ابوالحویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم عمرو بن حزم حاکم نجران کو لکھے کہ عید الاضحٰی کی نماز اول وقت پڑھا کرو (تا کہ لوگوں کو قربانی کرنے کا
جلد موقع ملے) اور عید الفطر کی نماز بہ نسبت عید الاضحٰی کے) دیر کر کے پڑھا کرو (تا کہ فطرہ تقسیم ہو جائے اور
غربا فطرہ حاصل کر کے اطمینان سے عیدگاہ آ سکیں) اور خطبہ میں وعظ و نصیحت کیا کرو (خصوصاً فطرہ دینے کی
اور قربانی کرنے کی ترغیب دلاؤ)۔ (اس حدیث کی روایت امام شافعی رحمہ اللہ نے کی ہے۔)
(2) The statement: "Hasten the Eid al-Adha prayer...." It is preferable to hasten the Eid al-Adha prayer and delay the Eid al-Fitr prayer. This is mentioned in Al-Khulasah. It is stated in Al-‘Alamgiri.
Note 2
قوله
(۲) قوله : إن عجل الأضحى إلخ الأفضل أن يعجل الأضحى ويؤخر الفطر . كذا في الخلاصة». قاله في العالمگيري».
ابوعمیر بن انس رضی اللہ عنہ کے کئی چچا تھے اور وہ سب کے سب صحابی ہیں ان
سے ابوعمیر روایت کرتے ہیں کہ ایک سال مدینہ منورہ میں رمضان شریف کی تیسویں شب کو ہلال نظر
نہ آیا۔ اس لئے سب صحابہ روزہ رکھ لئے (زوال کے بعد) ایک قافلہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
خدمت میں آیا جو اونٹوں پر سوار تھے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے گواہی دی
کہ ہم تیسویں شب کو ہلال دیکھ کر آ رہے ہیں (اس سے معلوم ہوا کہ رمضان المبارک 29 دن میں ہی
ختم ہو گئے ہیں آج رمضان کی تیسویں نہیں ہے بلکہ شوال کی پہلی ہے۔ قافلہ کے سب لوگ رویت
ہلال کی گواہی دینے کی وجہ سے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب لوگوں کو حکم دئے کہ سب افطار
کر لیں (کہ ان کا روزہ لاعلمی سے عید کے دن واقع ہوا ہے جو ناجائز ہے، عید کی نماز کا وقت زوال
تک ہی ہے، زوال کے بعد عید کی نماز نہیں ہو سکتی، اس لئے آج عید کی نماز نہ پڑھیں) کل صبح سب
کے سب عیدگاہ میں آ جائیں (آج کے بدلہ کل عید کی نماز ادا کی جائے گی۔ اگر کبھی ایسا اتفاق ہو کہ
دوسرے دن بھی عیدالفطر کی نماز نہ پڑھ سکیں تو تیسرے دن عیدالفطر کی نماز نہیں پڑھنا چاہئے،
عیدالفطر پڑھنے کا وقت نہ رہا۔ ہاں عید اضحیٰ کسی وجہ سے دوسرے دن نہ پڑھ سکیں تو تیسرے دن بھی
عیدالاضحیٰ پڑھ سکتے ہیں)۔
(اس حدیث کی روایت ابوداؤد و نسائی، دارقطنی اور ابن ماجہ نے کی ہے اور دارقطنی نے کہا ہے
کہ اس حدیث کی سند حسن ہے اور عبدالحق اور بیہقی نے بھی اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔)
ابوعمیر بن انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میرے کئی چچا جو
انصار تھے انہوں نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ (ایک سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں
مدینہ منورہ میں) ہلال تیسویں شب کو نظر نہ آیا، اس لئے سب کے سب صحابہ روزہ کی نیت کر لئے
(سمجھے کہ یہ رمضان کی تیسویں تاریخ ہے) ایک جماعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت
میں زوال کے بعد آ کر گواہی دی کہ انہوں نے گزشتہ شب جس کو صحابہ رمضان کی تیسویں سمجھ رہے
تھے۔ ہلال کو بچشم خود دیکھا ہے اس وجہ سے سب لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حکم دے کہ
افطار کر لیں (روزہ پورا نہ کریں آج عیدالفطر کا دن ہے لاعلمی سے روزہ رکھ لیا گیا ہے، عیدالفطر کے
دن روزہ جائز نہیں ہے) یہ ارشاد سن کر سب صحابہ اسی وقت روزہ توڑ دئے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم دوسرے دن سب کو لے کر عیدگاہ نکلے اور نماز عیدالفطر پڑھائے۔
(اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (2)
Note 2
(2) The statement: "Hasten the Eid al-Adha prayer...." It is preferable to hasten the Eid al-Adha prayer and delay the Eid al-Fitr prayer. This is mentioned in Al-Khulasah. It is stated in Al-‘Alamgiri.
Note 2
(۲) قوله : إن عجل الأضحى إلخ الأفضل أن يعجل الأضحى ويؤخر الفطر . كذا في الخلاصة». قاله في العالمگيري».