Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1032

Chapter on Covering

In this book

Current reading

Prayer

Chapter on Covering

Zujajat al-Masabih 1032Volume 1

English

Narrated by Abu Sa'id al-Khudri, may Allah be pleased with him: While the Messenger of Allah, peace be upon him, was leading his companions in prayer, he took off his shoes and placed them to his left. When the people saw this, they also threw off their shoes. After completing the prayer, the Messenger of Allah, peace be upon him, asked, "What made you throw off your shoes?" They replied, "We saw you remove your shoes, so we removed ours." The Messenger of Allah, peace be upon him, said, "Gabriel came to me and informed me that there was dirt on them. When one of you comes to the mosque, let him check. If he sees dirt on his shoes, let him wipe it off and pray in them."
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 650 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: نماز شروع کرنے سے پہلے کئی چیزیں واجب ہیں، ان میں سے خفین اور نعلین کا بھی نجاستوں سے پاک ہونا شرط ہے، اس لئے ان میں سے کسی پر کوئی نجاست لگی ہو تو اس کو پاک کر دیا جائے اگر نجاست پاک نہ کی گئی تو نماز جائز نہیں ہوگی۔ اس لحاظ سے اس حدیث شریف میں جو واقعہ مذکور ہے اس پر بظاہر یہ شبہ ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں تھے اور جبرئیل علیہ السلام کے اطلاع دیئے پر آپ نے نعلین اُتار دیئے جن کو قذر یعنی نجاست لگی ہوئی تھی اور نماز کا اعادہ نہیں فرمایا حالانکہ مذکورہ بالا شرط کے لحاظ سے نماز کا اعادہ ضروری تھا۔ اس شبہ کے دو جواب ہیں: پہلا جواب یہ ہے کہ اس حدیث میں قذر کا لفظ واقع ہوا ہے جس کے معنی نجاست کے نہیں بلکہ ایسی چیز کے ہیں جس سے طبیعت کو ناگواری ہوتی ہے جیسے رینٹھ وغیرہ، چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نعلین مبارک کو ایسی ہی چیز لگی تھی اسی لئے آپ نے نماز کا اعادہ نہیں فرمایا۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ اگر نعلین مبارک کو نجس چیز ہی لگی ہوئی تھی تو وہ مقدار درہم سے کم تھی جس سے نماز ادا ہو جاتی ہے اور اعادہ کی ضرورت باقی نہیں رہتی اور جبرئیل علیہ السلام کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں اطلاع دینا آپ کی لطافت طبع کی وجہ سے تھا تا کہ آپ نعلین مبارک اُتار دیں اور نماز اکمل طریقہ سے ادا ہو جائے۔ (مرقات: اشعۃ اللمعات۔)