ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ تنہا نماز پڑھنے والے سے 27 درجہ بڑھ کر ثواب جماعت سے نماز
پڑھنے والے کو ملتا ہے۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ہم کو ایک دن فجر کی نماز پڑھائے، جب آپ سلام پھیرے تو دریافت فرمائے کہ کیا
فلاں شخص حاضر ہے، صحابہ نے عرض کیا: حضور وہ موجود نہیں ہے، پھر آپ نے دوسرے شخص کا نام
لے کر پوچھا کیا فلاں شخص حاضر ہے، صحابہ نے یہ عرض کیا: حضور وہ بھی موجود نہیں ہے آپ نے
ارشاد فرمایا: یہ دو نمازیں یعنی عشاء اور فجر منافقوں پر تمام نمازوں سے زیادہ گراں گزرتی ہیں، اگر
تمہیں معلوم ہو جائے کہ ان دو نمازوں کا کس قدر ثواب ہے تو تم ان دو نمازوں کے لئے اگر پیر بھی
ہوں اور نہ چل سکتے ہوں تو گھٹنوں کے بل چل کر آیا کرتے اور نماز کی پہلی صف (فضیلت میں)
فرشتوں کی صف کے مانند ہے، اگر تم کو صفِ اوّل کا ثواب معلوم ہو جائے تو تم پہلی صف میں شریک
ہونے کے لئے جلدی کر کے ایک دوسرے پر سبقت کرتے۔ ایک آدمی کے ساتھ جماعت کر کے
نماز پڑھنے والے کو تنہا نماز پڑھنے والے سے زیادہ ثواب ملتا ہے اور وہ اسی طرح دو آدمیوں کے
ساتھ جماعت کر کے نماز پڑھنے والے کو ایک آدمی کے ساتھ نماز پڑھنے والے سے زیادہ ثواب ملتا
ہے اسی طرح جماعت میں جس قدر نمازی زیادہ ہوتے جائیں گے نمازی کو اسی قدر زیادہ ثواب ملتا
جائے گا، اس لئے جماعت میں جس قدر نمازی زیادہ ہوں اسی قدر اللہ تعالیٰ کی پسندیدگی زیادہ ہوتی
جاتی ہے۔
اس کی روایت ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جماعت میں نہ آنے والوں کو منافق فرمایا، اس سے
جماعت کا وجوب ثابت ہوا اور نماز کے لئے مسجد میں آنے کا وجوب بھی اس سے ظاہر ہو رہا ہے کیوں
کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی غیر حاضری مسجد پر ہی یہ سخت وعید فرمائی۔ اگر گھر کی جماعت
کافی ہوتی تو مسجد میں نہ آنے پر یہ وعید نہ ہوتی۔ (اعلاء السنن)
ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: ایک دن
کا ذکر ہے کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نماز صبح کی جماعت میں میرے والد سلیمان رضی اللہ
عنہ کو موجود نہ پائے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ بازار جا رہے تھے راستہ میں سلیمان کا گھر واقع تھا،
سلیمان کی والدہ جن کا نام شفاء تھا، ان سے ملاقات ہوئی تو دریافت فرمایا کہ شفاء! تمہارے فرزند
سلیمان کہاں ہیں؟ آج صبح کی نماز میں نظر نہیں آئے، شفاء نے عرض کیا: امیر المومنین! سلیمان بہت
دیر تک نماز تہجد پڑھتے رہے، آخر رات میں ان پر نیند کا غلبہ ہوگیا (اس لئے نماز صبح کی جماعت میں
حاضر نہ ہوسکے) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: نماز تہجد بڑی فضیلت کی نماز ہے اس کے
لئے جاگنا ایسے شخص کے لئے بہترین عبادت ہے جس کی فجر کی جماعت نہ جاتی ہو، اگر کوئی تہجد میں
جاگ کر فجر کی جماعت کھو دیتا ہے تو میرے نزدیک تہجد کی نماز سے فجر کی جماعت میں شریک ہونا
بہتر ہے۔ اس کی روایت امام مالک نے کی ہے۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں: مجھے وہ وقت یاد ہے
کہ (مساجد میں) جماعت کی نماز سے سوائے کھلم کھلا منافق یا مریض کے اور کوئی غیر حاضر نہ ہوتا تھا
اگر کوئی بیمار ایسا ہوتا کہ دو آدمیوں کے سہارے سے پاؤں چل کر نماز میں آکر شریک ہوسکتا تھا وہ بھی
آتا تھا اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو ہدایت کے
تمام طریقے سکھا دیئے ہیں، ہدایت کے انہی طریقوں میں سے یہ بات بھی ہے کہ جس مسجد میں
اذان ہوتی ہو، اس میں نماز پڑھی جائے (گھر میں نہ پڑھی جائے)۔
ایک اور روایت میں یوں ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جس کو یہ
بات پسند ہو کہ کل (قیامت میں) اللہ تعالیٰ سے سچا مسلمان بن کر ملاقات کرے تو اس کو چاہیے کہ وہ
ان پانچوں نمازوں کو ان مساجد میں (جماعت سے) پابندی کے ساتھ ادا کرے، جہاں ان کے
لئے اذان دی جاتی ہو، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہدایت کے تمام
طریقے مقرر فرما دیئے ہیں اور مسجدوں میں ان نمازوں کو (جماعت سے) ادا کرنا بھی ہدایت کے
طریقوں میں سے ایک طریقہ ہے۔ اگر تم اپنے اپنے گھروں میں نماز پڑھ لیا کرو گے (خواہ جماعت
سے ہی کیوں نہ ہو) جیسا کہ یہ منافق اپنے گھر میں نماز پڑھا کرتا ہے تو تم سنت نبوی صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کی خلاف ورزی کرو گے اور سنت نبوی کو ترک کرو گے تو گمراہ ہو جاؤ گے، پس جو شخص (سنن
و مستحبات کے ساتھ) اچھی طرح وضو کر کے مسجد کو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ہر قدم پر اس کے واسطے ایک
نیکی لکھتے ہیں، اپنے قرب کے درجوں میں ایک درجہ بلند کرتے ہیں، اور اس کا ایک ایک گناہ معاف
کر دیتے ہیں۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے وہ وقت یاد ہے جب کہ مساجد میں جماعت
کی نماز سے سوائے کھلم کھلا منافق کے اور کوئی نہ رہ جاتا تھا، بعض مریضوں کو دو آدمی سہارا دے کر
لاتے تھے اور لا کر جماعت کے ساتھ کھڑا کر دیتے تھے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
ام درداء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ ایک روز ابو درداء رضی
اللہ عنہ میرے پاس تشریف لائے اس وقت آپ کچھ غصہ میں تھے، میں نے عرض کیا: غصہ کی کیا وجہ
ہے؟ فرمایا: خدا کی قسم میں دیکھ رہا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس شریعت پر تھے اس میں
کسی قسم کا تغیر نہیں (یہ ترجمہ عینی شرح بخاری سے ماخوذ ہے۔12) ہوا ہے مگر نماز کو جماعت سے
پڑھنے میں لوگ سستی کر رہے ہیں (حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کا بڑا اہتمام فرمایا
کرتے تھے، اسی لئے مجھے غصہ آیا ہے)۔ اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (ایک بار) رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قسم ہے اس خدا کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے
میرا ارادہ تھا کہ لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دوں، جب لکڑیاں جمع ہو جائیں تو نماز کی تیاری کا حکم دوں،
پھر اذان کے ذریعہ سے نماز کا اعلان کرا دوں (اذان کے بعد) کسی کو امامت کرنے کا حکم دوں اور
میں خود اپنے اس حکم کا خلاف کر کے، خود نماز میں شریک نہ ہو کر، جماعت میں نہ آنے والوں کی
طرف چلا جاؤں اور ان کے مکانات کو آگ لگا دوں، قسم ہے اس خدا کی جس کے قبضہ قدرت میں
میری جان ہے، جماعت میں شریک نہ ہونے والوں کو آخرت کے ثواب کا یقین نہیں، دنیا ہی دنیا ان
کے پیش نظر ہے، اگر ایک حقیر ہڈی یا معمولی تیریں مسجد میں دیئے جانے کا ان کو علم ہوتا تو یہ دنیا کے
بندے نماز عشاء کی جماعت میں ضرور آتے (اور جماعتوں میں تو شریک ہو کر ریاء کر کے مخلوق کا
حسن ظن حاصل کر سکتے ہیں، اس لئے دن کی جماعتوں میں کبھی آ بھی جاتے ہیں لیکن عشاء کی نماز کو
جماعت سے ادا کرنے کا آخرت میں جو ثواب ملنے والا ہے ان کو اس کا یقین نہیں، اس لئے وہ عشاء
کی جماعت میں نہیں آتے ہیں)۔
(اس کی روایت بخاری نے کی ہے، اور مسلم نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 644 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 651b (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ نماز باجماعت میں
شریک نہ ہونے والوں کے مکانات کو آگ لگا دوں۔ ابن قیم نے کہا ہے کہ اس قسم کی یہ وعید ظاہر ہے
کہ صغیرہ گناہ پر نہیں ہوتی، اس لئے ثابت ہوتا ہے کہ مسجد کی جماعت کا ترک کرنا کبیرہ گناہ ہے، اور
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع سے اپنی وفات تک جماعت پر مواظبت فرمائی اور جماعت کے ترک
کی اجازت نہ دی، اگرچہ کہ اذان سننے والا نابینا ہو، اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ جماعت کا مسجد میں
ادا کرنا واجب ہے۔ (مرقات، ابن ہمام اور عینی)۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر گھروں میں عورتیں اور بچے نہ ہوتے تو میں نماز عشاء کی
جماعت قائم کرنے کا ارادہ کرتا اور اپنے نوجوان صحابہ کو حکم دیتا کہ عشاء کی جماعت میں حاضر نہ
ہونے والے (بے عقلوں) کے گھروں کو آگ لگا کر جلا دیں۔ اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف(1): اس حدیث شریف میں ارشاد ہے۔ ”اگر گھروں میں عورتیں اور بچے نہ ہوتے تو
عشاء کی جماعت میں حاضر نہ ہونے والوں کے گھروں کو آگ لگا کر جلا دینے کا حکم دیتا“ اس سے
ثابت ہوتا ہے کہ نماز کا جماعت سے ادا کرنا عورتوں اور بچوں پر واجب نہیں ہے، اگر عورتوں اور بچوں
کے گھروں میں ہوتے ہوئے نماز میں نہ آنے والوں کی وجہ سے گھر جلا دئیے جاتے تو ان کے ساتھ یہ
بے قصور بھی جن پر جماعت واجب نہ تھی جل جاتے، اسی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھروں
کے جلانے کا ارادہ ترک فرما دیا۔
ف(2): اس حدیث شریف میں نماز باجماعت میں شرکت کے لئے مسجد میں حاضر نہ
ہونے والوں کے بارے میں ارشاد ہے ”أَمَرْتُ فِتْيَانِي يُحَرِّقُونَ مَا فِي الْبُيُوتِ بِالنَّارِ“
(میں اپنے نوجوان صحابہ کو حکم دیتا کہ عشاء کی جماعت میں حاضر نہ ہونے والے بے عقلوں کے
گھروں کو آگ لگا کر جلا دیں) یہاں ان لوگوں کے لئے حرف ”من“ کی بجائے ”ما“ کا
استعمال فرمایا گیا ہے اور ظاہر ہے کہ حرف ”ما“ کا استعمال غیر ذوی العقول کے لئے ہوتا ہے
اور ”من“ کا استعمال ذوی العقول کے لئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذوی العقول کے لئے
حرف ”ما“ کا استعمال فرمانا اس سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مسجد کی نماز باجماعت میں
شریک نہ ہونے والے واقعۃً بے عقل ہیں۔ (مرقات)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک نابینا صحابی نبی کریم
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر عرض کئے: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
مجھے ہاتھ پکڑ کر مسجد کی طرف لانے والا کوئی نہیں ملتا، اس لئے انہوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے اپنے گھر ہی میں نماز پڑھ لینے کی اجازت دیجئے (یہ سن کر) حضور صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے انہیں اس کی اجازت دیدی، جب وہ واپس ہونے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے انہیں بلا کر ارشاد فرمایا: کیا تمہیں اذان کی آواز (اپنے گھر میں) سنائی دیتی ہے؟ انہوں نے
عرض کیا: جی ہاں! (سنائی دیتی ہے) تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پھر تو تم کو مسجد کی
طرف کسی طرح بھی آنا ہوگا۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ نماز کا مسجد میں جماعت کے ساتھ ادا کرنا واجب ہے، اس
لئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نابینا صحابی کے اجازت طلب کرنے کے باوجود بھی ترک جماعت کی
اجازت نہیں دی، اب رہی یہ بات کہ نابینائی جماعت میں حاضر ہونے کے لئے عذر ہے تو اس بارے میں
تحقیق یہ ہے کہ عذر دو قسم کے ہیں: ایک وہ عذر کہ جن کی وجہ سے جماعت میں آنا تو ممکن ہے لیکن آنے میں
مشقت اور سخت تکلیف اٹھانی پڑتی ہے اس لئے اس صورت میں جماعت میں حاضر ہونے کا وجوب تو باقی
رہتا ہے اگر تکلیف اور مشقت کی وجہ سے جماعت میں حاضر نہ ہو تو رخصت ہے اور اجازت ہے۔
چنانچہ عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جماعت میں حاضر نہ
ہونے کی جو اجازت دی ہے وہ اس لئے ہے کہ نابینائی عذر ہے، اگر کوئی نابینا ہونے کی وجہ سے حاضر
جماعت نہ ہو تو اس کے لئے رخصت ہے لیکن وجوب باقی ہے اور مشقت اور تکلیف کے باوجود
جماعت میں حاضر ہو تو اس کے لئے عزیمت ہے، یعنی بڑی ہمت کی بات ہے اور ثواب کثیر کے حصول
کا باعث ہے اور نابینا کے جماعت میں حاضر ہونے کی عزیمت پر صدر کی یہ حدیث دلالت کرتی ہے جو
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نابینا صحابی کو اجازت طلب
کرنے کے باوجود بھی ترک جماعت کی اجازت نہیں دی۔ اب رہا جماعت میں حاضر نہ ہونے کے
عذر کی دوسری قسم وہ عذر ہے جس کی وجہ سے جماعت میں حاضر ہونا ممکن ہی نہیں ہے جیسے فالج وغیرہ۔
اس عذر میں عذر والے سے جماعت میں شریک ہونے کا وجوب بھی ساقط ہو جاتا ہے اور جماعت میں
نہ آنے سے اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ (مرقات، ردالمحتار اور اعلاء السنن)۔
عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے عرض کیا: یا رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ میں موذی جانور اور درندے، بہت ہیں اور میں ہوں نابینا، تو کیا مجھے
(جماعت میں نہ آ کر) گھر پر نماز پڑھنے کی اجازت مل سکتی ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
ارشاد فرمایا: کیا تم ”حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ۔ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ“ کی آواز سنتے ہو تو عبداللہ نے عرض
کیا: جی ہاں سنتا ہوں! تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سنو عبداللہ! حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ اور
حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ سے تم کو جماعت میں حاضر ہونے کی ندا دی جا رہی ہے اور حاضر ہونے پر خوشخبری
سنائی جا رہی ہے، اس لئے تم کو اس ارشاد کی تعمیل کرنا ضروری ہے (تمہارے لئے عزیمت یہی ہے
کہ تم مسجد آ کر جماعت میں شریک ہوا کرو) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرما کر ان کو اجازت نہیں
دی (اس حدیث سے بھی نماز باجماعت کے لئے مسجد میں آنے کا وجوب ثابت ہوتا ہے)۔
اس حدیث کی روایت ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔
ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ کسی بستی میں یا کسی جنگل میں (کثیر تعداد میں لوگ ہوں تو ان پر جماعت
واجب ہی ہے) اگر تین مرد بھی ہوں (تو ان کو ہر نماز جماعت سے پڑھنا واجب ہے) اگر جماعت
سے نماز نہیں پڑھیں گے تو شیطان ان پر مسلط ہو جائے گا۔ (حدیث شریف میں جو تین شخصوں کا ذکر
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ دو شخصوں سے بھی جماعت قائم ہو جاتی ہے مگر ہیئت جماعت کا کمال تین
سے شروع ہوتا ہے کہ ان میں سے ایک امام بنے اور دو مقتدی ہو کر اس کے پیچھے کھڑے رہیں، اس
لئے حدیث شریف میں تین مردوں کا ذکر ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ
جماعت سے نماز پڑھنے کو لازم کر لو، کیونکہ بھیڑیا اسی بکری کو پھاڑ کھاتا ہے جو گلے سے علیحدہ ہو جاتی
ہے۔ (اس کی روایت امام احمد، ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔)
ف: اس حدیث سے بھی جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کا وجوب ثابت ہوتا ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص مؤذن کی اذان سنے کہ وہ اس کو نماز کے لئے بلا رہا ہے اور کوئی
عذر اس کو مؤذن کے بلانے کی تعمیل سے روکنے والا نہیں ہے، باوجود اس کے وہ جماعت کے لئے نہ
آئے اور تنہا نماز پڑھ لے تو فرض تو اس کے ذمہ سے ساقط ہو جائے گا مگر اس کی نماز قبول نہ ہوگی اور
اس کو نماز کا ثواب نہیں ملے گا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عذر سے
کیا مراد ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جان، عزت اور مال کے جانے کا خوف ہو، یا
ایسی بیماری جس کی وجہ سے جماعت میں آنا ممکن نہ ہو۔ (یا جماعت میں آ تو سکتے ہیں مگر اس کے لئے
بڑی تکلیف اور مشقت اٹھانی پڑتی ہو)۔ (اس کی روایت ابوداؤد اور دارقطنی نے کی ہے۔)
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک بار نماز کے لئے اذان
دی اور چونکہ اس رات سردی بھی تھی اور ہوا بھی، اس لئے اذان کے بعد آپ نے فرمایا: لوگو! اپنے
اپنے مقام پر نماز پڑھ لو (گو تمہارے ذمہ سے نماز کے لئے جماعت میں آنے کا وجوب ساقط نہیں
ہوا ہے مگر مشقت اور تکلیف کی وجہ سے تم کو یہ اجازت دی جا رہی ہے) پھر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے
فرمایا (یہ میں اپنے طرف سے نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی سردی یا
بارش کے وقت میں مؤذن کو اذان کے بعد یہ کہنے کا حکم دیتے تھے کہ لوگو! اپنے اپنے مقام پر نماز پڑھ
لو۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 666 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sahih Muslim 697a (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: تعلیق ممجد میں مذکور ہے کہ سردی اور ہوا اور اسی قسم کی چیزوں کے پیش آنے پر جماعت میں
نہ آنے کی رخصت و اجازت ہے اور یہ رخصت شارع علیہ الصلوۃ والسلام کی جانب سے ہم کو آرام اور
سہولت پہنچانے کے طور پر ہے لیکن نماز کے لئے جماعت میں آنے کا وجوب باقی ہے اس لئے کوئی
شخص تکلیف اور مشقت کے باوجود جماعت میں آئے تو یہ اس کے لئے عزیمت ہے اور بڑے ثواب کا
باعث ہے اس لئے کہ بہت سی حالتوں میں جماعت میں آنے کی فضیلت اور جماعت میں نہ آنے کی
وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر شام کا کھانا (یا کسی اور وقت کا کھانا ہو) سامنے لا کر رکھ دیا گیا ہو، اور ادھر
نماز کی اقامت ہو رہی ہو تو (چونکہ نماز کے لئے جماعت میں آنے کا وجوب باقی ہے مگر شدید بھوک
کی وجہ سے حضور قلب نہیں رہتا اس لئے) پہلے کھانا کھا لو، اور کھانے سے فارغ ہونے تک نماز کے
لئے جلدی نہ کرو (تاکہ حضور قلب کے ساتھ نماز ادا ہو، بشرطیکہ ایسا طویل کھانا نہ ہو جس سے
جماعت ہی فوت ہو جائے) اسی پر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا عمل درآمد تھا کہ آپ کے سامنے
کھانا آ جاتا تھا اور نماز کی تکبیر ہوتی رہتی تھی اور آپ امام کی قرأت سنتے تو جب تک کھانے سے فارغ
نہ ہوتے نماز کو نہ آتے اور کھانے سے فارغ ہو کر جماعت میں شریک ہو جاتے، اگر کوئی کھانا نہ کھا کر
جماعت میں شریک ہو جائے تو یہ اس کے لئے عزیمت ہے۔ اور بڑے ثواب کی بات ہے، چنانچہ
بخاری میں جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ”لَا
تُؤَخِّرُوا الصَّلَاةَ لِطَعَامٍ وَلَا لِغَيْرِهِ“ (کھانے کی وجہ سے یا کسی اور ضرورت سے نماز کی جماعت
کو مؤخر نہ کرو (اسی عزیمت پر عمل کرتے ہوئے ایک روز (جیسا کہ بخاری میں عمرو بن امیہ رضی اللہ
عنہ سے مروی ہے۔12) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دست کا گوشت تناول فرما رہے تھے اتنے میں
آپ کو نماز کے لئے بلایا گیا تو آپ نے چھری پھینک دی اور نماز کے لئے تشریف لے گئے)۔
(اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ میں
نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے سنا ہے کہ اگر کھانا سامنے رکھ دیا گیا ہو تو (چونکہ
نماز کے لئے جماعت میں آنے کا وجوب باقی ہے مگر شدید بھوک کی وجہ سے حضور قلب باقی نہیں رہتا
اس لئے) بغیر کھائے نماز میں شریک ہو جائے تو نماز ناقص ہوگی کامل نہیں ہوگی (اس لئے پہلے کھانا
کھا لے پھر نماز میں شریک ہو جائے اگر کوئی ایسا شخص ہو کہ بھوک کی وجہ سے اس کے حضور قلب میں
کوئی فرق نہیں آتا ہے تو اس کے لئے عزیمت یہ ہے کہ وہ پہلے نماز پڑھ لے اور بعد میں کھانا کھا لے
تو ایسے شخص کے لئے نماز ناقص نہیں ہوگی بلکہ کامل ہی رہے گی) اور اگر کسی کو پیشاب یا پاخانہ (یا
ریح) کا ایسا سخت تقاضہ ہو جو ناقابل برداشت ہے تو وہ اس تقاضے کے باوجود نماز پڑھ لے تو (حضور
قلب کے بالکل باقی نہ رہنے کی وجہ سے) اس کی نماز ناقص ہوگی کامل نہیں ہوگی (اس لئے نماز کی
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 560a (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
حالت میں پیشاب یا پاخانہ کا سخت تقاضہ ہو جائے تو ایسے شخص کو چاہئے کہ وہ نماز توڑ کر- جیسا کہ
ردالمحتار میں مذکور ہے-12- بعد فراغت نماز پڑھے اور اگر نماز شروع نہیں کیا ہے اور اس کو سخت
تقاضہ ہو رہا ہے تو وہ نماز شروع نہ کرے بلکہ پیشاب یا پاخانہ سے فارغ ہو کر نماز پڑھے، اس لئے کہ
پیشاب یا پاخانہ کے تقاضہ کے باوجود نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے)۔
(اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے سنا ہے کہ اگر نماز کی اقامت ہو رہی ہو اور تم میں سے کسی کو
پیشاب یا پاخانہ کا (ایسا) سخت تقاضہ ہو رہا ہو (جو ناقابل برداشت ہے، گو جماعت فوت ہو رہی ہو
پھر بھی) پہلے پیشاب یا پاخانہ سے فارغ ہو جائے (اور پھر نماز اداء کرے)۔
(اس کی روایت ترمذی نے کی ہے اور امام مالک، ابوداؤد اور نسائی نے بھی اسی طرح روایت
کی ہے۔)
ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ تین چیزیں ایسی ہیں کہ وہ کسی کو نہ کرنی چاہئے- ایک تو یہ کہ جب کوئی شخص
کسی جماعت کا امام بنے (قعدہ اخیرہ میں التحیات اور درود پڑھنے کے بعد جب دعاء کا موقع آئے
تو) صرف اپنے لئے دعاء کرے اور مقتدیوں کے لئے دعاء نہ کرے، اگر اس نے ایسا کیا تو گویا
مقتدیوں سے خیانت کی (اس لئے کہ جب وہ ان کا امام بنا ہے اور ان کی نمائندگی کر رہا ہے تو دعاء
میں بھی ان کو شریک کرے اور اس طرح خدا کے حضور میں نمائندگی کا حق بجا لائے، چنانچہ ردالمحتار
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 90 (unverified) 96% confidence
Candidate: Jami al-Tirmidhi 357 (unverified) 93% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
میں لکھا ہے کہ قعدۂ اخیرہ کی دعاء میں اپنے والدین، اساتذہ اور عامۃ المسلمین کو بھی شریک کرے)
دوسرے یہ کہ کسی کے گھر کے اندر بغیر اجازت نہ جھانکے، اگر کسی نے ایسا کیا تو گویا اس نے گھر
والوں سے خیانت کی (کیوں کہ اجازت صرف اسی لئے رکھی گئی ہے کہ گھر والوں کی ناقابل دید
حالت یا بے پردگی میں ان پر نظر نہ پڑے) اگر ایسا کیا تو (گھر والوں کے منشاء کے خلاف کیا) اور
اس طرح جھانک کر ان سے خیانت کی۔ تیسرے (پاخانہ یا) پیشاب کی حاجت کے وقت نماز نہ
پڑھے جب تک کہ ان سے فارغ ہو کر ان کے دباؤ سے ہلکا نہ ہو جائے۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے اور ترمذی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ کھانے کی وجہ سے یا کسی اور ضرورت سے نماز کی جماعت کو مؤخر نہ کرو!
(یہ عزیمت ہے اور بڑے ثواب کی بات ہے اور بعض حدیثوں میں پہلے کھانا کھانے اور اس
کے بعد جماعت میں شریک ہونے کا جو ذکر ہے وہ رخصت اور اجازت پر محمول ہے، پس دونوں قسم
کی حدیثوں میں تعارض نہ رہا)۔ (اس حدیث کی روایت امام بغوی نے شرح السنۃ میں کی ہے۔)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں
کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب نماز کی اقامت ہو جائے تو سوائے اس فرض
کے جس کے لئے اقامت کہی گئی ہو کوئی اور نماز نہ پڑھنی چاہئے، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ فجر کی سنت اس حکم سے مستثنیٰ ہے (اگر فجر کے فرض کی تکبیر کہی جائے اور نماز
بھی ہو رہی ہو تو پھر بھی فجر کی سنت کچھ دور ہٹ کر پڑھ لے اور جماعت میں شریک ہو جائے۔
(اس کی روایت بیہقی نے کی ہے۔)
عبداللہ بن ابی موسیٰ رضی اللہ عنہما اپنے والد ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت
کرتے ہیں کہ ایک دن سعید بن العاص رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوموسیٰ، حضرت حذیفہ اور حضرت
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم کو ایسے وقت بلایا جبکہ ان حضرات نے ابھی فجر کی نماز ادا نہیں کی تھی،
پھر یہ حضرات سعید بن العاص کے پاس سے ملاقات کر کے ایسے وقت نکلے کہ نماز فجر کی اقامت
ہو رہی تھی تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مسجد کے ایک ستون کی طرف بڑھے (یہ ترجمہ طبرانی کی
روایت میں جو لفظ ”فتقدم“ مذکور ہے اس کے لحاظ سے کیا گیا ہے) اور اس کو آڑ بنا کر فجر کی دو سنتیں
ادا کئے، پھر جماعت میں شریک ہو گئے۔ (اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)
ف: امام طحاوی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جس شان کے صحابی ہیں
وہ تو سب کو معلوم ہے تو ایسے جلیل القدر صحابی کا نماز فجر کے فرض کی اقامت ہونے اور امام کے قرأت
شروع کرنے کے باوجود فجر کی سنتوں کو جماعت سے دور ہٹ کر ادا کرنا اور پھر جماعت میں شریک
ہونا، اس سے معلوم ہوا کہ سابق کی حدیث جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اس میں فجر کی سنتوں
کو جو مستثنیٰ کیا گیا ہے انہوں نے اسی پر عمل کیا ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس کو مستثنیٰ کیا گیا
ہے یعنی ”إِلَّا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ“ حدیث مرفوع ہی کا ٹکڑا ہے اس کے علاوہ حضرت حذیفہ اور حضرت
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہما ان دونوں حضرات نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے اس عمل کو دیکھا اور
اس پر انکار نہیں فرمایا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں حضرات بھی حضرت ابن مسعود رضی اللہ
عنہ کے اس عمل سے موافقت رکھتے تھے ورنہ خاموش نہیں رہتے۔
ابو عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نماز فجر کے فرض کے
لئے جماعت صف بستہ کھڑی ہوئی ہوتی اور ایسے وقت جب کبھی ابو درداء رضی اللہ عنہ (خلاف عادت
دیر سے) مسجد تشریف لاتے تو آپ پہلے مسجد کی ایک جانب (صفوں سے علیحدہ) فجر کی سنتیں ادا ء
فرماتے پھر جماعت میں شریک ہو جاتے۔ (اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)
ابو عثمان نہدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا ہے کہ حضرت عمر
رضی اللہ عنہ نماز فجر پڑھاتے ہوتے اور ہم جب کبھی فجر کی سنتیں پڑھے بغیر مسجد آ جاتے تو ہم مسجد کے
آخری حصہ میں فجر کی سنتیں پڑھ لیتے پھر جماعت میں شریک ہو جاتے (اور ہم پر کوئی روک ٹوک نہ ہوتی تھی)۔
(اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)
حسن بصری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرمایا کرتے تھے کہ اگر کسی وقت تم
مسجد کو فجر کی سنتیں پڑھے بغیر آ جائیں گو اس وقت امام نماز پڑھا رہا ہو، پھر بھی تم فجر کی ان سنتوں کو
پہلے پڑھ لو، پھر امام کے ساتھ جماعت میں شریک ہو جاؤ۔ (اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عورت کے لئے کمرہ میں نماز پڑھنا دالان میں نماز پڑھنے سے بہتر
ہے اور اس کے لئے تہ خانہ میں نماز پڑھنا کمرہ میں نماز پڑھنے سے، بہتر ہے۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت جتنا اندر گھر میں چھپ کر نماز پڑھے اتنا اس
کے لئے بہتر ہے، اس لئے کہ عورت پردہ کی چیز ہے اور لفظ ”عورت“ کے معنی اور مفہوم میں چھپنا داخل ہے۔
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عورتوں کے لئے بہترین مسجدیں گھروں کے اندرونی حصے ہیں۔
(اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! تم اپنی عورتوں کو مسجدوں میں زیب و زینت کے ساتھ آنے
سے منع کرو (کہ اس میں خوف فتنہ کا ہے) اور مردوں کو چاہئے کہ مسجدوں میں اتراتے ہوئے نہ
چلیں، اس لئے کہ بنی اسرائیل پر اسی وقت لعنت نازل ہوئی جبکہ عورتیں مسجدوں میں زیب و زینت
کے ساتھ آنے لگیں اور مرد مسجدوں میں اتراتے ہوئے چلنے لگے۔
(اس کی روایت ابن عبدالبر نے اپنی سند سے تمہید میں کی ہے۔)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ اگر رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ملاحظہ فرماتے کہ آپ کے بعد عورتوں نے جو نئی نئی باتیں پیدا کر لی ہیں
(مثلاً زیب و زینت کا لباس پہن کر اور خوشبو لگا کر باہر نکلنا شروع کر دیا ہے) تو آپ ان کو مسجد میں
آنے سے ضرور روک دیتے، جس طرح کہ بنی اسرائیل کی عورتیں (مسجدوں میں آنے سے) روک
دی گئی تھیں (کیوں کہ اس طرح عورتوں اور مردوں کی ایک مکان میں پانچ وقت کی یکجائی بہت
خطرناک ہوتی ہے اور اس سے نہ کھڑے ہونے والے فتنے کھڑے ہو جاتے ہیں اس لئے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاص طور پر مسجد کی حضوری سے عورتوں کو منع فرما دیتے)۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ ہر آنکھ خواہ مرد کی ہو یا عورت کی اگر وہ شہوت سے کسی نامحرم پر نظر ڈالے تو وہ اس
آنکھ کا زنا ہے اور اگر کوئی عورت خوشبو لگا کر مردوں کی مجلس سے گزرے تو وہ عورت ایسی ویسی ہے
یعنی زنا کا میلان رکھتی ہے اور اپنی خوشبو سے مردوں کو آنکھ کے زنا کی طرف مائل کرتی ہے اس لئے
وہ سمجھی جائے گی کہ وہ زانیہ ہے۔
(اس کی روایت ترمذی نے کی ہے، اور ابوداؤد اور نسائی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ہم کو حکم دیا ہے کہ جب تم مسجد کے اندر ہوں (اور کہیں کے امام نہ ہوں اور نماز پڑھتے ہوئے
بھی نہ ہوں) اور ایسے میں نماز کے لئے اذان ہو جائے تو تم کو جماعت کے ساتھ نماز پڑھے بغیر مسجد
سے نہ نکلنا چاہئے (اور اگر ایسا شخص کہیں کا امام ہو، یا نماز پڑھ چکا ہو تو وہ اذان کے بعد مسجد سے باہر
جا سکتا ہے)۔ (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔)
ابو شعثاء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم (ایک دن) مسجد میں
ابوہریرہ، رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں مؤذن نے اذان دی، اذان سن کر ایک
شخص مسجد سے باہر جانے لگا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس کے پیچھے نظر دوڑائی اور جب وہ مسجد سے
بالکل باہر چلا گیا تو فرمایا کہ اس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے خلاف کیا۔
(اس کی روایت مسلم (اس حدیث کا ترجمہ مسلم کی ایک دوسری روایت کے لحاظ سے کیا گیا
ہے۔12) نے کی ہے۔)
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص مسجد کے اندر ہو اور اذان ہوئی، پھر وہ شخص مسجد سے نکل گیا اور
کسی ضروری کام کے لئے نہیں نکلا اور وہ دوبارہ مسجد میں واپس ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا ہے تو وہ
منافق ہے۔ (اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جماعت میں نہ آنے والوں کو منافق فرمایا، اس سے جماعت کا وجوب ثابت ہوا اور نماز کے لئے مسجد میں آنے کا وجوب بھی اس سے ظاہر ہو رہا ہے کیوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی غیر حاضری مسجد پر ہی یہ سخت وعید فرمائی۔ اگر گھر کی جماعت کافی ہوتی تو مسجد میں نہ آنے پر یہ وعید نہ ہوتی۔ (اعلاء السنن)