اس کو برائی کا حکم دیتا ہے اور اس کو اس پر ابھارتا ہے۔ اور معصوم (گناہ سے محفوظ) وہ ہے جس کو
اللہ (تعالیٰ) بچا لے (محفوظ رکھے)۔ (بخاری)
Aisha, may God be pleased with her, said: The Messenger of God, peace and blessings be upon him, said: "If God intends good for a leader, He gives him a truthful advisor who reminds him if he forgets and assists him if he remembers. If God intends otherwise, He gives him an evil advisor who does not remind him if he forgets and does not assist him if he remembers."
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ حاکم کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لئے راستباز وزیر مقرر
کر دیتا ہے اگر وہ بھول جائے تو یہ اس کو یاد دلاتا اور اگر وہ یاد رکھتا ہے تو یہ اس کی مدد کرتا ہے۔ اور وہ
(اللہ تعالیٰ) اس کے ساتھ اس (بھلائی) کے سوا دوسری چیز کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لئے بُرا وزیر
مقرر کر دیتا ہے۔ اگر وہ بھول جائے یہ اس کو یاد نہیں دلاتا اور اگر وہ یاد رکھتا ہے تو یہ اس کی مدد نہیں
کرتا۔ (ابوداؤد، نسائی)
Abu Sa'id, may God be pleased with him, said: The Messenger of God, peace and blessings be upon him, said: "The most beloved of people to God on the Day of Resurrection and the closest to Him in seating is a just imam, and the most hated of people to God on the Day of Resurrection and the farthest from Him in seating is an unjust imam."
حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ کے پاس لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب اور اس سے ان میں سب
سے زیادہ قریب مجلس کے اعتبار سے انصاف کرنے والا امام ہے اور قیامت کے دن اللہ کے پاس
لوگوں میں سب سے زیادہ ناپسند اور ان میں سب سے زیادہ سخت عذاب والا۔
اور ایک روایت میں ہے اور ”اس سے ان میں سب سے زیادہ دور مجلس کے
اعتبار سے ظالم بادشاہ ہے“۔ (ترمذی اور امام ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن غریب ہے)۔
Ibn Umar, may God be pleased with him, reported that the Prophet, peace and blessings be upon him, said: "The ruler is a shade on earth to which every oppressed person turns. If he is just, he will have a reward, and the people owe gratitude. If he is unjust, he bears the burden, and the people must be patient."
العربية
Typed, pending editorial approval
٣٦٦٤- وعن ابن عمر رضي الله عنه ان النبي صلي الله عليه وسلم قال: (ان السلطان ظل في الارض يَأْوِيْ إِلَيْهِ كُلُّ مَظْلُوْمٍ مِنْ عِبَادِهِ، فَإِذَا عَدَلَ كَانَ لَهُ الْأَجْرُ وَعَلَى الرَّعِيَّةِ الشُّكْرُ، وَإِذَا جَار كَانَ عَلَيْهِ الْإِصْرُ وَعَلَى الرَّعِيَّةِ الصَّبْرُ). رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي (شُعَبِ الْإِيْمَانِ).
سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا کہ بادشاہ زمین میں ظل اللہ (اللہ کی رحمت کا سایہ) ہوتا ہے جس کے پاس اس کے بندوں میں
سے ہر مظلوم پناہ لیتا ہے پس جب وہ انصاف سے کام لے گا تو اس کو اجر اور رعایا پر شکر (واجب
ہے) اور جب وہ ظلم کرے گا تو اس پر گناہ اور رعایا پر صبر (واجب ہے) (بیہقی شعب الایمان)
Abu Huraira, may God be pleased with him, said: The Messenger of God, peace and blessings be upon him, said: "No leader of ten will be brought on the Day of Resurrection except in chains, until justice frees him or injustice destroys him."
العربية
Typed, pending editorial approval
٣٦٦٥- وعن ابي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلي الله عليه وسلم : (ما من امير عشرة الا يُؤْلَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولًا حَتَّى يَقُكَّ عَنْهُ الْعَدْلُ أَوْ يُؤْبِقُهُ الْجُوْرُ). رَوَاهُ الدَّارِميُّ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا: دس افراد کا کوئی امیر نہیں ہے مگر اس کو ضرور قیامت کے دن باندھا ہوا لایا جائے گا یہاں
تک کہ اس کو انصاف چھڑائے گا یا اس کو ظلم ہلاک کرے گا۔ (دارمی)
Abu Umama, may God be pleased with him, reported that the Prophet, peace and blessings be upon him, said: "No man who governs ten or more will come to God Almighty on the Day of Resurrection except in chains, with his hand to his neck, until his righteousness frees him or his sin destroys him. Its beginning is blame, its middle is regret, and its end is disgrace on the Day of Resurrection."
العربية
Typed, pending editorial approval
٣٦٦٦- وعن ابي امامة رضي الله عنه عن النبي صلي الله عليه وسلم انه قال : (ما من رجل يلي امر عشرة فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَّا أَتَّى اللّهَ عَزَّ وَجَلَّ مَغْلُولًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَدُهُ إِلَى عُنُقِهِ، فَكَّهُ بِرُّهُ أَوْ أَوْبَقَه إِثْمُهُ، أَوَّلُهَا مَلَامَةٌ، وَأَوْسَطُهَا نَدَامَةُ، وَآخِرُهَا خِزْيُّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ). رَوَاهُ أَحْمَدُ.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا دس یا اس سے زائد افراد کے معاملہ کا کوئی بھی والی نہیں ہے مگر ضرور اس کو قیامت کے دن
اللہ بزرگ و برتر اس حالت میں لائے گا کہ اس کے ہاتھ اس کی گردن سے باندھے ہوئے ہوں
گے۔ اس کو اس کی نیکی چھڑائے گی یا اس کو اس کا گناہ ہلاک کرے گا۔ اس کی (امارت کی) ابتداء
ملامت ہے۔ اس کا درمیانی ندامت ہے اور اس کی انتہاء قیامت کے دن رسوائی ہے۔ (احمد)
Jabir ibn Samura, may God be pleased with him, said: I heard the Messenger of God, peace and blessings be upon him, say: "Three things I fear for my nation: seeking rain through the stars, the injustice of the ruler, and denying destiny."
العربية
Typed, pending editorial approval
٣٦٦٧ - وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّهِ وصلي الله عليه وسلم يَقُوْلُ: (ثَلَاثٌ أَخَافُ عَلَى أُمَّتِيْ: الإِسْتِسْقَاءُ بِالْأَنْوَاءِ، وَحَيْفُ السُّلْطَانِ، وَتَكْذِيبُ بِالْقَدَرِ). رَوَاهُ أَحْمَدُ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں اپنی امت پر تین چیزوں کا خوف کرتا ہوں۔ 1۔ کاہنوں
(سین کے نام) سے بارش طلب کرنا 2۔ بادشاہ کا ظلم کرنا 3۔ تقدیر کو جھٹلانا (احمد)
Abu Huraira said: The Messenger of God, peace and blessings be upon him, said: "Woe to the leaders, woe to the chiefs, woe to the trustees. Some people will wish on the Day of Resurrection that their hair was hung from the Pleiades, swaying between heaven and earth, rather than having undertaken any work."
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا: امراء کے لئے ہلاکت ہے، سرداروں کے لئے ہلاکت ہے، امانت رکھنے والوں کے لئے
ہلاکت ہے۔ کچھ لوگ قیامت کے دن ضرور اس بات کی تمنا کریں گے ان کی پیشانیوں کے بال
کہکشاں سے لٹکے ہوئے ہوتے اور وہ زمین و آسمان کے درمیان حرکت کرتے رہتے حالانکہ وہ کسی
کام پر مقرر نہیں کئے گئے۔ (شرح السنہ)
اور امام احمد نے آپ کی روایت میں یہ ہے کہ ان کی پیشانی کے بال ثریا سے
لٹکے ہوئے ہوتے اور وہ آسمان و زمین کے درمیان حرکت کرتے رہتے جب کہ وہ کسی چیز پر عامل
مقرر نہیں کئے گئے تھے۔
Ghalib al-Qattan narrated from a man, from his father, from his grandfather, who said: The Messenger of God, peace and blessings be upon him, said: "The role of the chief is true, and people need chiefs, but the chiefs are in the Fire." [Narrated by Abu Dawud
غالب قطانؒ ایک شخص سے وہ اپنے والد وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں
انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یقیناً سرداری حق ہے اور لوگوں کے لئے
چودھریوں کا ہونا ضروری ہے لیکن سردار دوزخ میں ہیں۔ (ابوداؤد)
Al-Miqdam ibn Ma'dikarib said: The Messenger of God, peace and blessings be upon him, struck his shoulder and said to him: "You have succeeded, O Qudaym, if you die without being a leader, a scribe, or a chief."
سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے دو شانوں پر مارا پھر فرمایا اے قدیم تم کامیاب ہواگر تم اس حالت
میں انتقال کرو کہ تم نہ امیر تھے نہ کاتب تھے اور نہ چودھری۔ (ابوداؤد)
Muawiya, may God be pleased with him, said: The Messenger of God, peace and blessings be upon him, said: "O Muawiya, if you are given authority, fear God and be just." He said: I continued to believe I would be tested with authority because of the Prophet's words until I was tested.
العربية
Typed, pending editorial approval
٣٦٧١ - وَعَنْ مُعَاوِيَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلي الله عليه وسلم : (يَا مُعَاوِيَةُ، إِنْ وُلِّيْتَ أَمْرًا فَاتَّقِ اللهَ وَاعْدِلْ). قَالَ: فَمَا زِلْتُ أَظُنُّ أَنِّ مُبْتَلّى بِعَمَلٍ لِقَوْلِ النَّبِيِّ صلي الله عليه وسلم حَتَّى ابْتُلِيتُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي (دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ).
سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا ”اے معاویہ اگر تم (کسی معاملہ پر) حاکم بنائے جائیں تو اللہ سے ڈرو اور انصاف کرو“
انہوں نے کہا کہ میں ہمیشہ یہ گمان کرتا رہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ فرمان کی بنا پر میں ضرور
اس کام میں مبتلا ہونے والا ہوں یہاں تک کہ میں مبتلا ہوگیا۔ (امام احمد، اور دلائل النبوۃ بیہقی)
Abdullah ibn Amr, may God be pleased with them, said: The Messenger of God, peace and blessings be upon him, said: "Whoever looks at his brother with a look that frightens him, God will frighten him on the Day of Resurrection."
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا جو آدمی اپنے بھائی کو ڈراتے ہوئے ایک نگاہ7 بھی دیکھے تو اللہ تعالیٰ اس کو قیامت
کے دن ڈرائے گا۔ (امام بیہقی شعب الایمان)
Whoever looks at his brother with a look that frightens him,
(1) Regarding the saying: "Whoever looks at his brother with a look that frightens him," etc.: This hadith is mentioned in this chapter to indicate that merely causing fear incurs punishment on the Day of Resurrection, so how much more for greater forms of oppression? It implies that whoever looks at his brother with mercy and compassion, God will look at him with care on the Day of Resurrection, as stated in al-Marqah.
Note 1
قوله
(١) قوله: من نظر إلى أخيه نظرة يخيفه إلخ: إيراد هذ الحديث في هذا الباب للإشارة إلى أن مجرد الإخافة يترتب عليه العقوبة يوم القيامة، فكيف بما فوقها من أنواع المظلمة، ويؤخذ من مفهومه: أن من نظر بعين الرحمة والشفقة إلى أخيه نظر الله إليه بعين العناية يوم القيامة. كذا في (المرقاة).
Uqba ibn Amir, may God be pleased with him, said: The Messenger of God, peace and blessings be upon him, said: "No tax collector will enter Paradise." Meaning, one who taxes people.
العربية
Typed, pending editorial approval
٣٦٧٣-وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلي الله عليه وسلم : (لَا يَدْخُلُ الْجَنَّة صَاحِبُ مَكْبٍس). يَعْنِيِّ الَّذِيْ يَعْشُرُ النَّاسَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالدَّارِيُّ.
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا صاحب مکس جنت میں داخل نہیں ہوگا یعنی وہ شخص جو لوگوں سے عشر (دسواں حصہ) لیتا
ہے۔ (احمد، ابوداؤد، دارمی)
سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ قیس بن سعد نبی اکرم صلی اللہ
علیہ وسلم کے پاس ایسے ہی رہتے تھے جیسے کسی امیر کے پاس اس کے احکام جاری کرنے والا رہتا
ہے۔ (بخاری)
Ka'b ibn Ujra, may God be pleased with him, said: The Messenger of God, peace and blessings be upon him, said to me: "I seek refuge for you with God from the leadership of fools." I said: "What is that, O Messenger of God?" He said: "Leaders who will come after me. Whoever enters upon them and confirms their lies or assists in their oppression is not from me, and I am not from them, and they will not come to me at the Pool. Whoever does not enter upon them, does not confirm their lies, and does not assist in their oppression, they are from me, and I am from them, and they will come to me at the Pool."
سیدنا کعب بن عجرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مجھ سے رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں تم کو بیوقوفوں کی امارت سے اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا
وہ کیا ہے یا رسول اللہ ﷺ؟ آپ ﷺ نے فرمایا عنقریب میرے بعد چند امراء ہوں گے۔ جو ان کے
پاس داخل ہو کر ان کے جھوٹ پر ان کی تصدیق کرے اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کرے تو وہ مجھ سے
نہیں ہیں۔ اور میں ان سے نہیں۔ اور وہ ہرگز میرے پاس حوض پر وارد نہیں ہوں گے۔ اور جو ان کے
پاس داخل نہ ہوں اور نہ ان کے جھوٹ پر ان کی تصدیق کریں اور نہ ان کے ظلم پر ان کی مدد کریں تو وہ مجھ
سے ہیں اور میں ان سے ہوں اور وہ لوگ میرے پاس حوض پر وارد ہوں گے۔ (ترمذی، نسائی)
Ibn Abbas, may God be pleased with him, reported that the Prophet, peace and blessings be upon him, said: "Whoever lives in the desert becomes harsh, whoever follows hunting becomes heedless, and whoever comes to the ruler is tempted." [Narrated by Ahmad, al-Tirmidhi, and al-Nasa'i. In Abu Dawud's narration: "Whoever clings to the ruler is tempted," adding: "The closer a servant gets to the ruler, the further he gets from God."
سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا: جو آدمی گاؤں میں رہا اس نے ظلم کیا اور جو شکار کے پیچھے پڑا وہ غافل رہا اور جو بادشاہ کے
پاس آیا فتنہ میں پڑا۔ (احمد، ترمذی، نسائی)
ابوداؤد کی روایت میں ہے: جو آدمی بادشاہ کو لازم کر لیا وہ فتنہ میں پڑا اور جو
کوئی بندہ بادشاہ سے قربت میں زیادہ ہوا تو وہ اللہ تعالیٰ سے دوری میں زیادہ ہوگا۔
Yahya ibn Hashim narrated from Yulus ibn Abi Ishaq, from his father, may God be pleased with him, who said: The Messenger of God, peace and blessings be upon him, said: "As you are, so will your leaders be."
العربية
Typed, pending editorial approval
٣٦٧٧ - وَعَنْ يَحْيَ بْنِ هَاشِمٍ عَنْ يُولس بْنِ أَبِيْ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِيْهِ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ الله صلي الله عليه وسلم : (كما تكونون كذلك يومر عليكم ). رواه البيهقي في(شعب الايمان).
یحییٰ بن ہاشم، یونس بن ابی اسحاق سے وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جیسے تم ہوگے ویسا ہی تم پر امیر مقرر ہوگا“ (امام بیہقی نے
شعب الایمان میں اس کی روایت کی ہے)
Abu al-Darda, may God be pleased with him, said: The Messenger of God, peace and blessings be upon him, said: "God Almighty says: I am God; there is no deity but Me, the King of kings, the Master of kings. The hearts of kings are in My hand. If My servants obey Me, I turn the hearts of their kings toward them with mercy and compassion. If My servants disobey Me, I turn their hearts with anger and resentment, and they afflict them with severe punishment. So do not occupy yourselves with praying against kings, but occupy yourselves with remembering and supplicating to Me, and I will suffice you against your kings."
سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں بادشاہوں کا
مالک ہوں اور بادشاہوں کا بادشاہ ہوں۔ بادشاہوں کے دل میرے دست قدرت میں ہیں اور بے
شک جب بندے میری اطاعت کرتے ہیں تو میں ان کے بادشاہوں کے دلوں کو ان پر رحمت و
شفقت کے ساتھ موڑ دیتا ہوں اور بے شک جب بندے میری نافرمانی کرتے ہیں تو میں ان کے
دلوں کو ان پر ناراضگی اور سزا کے ساتھ موڑ دیتا ہوں تو وہ ان کو برا عذاب چکھاتے ہیں پس تم
بادشاہوں پر بد دعا کرنے میں اپنے آپ کو مشغول مت رکھو بلکہ ذکر اور گریہ و زاری میں اپنے آپ کو
مشغول رکھو تاکہ میں تمہارے لئے تمہارے بادشاہوں کے مقابلہ میں ہو جاؤں۔ (ابو نعیم نے حلیہ
میں اس کی روایت کی)۔
Abu Bakra, may God be pleased with him, said: When it reached the Messenger of God, peace and blessings be upon him, that the people of Persia had appointed a daughter of Khosrow over them, he said: "A people who entrust their affairs to a woman will never succeed."
العربية
Typed, pending editorial approval
٣٦٧٩ - وَعَنْ أَبِيْ بَكْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: لَمَّا بَلَغَ رَسُوْلَ اللهِ صلي الله عليه وسلم أَنَّ أَهْلَ فَارِسَ قَدْ مَلَّكُوا عَلَيْهِمْ بِنْتَ كِسْرَى، قَالَ: (لَنْ يُفْلِحَ1 قَوْمٌّ وَلَّوْا أَمْرَهُمْ امْرَأَةً). رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کو یہ بات پہنچی کہ اہل فارس نے کسریٰ کی بیٹی کو اپنی بادشاہ بنا لیا تو آپ ﷺ نے فرمایا وہ قوم ہرگز
کامیاب نہیں ہوگی8 جس نے کسی عورت کو حاکم بنایا ہو۔ (بخاری)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 4425 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih al-Bukhari 7099 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
A people who entrust their affairs to a woman will never succeed
(1) Regarding the saying: "A people who entrust their affairs to a woman will never succeed": It is stated in al-Durr al-Mukhtar: Appointing an imam is one of the most important obligations, so it was prioritized over burying the one with miracles. The conditions include being a Muslim, free, male, rational, mature, capable, and from Quraysh, but not Hashimi or Alawi, and infallible.
Note 1
قوله
(١) قوله: لن يفلح قوم ولَّوا أمرهم امرأة: وقال في (الدر المختار): ونصب الإمام أهم الواجبات، فلذا قدَّموه على دفن صاحب المعجزات، ويشترط كونه مسلما حُرَّا ذَكرًا عاقلًا بالغًا قادرًا قرشيا لا هاشميًا علويًّا معصومًا.
Abu Huraira, may God be pleased with him, said: The Messenger of God, peace and blessings be upon him, said: "Seek refuge with God from the beginning of the seventies and the leadership of children."
العربية
Typed, pending editorial approval
٣٦٨٠ - وَعَنْ أَبِيُّ هُرَيْرَةَ رضي الله عنه ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلي الله عليه وسلم : (تَعَوَّذُوا بِاللهِ مِنْ رَأْسِ السَّبْعِينَ وَإِمَارَةِ الصِّبْيَانِ). رَوَاهُ أَحْمَدُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا: تم ستر کے دہے کے آغاز اور بے وقوفوں کی حکومت سے اللہ تعالیٰ کی پناہ
مانگو۔ (احمد)
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) Regarding the saying: "Whoever looks at his brother with a look that frightens him," etc.: This hadith is mentioned in this chapter to indicate that merely causing fear incurs punishment on the Day of Resurrection, so how much more for greater forms of oppression? It implies that whoever looks at his brother with mercy and compassion, God will look at him with care on the Day of Resurrection, as stated in al-Marqah.
Note 1
(١) قوله: من نظر إلى أخيه نظرة يخيفه إلخ: إيراد هذ الحديث في هذا الباب للإشارة إلى أن مجرد الإخافة يترتب عليه العقوبة يوم القيامة، فكيف بما فوقها من أنواع المظلمة، ويؤخذ من مفهومه: أن من نظر بعين الرحمة والشفقة إلى أخيه نظر الله إليه بعين العناية يوم القيامة. كذا في (المرقاة).