اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2188
ابوعمیر بن انس رضی اللہ عنہ کے کئی چچا تھے اور وہ سب کے سب صحابی ہیں ان
سے ابوعمیر روایت کرتے ہیں کہ ایک سال مدینہ منورہ میں رمضان شریف کی تیسویں شب کو ہلال نظر
نہ آیا۔ اس لئے سب صحابہ روزہ رکھ لئے (زوال کے بعد) ایک قافلہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
خدمت میں آیا جو اونٹوں پر سوار تھے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے گواہی دی
کہ ہم تیسویں شب کو ہلال دیکھ کر آ رہے ہیں (اس سے معلوم ہوا کہ رمضان المبارک 29 دن میں ہی
ختم ہو گئے ہیں آج رمضان کی تیسویں نہیں ہے بلکہ شوال کی پہلی ہے۔ قافلہ کے سب لوگ رویت
ہلال کی گواہی دینے کی وجہ سے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب لوگوں کو حکم دئے کہ سب افطار
کر لیں (کہ ان کا روزہ لاعلمی سے عید کے دن واقع ہوا ہے جو ناجائز ہے، عید کی نماز کا وقت زوال
تک ہی ہے، زوال کے بعد عید کی نماز نہیں ہو سکتی، اس لئے آج عید کی نماز نہ پڑھیں) کل صبح سب
کے سب عیدگاہ میں آ جائیں (آج کے بدلہ کل عید کی نماز ادا کی جائے گی۔ اگر کبھی ایسا اتفاق ہو کہ
دوسرے دن بھی عیدالفطر کی نماز نہ پڑھ سکیں تو تیسرے دن عیدالفطر کی نماز نہیں پڑھنا چاہئے،
عیدالفطر پڑھنے کا وقت نہ رہا۔ ہاں عید اضحیٰ کسی وجہ سے دوسرے دن نہ پڑھ سکیں تو تیسرے دن بھی
عیدالاضحیٰ پڑھ سکتے ہیں)۔
(اس حدیث کی روایت ابوداؤد و نسائی، دارقطنی اور ابن ماجہ نے کی ہے اور دارقطنی نے کہا ہے
کہ اس حدیث کی سند حسن ہے اور عبدالحق اور بیہقی نے بھی اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 1157 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sunan Ibn Majah 1653 (unverified) 95% confidence
- Candidate: Sunan al-Nasa'i 1557 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.