مقداد بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: وہ فرماتے ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ کسی شخص نے کبھی کوئی کھانا اس کھانے سے بہتر نہیں
کھایا جو اس کے اپنے ہاتھ کی محنت سے کمایا ہوا ہو (یعنی ذاتی کسب اور محنت سے جو روزی حاصل کی
جاتی ہے وہ سب سے بہتر اور پاک ہوتی ہے) اور اللہ کے نبی حضرت داؤد علی نبینا وعلیہ الصلاۃ و
السلام اپنے ہاتھوں کی محنت سے کما کر کھاتے تھے۔ (یعنی زرہ بناتے اور اس کو فروخت کر کے روزی
پیدا کرتے)۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
And the Words of Allah Almighty: "Eat from the good things and do righteous deeds." (Al-Mu'minun 23:51)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 2072 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
From the labor of his hands
(1) The statement: "From the labor of his hands" – The best means of earning are:
Jihad (highest),
Trade
Agriculture
Craftsmanship
Some scholars consider trade superior to farming, but the majority hold that agriculture is better due to its widespread benefit for humanity and animals alike. This is mentioned in Al-Ikhtiyar and Al-Wajeez by Al-Kurdi, as cited in Al-'Alamgiriyyah. Imam Nawawi stated that the hadith in Bukhari clearly favors farming and craftsmanship since they involve manual labor, though farming is superior due to its universal benefit. ('Umdat Al-Qari)
Note 1
قوله
(۱)قوله: من عمل يديه وأفضل أسباب الكسب الجهاد، ثم التجارة، ثم الزراعة، ثم الصناعة. كذا في الاختيار شرحالمختار»، والتجارة أفضل من الزراعة عند البعض، والأكثر على أن الزراعة أفضل. كذا في الوجيز» للكردري. قاله في العالمگيرية». وقال النووي: وحديث البخاري صريح في ترجيح الزراعة والصنعة؛ لكونها عمل يده، لكن الزراعة أفضلهما؛ لعموم النفع بها للآدمي وغيره عموم الحاجة إليها، كما صرح به في «عمدة القاري».
Note 1
ف: واضح ہو کہ روزی اور معاش کے ذرائع میں سب سے بہتر ذریعہ جہاد ہے جس کے ذریعہ مالِ غنیمت
حاصل ہوتا ہے جو سب سے بہتر کمائی ہے۔ اس کے بعد تجارت، پھر زراعت اور اس کے بعد صنعت و حرفت کے ذریعہ
مال کا کمانا ہے۔ ”الاختیار شرح المختار“ میں مذکور ہے۔ عالمگیریہ میں لکھا ہے کہ اکثر ائمہ کے پاس زراعت کو تجارت پر
فضیلت ہے، اور امام نووی رحمۃ اللہ نے کہا ہے کہ صدر کی حدیث سے زراعت اور صنعت و حرفت دونوں کو دیگر ذرائع
معاش پر فضیلت حاصل ہے اس لئے کہ ان دونوں میں ہاتھ کی کمائی کو دخل ہے البتہ ان دونوں میں بھی زراعت صنعت
و حرفت سے افضل ہے اس لئے کہ زراعت کا نفع عام ہوتا ہے اور ساری مخلوق غلہ کی محتاج ہوتی ہے جیسا کہ عمدۃ القاری
میں صراحت کی گئی ہے۔
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: وہ فرماتے ہیں کہ:۔ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ کونسی کمائی سب میں پاکیزہ ہے۔ تو حضور صلی اللہ علیہ و
آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا (وہ کمائی) جس کو انسان اپنے ہاتھ سے کما کر کھائے (جیسے زراعت،
صنعت اور کتابت وغیرہ) اور ایسی تجارت جو (شریعت میں) مقبول ہو (یعنی وہ تجارت جو دھوکہ
اور خیانت سے پاک ہو)۔ اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: کہ ان سے قرآن مجید کی کتابت پر
اُجرت لینے کے بارے میں دریافت کیا گیا (کہ کیا یہ جائز ہے؟) تو اُنھوں نے فرمایا (کتابتِ
قرآن پر اُجرت لینے میں) کوئی حرج نہیں اس لئے کہ کاتبین تو (حقیقت میں) الفاظ کی صورت
گری کرتے ہیں اور اس طرح سے وہ اپنے ہاتھ کی کمائی کھاتے ہیں۔ اس کی روایت ”رزین“ نے
کی ہے۔
(1) The statement: "He was asked about wages for copying the Qur’an" – The ruling is that any work not exclusively tied to worship is permissible if it is a defined task. However, the Prophet (ﷺ) advised: "Recite the Qur’an but do not use it as a means of earning." (Narrated by 'Uthman ibn Abi Al-'As). Some scholars permit hiring teachers for Qur’an instruction due to the decline in religious commitment, as neglecting it may lead to the loss of Qur’anic preservation. (Al-Hidayah and Al-'Alamgiriyyah).
Note 1
قوله
(۱) قوله : سئل عن أجرة كتابة المُصْحَف إلخ والأصل أن كل ما لا يتعين على الأجير؛ لأنه استئجار على عمل معلوم غير متعين عليه، فيجوز، ولنا قوله : اقرؤوا القرآن، ولا تأكلوا به في آخر ما عهد رسول الله ﷺ إلى عثمان ابن أبي العاص لله، وإن اتخذت مؤذنا فلا تأخذ على الأذان أجرا، ولأن القربة متى حصلت وقعت عن العامل، ولهذا تعتبر أهليته، فلا يجوز له أخذا الأجر من غيره، كما في الصوم والصلاة وبعض مشايخنا استحسنوا الاستئجار على تعليم القرآن؛ لأنه ظهر التواني في الأمور الدينية، ففي الامتناع تضييع حفظ القرآن، وعليه الفتوى. قاله في «الهداية»، ولذلك قال في العالمگيرية»: ولو استأجر رجلا ليكتب له مصحفا أو شعرا بين الخط جاز، وذكر الشيخ الإمام المعروف بخواهر زاده: أنه لا يكره ذلك. كذا في فتاوى قاضي خان».
Note 1
ف: ہدایہ میں مذکور ہے کہ ہمارے بعض مشائخ نے تعلیم قرآن پر اُجرت لینے کو مستحسن قرار دیا ہے اس لئے
کہ اس زمانہ میں دینی امور میں تساہل آ گیا ہے اس وجہ سے اگر تعلیم قرآن پر اُجرت لینے سے منع کر دیا جائے تو حفظ
قرآن رک جائے گا اور اسی پر فتویٰ ہے اور عالمگیریہ میں لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی آدمی کو قرآن لکھنے کے لئے مامور
کرے تو یہ جائز ہے۔ اور شیخ امام خواہر زادہ رحمة اللہ نے فرمایا ہے کہ اس میں کراہت نہیں جیسا کہ ”فتاویٰ قاضی خان“
میں مذکور ہے۔
ابوبکر ابن ابی مریم رحمة اللہ علیہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ مقدام بن
کرب رضی اللہ عنہ کی ایک باندی تھی جو (ان کے گھر کے جانوروں کا) دودھ بیچا کرتی تھی اور
حضرت مقدام اس کی قیمت لے لیا کرتے تھے۔ آپ سے کہا گیا بڑی حیرت کی بات ہے کہ لونڈی
تو دودھ بیچتی ہے اور (آپ باوجود یہ کہ صاحب استطاعت ہیں دودھ فروخت کرواتے ہیں اور اس
کی) قیمت لے لیتے ہیں (حالانکہ آپ کے لئے مناسب تو یہ تھا کہ آپ دودھ کو فقراء، احباب اور
متعلقین پر خرچ کر دیتے) حضرت مقدام نے فرمایا: ہاں! ہاں! (میں دودھ بیچتا ہوں اور اس کی
قیمت بھی لیتا ہوں) اور اس میں کوئی حرج (اور گناہ) نہیں سمجھتا اس لئے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
کو یہ ارشاد فرماتے سنا ہے کہ لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جب کہ ان کو دینار اور درہم کے سوا کوئی
اور چیز فائدہ نہ دے گی۔ اس روایت کو امام احمد نے بیان کیا ہے۔
نافع رحمۃ اللہ سے روایت ہے: وہ فرماتے ہیں کہ میں (اپنے تجارتی قافلوں
کو) ملک شام اور مصر کی طرف بھیجا کرتا تھا۔ پھر میرا ارادہ ہوا کہ (اب آئندہ تجارتی قافلہ کو) عراق
کی طرف بھیجوں (مشورہ کے لئے) ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت اقدس میں
حاضر ہوا اور عرض کیا ام المؤمنین! میں اب تک شام (اور مصر) کی طرف (تجارتی قافلہ) بھیجا کرتا
تھا اب ارادہ ہے کہ عراق کی طرف قافلہ بھیجا کروں (یہ سن کر) ام المؤمنین نے فرمایا کہ تم اپنی پچھلی
تجارت کے سلسلہ کو کیوں بدل رہے ہو (جب کہ اس میں نفع ہے) سنو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ تمہارے رزق کا کوئی سامان کر دے تو تم اس کو نہ چھوڑو جب
تک کہ اس میں کوئی نقصان یا تغیر واقع نہ ہو جائے۔ اس کی روایت امام احمد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Ibn Majah 2148 (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف سے دو فائدے حاصل ہوتے ہیں ایک یہ کہ انسان اپنے موجودہ ذریعہ معاش کو بلا کسی
معقول سبب کے موہوم فائدے کی امید پر ترک نہ کرے اور دوسرے یہ کہ جمے ہوئے کاروبار کو چھوڑ کر لالچ اور طمع کی
خاطر ایسے کاروبار کا ارادہ نہ کرے جس میں اس کو تجربہ نہ ہو اور اس کا فائدہ یقینی نہ ہو۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: وہ فرماتے ہیں کہ رسول ﷺ ارشاد
فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پاک ہیں اور پاک (یعنی حلال) چیزوں ہی کو قبول فرماتے ہیں اور اللہ
تعالیٰ نے مسلمانوں کو انہی چیزوں کا حکم دیا ہے جن کا حکم اپنے انبیاء اور رسولوں کو دیا ہے۔ چنانچہ
(اپنے کلام پاک میں) ارشاد فرمایا: ”اے میرے رسولو! پاک (یعنی حلال) چیزوں کو کھاؤ اور نیک
کام کرو“ اور اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ”اے ایمان والو! پاک یعنی حلال چیزوں کو کھاؤ جن کو
ہم نے تمہیں دیا ہے۔“ پھر حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ آدمی (عبادتوں یعنی حج اور جہاد کے لئے)
پراگندہ بال اور غبار آلود حال میں طویل سفر کرتا ہے اور آسمان کی طرف ہاتھوں کو اٹھا کر فریاد کرتا ہے
(اور پکارتا ہے) اے میرے پروردگار! اے میرے پروردگار! حالانکہ اس کا کھانا حرام ہے، اس کا
پینا حرام ہے، اور لباس حرام ہے اور اس کی پرورش بھی حرام (مال سے) ہوئی ہے تو ایسے شخص کی
دعا کب اور کیسے قبول ہوگی۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: صاحب مرقات رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ بارگاہ خداوندی میں دعا کی قبولیت کے لئے دو بازو درکار
ہیں ایک اکل حلال دوسرے صدق مقال یعنی حلال کی روزی کھانا اور سچ بولنا اور اشعۃ اللمعات میں لکھا ہے کہ اگر کسی
شخص کی پرورش حرام روزی سے ہوئی لیکن اب حلال روزی کھا رہا ہے تو بھی اس کی دعا قبول نہ ہوگی جب تک صدق
دل سے توبہ نہ کرے اور آئندہ کے لئے حلال خوری کا سچا عہد نہ کرلے۔ اس وقت اس کی دعا قبول ہوسکتی ہے۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ رسول اللہ ﷺ سے روایت
فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ جو بندہ مال حرام کمائے اور اس میں سے خیرات
کرے اور اس سے وہ خیرات قبول کرلی جائے (ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا) پھر وہ شخص اس (مال
حرام) میں سے (اپنی ذات یا اہل و عیال پر) خرچ کرے اور اس میں برکت دی جائے (ایسا ہرگز
نہیں ہوسکتا یعنی مال حرام کی نہ تو خیرات قبول ہوتی ہے اور نہ اس میں برکت دی جاتی ہے یا) پھر وہ
شخص (اپنی موت کے بعد اس مال حرام کو) اپنے بعد (وارثوں کے لئے) چھوڑ جائے تو وہ مال اس
کے لئے دوزخ کا توشہ ہی ہوگا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ برائی کو برائی کے ذریعہ دور نہیں فرماتے (یعنی
مال حرام سے گناہوں کو نہیں مٹاتے ہیں) بلکہ برائی کو بھلائی کے ذریعہ دور کرتے ہیں۔ (یعنی پاک
مال کی خیرات سے گناہ مٹتے ہیں) اس لئے کہ ناپاک مال ناپاکی کو نہیں مٹاتا۔ اس کی روایت امام
احمد نے کی ہے اور شرح السنہ میں بھی اسی طرح مروی ہے۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: وہ فرماتے ہیں کہ (مثلاً) جو کوئی شخص دس
درہم کا ایک کپڑا خریدے اور ان میں ایک درہم حرام مال کا ہو تو اللہ تعالیٰ اس شخص کی نماز اس وقت
تک قبول نہیں فرمائیں گے جب تک کہ وہ کپڑا اس کے جسم پر ہو (یہ حدیث سنا کر) حضرت ابن عمرؓ
نے اپنے دونوں کانوں میں اپنی انگلیاں داخل کر دیں اور فرمایا کہ میرے یہ دونوں کان بہرے
ہو جائیں اگر میں نے یہ الفاظ رسول اللہ ﷺ سے نہ سنے ہوں!۔ اس کی روایت امام احمد نے کی
ہے اور بیہقی نے اس کی روایت شعب الایمان میں کی ہے۔
Candidate: Musnad Ahmad 5732 (unverified) 30% confidence
Mishkat (candidate) 2771
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
Allah will not accept his prayers
(1) The statement: "Allah will not accept his prayers" means that the prayer is valid but unrewarded, similar to praying in usurped land. This is because Allah says: "Allah only accepts from the righteous." (Al-Ma'idah 5:27) Reward depends on acceptance, while validity depends on fulfilling conditions. Piety is not a condition for the validity of worship according to Ahlus-Sunnah. (Al-Mirqat)
Note 1
قوله
(۱) قوله : لم يقبل الله تعالى له صلاة المعنى لم يكتب الله له صلاة مقبولة مع كونها مجزئة مسقطة للقضاء كالصلاة في الدار المغصوبة، وهو الأظهر؛ لقوله تعالى: ﴿إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ ﴾ (المائدة: (۲۷) والثواب إنما يترتب على القبول، كما أن الصحة مترتبة على حصول الشرائط والأركان والتقوى ليست بشرط لصحة الطاعة عند أهل السنة والجماعة. كذا في «المرقاة».
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ
ارشاد فرماتے ہیں کہ جس کی پرورش حرام مال سے ہوئی ہو (وہ حرام خوری کی سزا پائے بغیر) جنت
میں داخل نہ ہوگا اور جو گوشت حرام مال سے پرورش ہوا ہو وہ دوزخ ہی کے لائق ہے۔ اس کی
روایت امام احمد اور دارمی نے کی ہے اور بیہقی نے شعب الایمان میں اس کی روایت کی ہے۔
ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ
ایسا جسم جو حرام مال سے پرورش پایا ہو (نیک لوگوں کے ساتھ وہلہ اول میں) جنت میں داخل نہ
ہوگا۔
اس کی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ حلال روزی کا کمانا (ایسا ہی) فرض ہے (جیسا کہ نماز، روزہ وغیرہ ایمان
لانے کے) بعد فرض ہیں (اس لئے کہ حلال روزی پرہیزگاری کی اصل اور تقویٰ کی بنیاد ہے جس کی
فکر مسلمان کو آخری سانس تک ہونی چاہئے)۔ اس کی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ انسان کو اس بات کی پرواہ ہی نہ ہوگی
کہ اس کو جو مال ملا ہے وہ حلال ہے یا حرام (اور نہ حلال و حرام کی اس کو تمیز ہوگی)۔ اس کی روایت
بخاری نے کی ہے۔
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ حلال چیزیں بھی ظاہر ہیں اور حرام چیزیں بھی ظاہر ہیں
اور ان دونوں کے درمیان میں چند مشتبہ چیزیں بھی ہیں۔ (جو حلال اور حرام دونوں سے میل رکھتی
ہیں) ان کو اکثر لوگ (صلاحیت کی کمی کی وجہ سے) نہیں جانتے ہیں تو جو شخص ایسی مشتبہ چیزوں سے
دور رہا تو اس نے اپنے دین اور اپنی آبرو کو بچا لیا (کہ اس کی دینداری بھی کامل رہی اور لوگوں کی
طعنہ زنی سے بھی بچ رہا) لیکن جو شخص مشتبہ چیزوں میں مبتلا ہوگیا تو وہ بالآخر حرام میں گرفتار
ہو جائے گا (اس کی مثال ایک) چرواہے جیسی ہے جو (اپنے جانوروں کو) کھیت کی باڑ کے پاس
چراتا ہو تو ہمیشہ یہ خطرہ لگا رہتا ہے کہ (اس کا کوئی جانور) کھیت میں چلا جائے، یاد رکھو کہ ہر
بادشاہ (کی مملکت) کے کچھ حدود ہوتے ہیں اور سن لو! کہ اللہ تعالیٰ کے حدود اس کے محارم ہیں
(یعنی وہ چیزیں جو حرام ہیں اور جن کے کرنے سے اللہ تعالیٰ نے بندوں کو روکا ہے مثلاً قتل ناحق،
شراب، حرام کاری، سود، جوا، چوری، زنا، دغا بازی اور جھوٹ وغیرہ) اور یہ بھی یاد رکھو کہ انسان کے
جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے جب تک وہ ٹھیک رہتا ہے سارا بدن ٹھیک رہتا ہے اور جب وہ
خراب ہو جاتا ہے تو سارا بدن بگڑ جاتا ہے اور وہ ہے ”دل“!۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Between them are doubtful matters
(1) The statement: "Between them are doubtful matters" – This ruling is based on precaution. However, the default principle in Islamic law is permissibility (ibahah), the view of the majority of Hanafis and Shafi'is. Evidence for this is found in Musallam Ath-Thubut and At-Tawdih. Scholars differ on doubtful matters: some say they are prohibited (rejected), others say they require abstention (similar to pre-revelation rulings). The permissibility principle is established by Quranic texts, hadiths, and scholarly consensus, as elaborated in Rad Al-Muhtar. (Tansiq An-Nizam)
Note 1
قوله
(۱) قوله : وبينهما مشتبهات : اعلم أن هذا الحكم بناءً على الأخذ بالتقوى والأحوط، وإلا فقد ثبت بالأدلة الشرعية أن الأصل في الأشياء الإباحة، وهو مذهب جمهور الحنفية والشافعية، كما في مسلم الثبوت وقد استدل عليه في التوضيح، وتمسك بها في «التوضيح» و «التلويح» في عدة مواضع ، نقل القسطلاني عن «فتح الباري»، واختلف في حكم المشتبهات، فقيل: التحريم وهو مردود، وقيل : الوقف، وهو كالخلاف فيما قبل الشرع، انتهى. وقد أثبت أصل الإباحة الشيخ عبد الحق وعلي القاري في شرح المشكاة وجمهور الأصولين والفقهاء وشراح الحديث من النصوص القرآنية والأخبار والآثار الكثيرة، وحقق الإباحة العلامة الشامي في «رد المحتار» شرح «الدر المختار». كذا في تنسيق النظام في مسند الإمام.
Note 1
ف (1) اس حدیث شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: أَلَا وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ
مَحَارِمُهُ: خبردار! کہ اللہ تعالیٰ کے حدود اس کے محرمات ہیں۔ اس کی توضیح میں شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ
نے اپنے شیخ کے حوالہ سے اشعۃ اللمعات، میں لکھا ہے کہ اس سلسلہ میں اعمال کے مراتب کی ایک ترتیب اس طرح
قائم فرمائی ہے: (1) ضروری (2) مباح، (3) مکروہ، (4) حرام، (5) کفر۔
اگر انسان اپنی روزی کے سلسلہ میں ضرورت پر اکتفا اور قناعت کرلے تو وہ مباحات میں نہیں پڑتا جن کے بعد
مکروہات کا درجہ ہے، اور اس طرح محرمات کے حدود میں داخل ہونے سے بچ جاتا ہے جن کی حدیں مکروہات سے ملتی
ہیں اور اگر وہ حرص اور لالچ میں آکر مکروہات میں گرفتار ہو جائے تو محرمات میں مبتلا ہو جائے گا جس کے بعد کفر کا درجہ
ہے اللہ تعالیٰ! ہم سب کو اس سے محفوظ رکھے۔ حضرت شاہ عبدالحق رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے شیخ کے اس بیان کے بعد فرمایا
ہے کہ میں نے مومن کے ترقی درجات کیلئے یہ ترتیب قائم کی ہے۔
فرض1، واجب2، سنت3، مستحب4، آداب5 اگر کوئی شخص مستحبات کی حفاظت کرنا چاہتا ہے تو اس کو چاہئے
کہ آداب کی پابندی کرے اور اگر سنت کی حفاظت مطلوب ہے تو مستحبات کو ترک نہ کرے۔ اسی طرح واجبات کی
حفاظت کے لئے سنت کی پابندی کرے اور فرائض پر استقامت کے لئے واجبات کو نہ چھوڑے۔ اس طرح وہ درجۂ
کمال کو پہنچ سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
ف (2) حدیث شریف کے آخری حصہ میں ارشاد نبوی ﷺ ہے کہ دل کی بھلائی پر سارے بدن کی بھلائی کا
انحصار ہے۔ اس بارے میں حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ کے فرمایا ہے کہ جسم کی بھلائی اس بات میں ہے کہ جسم کو
حلال غذا پہنچائی جائے جس سے دل کو صالح خون ملتا ہے اور دل صاف اور منور ہو جاتا ہے اور دل کی نورانیت
سارے اعضاء بدن پر پڑتی ہے اور جسم سے اعمال صالحہ صادر ہوتے ہیں۔ اس کے برخلاف لقمۂ حرام اگر پیٹ میں
جائے تو اس سے فاسد خون پیدا ہوتا ہے اور دل مکدر اور تاریک ہو جاتا ہے اور دل کی ظلمت کا اثر سارے اعضاء بدن پر
پڑتا ہے۔ آنکھ نامحرم پر پڑتی ہے کان غیبت سے لطف اٹھاتے ہیں اور زبان افتراء اور جھوٹ پر چلتی ہے اور ہاتھ پاؤں
برے کاموں کی طرف بڑھتے ہیں اور انسان شیطان کا آلۂ کار بن جاتا ہے نہ اس کو موت کی فکر ہوتی ہے نہ قیامت کا ڈر
ہے۔ صاحب مرقات نے یہ بھی لکھا ہے کہ یہ حدیث اپنے مضامین کے اعتبار سے ان تین احادیث میں شمار ہوتی ہے جن
پر اسلام کا مدار ہے۔ ایک حدیث تو وہ ہے جس میں نیت کی اہمیت کا ذکر ہے : ”إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ“ کہ اعمال کا
مدار نیتوں پر ہے۔
دوسری حدیث میں : ”مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ“۔ (یعنی آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ
فضولیات سے بچتا رہے) اور تیسرے صدر کی یہ حدیث ہے جس میں حلال اور حرام کی اہمیت واضح فرمائی گئی ہے۔
اس لئے مسلمانوں کو چاہئے کہ ان احادیث شریفہ پر عمل کرتے رہیں اور مشتبہات سے بچتے رہیں تاکہ آخرت
کی سرخروئی حاصل کرسکیں۔
امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ میں
نے رسول اللہ ﷺ (سے بغیر کسی واسطہ کے) یہ بات یاد رکھی ہے کہ جو چیز تمہیں شک میں ڈالے
اس کو چھوڑ دو اور ایسی چیز کو اختیار کرو جو تمہیں شک میں نہ ڈالے اس لئے کہ سچائی (دل کے)
اطمینان کے ذریعہ ہے اور جھوٹ شک اور تردد کا سبب ہے۔
اس کی روایت امام احمد، ترمذی اور نسائی نے کی ہے اور دارمی نے حدیث کے صرف پہلے
حصہ کی روایت کی ہے۔
وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (وہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو) حضور ﷺ نے ان سے ارشاد فرمایا: اے
وابصہ! تم تو یہ دریافت کرنے کے لئے آئے ہو کہ نیکی کیا چیز ہے اور گناہ کیا؟ میں عرض کیا جی ہاں
(اسی لئے حاضر خدمت ہوں!) راوی کا بیان ہے کہ (یہ سن کر) آپ نے اپنی انگلیوں کو اکٹھا کیا اور
میرے سینہ پر ان کو مار کر فرمایا اپنے نفس سے پوچھ! اپنے دل سے پوچھ اس جملہ کو آپ نے تین
مرتبہ دہرایا پھر ارشاد فرمایا نیکی وہ ہے جس سے نفس کو اطمینان حاصل ہو اور جس سے دل کو سکون
نصیب ہو اور گناہ وہ ہے جو نفس میں خلش پیدا کرے اور دل میں تردد کا سبب بنے اگرچہ اور لوگ
(اس چیز کے جواز کا) فتویٰ دیں۔ اس کی روایت امام احمد اور دارمی نے کی ہے۔
عطیہ سعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ
ارشاد فرماتے ہیں کہ بندہ اس وقت تک پرہیزگاروں کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ ان
چیزوں کو نہ چھوڑ دے جن میں کوئی برائی نہیں ہے تا کہ وہ اس طرح ان چیزوں سے بچ سکے جن میں
برائی ہے۔
اس کی روایت ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 2451 (unverified) 97% confidence
Candidate: Sunan Ibn Majah 4215 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث کی شرح میں حاشیہ مشکوٰۃ میں لکھا ہے کہ حرام سے بچنے کے لئے مباح کو چھوڑ دینا چاہئے مثلاً
اجنبی عورت سے ضرورۃً بات کر سکتے ہیں مگر بات نہ کرے اس ڈر سے کہ بات کرنا کہیں حرام کاری کا ذریعہ نہ بن جائے
اور اشعۃ اللمعات میں امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ ہم حلال کے دس حصوں میں سے نو
حصوں کو اس اندیشہ سے چھوڑ دیتے ہیں کہ کہیں حرام میں مبتلا نہ ہو جائیں۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتے
ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ایک غلام تھا جو اپنی کمائی میں سے آپ کو کچھ خراج یعنی
مقررہ حصہ دیا کرتا تھا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس کو لے لیا کرتے ایک دن اس نے
کوئی کھانے کی چیز پیش کی آپ نے اس کو کھا لیا اس غلام نے عرض کیا آپ کو کچھ معلوم ہے یہ چیز
کیا تھی (اور میں نے کہاں سے لائی تھی؟) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تو ہی بتا کہ وہ کیا
چیز ہے اس نے کہا کہ میں زمانہ جاہلیت میں (جب کہ کافر تھا) غیب کی باتیں بتاتا (اور اس پر
معاوضہ بھی لیتا) اور میں اس میں ماہر بھی نہیں تھا، تو ایک شخص کو میں نے غیب کی باتیں بتائیں اور
میں نے (عدم مہارت کی وجہ سے) اس کو دھوکہ دیا آج (اتفاق سے) اس سے ملاقات ہوگئی اور
اس نے (معاوضہ میں) یہ چیز دی اور میں نے آپ کی خدمت میں پیش کیا اور آپ نے اس میں
سے کچھ تناول فرما لیا۔ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ (یہ سن کر) حضرت ابوبکر
صدیق رضی اللہ عنہ نے (حلق میں) انگلیاں ڈالیں اور جو کچھ پیٹ میں تھا اس کو قے کر دیا (اور یہ
بھی فرمایا اے اللہ! میرے بس میں جو بھی تھا میں نے اس کو نکال دیا اور جو رہ گیا ہے اس کو معاف
فرما دے) اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 3842 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
He vomited everything
(1) The statement: "He vomited everything" - Ibn al-Malik deduced that if one eats haram knowingly or unknowingly then realizes it, they must vomit it immediately. Ali al-Qari considered this an act of extreme piety (wara'). [Al-Mirqat]
Note 1
قوله
(۱) قوله: فقاء كل شيء في بطنه : قال ابن الملك: أخذ منه الشافعي بالله أن من أكل الحرام، وهو عالم به أو جاهل، ثم علم لزمه أن يتقيأ جميع ما أكله فورًا، وقد جعله علي القاري من باب الورع، «المرقاة» ملتقط منه.
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بلی اور
(وحشی) کتے کی قیمت لینے سے منع فرمایا ہے البتہ شکاری کتے کی قیمت (لی جا سکتی ہے)۔ اس کی
روایت امام نسائی نے کی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (8)
Note 1
Prohibited the price of cats
(1) "Prohibited the price of cats" - This is a discouragement (tanzih), not strict prohibition. Most scholars permit selling cats. [Al-Luma'at]
Note 2
And dogs
(2) "And dogs" - This supports Abu Hanifa's view permitting dog sales as the prohibition is interpreted as dislike (karahah) rather than full prohibition (haram). [Al-Mirqat]
Note 3
Except hunting dogs
(3) "Except hunting dogs" - This exception confirms the hadith's authenticity. The general prohibition is understood to apply to wild/untrainable dogs. [Al-Jawhar an-Naqi]
Note 4
Good chain
(4) "Good chain" - As verified in Al-Jawhar an-Naqi
Note 1
قوله
(۱) قوله: نهى عن ثمن السنور : النهي عن ثمن السنور تنزيهي، والجمهور على جواز بيعه. قاله في «اللمعات»، وقال في المرقاة» عن ابن ملك وكره بعض بيع السنور الأهلي والوحشي بظاهر الحديث، وحمله الأكثرون على الوحشي منها للعجز عن تسليمه، فإنه لو ربط لا ينتفع به؛ لأن نفعه صيد الفارة، ولو لم يربط لربما ينفر فيضيع المال المصروف في ثمنه.
Note 2
قوله
(۲) قوله : والكلب والحديث يؤيد مذهب أبي حنيفة وأصحابه في تجويزهم بيع الكلب؛ لأن المناسبة بين المتعاطفين في النهي توجب ذلك فهو مكروه لا حرام، وإطلاق الحديث عليه باعتبار حصوله بأدنى المكاسب. كذا في «المرقاة».
Note 3
قوله
(۳)قوله: إلا كلب صيد فظهر أن الحديث بهذا الاستثناء صحيح، والاستثناء زيادة على أحاديث النهي عن ثمن الكلب، وزيادة الثقة مقبولة، فوجب قبولها. كذا في الجوهر النقي، واعترض بأن الدليل أخص من المدعى، فإن المدعى جواز بيع الكلاب مطلقا، والدليل يدلُّ على على جواز بيع كلب الصيد والماشية لا غير، وأجيب بأن ذكره لإبطال شمول العدم الذي هو مدعى الخصم، وأما إثبات المدعى فثابت بحديث ذكره في «الأسرار» برواية عبد الله ابن عمرو ابن العاص اللهم أنه قال: قضى رسول الله الله في كلب بأربعين درهما من غير تخصيصه بنوع. قاله في العناية»، ولكن في البحر» عن «المبسوط» أنه لا يجوز بيع الكلب العقور الذي لا يقبل التعليم في الصحيح من المذهب، كما في رد المحتار) وما روي من النهي عن ثمن الكلب في الروايات الصحاح فهو محمول على النسخ كان ذلك في الابتداء حين أمر بقتل الكلاب، أو محمول على التنزيه، أو على إرادة الكلب العقور وغير المعلم، أو يخص العام بهذا المخصص. كذا في تنسيق النظام في مسند الإمام».
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے (وحشی) کتے
کی قیمت لینے سے منع فرمایا ہے البتہ (شکار کے لئے) سدھائے ہوئے کتے کی قیمت لی جا سکتی
ہے۔ اس کی روایت امام احمد اور نسائی نے کی ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ
نے شکاری کتے کی قیمت لینے کی اجازت دی ہے۔ اس کی روایت ہمارے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے
کی ہے۔ اور اس کی سند جید ہے۔
(1) "Permitted" - This indicates full permissibility. Initially, all dogs were ordered killed, making their sale impermissible. Later, Allah permitted keeping certain dogs (as in Quran 5:4), establishing their lawful sale like donkeys (whose meat is prohibited but usage permitted). [Sharh Ma'ani al-Athar]
(2) "Strong chain" - As noted in Fath al-Qadir and 'Uqud al-Jawahir
Note 1
قوله
(۱) قوله: رخص إلخ : فلفظ الرخصة دال على الاستباحة. كذا في عقود الجواهر المنيفة وتحقيقه: أن الكلاب قد كان حكمها أن تقتل كلها، ولا يحل لأحد إمساك شيء منها، فلم يكن بيعها حينئذ بجائز، ولا ثمنها بحلال فما كان الانتفاع به حراما وإمساكه حراما، فثمنه حرام، فبعد ذلك قد نسخ، فأبيح الانتفاع بالكلاب. فلما ثبتت الإباحة بعد النهي، وأباح الله عَزَّ وَجَلَّ في كتابه ما أباح بقوله: ﴿وَمَا عَلَّمْتُم مِّنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ) (المائدة: ٤) اعتبرنا حكم ما ينتفع به، هل يجوز بيعه ويحل ثمنه أم لا؟ فرأينا الحمار الأهلي قد نهى عن أكله وأبيح كسبه والانتفاع به، فكان بيعه إذ كان هذا حكمه حلالا وثمنه حلالا . قاله في شرح معاني الآثار».
Note 2
قوله
(۲) قوله: هذا سند جيد إلخ : كذا في فتح القدير و عقود الجواهر المنيفة».
عَمرو بن شعیب اپنے والد کے واسطہ سے اپنے دادا عبداللہ بن عَمرو رضی اللہ
عنہم سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے دادا نے ایک شکاری کتے کے قتل پر (کتے کے مالک کو قاتل
سے) چالیس درہم (معاوضہ میں) دلوائے اور پالتو کتے (کے معاوضہ میں) ایک بکرا (دلانے کا)
فیصلہ فرمایا۔ اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔
زُہری رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب سدھائے ہوئے
کتے کو ہلاک کر دیا جائے تو اس کی قیمت مقرر کی جائے اور قاتل پر تاوان لگایا جائے۔ اس کی
روایت امام طحاوی نے کی ہے۔
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے شکاری
کتے (کی قیمت کے معاوضہ) میں چالیس درہم کا فیصلہ فرمایا۔
اس کی روایت امام بخاری نے اپنی تاریخ میں کی ہے اور سعید بن منصور اور بیہقی نے بھی اس
کی روایت کی ہے۔
اور سعید بن منصور اور بیہقی دونوں کی ایک اور روایت میں ہے۔
کہ رسول اللہ ﷺ نے کتے کی قیمت، زنا کی کمائی اور کاہن (آئندہ کی باتوں کا بتانے والا)
کی اجرت سے منع فرمایا ہے۔
اور بخاری کی ایک روایت میں اس طرح ہے کہ نبی کریم ﷺ نے خون کی
قیمت (یعنی اس کی خرید و فروخت) کتے کی قیمت زناکار عورت کی کمائی سے منع فرمایا ہے
اور حضور ﷺ نے سود کے لینے والے، سود کے دینے والے اور جسم گودنے والی عورت اور گدوانے
والی عورت اور تصویر بنانے والے پر لعنت فرمائی ہے۔
اور شرح السنہ میں یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مغنیہ یعنی گانے کا
پیشہ کرنے والی عورت کی کمائی سے بھی منع فرمایا ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 2238 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sahih al-Bukhari 2237 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (7)
Note 1
Prohibited the price of dogs
(1) "Prohibited the price of dogs" - This is a discouragement, not strict prohibition, due to the lowly nature of such trade. [Al-Mirqat]
(2) "Earnings of prostitutes and fortune-tellers" - These are among the foulest earnings, including tattoos and conditional payments to singers. [Ad-Durr al-Mukhtar]
(3) "Price of blood" - Selling blood is prohibited as it is impure. Some interpret this as discouraging payments to bloodletters. [Al-Mirqat]
(4) "Image-makers" - This refers specifically to images of living creatures, as idols were made in such forms. [Al-Mirqat]
Note 1
قوله
(۱) قوله : نهى عن ثمن الكلب النهي عنه تنزيهي فهو مكروه لا حرام عندنا لدناءته، أخذته من «المرقاة».
Note 2
قوله
(۲) قوله: مهر البغي وحلوان الكاهن : أي ما خبث من المكاسب، فلزم منه العار ما يأخذه كاهن وواشمة والمغنية على الغناء، ومهر البغي وأجر الحجام بشرط، الدر المختار و رد المحتار» ملتقط منهما.
Note 3
قوله
(۳) قوله : نهى عن ثمن الدم في شرح السنة: بيع الدم لا يجوز؛ لأنه نجس، وحمل بعضهم نهيه عن ثمن الدم على أجر الحجام، وجعله نهي تنزيه. كذا في «المرقاة».
Note 4
قوله
(٤) قوله: المصور : أراد به الذي يصور صورة الحيوان دون من يصور صورة الأشجار والنبات؛ لأن الأصنام التي كانت تعبد كانت على صور الحيوانات. كذا في «المرقاة».
Note 1
اس حدیث کے راویوں میں اسماعیل ہیں جو جساس کے بیٹے ہیں جن کو ابن حبان نے ثقات
میں ذکر کیا ہے۔
Note 2
ف(1) واضح ہو کہ جن احادیث شریفہ میں کتوں کی قیمت لینے سے منع فرمایا گیا ہے یہ غیر شکاری کتے ہیں
چنانچہ شکاری کتوں کی خرید و فروخت کے جواز کے بارے میں صدر میں کئی احادیث بیان کی گئی ہیں جیسا کہ ابو جعفر اتقی
میں مذکور ہے اور ”تنسیق النظام فی مسند الامام“ میں لکھا ہے کہ کتوں کی قیمت کی ممانعت اس زمانہ کا واقعہ ہے جب کہ
رسول اللہ ﷺ نے عام طور پر کتوں کو ہلاک کرنے کا حکم دیا تھا۔ پھر جب شکاری کتوں کے بارے میں آیت نازل ہوئی
تو یہ حکم منسوخ ہوگیا اور کتوں سے فائدہ اٹھانے کی اجازت مل گئی۔
یہ شرح معانی الآثار میں مذکور ہے۔
ف(2) حدیث شریف میں مصور پر لعنت کا جو ذکر ہے اس سے وہ مصور مراد ہے جو جاندار کی تصویر اتارے
البتہ درخت اور نباتات کی تصویر اتارنے والے سے یہ لعنت متعلق نہ ہوگی، جیسا کہ مرقات میں مذکور ہے۔
محیصہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سینگھی
لگانے (فصد کھولنا) کی اجرت (کے لینے اور اس کے اپنے استعمال کرنے) کی اجازت طلب کی تو
حضور ﷺ نے ان کو منع فرمایا لیکن انہوں نے حضور ﷺ سے برابر اس بارے میں کئی بار اجازت
چاہی تو آپ نے فرمایا: (اس کی اجرت تم خود مت کھاؤ) البتہ اس کو اپنے اونٹ کے چارہ کیلئے
استعمال کرواور اپنے غلام کو کھلا دو۔
اس کی روایت امام مالکؒ ترمذی ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 3422 (unverified) 96% confidence
Candidate: Jami al-Tirmidhi 1277 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
He forbade him
(1) "He forbade him" - This prohibition is discouragement (tanzih) to avoid base earnings and encourage noble work. If it were strictly haram, the Prophet (ﷺ) wouldn't permit feeding slaves from it. [Al-Mirqat]
Additional notes from scholars:
The hadith about "a bloodletter's earnings being foul" is either abrogated or refers to moral repugnance rather than legal prohibition.
Conditional payments for bloodletting are disliked (makruh).
The narration from Rafi' ibn Khadij is weaker than Ibn Abbas's permissive narration. [Al-Jawharah and Rad al-Muhtar]
Note 1
قوله
(۱)قوله: فنهاه هذا نهي تنزيه للارتفاع عن دنئ الإكساب وللحث على مكارم الأخلاق ومعالي الأمور، ولو كان حراما لم يفرق فيه بين الحر والعبد، فإنه لا يجوز للسيد أن يُطعم عبده ما لا يحل. كذا في «المرقاة». وقال في رد المحتار»: وحديث النهي وهو ما ذكره صاحب السنن» بإسناده إلى رافع بن خديج أن رسول الله ﷺ قال: كسب الحجام خبيث، وثمن الكلب خبيث، ومهر البغي خبيث، منسوخ، أي بما روي أنه له قال له رجل: إن لي عيالا وغلامًا حجامًا أفأطعم عيالي من كسبه؟ قال: «نعم»، زيلعي، وأجاب الإتقاني بحمل حديث الخبث على الكراهة طبعا من طريق المروءة؛ لما فيه من الخسة والدناءة. قال علي: إنا نقول رواية رافع ليس كابن عباس في الضبط والإتقان والفقه، فيعمل بحديث ابن عباس دونه. وفي «الجوهرة»: وإن شرط الحجام شيئا على الحجامة كره.
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں رسول اللہ ﷺ نے سینگھی کی اجرت کے استعمال سے جو منع فرمایا ہے وہ نہی تنزیہ
ہی ہے اس لئے کہ حضور ﷺ کا مقصد مبارک یہ ہے کہ ہلکے پیشوں کے ذریعہ معاش نہ بنایا جائے اور اگر یہ کمائی حرام
ہوتی تو اس کو لینے اور غلام کو کھلانے کی اجازت نہ دیتے اس لئے کہ آقا کو اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ وہ غلاموں کو
حرام مال کھلائے۔ جیسا کہ مرقات میں مذکور ہے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ابوطیبہ نے
رسول اللہ ﷺ کے سینگھی لگائی (یعنی فصد کھولی) تو حضور ﷺ نے (اس کے معاوضہ میں) ان کو
ایک صاع کھجور دینے کا حکم فرمایا اور (بطور سفارش) انکے مالکوں کو یہ حکم دیا کہ ان کے خراج (یعنی
حق غلامی) میں کچھ کمی کردیں۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فتح مکہ کے
سال مکہ معظمہ میں یہ ارشاد فرماتے سنا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے شراب، مردار جانور، خنزیر
اور بتوں کی خرید و فروخت کو حرام قرار دیا ہے۔ (یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ
مردار جانوروں کی چربی کے بارے میں کیا حکم ہوتا ہے؟ کیونکہ وہ کشتیوں (کے تختوں) پر ملی جاتی
ہے اور اس کے چمڑوں کو چکنا کیا جاتا ہے اور لوگ اس سے (گھروں میں) چراغ جلاتے ہیں۔
حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا نہیں (اس سے کسی قسم کا فائدہ اٹھانا جائز نہیں ہے اس لئے کہ وہ) حرام
ہے۔ اس کے بعد پھر آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ یہود کو ہلاک کر دے! کہ اللہ تعالیٰ نے جب مردار
جانور کی چربی کو ان پر حرام فرما دیا تو وہ اس کو پگھلاتے، بیچ دیتے اور اس کی قیمت کو کھا لیتے۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
اور دارقطنی نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ رسول
اللہ ﷺ نے مردار جانور کے گوشت کو حرام قرار دیا ہے البتہ ان کی کھال، بال اور اون (کے استعمال
میں) کوئی حرج نہیں۔
اور دارقطنی ہی نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث اسی طرح
روایت کی ہے، ام المؤمنین فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے سنا ہے آپ
فرمایا کرتے مردار جانور کی کھال کو دباغت دیدی جائے تو (اس کے استعمال میں) کوئی حرج نہیں
اسی طرح مردار جانور کے اون، بال اور سینگوں کو پانی سے دھولیا جائے تو (ان چیزوں کے استعمال
میں بھی) کوئی حرج نہیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 2236 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 1581a (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (6)
Note 1
Dead animals
(1) "Dead animals" - Only their consumption is prohibited, not using their tanned hides - contrary to Malik's view. Hair, horns, bones, and hooves remain pure according to Abu Hanifa and Malik, as they are not "flesh". The Prophet (ﷺ) used an ivory comb (from inedible elephant bone), proving such materials' purity. [At-Tafsirat al-Ahmadiyyah, 'Umdat al-Qari]
(2) "It is forbidden" - The prohibition refers to selling, not necessarily all uses. Quranic verses about dead animals specifically address consumption. [Al-Mirqat]
(3) "No harm in it" - Sahih hadiths clarify that only the meat is prohibited. Other parts are pure if properly cleaned. [Rad al-Muhtar]
Note 1
قوله
(۱) قوله: الميتة: أي يحرم منها أكلها فقط لا الانتفاع بجلدها بعد الدبغ، خلافا لمالك لله في ذلك، ولا الانتفاع بشعرها وقرنها وعظمها وعصبها وحافرها؛ لأن الآية في بيان حرمة الأكل، كما يدلُّ عليه سياقها، وأن ينسب الحرمة إلى الأعيان مجازا، خلافا للشافعي في جميع ذاك، أخذته من «التفسيرات الأحمدية».
Note 2
قوله
(۲) قوله: هو حرام وقال في عمدة القاري واستدل بالحديث من ذهب إلى نجاسة سائر أجزاء الميتة من اللحم والشعر والظفر والجلد والسن، وهو قول الشافعي وأحمد، وذهب أبو حنيفة ومالك إلى أن ما لا تحله الحياة لا ينجس بالموت، كالشعر والظفر والقرن والحافر والعظم؛ لأن النبي كان له مشط من عاج، وهو عظم الفيل، وهو غير مأكول، فدل على طهارة عظمه وما أشبهه، انتهى. فالضمير في هو حرام يعود إلى البيع لا الانتفاع، وآية إنما حرم عليكم الميتة في بيان حرمة الأكل، كما يدلُّ عليه سياقها، التقطته من المرقاة» و«التفسيرات الأحمدية».
Note 3
قوله
(۳)قوله: فلا بأس به وفي الصحيحين: قوله الله في شاة ميمونة : إنما حرم أكلها، وفي رواية: لحمها، فدل على أن ما عدا اللحم لا يحرم، فدخلت الأجزاء المذكورة، وفيها أحاديث أخر صريحة في البحر» وغيره. قاله في رد المحتار».
Note 1
اس حدیث کی سند میں عبدالجبار بن مسلم ہیں جن کو ابن حبان اپنی کتاب ثقات میں بیان کیا
ہے (اس کتاب میں انہیں راویوں کا ذکر ہے جو ثقہ ہیں) اس وجہ سے یہ حدیث حدیث حسن
کے مرتبہ سے نہیں گرتی۔
Note 2
اس حدیث کی سند میں یوسف بن ابی السفر ایک راوی ہیں اور وہ امام اوزاعی رحمہ اللہ کے
کاتب تھے۔
امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے
ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ یہود کو ہلاک کر دے کہ ان پر چربی حرام کر دی گئی تو انہوں نے اس کو پگھلا لیا اور
اس کو بیچا (پھر اس کی قیمت کھالی)۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ نبی
کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ تمہاری بہترین کمائی وہ ہے جس کو تم خود کما کر کھاؤ اور تمہاری اولاد
بھی تمہاری کمائی ہے (یعنی ان کی کمائی بھی تم کھا سکتے ہو)۔ اس کی روایت ترمذی، نسائی اور ابن ما
جہ نے کی ہے۔
اور ابوداود، دارمی کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں آدمی کی بہترین کمائی وہ
ہے جس کو وہ خود کما کر کھائے اور اس کی اولاد بھی اس کی کمائی میں داخل ہیں اور ابوداود نے کہا کہ
حماد بن ابی سلیمان کی روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ (تم اپنی اولاد کی کمائی اس وقت کھاؤ) جب
کہ تم ضرورت مند ہو۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 1358 (unverified) 96% confidence
Candidate: Sunan Ibn Majah 2290 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (4)
Note 1
Your children are part of those earnings
(1) "Your children are part of those earnings" - Since they result from marital relations, parents may benefit from children's earnings if needy - otherwise only with their consent. [Al-Mirqat, Al-Hidayah]
(2) "Such additions" - Supplementary narrations that don't contradict stronger chains are accepted, as explained by Ibn Hajar in Sharh Nukhbat al-Fikr. [Badhl al-Majhud]
Note 1
قوله
(۱) قوله : إن أولادكم من كسبكم: أي من جملته؛ لأنهم حصلوا بواسطة تزوجكم، فيجوز لكم أن تأكلوا من كسب أولادكم إذا كنتم محتاجين، وإلا فلا، إلا أن طابت به أنفسهم، هكذا قرره علماؤنا . قاله في المرقاة» وكذا قال في «الهداية».
Note 2
قوله
(۲) قوله: فمثل هذه الزيادة إلخ : هكذا قال الحافظ في شرح النخبة». قاله في بذل المجهود».
Note 1
ف: واضح ہو کہ اگر والدین محتاج ہوں تو ان کا خرچ اولاد پر واجب ہے جب کہ وہ خود کمانے کے قابل نہ ہوں
اور اگر محتاج نہ ہوں یا عاجز بھی نہ ہوں تب بھی اولاد کے مال سے کھا سکتے ہیں اس لئے کہ اولاد کی کمائی والدین کے لئے
ان کی ذاتی کمائی کی طرح ہے۔ ماخوذ از مرقات و ہدایہ۔
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: "From the labor of his hands" – The best means of earning are: Jihad (highest), Trade Agriculture Craftsmanship Some scholars consider trade superior to farming, but the majority hold that agriculture is better due to its widespread benefit for humanity and animals alike. This is mentioned in Al-Ikhtiyar and Al-Wajeez by Al-Kurdi, as cited in Al-'Alamgiriyyah. Imam Nawawi stated that the hadith in Bukhari clearly favors farming and craftsmanship since they involve manual labor, though farming is superior due to its universal benefit. ('Umdat Al-Qari)
Note 1
(۱)قوله: من عمل يديه وأفضل أسباب الكسب الجهاد، ثم التجارة، ثم الزراعة، ثم الصناعة. كذا في الاختيار شرحالمختار»، والتجارة أفضل من الزراعة عند البعض، والأكثر على أن الزراعة أفضل. كذا في الوجيز» للكردري. قاله في العالمگيرية». وقال النووي: وحديث البخاري صريح في ترجيح الزراعة والصنعة؛ لكونها عمل يده، لكن الزراعة أفضلهما؛ لعموم النفع بها للآدمي وغيره عموم الحاجة إليها، كما صرح به في «عمدة القاري».
Note 1
ف: واضح ہو کہ روزی اور معاش کے ذرائع میں سب سے بہتر ذریعہ جہاد ہے جس کے ذریعہ مالِ غنیمت حاصل ہوتا ہے جو سب سے بہتر کمائی ہے۔ اس کے بعد تجارت، پھر زراعت اور اس کے بعد صنعت و حرفت کے ذریعہ مال کا کمانا ہے۔ ”الاختیار شرح المختار“ میں مذکور ہے۔ عالمگیریہ میں لکھا ہے کہ اکثر ائمہ کے پاس زراعت کو تجارت پر فضیلت ہے، اور امام نووی رحمۃ اللہ نے کہا ہے کہ صدر کی حدیث سے زراعت اور صنعت و حرفت دونوں کو دیگر ذرائع معاش پر فضیلت حاصل ہے اس لئے کہ ان دونوں میں ہاتھ کی کمائی کو دخل ہے البتہ ان دونوں میں بھی زراعت صنعت و حرفت سے افضل ہے اس لئے کہ زراعت کا نفع عام ہوتا ہے اور ساری مخلوق غلہ کی محتاج ہوتی ہے جیسا کہ عمدۃ القاری میں صراحت کی گئی ہے۔