Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں حج کے افعال، احکام اور فضائل کا بیان ہے) · Chapter 2

(اس باب میں حجۃ الوداع کا بیان ہے)

13 narrations · In source reading order

Hadith 3009

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3563Noor 3564
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (ہجرت کے بعد) مدینہ منورہ میں نو برس رہے اور اس عرصہ میں آپ نے حج نہیں کیا۔ پھر ہجرت کے دسویں سال آپ نے عام منادی کرادی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سال حج کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس اعلان کو سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جوق در جوق مدینہ منورہ آنے لگے اور ہر ایک کی یہ خواہش تھی کہ آپ کی اتباع (میں مناسک حج ادا) کریں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حج کی طرح حج کریں (راوی کہتے ہیں کہ) ہم حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ (حج کے ارادہ سے) نکلے اور مقام ذوالحلیفہ پر پہونچے۔ یہاں اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہما کے بطن سے محمد بن ابوبکر رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے حضرت اسماء نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس واقعہ کی اطلاع دی اور دریافت کروایا کہ اب میں اس صورت میں کیا کروں۔ آپ نے فرمایا کہ غسل کرو اور کسی کپڑے کو (اندام نہانی پر) رکھ کر لنگوٹ باندھو اور احرام باندھ لو تاکہ طواف کے سوا اور مناسک حج ادا ہوتے رہیں) اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد (ذوالحلیفہ) میں دوگانہ احرام ادا فرمائے اور دوگانہ ادا کرنے کے بعد تلبیہ پڑھے) پھر آپ ناقہ مبارکہ پر سوار ہوئے (تو تلبیہ پڑھے) پھر جب اونٹنی آپ کو لے کر میدان میں پہونچی تو (راوی کہتے ہیں کہ) میں نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے میری حد نظر تک لوگ ہی لوگ تھے جن میں سوار بھی تھے اور پیدل بھی، اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دائیں طرف بھی یہی حال تھا اور بائیں جانب لوگ اسی طرح جوق در جوق تھے اور پیچھے بھی یہی حال تھا۔ یہاں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلند آواز سے اس طرح تلبیہ پڑھا: لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيْكَ لَكَ! اور صحابہ کرام بھی ان ہی الفاظ میں تلبیہ پڑھ رہے تھے اور بعض صحابہ کرام (تلبیہ پڑھنے کے بعد حمد کے بعض الفاظ کا جو اضافہ کر رہے تھے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس اضافہ سے صحابہ کرام کو منع نہیں فرمایا اور خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا مذکورہ تلبیہ ہی پڑھ رہے تھے (راوی حدیث) حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ (ایام جاہلیت میں شہور حج میں) ہم صرف حج کی نیت کرتے تھے اور عمرہ کو (حج کے ساتھ ملانے کو) جانتے بھی نہ تھے۔ (اس خیال کی اصلاح کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمرہ اور حج کی ایک ساتھ نیت فرمائی) پھر جب ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کعبۃ اللہ میں داخل ہوئے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (عمرہ کے مناسک اس طرح ادا فرمائے کہ) آپ نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور (طواف شروع فرمایا اور) سات پھیرے اس طرح فرمائے کہ پہلے تین پھیروں میں آپ نے رمل فرمایا (یعنی ان تین پھیروں کو دوڑتے ہوئے اچھل اچھل کر ادا کیا) اور باقی چار پھیرے (معمولی رفتار سے) چلتے ہوئے ادا فرمائے۔ پھر آپ مقام ابراہیم کے پاس تشریف لائے اور یہ آیت پڑھی: ”وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهِيْمَ مُصَلًّى“ (سورۃ بقرہ، پ:1، ع:15، آیت نمبر:125) (مقام ابراہیم کو تم اپنا مصلی بناؤ) پھر آپ نے یہاں دو رکعت (دوگانہ طواف اس طرح) ادا فرمائے کہ آپ کعبۃ اللہ اور مقام ابراہیم کے درمیان کھڑے تھے اور ایک روایت میں اس طرح ہے کہ ان دو رکعتوں میں آپ نے ”قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُوْنَ اور قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ“ پڑھی (دوگانہ طواف ادا کرنے کے بعد) آپ (زمزم شریف پی کر) پھر حجر اسود کے پاس تشریف لائے اور اس کو بوسہ دیا اور (سعی ادا فرمانے کے لئے) باب الصفا سے نکل کر صفا پر تشریف لائے۔ جب آپ صفا سے قریب ہوئے تو یہ آیت پڑھی: ”إِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰهِ“ (سورۃ بقرہ، پ:2، ع:19، آیت نمبر:158) (بیشک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں ہیں) پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں (سعی کو صفا سے) شروع کرتا ہوں اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں صفا کا ذکر پہلے کیا ہے آپ نے سعی اس طرح شروع فرمائی کہ آپ صفا پر چڑھ گئے اور وہاں سے کعبۃ اللہ پر نظر ڈالی اور کعبۃ اللہ کی طرف رخ کیا اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اس طرح بیان فرمائے کہ آپ نے لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه اور اَللّٰهُ أَكْبَرُ فرمایا۔ پھر آپ نے یہ کلمات ادا وَحْدَهُ“ اس کے بعد آپ نے دعا فرمائی اور ان پورے کلمات کو تین مرتبہ دہرایا، پھر صفا سے اتر پڑے اور مروہ پہاڑی کی طرف روانہ ہوئے یہاں تک جب آپ وادی کے درمیان نشیبی حصہ میں (جس کو میلین اخضرین کہتے ہیں) پہنچے تو اس نشیبی حصہ میں دوڑ کر گزرے اور (جب وادی کا نشیبی حصہ ختم ہو گیا تو) آپ معمولی رفتار سے مروہ تک پہنچے اور مروہ کے اوپر چڑھ گئے اور مروہ پر آپ نے وہی کیا جو صفا پر کیا تھا (یعنی کعبۃ اللہ کی طرف رخ کر کے کلمۂ توحید جس کا بھی اوپر ذکر ہوا، اس کو پڑھا اور دعا فرمائی (اور اس طرح آپ نے یعنی صفا سے مروہ اور مروہ سے صفا تک سات پھیرے کئے) یہاں تک کہ آپ جب آخری پھیرا ختم کرنے کے لئے مروہ پر پہنچے تو آپ نے لوگوں کو آواز دی اور اس وقت آپ مروہ پہاڑی پر تھے اور سب لوگ (پہاڑی کے) نیچے کھڑے تھے آپ نے ارشاد فرمایا کہ اگر ابتدا ہی سے میں طے کر لیتا کہ مجھے عمرہ ادا کر کے احرام کھول دینا ہے تو) میں اپنے ساتھ ہدی یعنی قربانی کا جانور نہ لاتا اور عمرہ ہی ادا کرتا (اور احرام کھول دیتا، اور چونکہ ہَدی میرے ساتھ ہے اس لئے میں حج قران ادا کر رہا ہوں احرام نہیں کھولتا) البتہ تم میں سے جس کے پاس ہَدی نہ ہو تو وہ اپنا احرام کھول دے اور اس طواف اور سعی کو عمرے (کے مناسک) سمجھے۔ (یہ سن کر) سراقہ بن مالک بن جُعْشُم رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ (شہور حج میں عمرہ ادا کرنے کی اجازت) کیا صرف اسی سال کے لئے ہے؟ یا ہمیشہ کے لئے؟ (ہم تو زمانہ جاہلیت میں شہور حج میں عمرہ ادا کرنے کو برا جانتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالیں، اور ارشاد فرمایا (سنو!) حج (کے مہینوں) میں عمرہ ادا کرنا جائز ہے، اسی بات کو آپ نے دو بارہ ادا فرمایا اور (یہ بھی ارشاد فرمایا یہ حکم صرف اسی سال کے لئے نہیں ہے) بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ (جو اس زمانہ میں یمن کے حاکم تھے) یمن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے (قربانی کے واسطے) اونٹ لائے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا تم نے جب حج کا احرام باندھا تو کیا نیت کی تھی تو حضرت علی نے فرمایا میں اس طرح کی کہ اے اللہ! آپ کے نبی نے جس قسم کے حج کا احرام باندھا ہے۔ میں بھی وہی احرام باندھتا ہوں (اس سے معلوم ہوا کہ اگر یوں احرام باندھے کہ یا اللہ! میرا احرام وہی ہے جو فلاں شخص کا احرام ہے تو یہ جائز ہے۔12 مرقات) (یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا چونکہ میرے ساتھ ہَدی ہے (اس لئے میں نے احرام نہیں کھولا ہے اور چوں کہ تمہارے ساتھ بھی ہَدی ہے) اس لئے تم بھی احرام نہ کھولو۔ راوی فرماتے ہیں کہ وہ اونٹ جن کو حضرت علی یمن سے لائے تھے اور وہ اونٹ جن کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ساتھ لائے تھے ان سب کی تعداد ایک سو تھی۔ راوی فرما رہے ہیں کہ سب لوگوں نے جن کے پاس ہَدی نہیں تھی) احرام کھول دیا اور اپنے بال کتروائے (اور اپنا عمرہ پورا کر لیا) بجز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اور ان اصحاب کے جن کے پاس ہَدی تھی (انہوں نے احرام نہیں کھولا) جب یوم ترویہ یعنی آٹھویں ذوالحجہ ہوئی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم منیٰ کے لئے روانہ ہوئے اور جس صحابی نے (عمرہ کرنے احرام کھول دیا تھا) اُنھوں نے حج کا احرام (کعبۃ اللہ سے) باندھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (طلوع آفتاب کے بعد) اونٹنی پر سوار ہوئے (اور منیٰ پہنچے اور مسجد خیف میں) آپ نے پانچ نمازیں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر اپنے اپنے اوقات میں ادا فرمائیں اور (نویں ذوالحجہ کو نماز فجر کے بعد) آپ تھوڑی دیر قیام فرمایا یہاں تک کہ سورج نکل آیا اور آپ نے حکم دیا کہ (میدان عرفہ کی )وادی نمرہ میں آپ کے لئے خیمہ کھڑا کیا جائے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (منیٰ سے عرفات کے لئے) روانہ ہوئے اور قریش کو اس بات کا یقین تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی (عرفات کی بجائے مزدلفہ میں) مشعر حرام کے پاس وقوف فرمائیں گے جیسا کہ ایام جاہلیت میں قریش کیا کرتے تھے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (مزدلفہ سے) آگے بڑھ گئے اور عرفات (کے میدان میں) پہنچ گئے اور وادی نمرہ میں جہاں آپ کے لئے خیمہ نصب کیا گیا۔ اس میں اتر گئے اور اس میں قیام فرمایا یہاں تک کہ سورج ڈھل گیا تو آپ اپنی اونٹنی قصواء کو تیار کرنے کا حکم دیا جب اونٹنی حاضر کی گئی (اور زین کس دیا گیا تو آپ ﷺ اس پر سوار ہوئے اور وادی نمرہ میں تشریف لائے اور صحابہ کرام کو (جہاں آج مسجد نمرہ ہے اس میں) خطبہ ارشاد فرمایا (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منجملہ اور اس کے یہ ارشاد فرمایا: لوگو! آگاہ ہو جاؤ) تمہارے خون اور تمہارے مال (ایک دوسرے پر اسی طرح) حرام ہیں جیسے تم آج کے دن (نویں ذوالحجہ) کو اور ماہ ذوالحجہ کو اور اس شہر یعنی مکہ مکرمہ میں (قتل و غارت گری کو) حرام سمجھتے ہو (یعنی تمہارے اوپر ایک دوسرے کا ناحق خون کرنا اور ناحق ایک دوسرے کا مال لینا ہر جگہ اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے حرام ہے) خبردار! ایام جاہلیت کی ہر چیز (یعنی ہر رسم اور ہر طریقہ) میرے دونوں قدموں کے نیچے ہے (یعنی وہ پامال ہے اور اب اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں!) (یہ بھی سن لو! کہ) زمانہ جاہلیت میں کئے گئے تمام خون معاف کر دئے گئے (اب ان کا نہ تو قصاص ہوگا، نہ خون بہا اور نہ کفارہ) اور پہلا خون اپنے خاندان کا جس کو میں معاف کرتا ہوں، وہ ایاس بن ربیعہ ابن الحارث کا خون ہے (جیسا کہ مرقات میں مذکور ہے) کہ وہ قبیلہ بنوسعد میں شیرخوار تھے (بنوسعد اور ہذیل کی لڑائی میں ہذیل کا ایک پتھر ان کو لگا اس طرح) ہذیل نے ان کو ہلاک کر دیا اور زمانہ جاہلیت کا سود معاف کر دیا گیا اور اپنے خاندان کے سود میں پہلا سود جس کو میں معاف کرتا ہوں حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا سود ہے، اب اس کو معاف کر دیا گیا (اس کا اب دعویٰ ناجائز ہے ہاں اصل رقم بطور قرض حسنہ رہے گی جو واپس لی جائے گی) (پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تاکیداً یہ بھی فرمایا اے لوگو! عورتوں (کے حقوق جو تم پر ہیں ان کو ادا کرتے رہو، اور اس بارے) میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو (اگر عورتوں کے حقوق ضائع کرو گے تو اللہ تعالیٰ کا عذاب آئے گا) اس لئے کہ تم نے ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے عہد کیا ہے (نرمی اور حسن معاشرت کا) اور تم نے ان کی شرمگاہوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنے لئے حلال کیا ہے اور عورتوں پر تمہارے حقوق یہ ہیں کہ جن سے تم ناراض ہو، ان کو وہ گھروں میں نہ آنے دیں (خواہ وہ مرد ہوں یا عورتیں) اگر وہ اس معاملہ میں تمہارا کہنا نہ مانیں (یعنی ایسے لوگوں کو گھر میں آنے دیں) تو تم ان کو (تادیباً) مار سکتے ہو مگر زیادہ سخت سزا نہ دو، اور عورتوں کے تم پر حقوق یہ ہیں کہ تم ان کو کھانا اور کپڑا (اپنی مقدرت کے مطابق) دیا کرو (اے لوگو!) میں تمہارے پاس ایسی چیز چھوڑ رہا ہوں کہ اگر تم اس کو مضبوطی سے تھامے رہو گے (یعنی اپنا عقیدہ اور عمل اس کے مطابق رکھو گے) تو تم کبھی گمراہ نہ ہوں گے اور یہ چیز اللہ کی کتاب یعنی قرآن مجید ہے۔ (اس کے بعد ارشاد فرمایا اے لوگو!) تم سے (قیامت کے روز) میری بابت سوال کیا جائے گا (کہ میں نے تمہیں دین پہنچایا یا نہیں) تو تم کیا جواب دو گے، حاضرین نے عرض کیا ہم بے شک اس امر کی شہادت دیں گے کہ آپ نے (احکام دین) ہم تک پہنچائے اور امانت تکمیل فرما دی اور ہماری خیرخواہی فرمائی (یہ سن کر) پھر آپ نے اپنی شہادت کی انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ فرمایا اور لوگوں کی طرف جھکا کر فرمایا الٰہی! آپ (اس بات پر) گواہ رہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کلمہ کو تین بار فرمایا۔ پھر بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی، پھر اقامت کہی اور آپ نے ظہر کی نماز پڑھائی حضرت بلال نے پھر دوسری بار اقامت کہی تو آپ نے عصر کی نماز پڑھائی اور آپ نے ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی (سنت یا نفل) نماز نہیں پڑھی۔ پھر آپ اونٹنی پر سوار ہوئے اور اس مقام تک تشریف لائے جہاں آپ کو ٹھہرنا تھا اور اپنی قصواء نامی اونٹنی کا رخ (جبل رحمت کے پاس ان پتھروں کی طرف کیا (جن کا رنگ کالا تھا اور وہ چھوٹے چھوٹے تھے اور پگڈنڈی کو اپنے سامنے کیا اور قبلہ رو ہو کر (اونٹنی پر بیٹھے رہے (اور دعا میں مشغول رہے) (حاج کو چاہیے کہ جہاں تک ہوسکے جبل رحمت کے قریب قیام کریں، اس لئے کہ یہ مقام برکتوں اور قبولیت دعا کا ہے اس لئے یہاں ٹھہرنا افضل ہے) یہاں تک کہ سورج غروب ہونے لگا اور زردی میں کچھ کمی ہوئی اور پھر آفتاب غائب ہو گیا تو آپ نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے (اونٹنی پر) بٹھایا (اور نماز مغرب پڑھے بغیر مزدلفہ کی طرف روانہ ہوگئے)۔ اور مسلم کی ایک روایت میں جو سعید ابن جبیر رحمہ اللہ کی روایت ہے اس طرح ہے کہ ہم (عرفات سے غروب آفتاب کے بعد) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ مزدلفہ پہنچے اور آپ نے ہم کو (مزدلفہ میں) مغرب اور عشاء کی نماز (ایک اذان اور) ایک اقامت کے ساتھ پڑھائی۔ پھر وہاں سے واپس ہوئے اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اسی مقام (یعنی مزدلفہ) میں اسی طرح (نماز مغرب اور عشاء کو ایک اذان اور ایک ہی اقامت کے ساتھ ہم کو پڑھائیں تھیں۔ اور ترمذی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

Qur’an-related source paragraphs

Allah the Almighty says:

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1218a (unverified) 99% confidence · Validation similarity: 0.808
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2555 (unverified) 90% confidence

Mishkat (candidate) 2555

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (60)

Chapter-heading commentary

And seven when you have returned

(1) His statement: "And seven when you have returned"—the meaning of "return" in the verse refers metaphorically to completing the Hajj rituals, as completion is the cause of returning home. Thus, the effect is mentioned while intending the cause metaphorically. It does not mean literally returning to one’s homeland. Al-Shafi‘i took it literally, so he did not permit fasting these days in Makkah. Our scholars (Hanafis) shifted from the literal to the metaphorical meaning due to an agreed-upon subsidiary issue: if someone had no homeland to return to and was continuously traveling, they would still be obligated to fast based on this text. For them, only "returning from the rituals" applies. The summary is that Al-Shafi‘i’s interpretation is not universally applicable, so the metaphorical meaning is necessitated. (Al-Bahr al-Ra’iq, Al-Durr al-Mukhtar, summarized). In Badhl al-Majhud, it is said: Regarding fasting the seven days, the conditions for their validity are: Forming the intention at night, Preceding them with the three days (of Hajj), Fasting the seven days after the Days of Tashreeq, Permissibility to fast them in Makkah after completing Hajj, though it is preferable to fast them after returning home to avoid disagreement with the Shafi‘is.

Note 1

He stayed in Madinah for nine years without performing Hajj

(1) His statement: "He stayed in Madinah for nine years without performing Hajj"—this was because Makkah was under the control of the disbelievers at that time (Badhl al-Majhud).

Note 2

Then he announced

(2) His statement: "Then he announced"—this indicates the recommendation for leaders to inform people of important matters so they can prepare (An-Nawawi).

Note 3

All seeking to follow the Prophet (ﷺ)

(3) His statement: "All seeking to follow the Prophet (ﷺ)"—this shows they all performed Qiran Hajj (combining Hajj and ‘Umrah), as the Prophet (ﷺ) did, and they did not oppose him. Anas said, "I was riding behind Abu Talha, and they were calling out for both Hajj and ‘Umrah together." [Bukhari]

Note 4

Perform Ghusl

(4) His statement: "Perform Ghusl"—this indicates the recommendation of Ghusl for Ihram, even for a postpartum woman, though for cleanliness (Fath al-Qadir).

Note 5

He prayed two Rak‘ahs

(5) His statement: "He prayed two Rak‘ahs"—this indicates the recommendation of two Rak‘ahs for Ihram (Fath al-Qadir).

Note 6

When his she-camel stood upright

(6) His statement: "When his she-camel stood upright"—in Al-Hidayah, it is said: "The Talbiyah should be recited after the prayer, as the Prophet (ﷺ) did. If one recites it after mounting, it is valid, but the first is superior."

Note 7

Riders and pedestrians

(7) His statement: "Riders and pedestrians"—this proves the permissibility of performing Hajj on foot or riding. Scholars differ on which is better: Malik, Ash-Shafi‘i, and most scholars say riding is better, following the Prophet (ﷺ), as it helps with the rituals. Dawud said walking is better due to its hardship, but this is incorrect, as hardship is not the objective (An-Nawawi).

Note 8

He began the Talbiyah with Tawhid

(8) His statement: "He began the Talbiyah with Tawhid"—meaning the Talbiyah includes Tawhid and negation of Shirk (Badhl al-Majhud).

Note 9

The people also recited this Talbiyah

(9) His statement: "The people also recited this Talbiyah"—this refers to the people adding more phrases of remembrance and praise, as Ibn ‘Umar would say: "Labbayk, Sa‘dayk, wa ar-Raghba’ Ilayk wa al-‘Amal." (Badhl al-Majhud).

Note 10

We only intended Hajj

(10) His statement: "We only intended Hajj"—this supports the view that Qiran is superior, as the Companions initially only knew Hajj (Al-Luma‘at).

Note 11

He recited Surah Al-Ikhlas and Surah Al-Kafirun

(11) His statement: "He recited Surah Al-Ikhlas and Surah Al-Kafirun"—after Al-Fatihah, in one Rak‘ah "Qul Huwa Allahu Ahad" and in the other "Qul Ya Ayyuha al-Kafirun" (At-Tibi).

Note 12

At the end of his Sa‘i

(12) His statement: "At the end of his Sa‘i"—the Companions did not differ in reporting the Prophet’s actions but in interpreting them. Some said he performed Ifrad (Hajj alone), others Tamattu‘ (Hajj and ‘Umrah with a break), and others Qiran (combined). (Al-Musawwa).

Note 13

If I had known beforehand

(13) His statement: "If I had known beforehand"—meaning if he had known the outcome, he would not have brought sacrificial animals. This was to clarify that those without animals could exit Ihram (Al-‘Inayah).

Note 14

Should exit Ihram and make it an ‘Umrah

(14) His statement: "Should exit Ihram and make it an ‘Umrah"—scholars differ on whether this ruling is specific to the Companions or general. Ahmad and some Zahiris say it is general, while Malik, Ash-Shafi‘i, and Abu Hanifah say it was specific to them (An-Nawawi).

Note 15

Make it an ‘Umrah

(15) His statement: "Make it an ‘Umrah"—the Hanafis prohibit converting Hajj to ‘Umrah, as this was specific to that year to oppose Jahiliyyah practices (Al-Durr al-Mukhtar).

Note 16

‘Umrah has been incorporated into Hajj—forever

(16) His statement: "‘Umrah has been incorporated into Hajj—forever"—Ash-Shafi‘i argues this means one Tawaf and Sa‘i suffice for Qiran, while Abu Hanifah says both must be performed separately (Al-‘Inayah).

Note 17

I assume Ihram as Your Messenger has

(17) His statement: "I assume Ihram as Your Messenger has"—Ash-Shafi‘i permits conditional Ihram (e.g., "I assume Ihram as Zaid did"), but other scholars require specifying Hajj or ‘Umrah (‘Umdat al-Qari).

Note 18

I have the sacrificial animals with me

(18) His statement: "I have the sacrificial animals with me"—this indicates Qiran, as the Hadi (sacrificial animal) is obligatory only for Qiran or Tamattu‘ (Al-Jawhar an-Naqi).

Note 19

On the Day of Tarwiyah

(19) His statement: "On the Day of Tarwiyah"—one assumes Ihram for Hajj on this day, as the people of Makkah do (Al-Hidayah).

Note 20

They assumed Ihram for Hajj

(20) His statement: "They assumed Ihram for Hajj"—this can be done from the mosque (preferable) or anywhere within the Haram (Al-Hidayah).

Note 21

His tent had been set up

(21) His statement: "His tent had been set up"—this proves the permissibility of shading oneself during Ihram (An-Nawawi).

Note 22

He stayed there

(22) His statement: "He stayed there"—the best place to stand at ‘Arafah is near Jabal ar-Rahmah, though the three Imams say Namirah is better (Al-Mi‘raj).

Note 23

The valley

(23) His statement: "The valley"—this refers to ‘Uranah, which is not part of ‘Arafah (Al-Maraqi).

Note 24

He delivered a sermon

(24) His statement: "He delivered a sermon"—this was in the mosque at Namirah (Ad-Durr al-Mukhtar).

Note 25

He prayed ‘Asr

(25) His statement: "He prayed ‘Asr"—this was combined with Dhuhr at its time, as a ritual act (Hanafi view) or due to travel (Shafi‘i view) (Al-Maraqi).

Note 26

Without any voluntary prayers

(26) His statement: "Without any voluntary prayers"—this ensures continuity between the two prayers (Al-Maraqi).

Note 27

He rode

(27) His statement: "He rode"—it is preferable for the Imam to stand while riding, as it facilitates supplication (Ar-Radd al-Muhtar).

Note 28

With one Iqamah

(28) His statement: "With one Iqamah"—the single Adhan suffices as it announces the time, while the single Iqamah is for ‘Isha since it is in its time (‘Umdat ar-Ri‘ayah).

Note 29

At-Tirmidhi narrated similarly

(29) His statement: "At-Tirmidhi narrated similarly"—he said: "The practice is not to pray Maghrib before Muzdalifah. When arriving, combine the prayers with one Iqamah without voluntary prayers in between—this is the view of Sufyan ath-Thawri."

Chapter-heading commentary

قوله

(۱) قوله : وسبعة إذا رجعتم المراد بالرجوع في الآية الفراغ من أعمال الحج مجازا إذ الفراغ سبب الرجوع إلى أهله، فذكر المسبب وأريد السبب مجازا، فليس المراد حقيقة الرجوع إلى وطنه، وقد عمل الشافعي بالحقيقة فلم يجوز صومها بمكة، وإنما عدل أئمتنا عن الحقيقة إلى المجاز لفرع مجمع عليه، وهو أنه لو لم يكن له وطن أصلا ليرجع إليه، بل مستمر على السياحة وجب عليه صومها بهذا النص، ولا يتحقق في حقه سوى الرجوع عن الأعمال، حاصله: أن تفسير الشافعي لا يطرد فتعين المجاز، «البحر الرائق» ورد المحتار» ملخصا. وفي بذل المجهود»: وقال في الباب المناسك وأما صوم السبعة فشرط صحتها تبييت النية وتقدم الثلاثة، وأن يصوم السبعة بعد أيام التشريق، ويجوز صيام السبعة بعد الفراغ من الحج بمكة، والأفضل أن يصومها بعد الرجوع إلى أهله خروجا عن خلاف الشافعية.

Note 1

قوله

(۱)قوله: مكث بالمدينة تسع سنين لم يحج: لأن مكة كانت إذ ذاك في أيدى الكفار . قاله في بذل المجهود». وقال في المرقاة»: والأظهر أنه لا أخره عن سنة خمس أو ست؛ لعدم فتح مكة، وأما تأخيره عن سنة ثمان فلأجل النسي، وأما تأخيره عن سنة تسع. فلما ذكرنا في رسالة مسماة بـ التحقيق في موقف الصديق، وقد مر الكلام فيه في كتاب المناسك».

Note 2

قوله

(۲) قوله : ثم أذن إلخ : قال النووي: فيه أنه يستحب للإمام إيذان الناس بالأمور المهمة ليتأهبوا لها.

Note 3

قوله

(۳) قوله: كلهم يلتمس أن يأتم برسول الله الله ويعمل مثل عمله: هذا مما ي ا مما يدلُّ على أنهم كلهم أحرموا بالقران؛ لأنه أحرم بالقران وهم لا يخالفونه، ولهذا قال أنس: كنت رديف أبي طلحة، وأنهم ليصرخون بهما جميعا الحج والعمرة، رواه البخاري، وقال علي: سمعت رسول الله له يلبي بهما جميعا، فلم أدع فعل رسول الله ﷺ، رواه النسائي. وتفصيله مضى عن قريب في باب الإحرام».

Note 4

قوله

(٤)قوله: اغتسلي : فيه استحباب غسل الإحرام للنفساء إلا أنه للتنظيف. كذا في فتح القدير».

Note 5

قوله

(٥) قوله : فصلى رسول الله ﷺ ركعتين : فيه استحباب ركعتي الإحرام. كذا في فتح القدير».

Note 6

قوله

(٦) قوله : إذا استوت به ناقته إلخ وقال في «الهداية». ثم يلبي عقيب صلاته لما روي أن النبي ﷺ لبي في دبر صلاته، وإن لبي بعد ما استوت به راحلته جاز ولكن الأول أفضل لما روينا انتهى. وقد مر تحقيقه.

Note 7

قوله

(٧) قوله: بين يديه من راكب قال النووي: فيه جواز الحج راكبا وماشيا، وهو مجمع عليه، واختلف العلماء في الأفضل منهما، فقال مالك والشافعي وجمهور العلماء: الركوب أفضل اقتداء بالنبي الله، ولأنه أعون له على وظائف مناسكه، ولأنه أكثر نفقة، وقال داود ماشيا أفضل المشقته، وهذا فاسد؛ لأن المشقة ليست مطلوبة، انتهى. وفي «السراجية: الحج راكب أفضل منه ماشيا به يفتى. قاله في «الدر المختار».

Note 8

قوله

(۸) قوله: فأهل بالتوحيد: أي بالتلبية التي اشتملت على التوحيد ونفي الشرك. قاله في بذل المجهود»، وقال في المرقاة: وفيه دلالة لأبي حنيفة الله في اشتراطه صحة نية الإحرام بانضمام التلبية إليها، فالتلبية بمنزلة تكبير التحريمة المقارن بالنية في أداء الصلاة.

Note 9

قوله

(٩)قوله : أهل الناس إلخ والمراد به زيادة الناس في التلبية من الذكر والثناء، كما روي عن ابن عمر أنه قال: لبيك وسعديك والرغباء إليك والعمل. قاله في بذل المجهود». وقال في الهداية» ولا ينبغي أن يخل بشيء من هذه الكلمات، ولو زاد فيها جاز.

Note 10

قوله

(۱۰) قوله : لسنا ننوي إلا الحج لسنا نعرف العمرة فيه دليل لمن قال بترجيح القران؛ لأن التوربشتي قال: معناه لسنا نعرف العمرة مقرونة بالحجة أو العمرة المفردة في أشهر الحج، وكان أهل الجاهلية يرون العمرة في أشهر الحج من أَفْجَر الفجور، وإنما شرعت عام حج رسول الله ، وقد روى البخاري عن عائشة لها أن الصحابة خرجوا معه لا يعرفون إلا الحج، فبين الله لهم وجوه الإحرام، وجوز لهم الاعتمار في أشهر الحج، فقال: من أحب أن يهل بعمرة فليهل، ومن أحب أن يهل بحج فليهل، هذا حاصل ما في «اللمعات» و«المرقاة».

Note 11

قوله

(۱۱)قوله : قل هو الله أحد إلخ : أي بعد الفاتحة قل هو الله أحد»، أي إلى آخرها في إحداهما، و«قل يا أيها الكافرون» أي بتمامها في الأخرى، والواو المطلق الجمع فلا إشكال. قال الطيبي الله كذا في صحيح مسلم» و«شرح السنة في إحدى الروايتين، وكان من الظاهر تقديم سورة الكافرون، كما في رواية «المصابيح) والبيهقي. كذا في «المرقاة».

Note 12

قوله

(١٢) قوله: حتى إذا كان آخر طواف إلخ والتحقيق أن الصحابة لم يختلفوا في حكاية ما شاهدوه من أفعال النبي ﷺ من أنه أحرم من ذي الحليفة، وطاف أول ما قَدِمَ وسعى بين الصفا والمروة، ثم خرج يوم التروية إلى منى، ثم وقف بعرفات، ثم بات بمزدلفة ووقف بالمشعر الحرام، ثم رجع إلى منى ورمى ونحر وحلق ، ثم طاف طواف الزيارة، ثم رمي الجمار في الأيام الثلاثة، وإنما اختلفوا في التعبير عما فعل باجتهادهم وآرائهم، فقال بعضهم: كان ذلك حجا مفردا، وكان الطواف الأول للقدوم والسعي لأجل الحج، وكان بقاؤه على الإحرام؛ لأنه قصد الحج، وقال بعضهم: كان ذلك تمتعا بسوق الهدي، وكان الطواف الأول للعمرة كأنهم سموا طواف القدوم والسعي بعده عمرة وإن كان للحج، وكان بقاؤه على الإحرام؛ لأنه كان متمتعا بسوق الهدي، وقال بعضهم: كان ذلك قرانا. قاله في «المسوى»، وقال في رد المحتار: وعلى القارن أن يطوف طوافا آخر للقدوم، أي استحبابا بعد فراغه عن سعي العمرة، وسيأتي إن شاء الله تعالى تحقيقه بعد عن قريب.

Note 13

قوله

(١٣) قوله: لو أني استقبلت إلخ : أي لو علمت أولا ما علمت آخرا لما سقت الهدي، وقصة ذلك أن النبي ﷺ أمر أصحابه بأن يفسخوا إحرام الحج ويحرموا بالعمرة لما بلغوا مكة تحقيقا لمخالفة الكفرة، وكانوا لا يفسخون، ولا يحلقون ينتظرون رسول الله الله هل يحلق أو لا، فاعتذر النبي ، وقال: لو استقبلت إلخ، وبين فيه أن سوق الهدي يمنعه عن التحلل، ولولا ذلك لتحلل. قاله في «العناية».

Note 14

قوله

(١٤) قوله: فليحل وليجعلها عمرة: قال البغوي: اختلفوا في أمره لهم بالإحلال، فمنهم من قال: كان إحرامهم مبهما موقوفا على انتظار القضاء، فأمرهم أن يجعلوه عمرة ويحرموا بالحج بعد التحلل منها، ومنهم من قال: كانإحرامهم بالحج، فأمرهم النبي الله بفسخه إلى العمرة، وكان ذلك خاصا بهم، وسببه أن أهل الجاهلية كانوا يرون العمرة في أشهر الحج من أفجر الفجور، فأمرهم النبي الله بذلك صرفا لهم عن سنة الجاهلية، «المسوى»، ملخصا. قال النووي: اختلف العلماء في هذا الفسخ هل هو خاص للصحابة تلك السنة خاصةً أم باق لهم ولغيرهم إلى يوم القيامة؟ فقال أحمد وطائفة من أهل الظاهر : ليس خاصا، بل هو باق إلى يوم القيامة، فيجوز لكل من أحرم بحج، وليس معه هدي أن يقلب إحرامه عمرةً ويتحلل بأعمالها، وقال مالك والشافعي وأبو حنيفة وجماهير العلماء من السلف والخلف هو مختص بهم في تلك السنة لا يجوز بعدها، وإنما أمروا به تلك السنة ليخالفوا ما كانت عليه الجاهلية من تحريم العمرة في أشهر الحج، انتهى. وقال في المرقاة»: وبهذا الحديث أخذ أبو حنيفة وأحمد رحمها . الرواية الأخرى من أحرم لعمرة وأهدى، فلا يحل حتى ينحر هديه: أن المتمتع إذا كان معه الهدي لا يتحلل من عمرته حتى ينحر هديه يوم النحر، وقال مالك والشافعي : يحل من عمرته بمجرد فراغ أعمالها وإن ساق الهدي.

Note 15

قوله

(١٥) قوله: وليجعلها عمرة: وفي الدر المختار لا يجوز فسخ الحج بالعمرة عندنا، وقال في المرقاة»: اختلف في جواز فسخ الحج إلى العمرة، والأكثرون على منعه، وأجيب بأن ذلك كان من خاصة تلك السنة؛ لأن المقصود منه كان صرفهم عن سنن الجاهلية وتمكين جواز العمرة في أشهر الحج في نفوسهم، ويشهد له ما روي عن بلال بن الحارث أنه قال: قلت: يا رسول الله ! فسخ الحج لنا خاصة أو لمن بعدنا؟ قال: لكم خاصة.

Note 16

قوله

(١٦) قوله: دخلت العمرة في الحج إلخ وقال الشافعي : الله يطوف طوافا واحدًا ويسعى سعيا واحدا لقوله : دخلت العمرة في الحج إلى يوم القيامة، ولأن مبنى القران على التداخل حتى اكتفي فيه بتلبية واحدة وسفر واحد وحلق واحد، فكذلك في الأركان وإتيان القارن بأفعال العمرة وأعمال الحج جميعا، هو مذهبنا؛ لأنه لما طاف صُبي بن معبد طوافين وسعى سعيين قال له عمر الله: هديت لسنة نبيك، ولأن القرآن ضم عبادة إلى عبادة، وذلك إنما يتحقق بأداء عمل كل واحد على الكمال، ولأنه لا تداخل في العبادات، والسفر للتوسل، والتلبية للتحريم والحلق للتحلل، فليست هذه الأشياء بمقاصد بخلاف الأركان. ألا ترى أن شفعي التطوع لا يتداخلان، وبتحريمة واحدة يؤديان، ومعنى ما رواه دخل وقت العمرة في وقت الحج، «العناية» و«الهداية» ملخصا.

Note 17

قوله

(۱۷)قوله: اللهم إني أهل بما أهل به رسولك إلخ وفي هذا دليل لمذهب الشافعي ومن وافقه في أنه يصح الإحرام معلقا بأن ينوي إحراما كإحرام زيد، فيصير هذا المعلق كإحرام زيد، فإن كان زيد أحرم بحج كان هذا بحج أيضًا، وإن كان بعمرة فبعمرة، وإن كان بهما فيهما، فإن كان زيد أحرم مطلقا، صار هذا محرما إحراما مطلقا، فيصرفه إلى ما شاء من حج أو عمرة، ولا يلزمه موافقة زيد في الصرف. قاله النووي. وحكى الرافعي وجها أنه يلزمه موافقته في الصرف، والصواب الأول، ولا يجوز عند سائر العلماء والأئمة الإحرام بالنية المبهمة لقوله تعالى: ﴿وَأَتِمُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ﴾ (البقرة: ١٩٦) ولقوله: ﴿وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ ﴾ (محمد: (۳۳) ، ولأن هذا كان بعلي الله خصوصا وكذا لأبي موسى الأشعري. قاله في عمدة القاري». وقال في «الدر المختار: ثم لبى دبر صلاته ناويا بها أي بالتلبية الحج بيان للأكمل، وإلا فيصح الحج بمطلق النية، انتهى أي بالنية المطلقة عن التقييد بالحج بأن نوى النسك من غير تعيين حج أو عمرة، ثم إن عين قبل الطواف فيها وإلا صرف للعمرة. قال في اللباب»: وتعيين النسك ليس بشرط، فصح مبهما وبما أحرم به الغير. ثم قال في موضع آخر : ولو أحرم بما أحرم به غيره فهو مبهم، فيلزمه حجة أو عمرة. وقيده شارحه بما إذا لم يعلم بما أحرم به غيره، وكذا لو أطلق نية الحج صرف للفرض قاله في رد المحتار». كذا في العالمكيرية». وقال في «فتح القدير»: إذا أبهم الإحرام بأن لم يعين ما أحرم به جاز، وعليه التعيين قبل أن يشرع في الأفعال، والأصل حديث علي الله حين قدم من اليمن، فقال: أهللت بما أهل به رسول الله ، انتهى. ونسب النووي إلى أبي حنيفة بطلان الإحرام المبهم، والحال أنه خلاف ما في كتبنا. نعم، يجب عليه التعيين قبل الشروع في أفعال الحج، كما قال في العرف الشذي» وكذا في بذل المجهود.

Note 18

قوله

(۱۸) قوله: فإن معي الهدي فلا تحل : أي أنت بالخروج من الإحرام كما لا أحل حتى نفرغ من العمرة والحج جميعا، هذا يقتضي القرآن قال في الجوهر النقي»: وقد أيده ما أخرجه ابن حبان في صحيحه من حديث النزال بن سبرة: حدثنا علي بن أبي طالب أن رسول الله خرج من المدينة حاجا، وخرجت أنا من اليمن. قلت: لبيك إهلالا كإهلال النبي ، فقال النبي : فإني أهللت بالعمرة والحج جميعا، ويؤيده أيضًا حديث قدوم علي من طريق البراء، وفيه: قد سقت الهدي وقرنت، انتهى. وقال الخطابي فيه دلالة على أن سيدنا رسول الله كان قارنا؛ لأن الهدي لا يجب على غير القارن أو المتمتع، ولو كان علي متمتعا لحل من إحرامه للعمرة، ثم استأنف إحراما للحج، انتهى. وهو أيضا ينفي الإفراد. قال في الجوهر النقي»: لأن الهدي لا يمنع المفرد من الإحلال، فانتفى كونه مفردا.

Note 19

قوله

(۱۹)قوله: فلما كان يوم التروية إلخ : قال في «الهداية»: ويحرم بالحج يوم التروية كما يحرم أهل مكة، وإن قدم الأحرام قبله جاز.

Note 20

قوله

(٢٠)قوله : فأهلوا بالحج : أي فإذا كان يوم التروية أحرم بالحج من المسجد والمسجد ليس بلازم، بل هو أفضل، ومكة أفضل من غيرها من الحرم، والشرط الحرم، هذا حاصل ما في الهداية» و«فتح القدير ، ويؤيده ما أخرجه مسلم من حديث أبي الزبير عن جابر ، وفيه قال: فأهللنا من الأبطح، وهو خارج مكة لكنه في الحرم. قاله النووي.

Note 21

قوله

(٢١)قوله: فوجد القبة قد ضربت له بنمرة: قال النووي: وفي هذا الحديث جواز التظلال للمحرم بقبة وغيرها، ولا خلاف في جوازه للنازل، واختلفوا في جوازه للراكب، فمذهبنا جوازه و به قال كثيرون، انتهى. قلت: منهم أصحابنا الحنفية، كما قال في الهداية» و«الدر المختار». وقال في فتح القدير: فالأحسن الاستدلال بما في الصحيحين من حديث جابر الطويل حيث قال فيه: فأمر بقبة من شعر فضربت له بنمرة، فسار رسول الله، إلى أن قال: فوجد القبة قد ضربت له بنمرة، فنزلها، الحديث.

Note 22

قوله

(٢٢)قوله: فنزل بها : قال في المعراج»: وينزل بعرفات في أي موضع شاء إلا الطريق، وقرب جبل الرحمة أفضل، وقال الأئمة الثلاثة : في نمرة أفضل النزوله الله فيه. قلنا: نمرة من عرفة، ونزوله الله فيه لم يكن عن قصد، وهذا مخالف لما في «الفتح» من أن السنة أن ينزل الإمام بنمرة، ولما نقله عن الإمام رشيد الدين من أنه ينبغي أن لا يدخل عرفة حتى ينزل بنمرة قريبا من المسجد إلى زوال الشمس ووفق في شرح اللباب» بأن هذا بالنسبة إلى الإمام لا غيره، أو بأن النزول أولا بنمرة، ثم بقرب جبل الرحمة. قاله في رد المحتار» و«البناية».

Note 23

قوله

(٢٣)قوله: بطن الوادي: هو موضع بعرفات يُسمَّى عُرَنَة، وليست من عرفات. كذا في «المرقاة». وقال في «البناية»: نمرة بعرفة، وقد قال عليها ارتفعوا عن بطن عرنة ، ونزوله فيه لم يكن عند قصد.

Note 24

قوله

(٢٤)قوله: فخطب أي خطب الإمام في المسجد، أي مسجد نمرة، كما في الدر المختار» و«رد المحتار».

Note 25

قوله

(٢٥)قوله: فصلى العصر : أي جمع بينهما في وقت الظهر، وهذا الجمع كجمع المزدلفة جمع نُسُكِ عندنا وجمع سَفَرٍ عند الشافعي خلافًا لبعض أصحابه. كذا في «المرقاة».

Note 26

قوله

(٢٦)قوله : ولم يصل بينهما شيئًا : أي من السنن والنوافل كيلا يبطل الجمع؛ لأن الموالاة بين الصلاتين واجبة. كذا في المرقاة» و«الدر المختار».

Note 27

قوله

(٢٧)قوله: ثم ركب في «الخانية»: والأفضل للإمام أن يقف راكبا، ولغيره أن يقف عنده، وظاهر أن الركوب للإمام فقط، وهو مفهوم كلام المصنف كـ الهداية» و«البدائع وغيرها، ويؤيده قول السراج؛ لأنه يدعو ويدعو الناس بدعائه، فإن كان على راحتله فهو أبلغ في مشاهدتهم له. قاله في رد المحتار».

Note 28

قوله

(۲۸)قوله : بإقامة واحدة: أما توحد الأذان فظاهر؛ لأنه لإعلام دخول الوقت فيكفي الواحد، كما في الجمع بعرفة، وأما توحد الإقامة، وهي في الأولى فلأن العشاء في وقته، فلا يحتاج إلى الإعلام بوقته، بخلاف الصلاة الثانية في عرفة؛ فإنها مقدمة على وقتها، قالها في عمدة الرعاية»، وقال في العرف الشذي فيمكن لنا أن نتأول في حديث جابر الطويل الثابت في صحيح مسلم وغيره أنه صلاهما بأذان وإقامتين: بأن تعدد الإقامة إنما هو عند الفصل بين المغرب والعشاء بالأكل ونحوه، كما هو مذكور في فقهنا من تعدد الإقامتين عند الفصل. كذا في «الهداية».

Note 29

قوله

(٢٩)قوله: وروى الترمذي وقال: العمل على هذا عند أهل العلم أنه لا يصلي صلاة المغرب دون جمع، فإذا أتى جمعا وهو المزدلفة جمع بين الصلاتين بإقامة واحدة ولم يتطوع فيما بينهما، وهو الذي اختاره بعض أهل العلم وذهبوا إليه، وهو قول سفيان الثوري.

Hadith 3010

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3565
عبداللہ بن مالک بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے (مزدلفہ میں ایک ہی اقامت سے) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مغرب کی نماز تین رکعتیں اور عشاء کی نماز دو رکعتیں (بطور قصر) پڑھیں تو آپ سے (میرے والد) مالک بن حارث نے دریافت کیا کہ یہ کیسی نمازیں ہیں (کہ آپ نے ان کو ایک ہی اقامت سے ادا فرمایا) تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ میں نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اس مقام (یعنی مزدلفہ میں ان نمازوں کو ایک اذان اور) ایک ہی اقامت کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1930 (unverified) 45% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (4)

Note 1

What is this prayer?

(1) His statement: "What is this prayer?"—the question arose because praying with one Iqamah was unusual (Badhl al-Majhud).

Note 2

With one Iqamah

(2) His statement: "With one Iqamah"—this refutes those who claim two Iqamahs were given, as combining prayers was common during travel. The question was due to the single Iqamah (Badhl al-Majhud).

Note 1

قوله

(۱) قوله: ما هذه الصلاة: غرضه بهذا السؤال أن صلاته كانت بالجمع بإقامة واحدة على خلاف المعتاد. قاله في بذل المجهود».

Note 2

قوله

(۲)قوله: بإقامة واحدة وهذا الحديث يرد تأويل المخالفين بأنهم يقولون بإقامة واحدة لكل واحدة؛ فإن الجمع بين الصلاتين في السفر كان شائعا، فلا وجه للسؤال، بل منشأ السؤال أن الصلاتين لما كانتا بإقامة واحدة تعجب من ذلك وسأل، وقال: صليتهما مع رسول الله الله بإقامة واحدة، هكذا في بذل المجهود».

Hadith 3011

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3566Noor 3567
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز ایک اذان اور ایک ہی اقامت سے ادا فرمائی اور ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی نفل نماز نہیں پڑھی۔ اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔ اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی ایک روایت میں ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز ایک اذان اور ایک ہی اقامت سے ادا فرمائی۔
Commentary and footnotes (1)

Note 1

قوله

(۱)قوله: وفي رواية: هكذا رواه ابن عبد الباقي في مسنده وأخرجه ابن أبي شيبة وإسحاق والطبراني هكذا إلا أنهم قالوا: بالمزدلفة، وقالوا: بإقامة، زاد ابن أبي شيبة وحده ولم يسبح بينهما، وأصله في الصحيحين من هذا الوجه بدون لفظ الإقامة والطبراني أيضًا من وجه آخر بلفظ بالمزدلفة بأذان واحد وإقامة، وأخرج أبو داود من وجه آخر عن ابن عمر أنه أتى المزدلفة فأذن وأقام، أو أمر إنسانًا فأذن وأقام فصلى بنا المغرب ثلاث ركعات، ثم التفت إلينا، فقال: الصلاة، فصلى بنا العشاء ركعتين، كذا ذكره موقوفا، وأورده مرفوعا من وجه آخر عن ابن عمر، وأخرجه الطحاوي من طريق سعيد بن جبير عن ابن عمر، ومن طريق أبي إسحاق عن عبد الله بن مالك ومالك بن الحارث كلاهما عن ابن عمر، ومن طريق مجاهد قال: حدثني أربعة كلهم ثقة، منهم سعيد بن جبير وعلي الأزدي عن ابن عمر مثله، وهو قول أبي حنيفة وصاحبيه وقول سفيان الثوري وعامة أهل الكوفة. قاله في عقود الجواهر المنيفة».

Hadith 3012

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3568Noor 3569
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزدلفہ میں نماز مغرب اور عشاء ایک اذان اور ایک ہی اقامت سے ادا فرمائی (اور یہی مذہب حنفی ہے)۔ اس کی روایت ابو الشیخ نے کی ہے۔ اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی طویل حدیث میں جس کو مسلم نے روایت کی ہے (مزدلفہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب مغرب اور عشاء کی نماز) ایک اذان اور ایک اقامت سے ادا فرمائیں اور ذکر و دعا میں رات گزاری (صاحب نہر نے فتوٰی دیا ہے کہ مزدلفہ میں قیام کی رات شب قدر سے افضل ہے اس لئے حاج کو چاہیئے کہ اس رات کو ذکر اور دعاء میں گزاریں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعائیں یہیں قبول ہوئی تھیں۔12) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (تھوڑی دیر) آرام فرمائے اور ذکر و دعا میں رات طلوع ہوئی تو آپ نے تاریکی میں ایک اذان اور ایک اقامت کے ساتھ فجر کی نماز ادا فرمائی۔ پھر آپ اونٹنی پر سوار ہوئے اور مشعر حرام کے پاس تشریف لائے (جو مزدلفہ میں ایک پہاڑی ہے) (مزدلفہ میں نماز فجر اول وقت ادا کرنا مذہب حنفی ہے۔12) آپ یہاں قبلہ رو ہو کر کھڑے ہوئے اور دعاء الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ“ کا ورد فرماتے رہے، یہاں تک کہ صبح کی روشنی خوب پھیل گئی پھر آپ آفتاب نکلنے سے پہلے یہاں سے روانہ ہوئے اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو (سواری پر پیچھے بٹھا لیا اور وادی مُحَسِّر میں داخل ہوئے اور وادی مُحَسِّر سے تیزی سے گذر گئے۔ (اس لئے کہ اسی وادی میں اصحاب فیل پر عذاب نازل ہوا تھا اور وہ ہلاک کر دیئے گئے) پھر آپ بیچ کے راستہ سے (جو عرفات کو جاتے وقت کے راستے سے سوا تھا) جمرہ کبریٰ پر تشریف لائے جہاں اس وقت ایک درخت تھا اور آپ نے اس جمرہ پر سات کنکریاں ماریں اور ہر کنکری پر اللہ اکبر کہا۔ یہ کنکریاں اتنی چھوٹی تھیں کہ ان کو انگوٹھے پر رکھ کر شہادت کی انگلی سے مارا جا سکتا تھا (گویا وہ مٹر کے دانہ کے برابر تھیں) آپ نے ان کنکریوں کو وادی کے نشیبی حصہ میں (کھڑے رہ کر) پھینکا۔ اس کے بعد آپ قربانی کی جگہ تشریف لائے اور اپنے دست مبارک سے (من جملہ ایک سو اونٹ کے) 63 اونٹ کو (جو آپ کی عمر شریف کی تعداد میں تھے) ذبح فرمایا۔ پھر بقیہ (37 اونٹ) کو آپ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ذبح کروایا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو (قربانی کے ثواب میں) شریک فرمایا (پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حلق فرمایا جس کا ذکر آگے مستقل باب میں آ رہا ہے۔) پھر آپ نے حکم دیا کہ قربانی کے ہر جانور سے تھوڑا سا گوشت لے لیا جائے۔ چنانچہ گوشت لایا گیا اور اس کو ہانڈی میں ڈال کر پکایا گیا تو آپ نے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس گوشت کو تناول فرمایا اور اس کا شوربہ بھی پیا (اس لئے کہ یہ قربانی شکرانہ کی ہے) اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طواف افاضہ کے لئے کعبۃ اللہ کی طرف روانہ ہوئے اور (بیت اللہ میں داخل ہوئے اور طواف فرض ادا فرمایا اور حج کی واجب سعی ادا فرمائی) پھر نماز ظہر کعبۃ اللہ میں ادا فرمائی پھر حضرت عبدالمطلب کی اولاد یعنی بنوعباس کے پاس تشریف لائے جو لوگوں کو زمزم پلا رہے تھے، آپ نے ان سے فرمایا اے بنی عبدالمطلب (چاہ زمزم سے) پانی کھینچو اور لوگوں کو پلاؤ۔ اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ (میرے پانی کھینچنے کی وجہ سے) تم پر ٹوٹ پڑیں گے تو میں بھی تمہارے ساتھ پانی کھینچنے میں شریک ہو جاتا۔ پھر ان حضرات نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پانی (سے بھرا ہوا) ایک ڈول دیا آپ نے اس کو نوش فرمایا (پھر فرمایا (پھر آپ نے اس ڈول سے تھوڑا پانی نوش فرمایا اور ڈول میں کلی کی تو باقی بچے ہوئے پانی کو ان لوگوں نے کنویں میں لوٹا دیا۔ جیسا کہ مسند امام احمد میں مروی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2555 (unverified) 90% confidence

Mishkat (candidate) 2555

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (10)

Note 1

He rested until dawn

(1) His statement: "He rested until dawn"—this refers to resting after ‘Isha (Al-Muhit).

Note 2

He slaughtered sixty-three camels

(2) His statement: "He slaughtered sixty-three camels"—this is a sacrifice of gratitude, so eating from it is permitted (Ad-Durr al-Mukhtar).

Note 3

They ate from the meat

(3) His statement: "They ate from the meat"—this is permissible as it is a sacrifice of gratitude (Ad-Durr al-Mukhtar).

Note 4

He prayed Dhuhr in Makkah

(4) His statement: "He prayed Dhuhr in Makkah"—Muslim’s narration from Ibn ‘Umar states the Prophet (ﷺ) performed Tawaf al-Ifadah before Dhuhr and prayed Dhuhr in Mina. The reconciliation is that he prayed in Makkah first, then in Mina (Badhl al-Majhud).

Note 5

He came upon Banu ‘Abd al-Muttalib

(5) His statement: "He came upon Banu ‘Abd al-Muttalib"—this indicates drinking from Zamzam is recommended (Al-Hidayah).

Note 1

قوله

(۱) قوله: ثم اضطجع : أي إذا فرغ من العشاء يبيت ثمه كذا في المحيط»، وينبغي أن يحيي هذه الليلة بالصلاة والقراءة والذكر والدعاء والتضرع. كذا في التبيين». قاله في العالمكيرية». وقال في بذل المجهود»: وما في الحديثأنه اضطجع حتى طلع الفجر مبني على علم الراوي، انتهى. فَيُحْيِيهَا يعني ليلة العيد؛ فإنه أشرف من ليلة القدر، كما أفتى به صاحب «النهر» وغيره، وجزم شراح البخاري سيما القسطلاني أن عشر ذي الحجة أفضل من العشر الأخير من رمضان، أي في حد ذاتها، لا في حق من كان بمزدلفة، الدر المختار» و«رد المحتار» ملخصا.

Note 2

قوله

(۲) قوله: فنحر : قلت: لم يذكر في هذا الحديث الحلق. قاله في بذل المجهود».

Note 3

قوله

(۳) قوله: فأكلا وفي الدر المختار: وهو دم شكر، فيأكل منه.

Note 4

قوله

(٤)قوله: فصلى بمكة الظهر وقد ذكر مسلم بعد هذا في حديث ابن عمر لها أن النبي ﷺ طاف للإفاضة قبل الزوال، ثم صلى الظهر بمنى ووجه الجمع بينهما أنه صلى بمكة ركعتي الطواف وقت الظهر، ورجع إلى منى فصلى الظهر بأصحابه، أو يقال: الروايتان حيث تعارضتا فقد تساقطتا، فترجح صلاته بمكة وكونها فيها أفضل لثبوت مضاعفة الفرائض فيه، ويؤيده ضيق الوقت؛ لأنه لا رجع قبيل طلوع الشمس من المشعر ورمى بمنى، ونحر مائة من الإبل، وطبخ لحمها، وأكل منها. ثم ذهب إلى مكة وطاف وسعى، فلا شك أنه أدركه الوقت بمكة وما كان يؤخرها عن الوقت المختار لغير ضرورة، ومال إليه في «الفتح»، وقال في شرح اللباب»: إنه أظهر نقلا وعقلا، ولو تجشمنا أجمع حملنا فعله بمنى على الإعادة بسبب اطلع عليه يوجب نقصان المؤدى أولا، بذل المجهود» و«فتحالقدير» ورد المحتارة ملتقط منها.

Note 5

قوله

(٥) قوله: فأتى إلخ: وقال في «الهداية»: ثم يأتي زمزم فيشرب من مائها؛ لما روي أن النبي ﷺ استقى دلوا بنفسه فشرب منه، ثم أفرغ باقي الدلو في البئر، وقال في فتح القدير تحت هذا القول الذي في حديث جابر الطويل: يفيد أنهم نزعوا له. كذا في مسند أحمد ومعجم الطبراني عن ابن عباس الله قال: جاء النبي ﷺ إلى زمزم، فنزعنا له دلوا فشرب، ثم مج فيها، ثم أفرغناها في زمزم، ثم قال: لولا أن تغلبوا عليها لنزعت بيدي، وما رواه المصنف من أنه استقى بنفسه دلوا، رواه في كتاب الطبقات مرسلا : أخبرنا عبد الوهاب عن ابن جريج عن عطاء أن النبي ﷺلما أفاض نزع بالدلو، يعني من زمزم لم ينزع معه أحد فشرب، ثم أفرغ باقي الدلو في البئر، وقال: لولا أن يغلبكم الناس على سقايتكم لم ينزع منها أحد غيري قال: فنزع هو بنفسه الدلو ، فشرب منها لم يُعنه على نزعها أحد، وقد يجمع بأن ما في هذا كان بعقب طواف الوداع، وما في حديث جابر الله وما معه كان عقيب طواف الإفاضة، ولفظه ظاهر فيه حيث قال: فأفاض إلى البيت، فصلى بمكة الظهر، فأتى بني عبد المطلب يسقون على زمزم، فقال: انزعوا، الحديث. وطوافه للوداع كان ليلا، كما رواه البخاري عن أنس بن مالك أن النبي صلى بمكة الظهر والعصر والمغرب والعشاء، ورقد رقدة بالمحصب، ثم ركب إلى البيت فطاف به.

Hadith 3013

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3570Noor 3571Noor 3572Noor 3573
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ ہم حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہم میں سے بعض نے تو صرف عمرہ کا احرام باندھا تھا اور بعض نے حج کا احرام باندھا۔ ایک اور روایت میں اس طرح ہے کہ ام المؤمنین فرماتی ہیں کہ ہم (حجۃ الوداع کے موقع پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو حج اور عمرہ ایک ساتھ ادا کرنا چاہے تو وہ ایسا ہی (حج قران ادا کرے) اور اگر کوئی صرف حج ہی کرنا چاہے تو وہ ایسا ہی کر سکتا ہے اور جو کوئی (پہلے) صرف عمرہ کرنا چاہے تو صرف عمرہ کی نیت کر سکتا ہے۔ (امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس سے حج کے تینوں اقسام یعنی قران تمتع اور افراد کے جواز کا ثبوت ملتا ہے۔12) ام المؤمنین فرماتی ہیں کہ جب ہم مکہ میں داخل ہوئے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو عمرہ کا احرام باندھے اور اس کے ساتھ ہدی یعنی قربانی کا جانور نہ ہو تو وہ صرف عمرہ کر کے احرام کھول دے اور جو عمرہ کا احرام باندھے اور اس کے ساتھ قربانی کا جانور بھی ہو تو وہ حج اور عمرہ کا ایک ساتھ (قران کی نیت سے) احرام باندھ لے (اس سے حج قران کی افضلیت ثابت ہوتی ہے۔12) اور وہ اس وقت تک احرام نہ کھولے جب تک کہ وہ (عمرہ اور حج کے سارے مناسک پورے نہ کرلے اور جب دونوں کے مناسک پورے ہو جائیں تو) وہ اب دونوں کا احرام کھول سکتا ہے۔ اور ایک روایت میں اس طرح ہے کہ (ایسا محرم جس کے ساتھ قربانی کا جانور ہو) وہ (عمرہ کر کے) احرام نہیں کھول سکتا جب تک وہ (دسویں ذوالحجہ کو) حج کی قربانی ذبح نہ کرے۔ اور ایک روایت میں اس طرح ہے کہ (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم عمرہ کو چھوڑ دو تو میں نے ایسا ہی کیا یہاں تک کہ جب میں نے اپنا حج پورا کر لیا تو آپ نے میرے ساتھ (میرے بھائی) عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کو بھیجا اور مجھے حکم دیا میں اپنے فوت شدہ عمرہ کی بجائے مقام تنعیم جا کر (عمرہ کا احرام باندھوں اور) اس عمرہ کی قضاء کرلوں (چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا)۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1562 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (13)

Note 1

Whoever wishes

(1) His statement: "Whoever wishes"—this proves the permissibility of all three types of Hajj (An-Nawawi).

Note 2

Combine it with Hajj

(2) His statement: "Combine it with Hajj"—this supports Qiran being superior (‘Umdat al-Qari).

Note 3

Until slaughtering his sacrificial animal

(3) His statement: "Until slaughtering his sacrificial animal"—this is the Hanafi and Hanbali view, while Malik and Ash-Shafi‘i say one may exit Ihram after Tawaf and Sa‘i (An-Nawawi).

Note 4

I could not perform Tawaf

(4) His statement: "I could not perform Tawaf"—menstruating women cannot perform Tawaf until purified (Fath al-Qadir).

Note 5

Or Sa‘i

(5) His statement: "Or Sa‘i"—Sa‘i is invalid without Tawaf (Al-Maraqi).

Note 6

Abandon ‘Umrah

(6) His statement: "Abandon ‘Umrah"—this supports the Hanafi view that ‘Umrah and Hajj rites are separate (Badhl al-Majhud).

Note 1

قوله

(۱)قوله: من أراد إلخ فيه دليل بجواز الأنواع الثلاثة، وقد أجمع المسلمون على ذلك، وإنما اختلفوا في أفضلها كما سبق. قاله النووي.

Note 2

قوله

(۲) قوله: بالحج مع العمرة: فيه الحجة لمن يقول بأفضلية القرآن لقوله: فمن كان معه هدي فليهل بالحج مع العمرة، وهذا هو القران؛ لأن فيه الجمع بين النسكين في سفرة واحدة، وقال القرطبي : ظاهر أنه أمرهم بالقرآن، وقوله: ثم لا يحل حتى يحل منهما جميعا، هذا هو حكم القرآن بلا نزاع. كذا في عمدة القاري».

Note 3

قوله

(۳) قوله: حتى يحل بنحر هديه حجة هذا الحديث ظاهر في الدلالة لمذهب أبي حنيفة وأحمد وموافقيهما في أن المعتمر المتمتع إذا كان معه هدي لا يتحلل من عمرته حتى ينحر هديه يوم النحر، ومذهب مالك والشافعي وموافقيهما أنه إذا طاف وسعى وحلق حل من عمرته، وحل له كل شيء في الحال، سواء كان ساق هديا أم لا، واحتجوا بالقياس على من لم يسق الهدي، وبأنه تحلل من نسكه، فوجب أن يحل له كل شيء، كما لو تحلل المحرم بالحج. قاله النووي. كذا في البناية» و«المرقاة».

Note 4

قوله

(٤) قوله : ولم أطف: والحاصل أن حرمة الطواف من وجهين دخولها المسجد وترك واجب الطواف، فإن الطهارة واجبة في الطواف، فلا يحل لها أن تطوف حتى تطهر، فإن طافت كانت عاصية مستحقة لعقاب الله تعالى ولزمها الإعادة، فإن لم تعده كان عليها بدنة وتم حجها، كما حققه في فتح القدير»، وقد بسط الكلام فيه في بذل المجهود».

Note 5

قوله

(٥)قوله: ولا بين الصفا والمروة: أي ولم أسع بينهما ؛ إذ لا يصح السعي إلا بعد الطواف، وإلا فالحيض لا يمنع السعي. كذا في «المرقاة».

Note 6

قوله

(٦)قوله: واترك العمرة إلخ قد تقدم بيان الاختلاف بين الحنفية والشافعية في عمرة عائشة أن عندهم كانت عائشة قارنة، فدخل أفعال العمرة في أفعال الحج، فعندهم معنى قوله : انقضي رأسك أي حلى شعر رأسك وامتشطي بحيث لا ينتف شعر الرأس، وأحرمي بالحج ودعي العمرة أي اتركي أفعال الحمرة، وعند الحنفية لا تدخل أفعال العمرة في أفعال الحج، بل يجب أن يأتي بأفعال العمرة من الطواف والسعي أولا، ثم يأتي أفعال الحج، فعلى هذا في هذا الكلام دليل صريح لمذهب الحنفية، فإن قولها: «لم أطف بين الصفا والمروة وشكاية ذلك إلى رسول الله ﷺ لا يصح إلا أن يكون عندها علم بأن أفعال العمرة لا تدخل في أفعال الحج، وكذلك أمرها بالامتشاط رفض والعمرة كالصريحفي ذلك؛ فإنها إذا كانت قارنة لم تترك شيئًا من أعمال العمرة، وكذلك لا يصح قولها: أرجع بحجة، وكذلك قوله : هذه مكان عمرتك، فثبت بهذا أنها كانت معتمرة، ثم لما أصابتها الحيض رفضت العمرة وأهلت بالحج، فصارت مفردة بالحج ولم تجب عليها الهدي، بل وجبت عليها دم لرفض العمرة قاله في بذل المجهود».

Note 1

(اس سے معلوم ہوا کہ جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور ہو، اس کا حج حج قران ہوگا اور وہ تمتع کی نیت سے حج ادا نہیں کر سکتا اور یہی مذہب حنفی ہے۔ بنایہ، مرقات۔12) اور جو شخص صرف حج (افراد) کا احرام باندھے تو وہ (ہر حالت میں اپنا احرام نہ کھولے یہاں تک کہ وہ) اپنا حج پورا کرلے۔ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ (میں نے تمتع کی نیت سے عمرہ کا احرام باندھا تھا لیکن) میں ابھی (عمرہ کا) طواف نہ کر سکی تھی اور نہ مروہ اور صفا کے درمیان سعی کی تھی کہ مجھے حیض آ گیا (اس سے معلوم ہوا کہ حائضہ کا کعبۃ اللہ میں داخل ہونا جائز نہیں ہے۔ اسی وجہ سے حائضہ طواف کعبہ نہیں کر سکتی اور چونکہ سعی بین الصفا والمروہ تابع طواف ہے اس لئے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نہ طواف کیا اور نہ سعی ادا کی۔12) اور میں حالت حیض ہی میں رہی، یہاں تک کہ عرفہ کا دن آ گیا اور میں تو صرف عمرہ ہی کا احرام باندھی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں (عمرہ کا احرام کھول دوں یعنی) سر کے بال کھول دوں اور کنگھی کر دوں (تاکہ اس سے عمرہ کا احرام ختم ہو جائے) اور حج کا احرام باندھ لوں اور عمرہ کو ملتوی کر دوں۔ (اس سے معلوم ہوا کہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رضی اللہ کا حج تمتع تھا، اس لئے آپ نے صرف عمرہ کا احرام باندھا تھا اور حیض آنے کی وجہ سے اور عرفہ کا دن شروع ہو جانے کے سبب سے آپ نے عمرہ کا احرام توڑ دیا اور حج کا احرام باندھ لیا۔ اس لئے کہ مناسک حج مثلاً وقوف عرفہ، وقوف مزدلفہ، رمی جمار وغیرہ کی ادائی میں حیض سے کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوتی۔ البتہ وہ طواف زیارت کو پاک ہونے کے بعد ادا کر لے، اگر چہ کہ بارھویں ذوالحجہ کے بعد ہی کیوں نہ ہو۔ اگر کسی عورت کو جس نے تمتع کی نیت سے احرام باندھا تھا اور حیض یا کسی وجہ سے عمرہ کے افعال ادا کئے بغیر اس نے عمرہ کے احرام کو توڑ دیا تو چونکہ اس نے قصداً عمرہ کے احرام کو توڑا، اس لئے ایسی عورت پر بعد میں عمرہ کی قضاء کے ساتھ احرام توڑنے کی وجہ سے دم بھی لازم آئے گا اور یہی مذہب حنفی ہے۔ ماخوذ از بذل المجہود۔12)

Hadith 3014

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3574Noor 3575
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (حجۃ الوداع کے موقع پر) دو طواف ادا فرمائے اور دو مرتبہ سعی ادا فرمائی۔ اس کی روایت دارقطنی نے کی ہے۔ اور ابن ابی شیبہ کی ایک روایت میں زیاد بن مالک سے اس طرح مروی ہے کہ حضرت علی اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہے کہ قارن دو طواف کرے گا اور دو سعی کرے گا۔ جو بیہقی میں کہا ہے کہ اس حدیث کی سند کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
Commentary and footnotes (2)

Note 1

قوله

(۱)قوله: رواه الدارقطني : فيه محمد بن يحيى، ذكره ابن حبان في كتاب الثقات، وقال الدارقطني: هو ثقة، غير أنه نسب إليه في خصوص هذا الحديث الوهم.قال الشيخ ابن الهمام: زيادة على غيره، والزيادة من الثقة مقبولة، وما أسند فيه غاية ما فيه أنه اقتصر مرَّةً على بعض الحديث، وهذا لا يستلزم رجوعه واعترافه بالخطأ، فكثيرا يقع مثل هذا وثبت عن ابن مسعود له مثل ذلك أيضًا، انتهى. وقال في العرف الشذي: والله در مذهبنا أن القارن يطوف طوافين وسعيين خلافا للشافعية، فإنهم قالوا بالتداخل، وللقارن عندنا أربعة أطوفة: طواف العمرة، وطواف القدوم وهو سنة، وطواف الزيارة وهو فرض، وطواف الوداع وهو واجب، واتفقوا على أن أطوفته عليها في حجة الوداع كانت ثلاثة، وتتابع الروايات على هذا، والخلاف في التخريج، وأول أطوفته يوم دخل مكة لرابع من ذي الحجة، والثاني لعاشر ذي الحجة، والثالث للرابع عشر من ذي الحجة، ولم يثبت طواف نفل بين الرابع والعاشر. نعم، ثبتت بعد العاشر إلى الرابع عشر برواية قوية عندي، وكان ظاهر حديث الباب يخالف المذهبين، فإنه يدلُّ على طوافه عليها في حجة الوداع طوافا واحدًا، والحال أن ثلاثة أطوفة ثابتة، فيحتاج أهل المذهبين إلى الشرح، فشرحالشافعية في أطوفته ل بما يوافقهم في مسألة تداخل أفعال العمرة في الحج، فقالوا: إن الأول طواف القدوم، والثاني طواف واحد عن الحج والعمرة، والثالث طواف الوداع فمراد حديث الباب أنه طاف طوافا الذي يجزئ عن التسكين الحج والعمرة. وأما على مذهبنا، فنقول: إن الأول للعمرة ودخل فيه طواف القدوم، والثاني للزيارة، والثالث للوداع، ولكني ما وجدت أحدا قال بإدراج طواف القدوم في طواف العمرة، إلا أنهم قالوا: إنه ولو ترك طواف القدوم لا شيء عليه؛ لأنه ترك سنة، وفي عبارة في معاني الآثار»: أنه لم يطف طواف القدوم انتهى. وقال في بذل المجهود: والسبب في اختلاف هؤلاء في هذه الأمور ما رأوا من أفعال النبي ، فمن لم ير طوافيه وسعييه، بل لحقه بعد ما طاف وسعی مرَّةً جزم بأنه إنما فعلهما مرَّةً، فجزم بأنه فعلهما مرَّةً واحدة، والآخرون لما رأوا طوافيه وسعتيه اختاروا ذلك، وقد تقدم أن المثبت أولى من النافي، وأوله بعض الأذكياء من العلماء من أهل الدرس أن معناه: وأما الذين جمعوا الحج والعمرة فإنما طافوا للإحلال طوافا واحدًا، فإنهم لم يحلوا بعد طواف العمرة، وإنما حلوا بعد طواف الزيارة، فليس طوافهم للحل إلا طواف واحد.

Note 2

قوله

(۲) قوله: إن عليا وابن مسعود : فهؤلاء أكابر الصحابة عمر وابن مسعود وعمران بن الحصين له، فإن عارض ما ذهبوا إليه رواية ومذهبا رواية غيرهم ومذهبه كان قولهم وروايتهم مقدمة مع ما يساعد قولهم، وروايتهم مما استقر في الشرع من ضم عبادة إلى أخرى أنه بفعل أركان كل منهما. كذا في فتح القدير».

Hadith 3015

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3576
ابراہیم بن محمد بن الحنفیۃ رحمہم اللہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے (حج کے موقع پر) اپنے والد (محمد بن الحنفیۃ) کے ساتھ طواف کیا اور انھوں نے حج اور عمرہ کی ایک ساتھ (یعنی قران کی) نیت کی تھی تو آپ نے حج اور عمرہ کے لئے دو طواف کئے اور دو مرتبہ بھی سعی ادا کی اور پھر مجھ سے بیان کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا ہی کیا تھا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے یہ بھی فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی (حجۃ الوداع کے موقع پر) ایسا ہی کیا تھا۔ اس کی روایت نسائی نے اپنی سنن کبریٰ میں کی ہے۔
Commentary and footnotes (1)

Note 1

قوله

(۱) قوله: رواه النسائي : فيه حماد بن عبد الرحمن الأنصاري إن ضعفه الأزدي، فقد ذكره ابن حبان في الثقات، فلا ينزل حديثه عن الحسن. قاله في فتح القدير».

Hadith 3016

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3577Noor 3578
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا جب تم حج اور عمرہ کا (قرآن کی نیت سے) ایک ساتھ احرام باندھو تو تم دو طواف کرو اور دو مرتبہ سعی بین الصفا والمروہ ادا کرو (ایک طواف اور ایک سعی عمرہ کی اور اسی طرح دوسرا طواف حج کا طواف زیارہ اور حج کی سعی) منصور کہتے ہیں کہ میں مجاہد سے ملا تو (دیکھا کہ) وہ قارن کے لئے ایک ہی طواف کا فتویٰ دے رہے تھے تو میں نے ان سے (حضرت علی رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے فرمایا کہ اگر میں اس حدیث کو پہلے سن لیا ہوتا تو (قارن کے لئے) دو طواف کا فتویٰ دیتا اب (جب کہ مجھے معلوم ہو چکا ہے اس لئے) آئندہ سے (قارن کے لئے) دو طواف اور دو سعی کا فتویٰ دوں گا۔ اس کی روایت امام محمد نے کتاب الآثار میں کی ہے اور امام طحاوی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔ اور ابو عمر نے التمہید میں اس حدیث کو ابو نضر کے واسطہ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے اور ابو عمر نے یہ بھی کہا ہے کہ اعمش نے اس حدیث کو ابراہیم نخعی سے اور مالک بن حارث نے عبدالرحمن بن اذینہ سے روایت کی ہے اور عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا تو آپ نے ایسا ہی بیان کیا (کہ قارن کو دو طواف اور دو سعی ادا کرنے چاہئے) اور یہ سند بھی جید ہے۔
Commentary and footnotes (2)

Note 1

قوله

(۱) قوله: رواه محمد: قال الشيخ ابن الهمام: لا شبهة في هذا السند، مع أنه روي عن علي له بطرق كثيرة مضعفة ترتقي إلى الحسن، غير أنا تركناها واقتصرنا على ما هو الحجة بنفسه بلا ضم.

Note 2

قوله

(۲) قوله : وذكر إلخ : كذا في الجوهر النقي».

Hadith 3017

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3579
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے حج اور عمرہ کو (قران کی نیت سے) جمع کیا اور دو طواف اور دو سعی ادا کئے اور کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسے ہی کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس کی روایت دارقطنی نے کی ہے۔
Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح ہوکہ مذہب حنفی میں قارن کے لئے چار طواف ہیں: (1) طواف عمرہ (جو عمرہ ادا کرنے والے کے لئے فرض ہے (2) طواف قدوم (یہ طواف قارن اور مفرد کے لئے سنت ہے جب کہ یہ پہلی دفعہ کعبہ اللہ میں داخل ہوں) (3) طواف زیارت، یہ طواف ہر حاجی پر فرض ہے اور اس کا وقت دسویں ذوالحجہ کی فجر سے لے کی بارھویں ذوالحجہ کی مغرب تک ہے (4) طواف وداع۔ اس کو طواف رخصت بھی کہتے ہیں، یہ طواف ہر آفاقی پر واجب ہے خواہ وہ مفرد ہو یا قارن ہو یا متمتع اس کا وقت طواف زیارت کے بعد سے اور مکہ معظمہ سے رخصت ہونے سے پہلے تک ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر قران کی نیت سے حج ادا فرمایا اور تین طواف ادا فرمائے تھے۔ پہلا طواف آپ نے عمرہ کا چوتھی ذوالحجہ کو ادا فرمایا جب کہ آپ مکہ معظمہ میں داخل ہوئے۔ دوسرا طواف آپ نے دسویں ذوالحجہ کو ادا فرمایا جو طواف زیارت تھا۔ اور تیسرا طواف آپ نے چودھویں ذوالحجہ کو ادا فرمایا جو طواف وداع تھا۔ رہا طواف قدوم جو قارن کے لئے سنت ہے وہ طواف عمرہ جس کو آپ نے پہلی دفعہ ادا فرمایا اس میں ادا ہوگیا جیسے ایک شخص مسجد میں باوضو داخل ہوا اور فوراً کوئی سنت پڑھ لے تو تحیۃ المسجد کی ادائی بھی اس میں ہو جاتی ہے۔ رہا یہ کہ صدر کی احادیث شریفہ میں دو طواف ہے اور دو سعی کا جو ذکر ہے، ان دو طوافوں سے مراد ایک عمرہ کا مستقل طواف اور دوسرے حج کا فرض طواف اور دو سعی سے مراد ایک عمرہ کی مستقل سعی اور دوسرے حج کی مستقل سعی ہے اور ہر دو طواف اور ہر دو سعی کا علیحدہ علیحدہ ادا کرنا قارن کے لئے ضروری ہے اور یہی مذہب حنفی ہے۔ ماخوذ از عرف شذی۔ اور فتح القدیر میں لکھا ہے کہ قارن کے لئے (طواف وداع کے سواء) دو مستقل طواف اور دو مستقل سعی کی روایت اکابر صحابہ جیسے حضرت عمر حضرت علی حضرت ابن مسعود اور حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے اور یہ بہرحال قابل ترجیح ہے۔12

Hadith 3018

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3580Noor 3581
قتیبہ ہذلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ ایام تشریق یعنی گیارہ، بارہ اور تیرھویں ذوالحجہ) کھانے پینے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کے دن ہیں۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔ اور طحاوی کی ایک روایت میں اسمعیل بن محمد بن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا (حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں۔ حضرت سعد فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں منیٰ کے دنوں میں یہ ندا کر دوں کہ یہ دن کھانے، پینے اور (اپنی بیویوں سے) جماع کرنے کے دن ہیں۔ (اس لئے کہ طواف زیارۃ کے بعد عورتیں اپنے شوہروں کے لئے حلال ہو جاتی ہیں) تو ان دنوں یعنی ایام تشریق میں روزے نہ رکھو(عنایہ میں بھی اس بارے میں ایک روایت اس طرح ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا خبردار ان دنوں یعنی ایام تشریق میں روزے نہ رکھو۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1141b (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

قوله

(۱)قوله : أيام التشريق إلخ وقال في فتح القدير: فيتقيد به أي بالنهي المشهور عن صوم هذه الأيام للنص، وهو قوله تعالى: ﴿فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجَّ (البقرة: (١٩٦)؛ لأن المشهور يتقيد إطلاق الكتاب به، فيتقيد وقت الحج المطلق بما لم ينه عنه.

Note 2

قوله

(۲) قوله : فلا صوم فيها وفي رواية : قال : ألا لا تصوموا في هذه الأيام. كذا في «العناية».

Note 1

ایام جاہلیت میں عرب شہور حج میں عمرہ ادا کرنے کو بہت بڑا گناہ سمجھتے تھے اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے اسی جاہل رسم کو ختم کرنے کے لئے حکم دیا کہ جس شخص نے صرف حج کا احرام باندھا ہے اور وہ اس احرام کو فسخ کر دے اور عمرہ کا احرام باندھ کر عمرہ ادا کرے، پھر اس کے بعد حج کا احرام باندھ لے۔ یہ حکم زمانہ جاہلیت کے اس عقیدہ کو توڑنے کے لئے دیا گیا تھا اور یہ صرف اسی سال کے لئے تھا اور یہ حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خاص تھا۔ اب کوئی شخص حج کا احرام باندھ کر اس کو فسخ نہیں کر سکتا۔ ذیل کی حدیثیں اسی کی تائید میں آ رہی ہیں:

Hadith 3019

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3582
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ حج کی نیت سے احرام باندھ کر اس کو عمرہ سے فسخ کرنا صرف وہی سواروں کے لئے تھا جو (حجۃ الوداع کے موقع پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے (تاکہ زمانہ جاہلیت کی رسم کو مٹا دیا جائے)۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے اور نسائی نے بھی سند صحیح کے ساتھ اسی طرح روایت کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1807 (unverified) 60% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

قوله

(۱)قوله: وعن أبي ذر وقال في فتح القدير»: صح عن أبي ذر الله أنه قال: لم يكن لأحد بعدنا أن يصير حجته عمرة إنها كانت رخصة لنا أصحاب محمد.

Hadith 3020

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3583
بلال بن حارث اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد حضرت حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! حج کو عمرہ سے فسخ کرنا صرف ہمارے ہی لئے خاص تھا یا یہ (قیامت تک) سب لوگوں کے لئے عام رہے گا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ صرف ہمارے ہی لئے خاص تھا (تاکہ تم کو غلط عقیدے سے باز رکھا جائے، آئندہ کوئی شخص حج کو عمرہ سے فسخ نہیں کر سکتا)۔ اس کی روایت ابوداؤد اور نسائی نے کی۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1808 (unverified) 88% confidence · Validation similarity: 0.689

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

قوله

(۱) قوله: بل لنا خاصة ولا يعارضه حديث سراقة، حيث قال: ألعامنا هذا أم للأبد ؟ فقال له: «للأبد»؛ لأن المراد ألعامنا فعل العمرة في أشهر الحج أم للأبد، لا أن المراد فسخ الحج إلى العمرة، وذلك أن سبب الأمر بالفسخ ما كان إلا تقرير الشرع العمرة في أشهر الحج ما لم يكن مانع سوق الهدي. وذلك أنه كان مستعظما عندهم حتى كانوا يعدونها في أشهر الحج من أفجر الفجور، فكسر سورة ما استحكم في نفوسهم من الجاهلية من إنكارها بحملهم على فعله بأنفسهم. كذا في فتح القدير».

Hadith 3021

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3584
جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے (اس سال) (شہور حج میں) جو عمرہ ادا کیا ہے اس کی اجازت کیا صرف اسی سال کے لئے ہے یا ہمیشہ کے لئے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ (شہور حج میں عمرہ کرنے کی اجازت) قیامت تک کے لئے ہے (اب آئندہ جو شخص چاہے تمتع کی نیت سے پہلے عمرہ کرے پھر حج ادا کرے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2555 (unverified) 88% confidence

Mishkat (candidate) 2555

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

اس کی روایت امام محمد بن الحسن رحمۃ اللہ علیہ نے كِتَابُ ”الْآثَارِ“ کے ”بَابُ التَّصْدِيقِ بِالْقَدَرِ“ میں کی ہے۔