ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تین آدمیوں کی دعائیں رد نہیں کی جاتیں یعنی وہ ضرور قبول ہوتی ہیں:
ایک روزہ دار کی دعاء جب کہ وہ افطار کرتا ہے۔ دوسرے عدل کرنے والے حاکم کی دعاء۔ تیسرے
مظلوم کی دعاء کہ اللہ تعالیٰ اس کو ابر سے اوپر اٹھا لیتے ہیں اور آسمان کے دروازے اس کے لئے کھول
دئے جاتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میری عزت کی قسم (اے مظلوم) میں ضرور تیری مدد
کروں گا۔ (اور تیرے حق کو ضائع نہ ہونے دوں گا) اگرچہ اس میں کچھ تاخیر ہو جائے۔ اس کی
روایت ترمذی نے کی ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ تین دعائیں ایسی ہیں کہ جن کی قبولیت کے بارے میں کوئی شبہ نہیں ہے
: ایک والد یا والدہ کی دعاء یا بد دعاء اولاد کے لئے۔ دوسرے مسافر کی دعاء خود اپنے لئے یا غیر کے
لئے) تیسرے مظلوم کی دعاء (ظالم کے حق میں یا اس شخص کے لئے جو اس کی مدد کرے)۔ اس کی
روایت ترمذی، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
امیر المؤمنین عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عمرہ کرنے کی اجازت طلب کی۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
نے مجھے اس کی اجازت دے دی اور فرمایا کہ اے میرے بھائی مجھے اپنی دعاء میں شامل رکھنا بھول نہ
جانا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ (حضور کا) یہ ارشاد (ایسا اعزاز ہے) کہ ساری دنیا کی
نعمتوں سے بڑھ کر مجھے پسند ہے (اس کے بدلہ میں اگر مجھے ساری دنیا کی نعمتیں بھی مل جائیں تو مجھے
اتنی مسرت نہ ہوتی جو اس سرفرازی سے مجھے حاصل ہوئی)۔
اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے اور ترمذی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 1498 (unverified) 98% confidence
Candidate: Jami al-Tirmidhi 3562 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صالحین سے دعاء طلب کی جانی چاہئے۔ اور دوسرے یہ
کہ دعاؤں میں اپنے اقارب اور احباب کو بھی شریک کرنا چاہئے۔ خصوصاً ایسے مقامات متبرکہ میں
جہاں دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ مرقات 12
38/3203۔ انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ ارشاد
فرماتے ہیں کہ (جب تم سے کسی کو کوئی حاجت پیش آئے تو وہ) اپنی حاجت اللہ ہی سے طلب کرے
(کیونکہ حقیقی حاجت روا اللہ تعالیٰ ہی ہے) یہاں تک کہ اگر اپنی جوتی کا تسمہ بھی ٹوٹ جائے تو اس کو
بھی اللہ ہی سے مانگے۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ جب رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم میں سے کسی کو یاد فرماتے تو اور اس کے لئے دعا کرنے کا ارادہ فرماتے تو دعاء
میں پہلے اپنی ذات مبارک سے شروع فرماتے پھر اس کے لیے دعا فرماتے مثلاً ”اللهم اغفر لي
اس حدیث کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صالحین سے دعاء طلب کی جانی چاہئے۔ اور دوسرے یہ کہ دعاؤں میں اپنے اقارب اور احباب کو بھی شریک کرنا چاہئے۔ خصوصاً ایسے مقامات متبرکہ میں جہاں دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ مرقات 12